انوار رضا سہ ماہی( عظیم الشان سیرت رسولﷺ نمبر)
چیف ایڈیٹر: ملک محبوب الرسول قادریمبصر :خالد نجیب خان
سہ ماہی انوارِرضا کو شائع ہوتے ہوئے کم و بیش21 سال تو ہو گئے ہیں۔اوائل دنوں میں یہ جریدہ خال خال ہی نظرآتا تھا،مگراب صورت حال یہ ہے کہ اخبارات و جرائد کی سرکولیشن کم ہونے کے باوجود اکثر پڑھے لکھے لوگوں کی مطالعہ کی میزپرنظرآتا ہے۔ اِس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ چیف ایڈیٹر صاحب نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ انوارِرضا کا ہر شمارہ ایک خاص شمارہ ہوگا ۔گویا اُنہوں نے جریدے کو کتاب کی صورت دے کراُس کی شیلف لائف کودوام بخش دیا ہے۔ زیرنظر جریدہ بھی رسول اللہﷺ کے 1500سالہ ولادتِ باسعادت کی مناسبت سے شائع کیا گیا ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے ؛’’ اے رسولﷺ ہم نے آپﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘سورۃ الانبیاء کی اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا والوں پرایک خصوصی مہربانی کا تذکرہ فرمایا ہے ۔بے شک رسول اکرمﷺ تمام مخلوقات کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ دنیا میں قیامت تک اللہ تعالیٰ کا ذکرتسبیح اوراس کی عبادت و بندگی آپﷺ پر وحی کئے گئے قرآن و حدیث اور سنت و اسوہ رسولﷺ کے دم سے جاری و ساری رہے گی۔
اِس میں شک نہیں کہ سیرت نگاری کے کسی بھی مصنف کا مطالعہ بہت وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ آپﷺ کی زندگی،اخلاق و عادات، تعلیمات وارشادات، عبادات ومعاملات وغیرہ پر پوری نظر ہونا نا گزیر ہے۔ چیف ایڈیٹر نے دورانِ تدوین اِس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ کسی کم مطالعہ کے حامل مصنف کی تحریر شامل نہ کی جائے۔14 ابواب پر مشتمل زیرِنظر جریدہ میں مولانا کوثر نیازیؒ،حکیم محمد سعیدؒ،مولانامحمد عبدالستار خان نیازیؒ، اصغر حسین خان نظیر لدھیانویؒ،حضرت سید نثار کتب رضی شیرازیؒ ،صاحبزادہ خورشید احمد گیلانی ؒ، پروفیسرآفتاب احمد نقویؒ،ڈاکٹرلیاقت علی خان نیازی،مولانا غلام سرور ، پروفیسرڈاکٹر محمد شریف سیالوی ،محمد ظفر الدین برکاتی،مولانا محمد ظفر اللہ جیسی بڑی اور نامور شخصیات کے لکھے ہوئے سیرت پر مبنی مضامین شامل کیے گئے ہیں جس سے آپﷺ کی زندگی کی پوری جھلک تو بے شک سامنے نہیں آئی مگر اس کواِس حوالے سے ایک اہم کوشش ضرور قراردیا جا سکتا ہے۔
جریدہ زیر ِنظر میں سیرت النبیﷺ کے حوالے سے چیف ایڈیٹرملک محبوب الرسول قادری کے خصوصی انٹرویوز بھی قابل ذکر ہیں جواُنہوں نے سیرت رسول ﷺ پر کام کرنے والی مختلف علمی اورمذہبی شخصیات سے کیے ہیں۔1040صفحات پرمشتمل یہ ضخیم جریدہ ہارڈ کور کے ساتھ سفید آفسٹ کاغذ پرشائع کیا گیا ہے۔سرورق دیدہ زیب ہے اورمبلغ 3 ہزارروپے کے عوض انٹرنیشنل غوثیہ فورم زاویہ قادریہ، راجا ٹاؤن، جوہرآباد سے حاصل جا سکتا ہے۔
