حُب ِ رسول ﷺ کا سب سے بڑا تقاضا
(الصف:9، الفتح:28، التوبہ :33کی روشنی میں)
مسجد جامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی میں امیرِ تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے28اگست 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص
مرتب: ابو ابراہیم
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
ربیع الاوّل کے مہینے میں ہمارے ہاں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار مختلف طریقوں سے کیا جاتاہے ۔ یہ محبت اور عقیدت سر آنکھوں پر لیکن بحیثیت اُمتی ہمیں ذرا غوروفکر بھی کرنا چاہیے کہ آپ ﷺ سے محبت کے اصل تقاضے کیا ہیں ۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ داڑھی رکھ لی ، مسواک ، خوشبو اور سرمے کا اہتمام کرلیا ، شلوار ٹخنوں سے اوپر کرلی تو سنت پوری ہوگئی ۔ بلاشبہ یہ بھی سنت کے آداب ہیں لیکن صرف اتنا اہتمام کرلینے سے سنت اور آپ ﷺ سے محبت کے تقاضے پورے نہیں ہوجاتے ۔ آپﷺ کو صرف د عوت و تبلیغ کے لیے نہیں بھیجا گیا ، بلکہ اللہ کے احکام کے نفاذ اور دین کے غلبے کی جدوجہد کے لیے بھیجاگیا ۔ قرآن میں تین مقامات (الصف:9، الفتح:28، التوبہ :33) پر آپ ﷺ کے مقصد بعثت کو بیان فرمایا گیا :
{ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ لا } ’’وہی تو ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول ؐکو الہدیٰ اور دین ِحق دے کر تا کہ غالب کردے اسے کل کے کل دین (نظامِ زندگی) پر۔‘‘
اس مشن کے لیے آپﷺ نے 23 برس مسلسل جدوجہد کی ۔طائف کی گلیوں میں اپنا خونِ اطہر بھی بہایا ، اُحد کے میدان میں زخم بھی کھائے ، جنگیں بھی لڑی ہیں اور اپنے پیاروں کو اللہ کے دین کی خاطر شہید ہوتے بھی دیکھا ۔ یہ آپ ﷺ کی سب بڑی سنت ہے ۔ ختم نبوت کے بعد اِس عظیم مشن کے لیے جدوجہد کرنے کی ذِمّہ داری اُمّت کے کندھوں پر ہے ۔ آپ ﷺ کے وصال کے بعد صحابہ کرام ؓ نے اس ذِمّہ داری کو بخوبی نبھایا اور پوری دنیا میں اسلام کے پیغام کو پھیلایا اور تین براعظموں پر مشتمل ایک بہت بڑے خطہ ارضی پر اللہ کے دین کو عملاً قائم و نافذ بھی کیا ۔اِس مشن کی تکمیل ابھی باقی ہے اور اِس کی ذِمّہ داری اُمّت ِمسلمہ کے کاندھوں پر ہے۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اس موضع پر تفصیلاً کلام کیا ہے جو اَب ’’نبی اکرم ﷺ کا مقصد بعثت‘‘ کے عنوان سے کتابچے کی صورت میں بھی موجود ہے۔آج اُمّت اپنے مشن اور آپ ﷺ کی سب سے بڑی سنت کو فراموش کر چکی ہے ۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر اسراراحمدؒ ، مولانا مودودی ؒ ، یوسف القرضاوی ؒ ، علامہ اقبال ؒ جیسے لوگوں نے اپنی طرف سے دین کو قائم کرنے کی جدوجہد کو لازم قراردے دیا تھا ۔