حضرت محمدﷺ کی ولادت ِبا سعادت اور سیرتِ طیبہ کا پیغام
حسیب آصف شیخ ( مرکزی شعبہ نشرو اشاعت)
کائنات کی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک خاص زمانے یا خطے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ وہ انسانیت کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ انہی عظیم اور بے مثل واقعات میں سے سب سے نمایاں اور بابرکت واقعہ خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ولادت با سعادت ہے۔ آپ ﷺکی آمد صرف ایک فرد کی پیدائش نہیں تھی، بلکہ یہ جہالت، ظلمت اور گمراہی کے اندھیروں میں علم، ہدایت اور توحید کے سورج کا طلوع ہونا تھا۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے آپ ﷺکی بعثت کو تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا ہے۔ آپ ﷺکی مبارک زندگی کا ہر گوشہ، ولادت سے لے کر وصال تک، انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے اور یہ ایک ایسا کامل نمونہ ہے جس کی روشنی میں ہر دور کا انسان اپنی دنیا و آخرت سنوار سکتا ہے۔
عرب کا خطہ، بالخصوص مکہ مکرمہ، آپ ﷺکی ولادت سے قبل جہالت اور شرک کا گڑھ بنا ہوا تھا۔ لوگ اپنے ہاتھ سے تراشے ہوئے پتھر کے بتوں کی عبادت کرتے تھے، معمولی معمولی باتوں پر نسل در نسل جنگیں چھڑجاتی تھیں، اور معاشرے میں مظلوم، یتیم اور عورت کے حقوق کا کوئی وجود نہ تھا۔ انسانی قدریں پامال ہو چکی تھیں اور باطل کا دور دورہ تھا۔ ایسے تاریک ماحول میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول ﷺکو مبعوث فرمایا۔ تاریخ کے معتبر مصادر اور صحیح روایات کے مطابق، آپ ﷺ کی ولادت عام الفیل کے معروف سال میں، پیر کے دن مکہ مکرمہ کے ایک محترم اور معزز قبیلے قریش کے خاندان بنو ہاشم میں ہوئی۔ آپ ﷺکے والد ماجد حضرت عبداللہ، آپ ﷺکی پیدائش سے چند ماہ قبل ہی وفات پا چکے تھے، یوں آپ بطنِ مادر ہی سے یتیم پیدا ہوئے۔ آپ ﷺکی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ ایک پاکباز خاتون تھیں۔ جب آپ ﷺکی ولادت ہوئی تو آپ ﷺکے دادا حضرت عبدالمطلب نے، جو قریش کے سردار تھے، آپ ﷺکا نام ’’محمد‘‘رکھا، جس کے معنی ہیں ’’جس کی بہت زیادہ تعریف کی جائے‘‘، جبکہ آپ ﷺکی والدہ نے آپ ﷺکا نام ’’احمد‘‘ رکھا۔
رسول اللہ ﷺکی مبارک ابتدائی زندگی سادگی، پاکیزگی اور اعلیٰ اخلاق کا بہترین مظہر تھی۔ عرب کے دستور کے مطابق بچوں کو دیہات کی خوشگوار اور فصیح ہوائیں جذب کرنے کے لیے بدوی دائیوں کے سپرد کیا جاتا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺکی پرورش کی سعادت بنو سعد کی خاتون حضرت حلیمہ سعدیہ ؓ کے حصّے میں آئی۔ حضرت حلیمہؓ کے گھر آپ ﷺکا قیام اُن کے لیے خیر و برکت کا باعث بن گیا۔ بچپن ہی سے آپ ﷺکے اطوار عام بچوں سے مختلف تھے۔ کھیل کود اور بے مقصد کاموں سے آپ ﷺکو کوئی رغبت نہ تھی۔ جب آپ ﷺ چھ سال کے ہوئے تو والدہ کا سایہ بھی سر سے اُٹھ گیا، اور آٹھ سال کی عمر میں دادا حضرت عبدالمطلب بھی وفات پا گئے۔ اِس کے بعد آپؐ کی کفالت کی ذِمّہ داری آپ ﷺکے شفیق چچا ابو طالب نے سنبھالی۔ یتیمی اور بے سر و سامانی کے باوجود آپ ﷺکے کردار میں ایسی متانت اور سچائی تھی کہ مکہ کا ہر چھوٹا بڑا آپ ﷺکو ’’الصادق‘‘ (سچا) اور’’الامین‘‘ (امانت دار) کے لقب سے پکارنے لگا۔
حضرت محمد ﷺکی سیرتِ طیبہ بچوں کی تربیت، ان سے محبت اور ان کی جذباتی و اخلاقی پرورش کا ایک کامل اور بے مثال نمونہ ہے۔ آپ ﷺکی مبارک سیرت کا ہرگوشہ بچوں کے لیے بے پناہ نرمی اور احترام سے لبریز ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ کی دس سالہ خدمت ِ نبوی اس بات کی روشن گواہی ہے کہ آپ ﷺنے کبھی انہیں کسی غلطی پر نہیں ڈانٹا، جو یہ سکھاتا ہے کہ تربیت میں سختی کے بجائے صبر اور درگزر بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ جب مدینہ کی گلیوں سے گزرتے تو بچوں کو خود سلام کرتے، ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے اور اُنہیں گود میں اُٹھا کر پیار کرتے۔ ایک موقع پر آپ ﷺنے بچوں سے محبت نہ کرنے والے شخص سے فرمایا کہ جو رحم نہیں کرتا، اُس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
آپ ﷺنے ہمیشہ بچوں کی عزتِ نفس کا احترام کیا۔تربیتِ اولاد کے معاملے میں آپ ﷺنے والدین کو تمام بچوں، خواہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں، کے درمیان کامل عدل کا حکم دیا اور تفریق کو ظلم قرار دیا۔ کسی نادانی یا غلطی پر آپ ﷺنے تنقید کی بجائے حکمت سے اصلاح فرمائی، جیسے حضرت عمر بن ابی سلمہ ؓ کو کھانے کے آداب نہایت پیار سے سکھائے۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو سواری پر اپنے ساتھ بٹھا کر توحید اور توکل کی بنیادی تعلیمات انتہائی محبت بھرے انداز میں منتقل فرمائیں۔
سیرتِ طیبہ کا ایک انتہائی اہم پہلو آپ ﷺکا بے مثال خلق اور شائستہ طرزِ عمل ہے۔ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ مجھے اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔ آپ ﷺکی زندگی نرم خوئی، عفو و درگزر، سخاوت، اور عدل و انصاف سے عبارت تھی۔ آپ ﷺ نے اپنے بدترین دشمنوں کو بھی معاف فرما دیا، جن لوگوں نے آپ ﷺپر ظلم ڈھائے، پتھر برسا ئے اور وطن سے نکلنے پر مجبور کیا، فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺنے ان سب کے لیے عام معافی کا اعلان فرما کر اخلاق کی وہ بلندترین مثال قائم کی جس کی نظیر انسانی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ بڑوں کی عزت و احترام، چھوٹوں پر شفقت و محبت، یتیموں کی سرپرستی، مسکینوں کی خبر گیری، اور جانوروں تک کے ساتھ رحم دلی کا معاملہ کرنا آپ ﷺ کے اُسوہ حسنہ کا روشن حصّہ ہے۔