سہ ماہی انوار رضا مولانا شاہ احمد نورانی اور رفقائے نورانی ؒ(تحریک ختم نبوت اور تحریک نظامِ مصطفیٰ ؐ کے تناظر میں)چیف ایڈیٹر ملک محمد محبوب الرسول قادریمبصر :خالد نجیب خانپاکستان میں تحریک ختم نبوت مولانا شاہ احمد نورانی ؒ کے ذکر کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتی۔ 70ء کی دہائی میں اُن کی پہچان ایک مذہبی سیاستدان کی تھی جبکہ وہ ایک جید عالم دین تھے اور پاکستان میں ختم نبوت کے حوالے سے ہونے والی قانون سازی میں اُن سے اللہ تعالیٰ نے خاص کام لیا ہے۔ 1974ء میں جب شاہ احمد نورانی ؒنے قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے خلاف قرارداد پیش کی تو پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں قادیانیوں میں صف ِ ماتم بچھ گئی تھی۔8 اگست 1974ء کوجب مرزا ناصر غیر ذمہ دارانہ معمولی تحریروں کے حوالے دے کر کمیٹی کے اراکین کو اُلجھا کر وقت ٹالنے کی کوششوں میں مصروف تھا تو اُنہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ مرزا ناصر جان بوجھ کر غیر متعلق باتوں اور کشف کے واقعات پیش کر کے وقت ضائع کر رہا ہے، ہمارے نزدیک قرآن و حدیث کسوٹی ہے ،مرزا کے اقوال و تحریریں تذکرہ اولیاء جواہر فوائد جیسی کتابیں اتھارٹی نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اٹارنی جنرل نے یہ مقدمہ مولانا شاہ احمد نورانی اور اُن کے دیگر ساتھیوں کی معاونت سے ہی جیتا ۔
سہ ماہی انوار رضا کی جلد 21 کا شمارہ نمبر ایک مولانا نورانی اور رفقائے نورانی کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، جس کا اوّلین مقصد یہ ہے کہ عقیدۂ ختم نبوت عوام کے سامنے آسان طریقے سے پیش کر کے اُن کے دل و دماغ میں بٹھایا جائے اور اس کی ضرورت و اہمیت اجا گر کی جائے ۔
زیرِ نظر جریدہ میں چیف ایڈیٹر ملک محبوب الرسول قادری کا کہنا ہے کہ اس خصوصی اشاعت میں 200 سے زائد منتخب خوش بختوں کا تفصیلی اجمالی اور ضمنی تذکرہ موجود ہے۔ یہ باضابطہ تصنیفی یا تالیفی کاوش نہیں بلکہ منتشر معلومات کا ایک انتخاب ہے، جسے مختلف ادوار میں ارباب بصیرت و بصارت و معاشرے کے دیدہ و بینا رجال کار نےکسی بھی انداز میں محفوظ کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ ہر طرح کے نظم قیود سے آزاد معلوماتی ذخیرہ ہے جس میں کوشش کی گئی ہے کہ حضرت مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالستار خان نیازی ،کاروان تحفظ ختم نبوت ،قافلہ تحریک نظام مصطفی کے قائدین وکارکنان کو کسی نہ کسی درجے میں محفوظ کر دیا جائے۔ مولانا شاہ احمد نورانیؒ کے صاحبزادے شاہ محمد انس نورانی نے اِس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کتاب محض ایک شخصیت کی سوانح نہیں بلکہ ایک فکر ایک تحریک اور ایک ہمہ جہت مشن کی آئینہ دار ہے ۔اس میں مولانا نورانیؒ کی دینی سیاسی اور فنی خدمات کے دوران اُن کے ساتھ رہنے والی منتخب اور ممتاز شخصیات کو نہایت خوبصورتی سلیقے اور تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔
525 سے بھی زیادہ صفحات پر مشتمل یہ جریدہ 11 ابواب پر مشتمل ہے۔ عقیدہ ختم نبوت قران و سنت اور اجماع اُمّت کی روشنی سے لے کر قادیانیت کے خلاف ٹھوس اقدامات سے ہوتے ہوئے مولانا نورانیؒ کی قرارداد پر فیصلہ اور وزیراعظم کے تاریخی اعلان تک بیسیوں موضوعات زیرِ بحث لائے گئے ہیں۔ رنگین تصاویر اور اشتہارات کے علاوہ بیسیوں بلیک اینڈ وائٹ تصاویر سفید آرٹ پیپر پر شائع کیا گیا ہے۔ مضبوط ہارڈ کور کے ساتھ یہ جریدہ 1250 روپے کے عوض انٹرنیشنل غوثیہ فارم زاویہ قادریہ راجا ٹاؤن، جوہر آباد سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026