اِس طرح کی باتیں سوشل میڈیا پر بھی چلتی رہتی ہیں اور کچھ نام نہاد دانشور ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر مغرب کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے رہتے ہیں کہ ریڈیکل اسلام نہیں ہونا چاہیے، پولیٹیکل اسلام نہیں ہونا چاہیےوغیرہ ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دین انفرادی اعمال تک محدود ہے ، انفرادی سطح پر نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج ، خیرات و صدقات کا اہتمام کرلو ، کچھ مذہبی رسومات میں شمولیت کرلو تو بس دین پورا ہوگیا ، ریاست ، حکومت ، اقتدار ، سیاست ، عدالت ، معیشت اور معاشرت سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ دنیا کے دیگر مذاہب تو ایسے ہی ہیں کہ ان بیچاروں کا ریاست سے کوئی تعلق نہیںہوتا لیکن اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے ۔ یہ فرد کے لئے بھی ہے، پورے معاشرے اور پورے نظام کے لئے بھی اور پورے عالم کے لئے بھی ۔ اسی طرح بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا ایک مشن تھا جو آپ ﷺ کے ہاتھوں پورا ہوگیا ، اب باقی کوئی کام نہیں رہ گیا ۔ حالانکہ آپ ﷺ کی احادیث موجود ہیں کہ قیامت سے پہلے پوری زمین پر اللہ کے دین کا غلبہ ہونا ہے انشاءاللہ۔اِن تمام غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے ہم نے گزشتہ دو خطباتِ جمعہ میں اسلاف کی آراء کو بھی پیش کیا،جن کے مطابق اقامت ِدین کی جدوجہد کا واجب ہونا موجودہ دور کی ایجاد نہیں ہے بلکہ یہ صحابہ کرام ؇اور اسلاف کےنزدیک بھی واجب تھی ۔ آج ہم اسی تسلسل میں ماضی کے پانچ مفسرین اور حال کے پانچ اہل ِعلم اور مفسرین کے 10 اقوال اور آراء کو پیش کریں گے تاکہ علی وجہ البصیرت پورے یقین کے ساتھ واضح ہو جائے کہ اقامت ِدین کی جدوجہد صرف دورحاضر کا تقاضا نہیں ہے بلکہ یہ ساڑھے 1400سال سےدین کا شرعی تقاضا ہے اور اس پر اُمت کا اجماع رہا ہے ۔
سب سے پہلے امام قرطبی ؒ کی تفسیر کے الفاظ ہم یہاں نقل کر رہے ہیں جو انہوں نے سورۃ الصف کی آیت 9،سورۃ الفتح کی آیت 28، التوبہ کی آیت 33 کی تشریح میں لکھے ہیں۔ اُن کی وفات 671 ھ میں ہوئی ، یعنی آج سے ساڑھے سات سو سال پہلے کی تفسیر ہے ۔ فرماتے ہیں :
’’تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے) یعنی اسے تمام ادیان پر بلندی عطا فرمائے۔ بلکہ اظہار سے مراد قہر و غلبہ ہے، جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص غالب آ گیا‘‘ جب وہ جیت جائے۔ یہاں ’الدین‘ سے مراد دینِ اسلام ہے اور غالب ہونے والے رسول اللہ ﷺ، آپؐ کی ملت اور آپؐ کا طریقہ کار ہے۔(خواہ ) یہ غلبہ آپ ﷺ کی حجت ، دلیل اور علمی دلائل کی بنیاد پر ہو یا پھر تلوار اور طاقت کے ذریعے ، یہاں تک کہ زمین پر اسلام کے سوا کوئی ایسا دین باقی نہ رہے جس کی پیروی کی جائے۔‘‘
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے :
{ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ ط}(یوسف :40) ’’اختیارِ مطلق تو صرف اللہ ہی کاہے۔‘‘
