(نعتِ رسولﷺ) ابر ِ رحمت - عبدالمالک مضطر دہلوی

12 /

ابر ِ رحمت

عبدالمالک مضطرؔ دہلوی

 

( محسن کاکوروی کی مشہور نعت ’’سمت ِکاشی سے چلا جانب ِ متھرا بادل‘‘ کے تناظر میں)

نُطق عاجز ، قلم لاچار ، زباں ہے مُختَل
کیسے ہو پائے بیاں مدحِ رسولِ مُرسل (ﷺ)
سمتِ فاراں سے چلا جانبِ تیما بادل
بھاگ یثرب کے کُھلے ، تھا جو نظر سے اوجھل
زرد مرجھائے ہوئے سبزے نے لی انگڑائی
جھومتی مست ہوائوں نے مچائی ہل چل
وادی و کوہ میں ، ہر سمت سجی ہریالی
چھائی گھنگھور گھٹا ، کِھل اُٹھے ہر دل کے کنول
بجھ گئی روح کے ویرانوں کی صدیوں کی پیاس
جس کے باعث رہا انسان سدا ہی بے کل
برکتیں اُتریں فلک سے جو تھیں بے حد و حساب
ابرِ رحمت نے برس کر کیا ہر سُو جل تھل
موسمِ گُل کی خبر دینے لگی برکھا رُت
لہلانے لگی ہر کھیتی ، ہرا ہر جنگل
تھا جو صحرا لق و دق اَور جو بنجر تھی زمیں
لا کے اُلٹا دی فلک نے وہیں اپنی چھاگل
اوڑھ لی ساری زمیں نے ہی دھنک کی چادر
بچھ گئی چار طرف نرم ، ملائم مخمل
چار سُو ملنے لگی قلب و نظر کو تسکین
ہوا تہذیب کا مرکز ، جو تھا میداں چَٹیَل
صبح ہوتی تھی تو امید یہ لے کر ہر روز
آج آ جائے وہ شاید ، جو ہے انساں اکمل
خُلق میں مرتبہ جس کا ہے ہر اک سے اعلیٰ
خَلق میں بھی ہے جو اللہ کی ، سب سے افضل
جس کی تعلیم سے انساں کو ملے راہِ نجات
آدمی زاد کو بتلائے صحیح راہِ عمل
آرزو لے کے یہی آتی تھی ہر سال بہار
جائے بس حسرتِ دیدار تو اس بار نکل
تھے چٹکتے اسی اک آس میں غنچے سارے
ایک اک لمحے کی تاخیر تھی سب پر بوجھل
ماہی و مور و ملخ ، سارے طیور اور وحوش
منتظر اُس کے تھے ، جس ذات کا آنا تھا اَٹل
جس کی آمد کی خبر دیتے رہے سارے نبیؑ
جس کا دل مہبطِ انوارِ وحی کا تھا مَحَل
اسی امید پہ قائم تھی یہ دھرتی ساری
ہر کلی پھول ہو ، ہر شاخ پہ پھوٹے کونپل
اس تمنا میں ہی گردش میں ستارے تھے تمام
چاند کو چَین ، نہ سورج کو سکوں تھا اک پَل
ہو گیا غارِ حرا میں بزبانِ جبریلؑ
آخری وحیِ الٰہی کا نزولِ اوّل
وعدہ اللہ کا موسٰی سے ہوا یوں پورا
ہو کے مقبول ، دعا لائی براہیمؑ کی پھل
ابنِ مریمؑ کی نوید آئی مجسم ہو کر
تھا بشارت میں نہ اِبہام ، نہ شک کا تھا دخل
ذکر تورات و زبور اور اناجیل میں ہے
نام کے ساتھ تھا ، گو اس میں ہوا ردّ و بدل
صرف اپنے نہیں ، ہیں غیر بھی اس کے قائل
اُس کی سیرت کا ہے ہر پہلو حسیں اور اجمل
رب نے انساں کی ہدایت کا جو بھیجا پیغام
جل اٹھی گھور اندھرے میں تھی گویا مشعل
نوعِ انساں کو نظر آ گئی منزل اپنی
ورنہ تھی اس پہ زمیں تنگ ، تھا ہر جا مقتل
آدمی زاد ہر اک لحظہ تھا لرزاں ، ترساں
تھے حواس اس کے پریشان ، تھے اوساں مُختل
شبِ معراج ہوئے بندے پہ اَسرار عیاں
ابنِ آدم سے نہ مخفی رہا اب رازِ ازل
آلِ یعقوبؑ فضیلت سے تھی کب سے محروم
اہلِ تثلیث کا تھا راست ، عقیدہ نہ عمل
روم و فارس کے معابد کی بجھیں سب شمعیں
مچ گئی بت کدۂ ہند میں ہر سُو ہلچل
پاک ہونے کو ضروری نہ رہا بپتسمہ
پَوِترتا کو نہ درکار رہا گنگا جَل
بت پرستی سے ہوا پاک جو صحرائے عرب
تھے زمیں بوس سب ، عُزیٰ و منات ، لات و ہُبل
ہوئے اگنی کے پجاری بھی جو تتر بتر
ہند میں ان کے لیے جائے اماں آئی نکل
مندروں ، تیرتھوں ، میں تھی یہاں اب بھی رونق
پروہتوں ، پنڈتوں کی شان میں تھا کچھ نہ خلل