انفرادی سطح پر کوئی کافر ہے تو اس کو دعوت دی جائے گی مگر اُسے جبراً مسلمان نہیں کیا جائے گا جبکہ اجتماعی سطح پر اللہ کی حاکمیت کے سوا کسی اور کی حاکمیت قبول نہیں ہے۔یہ اللہ کی کتاب کا موقف ہے ۔
ابن کثیرؒ تاریخ اسلام کے معروف مفسر ہیں ۔ اُن کی وفات 771 ہجری میں ہوئی ۔ یعنی آج سے 653ء سال قبل انہوں نے زیر مطالعہ آیت (الصف:9، الفتح:28، التوبہ :33)کی تفسیر میں لکھا :
’’(اللہ تعالیٰ اپنے رسولؐ کے دین کو) زمین کے تمام دوسرے ادیان (مذاہب) پر غالب کر دے گا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وعدہ ہے کہ وہ یقیناً اپنے رسولﷺ کو تمام دیگر ادیان پر غلبہ عطا فرمائے گااور یہ دین وہاں تک پہنچ کر رہے گا جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں اور اس (آیت) میں اس بات کی دلیل ہے کہ اعلائے کلمۃ اللہ اور دین کو غالب کرنے کے لیے کوشش اور جہاد کرنا واجب ہے۔‘‘
صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کے تمام مشرقوں اور مغربوں کو سمیٹ دیا، اور عنقریب میری اُمت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک زمین میرے لیے سمیٹی گئی تھی ۔ ‘‘
یہ ہونا ابھی باقی ہےاور صدیوں پہلے ابن کثیرؒ بھی اس کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں۔ زیر ِمطالعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اعلاء کلمتہ اللہ کے لیے اور شرک وظلم کے خاتمہ کے لیے جدوجہد اور جہاد کرنا واجب یعنی فرض ہے تاکہ دین کو غالب کرنے کا الٰہی وعدہ مکمل طور پر پورا ہو جائے۔ اکثر فقہاء کے ہاں واجب اور فرض ایک ہی بات ہے۔ یہ جدوجہد امام ابن کثیر ؒکو تو سمجھ آرہی ہے اور وہ صدیوں پہلے قرآن و حدیث کی روشنی میں فرما رہے ہیں کہ غلبۂ دین کی جدوجہد کرنا فرض ہے ۔
تیسرا حوالہ امام ابن تیمیہ ؒ کے فتاویٰ میں موجود ہے۔ ان کی وفات728 ہجری میں ہوئی ۔ یعنی سات صدیاں قبل ان کا یہ موقف تھا ۔ فرماتے ہیں :
’’(اللہ نے رسولؐ کو اس لیے بھیجا) تاکہ وہ اس (دین) کو تمام ادیان پر غالب کر دے۔ پس اُمت پر واجب ہے کہ وہ ایسا اقتدار اور قوت قائم کرے جس کے ذریعے دین کی نصرت (مدد) کی جائے اور حدودِ شرعیہ قائم کی جائیں۔ پس جس چیز کے بغیر کوئی واجب پورا نہ ہو سکے، وہ چیز بھی واجب ہو جاتی ہے اور دین کا غلبہ، قوت اور حاکم سلطنت کے وجود کو لازم پکڑتا ہے (یعنی اس کے بغیر ممکن نہیں)۔‘‘
نماز فرض ہے مگر وضو کے بغیر نہیں ہوسکتی لہٰذا وضو بھی فرض ہے ۔ اسی طرح اللہ کی شریعت کے بہت سارے احکامات اجتماعی معاملات سے متعلق ہیں ،ان احکامات کو قائم اور نافذ کرنا فرض ہے مگر اسلامی ریاست کے قیام کے بغیر ان احکام پر عمل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اسلامی ریاست کا قیام یا اللہ کے دین کے غلبے کی جدوجہد بھی فرض شمار ہوگی ۔ یہ بات ابن تیمیہؒ کو سات سو سال پہلے سمجھ میں آرہی ہے ۔ مگر آج بعض لوگوں کو سمجھ میں نہیں آرہی ۔ ثابت ہوا کہ ہم نے دین کے بہت سے اصولوں کو فراموش کر دیا ہے ۔
چوتھا حوالہ امام ابن عاشورؒ کی ’’التحریر والتنویر من التفسیر‘‘ کا ہے ۔ ان کی وفات 1973ء میں ہوئی ۔ گویا حال کی بات ہے ۔ اظہار دین کے بارے میں فرماتے ہیں :
’’اور (آیت میں) ’الإظهار‘ (غالب کرنے) کے فعل میں ’الإعلاء‘ (برتری و بلندی دینے) اور ’النصر‘ (نصرت و مددو نصرت کرنے) کا معنی تضمین کے طور پر (شامل) ہے اور{الدِّينِ كُلِّهِ} سے مراد (دنیا میں) موجود تمام ادیان و مذاہب کی اجناس (ان کی تمام قسمیں) ہیں، لہٰذا یہاں عموم کا استغراق (یعنی تمام تر احاطہ) ان تمام ادیان کو شامل ہے۔ خواہ وہ شرعی (آسمانی) ادیان ہوں یا موضوعہ (خود ساختہ و انسان کے گھڑے ہوئے) ادیان۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ اسلام کو اپنی ہدایت، احکام اور اقتدار کے اعتبار سے تمام دیگر نظاموں سے برتر و فائق بنا دیا جائے ۔اس طور پر کہ اسلام کا نظام بلند و اعلیٰ رہے اور شریعت اسلامی ہی کو تمام انسانی وضع کردہ قوانین اور ضابطوں پر حاکمیت اور فوقیت حاصل ہو ۔
ڈاکٹر وہبہ الزحیلی ؒ کا انتقال 2015ء میں ہوا ۔ ان کی فقہی کتاب الوجیز ہمارے ہاں بھی اہل ِعلم پڑھاتے ہیں۔ ان کی تفسیر المنیرعقیدے اور حکمت کے بیان میں بھی اور شریعت کے احکام کے بیان میں بہت جامع تفسیر ہے۔ سورۃ التوبہ: 33 اور سورۃ الفتح: 28 کی تفسیر میں وہ لکھتے ہیں :
’’لِیُظْهِرَهُ عَلَى الدِّینِ كُلِّهِ: یعنی وہ دین ِ اسلام کو دیگر تمام ادیان و مذاہب پر غالب اور نمایاں کر دے۔ اور یہ غلبہ و اظہار دو مرحلوں میں مکمل ہوتا ہے:پہلا مرحلہ: دلیل، برہان اور فکری و علمی بنیادوں پر ہوگا ۔ دوسرا مرحلہ: عملی، سیاسی (اور اقتداری) غلبہ (یعنی زمین میں اسلام کے نظام اور حکومت کا قائم ہونا)۔ ‘‘
اسلام محض فکری اور علمی غلبے پر اکتفا پر نہیں کرتا بلکہ وہ عملی اور سیاسی نفاذ و حاکمیت کا ہدف رکھتا ہے۔ لہٰذا دعوتِ دین کے کام میں مشغول رہنا ، دلائل اور براہین کے ذریعے اسلام کے غلبے کی جدوجہد کرنا اور اقامت ِدین کی جدوجہد کرنا مسلمانوں پر فرض ہے تاکہ زمین پر اللہ کی شریعت کا نفاذ ممکن ہو سکے ۔
اب ہم برصغیر سے بھی پانچ جید علماء کی آراء اور پانچ تفاسیر کے حوالے پیش کریں گے تاکہ قارئین پر واضح ہو جائے کہ اقامت ِدین کی جدوجہد کی بات کرنا کوئی نیا رجحان نہیں ہے ۔
برصغیر میں پہلا نام شاہ ولی اللہ ؒ کا ہے ۔ ان کی وفات 260برس قبل ہوئی ۔ فرماتے ہیں : جان لو کہ نبی کریمﷺ کو جب تمام لوگوں کے لیے مبعوث کیا گیا تو آپﷺ کی بعثت کا مقصد تمام ادیان پر دین ِ اسلام کا غلبہ، فاسقوں اور ظالموں کی شوکت یعنی طاقت کو توڑنا، ظالموں کا خاتمہ کرنا اور عادلانہ نظام کو قائم کرنا ثابت ہوا۔ رسول اللہ ﷺصرف چند عبادات اور رسومات سکھانے کو نہیں آئے تھے بلکہ ایک عالمی نظام عطا کرنے کے لیے آئے تھے ۔ وہ عطا کرگئے ، اب اس نظام کو قائم کرنا مسلمانوں کی ذِمّہ داری ہے ۔