ہوئے آتش کدے ایران کے سرد اور ویراں
ہو گئے پیرِ مغاں ان کے بھی سارے بے کل
جاوداں شعلہ ، جو کہتے تھے بجھے گا نہ کبھی
رہ سکا پھر نہ فروزاں وہ کبھی بھی اک پَل
تختِ جمشید رہا اور نہ ہی تاجِ دارا
کوئی خسرو ہوا کسریٰ ، نہ ہی قیصر ہرقل
چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ دانشور
اپنے خالق کو نہ جانے تو ہے جاہل ، اجہل
رب کا مُنکِر ہو کوئی تو کرے اِس کی توضیح
کائنات بَن گئی کیسے یہ بِن اسباب و علل
ایک خالق کو نہ مانے تو ہے وہ کور نظر
اُس کی آنکھوں سے ہیں آیاتِ الٰہی اوجھل
جو سمجھتا ہے کہ ہیں خالق و معبود کئی
لازمی ان میں کشاکش ، حسد ، اور جنگ و جدل
جس کو مطلوب ہو جنت ، ہو جہنم سے نفور
لائے ایمان ، کرے اس پہ ہی پھر دل سے عمل
یہ بتایا کہ عدالت وہ لگے گی اک روز
جس میں رشوت کا چلن ہے نہ سفارش کا دخل
عدل و انصاف پہ ہی فیصلہ ہو گا اُس دن
حق ملے گا ہر اک حقدار کو ، یا اُس کا بدل
مختصر زندگی میں رب کی ہدایت پہ چلیں
اس سے پہلے کہ یکایک ملے پیغامِ اَجل
نرک اور سورگ کی راہیں ہیں الگ ، رنگ الگ
مان کر اُس کی منُش شانت ، ہو جیون بھی سَپھل
پائی انسان نے انساں کی غلامی سے نجات
ورنہ چند ان میں خداوند تھے ، باقی ارذل
عورتوں اور غلاموں کو ملے ان کے حقوق
زندگی تلخ تھی ان کی ، نہ مداوا تھا نہ حل
سرمۂ نورِ بصیرت ہوئی خاکِ یثرب
دل کی آنکھوں کے لیے بدر و اُحد تھے کاجل
پھیلتی جائے گی خوشبو یہ زمانے میں سدا
روشنی کم نہیں ہوگی یہ کبھی ، آج نہ کل
منفرد اُس کا ہے انداز ، جدا ہے تعمیر
گَرد کو کوئی نہ پہنچا ، نہ ہی اُس کا ہے بدل
کوئی بھی لطف و کرم میں نہیں ہے اس کی نظیر
دوسرا جود و سخا میں نہیں ہے اس کے مِثَل
اس کے جیسا کوئی صادق نہ ہی کوئی ہے امیں
اس کا فرمان ہے ہر بات میں قولِ فیصل
ہے پیام اس کا ہمیشہ کے لیے ، سب کے لیے
فرد کے ساتھ مخاطب ہیں سب اقوام و مِلل
ہے بلاغت میں کلام اُس کا نہایت عمدہ
گفتگو مختصر ، تقریر مدلل ، مُجمَل
بات کرنے کا قرینہ بھی ہے سب سے ہی جدا
نہ کوئی لفظ ثقاہت سے گرا ، نا مُہمَل
وہ ہے صناع کی صنًاعی کا ایسا شہ کار
جس کی تخلیق پہ نازاں ہے خود خلاقِ ازل ازل
منتظر جس کے تھے عرصے سے زمانے والے
پہنچی اِتمام کو نعمت ، ہوا یوں دیں اکمل
کفر و ایماں کی کشا کش میں رہا وہ مشغول
زندگی اس کی رہی جہدِ مسلسل ہر پل
اُس کے افکار کا پرچار ہے مطلوب ، مگر
اُس کے اعمال کی تقلید ہے سب سے افضل
جب بھی آتی ہے صبا لے کے پیامِ طیبہ
دل کا کیا کیجئے ، ہاتھوں سے ہی جاتا ہے نکل
ڈھونڈتی ہیں اسی منظر کو پیاسی آنکھیں
روح اُس کوچے میں جانے کو ہے رہتی بے کل
جھلملاتے ہیں جب اُس راہ کی یادوں کے دئیے
شوق کرتا ہے تقاضا کہ پہنچ سر کے بَل
اُٹھ ، کمر باندھ ، کر اب عزمِ سفر سوئے حجاز
پھر کسی قافلۂ شوق کے ہمراہ نکل
جوش کہتا ہے کہ بس ایک ہی لمحے میں پہنچ
عقل کہتی ہے کہ ہشیار ، خبردار ، سنبھل
ہو نہ جائے کہیں اس راہ میں کوئی لغزش
بال سے بھی ہے یہ باریک ، ذرا دیکھ کے چل
ہر قدم پر ہے پھسلنے کا یہاں پر امکاں
ہر طرف کھائی ہے ، ہر سمت ہے گہری دلدل
ہو نہ افراط ، نہ تفریط کا کوئی ہو گزر
ہے فرستادۂ رب ، ذاتِ رسولِ مُقبَل (ﷺ)
روک سکتا نہیں مضطرؔ کوئی دیوانے کو
دُھن اگر سر میں سما جائے کہ طیبہ کو نکل