مفتی شفیع عثمانی صاحبؒ اپنی تفسیر معارف القرآن میں فرماتے ہیں کہ آیت میں لیظھرہ کے لام کے کئی استعمالات ہیں۔ ایک یہ ہے کہ آپ ﷺ کو بھیجے جانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ اللہ کے دین کو تمام ادیان پر غالب کیا جائے اور غلبے سے مراد صرف دلائل و براہین کا غلبہ نہیں بلکہ شوکت و اقتدار اور حکومت کے لحاظ سے غلبہ ہے ۔ علمی غلبہ تو اسلام کو حاصل ہے۔ بڑے بڑے مناظرے آپ نے دیکھے ہوں گے۔ شیخ احمد دیداتؒ ، ڈاکٹر ذاکر نائیک اور دیگر مسلم سکالرز نے اس میدان میں بہت کام کیا ہے اور بڑی مقبولیت حاصل کی ہے ۔ لاکھوں لوگ اسلام بھی لائے ہیں ۔ مگر سارے مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ اسلام کا غلبہ صرف دلیل کے لحاظ سے کافی نہیں ہے بلکہ سیاست ، معیشت اور معاشرت پر بھی اسلام کا عملاً غلبہ ہونا چاہیے ۔ یہ رسول اللہ ﷺ کا مشن تھا ۔
تیسرا حوالہ مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب ؒ کا ہے ۔ وہ سورۃ الحدید کی آیت 25 کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں کہ کتاب اور میزان کے ساتھ لوہا بھی اُتارنے کا مقصد یہی ہے کہ جو لوگ صرف کتاب اور میزان یعنی کچھ نصیحت کی باتوں اور عدل و انصاف کی معقول باتوں سےسیدھے راستے پر نہ آئیں اُن کو لوہے یعنی تلوار کی قوت سے سیدھا کیا جائے گا۔ ابوجہل کی گردن اُڑانی پڑے گی۔ اُڑائی گئی تاکہ کوئی ظالم عدل کے نفاذ میں رکاوٹ نہ بن سکے ۔ دین کا قیام اور عدل کا انتظام بغیر قاہرانہ قوت یعنی حکومت کے ممکن نہیں ہو سکتا لہٰذا نفاذ ضروری ہے۔
اسی طرح اہلِحدیث مکتب فکر سے مولانا عبدالسلام بھٹوی صاحبؒ معروف شخصیت ہیں ۔ ان کی بہت جامع تفسیر ہے اوراس میں بڑاانقلابی رنگ بھی ہے۔ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت و سچا دین دےکر اسی لیے بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے۔ آپ ﷺکی وفات کے بعد اب دعوت و جہاد کے ذریعے دین کا پرچم بلند رکھنے کا کام اُمّت ِمسلمہ کے سپرد ہے کیونکہ اُمّت ہی نبی کریم ﷺ کی دعوت کی وارث اور جانشین ہے۔
وقت فرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے
نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے
یہ ذِمّہ داری ہماری ہے، ختم نبوت کے بعد اب ہم نے یہ کام کرنا ہے۔
برصغیر سے پانچواں حوالہ بریلوی مکتب فکر سے پیر کرم شاہ الازہری صاحبؒ کا پیش ہے ۔ فرماتے ہیں کہ اسلام دنیا پر اس لیے غالب نہیں کیا جا رہا ہے کہ کوئی خاص قوم یا نسل دوسرے انسانوں پر اپنی حکمرانی قائم کرے، بلکہ اس کا مقصد تمام باطل اور استحصالی نظاموں کے طوق کو انسانیت کی گردن سے ہٹانااور عدل و انصاف کا ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں ہر انسان کو اس کے حقوق میسر آئیں۔
یہ 10 حوالے ہم نے قارئین کے سامنے پیش کیے تاکہ واضح ہو جائے کہ اقامت ِدین کی جدوجہد کا کام کوئی نیا کام نہیں ہے بلکہ ساڑھے 14 سو سال سے اُمت کے علماء اور مفسرین کے نزدیک واجب اور فرض رہا ہے ۔ مولانا مودودی ؒ، ڈاکٹر اسراراحمدؒ ، سید قطب شہید ؒ ، یوسف القرضاویؒ نے اپنی طرف سے کچھ پیش نہیں کیا ۔ سید قطب شہید ؒ فرماتے ہیں: انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین یعنی طاغوت کو ختم کر کے شریعت الٰہی کا نفاذ کرنا اقامت ِدین کا اصل جوہر یعنی حاصل ہے۔ مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں : تمام ادیان پر اسلام کو غالب کرنا محض پسندیدہ کام نہیں بلکہ اُمّت کے لیے بنیادی فرض ہے ۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ فرماتے ہیں : لیظھرہ کا لفظ ایک ایسی باطل شکن جدوجہد کا حکم دیتا ہے جس کا منطقی انجام اور حتمی منزل خلافت راشدہ (کی طرز پر نظام)کا قیام اور نظام اسلام کا عملی نفاذ ہے۔ معلوم ہوا کہ تنظیم اسلامی آج کےد ور میں لوگوں کو جو دعوت پیش کر رہی ہے وہ کوئی نئی دعوت نہیں ہے بلکہ ساڑھے 14 سو سال سے اُمت کا اس پراجماع رہا ہے ۔ بحیثیت اُمتی اقامت ِدین کی جدوجہد ہم پر فرض ہے ۔اللہ کے نبی ﷺ نے اس فرض کی ادائیگی کے لیے اپنا خونِ اطہر بہایا ہے ، صحابہ کرامjنے اپنی جانیں پیش کی ہیں، روزِ قیامت جب ہم سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اس فرض کی ادائیگی کے لیے کیا کیا تو ہم کیا جواب دیں گے ؟
حالات حاضرہ:
پچھلے دنوں نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں چند لبرل قسم کے لوگوں نے تحفظ ِناموس ِرسالت کے قانون 295-Cکو کالا قانون کہا ہے اور اس کے خاتمے کی بات کی ہے ۔ اس پرہم احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں ۔ یہ اُمّت کے جذبات سے کھیلنے والی بات ہے اورٹائمنگ دیکھئے کہ ماہِ ربیع الاوّل میں یہ سب حرکات ہورہی ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو گستاخوں کو بچانے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں۔ گستاخوں کے ساتھ ان کی ہمدردیاں ہیں ، تحفظ ِ ناموسِ رسالت کا قانون ان کو پسند نہیں ۔ ہمارے ریاستی اداروں کوان کے خلاف قانونی ایکشن لینا چاہیے اور ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ایسےلوگوں کو کھلی چھوٹ دینا عوام کو قانون ہاتھ میں لینے کی دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ ممتاز قادری کو نہ بھولا جائے ۔ بے شک آج کے مسلمان بے عمل ہو چکے ہیں مگر بے غیرت نہیں ہوئے ۔ ان لوگوں کو 295-Cسے مسئلہ کیوں ہے ، وجہ صاف ظاہر ہے جو چور ہوتاہے اس کو ہی چوری کی سزا سے پریشانی ہوتی ہے ۔ جس نے چوری نہیں کرنی اس کو اس سزا سے مسئلہ نہیں ہوگا ۔ تحفظ ِناموسِ رسالت کا قانون اُن لوگوں کے لیے ہے جو گستاخی کریں گے ۔ اس سے پریشانی بھی ان کو ہے جو گستاخیاں کرتے ہیں یا کرواتے ہیں ، یا پھر گستاخیاں کرنےو الوں کا ساتھ دیتے ہیں ۔ پس ِپردہ ایجنڈا یہ ہے کہ روح محمد یؐ اُمّت کے دلوں سے نکال دی جائے، مسلمانوں میں غیرت ایمانی کا خاتمہ ہو جائے ۔ اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور سچا اور عملی مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین!