(دعوت و تحریک) حب ِرسولﷺ اور اس کے تقاضے - ڈاکٹر اسرار احمد

14 /

حصّہ اوّل

 

حب ِرسولﷺ اور اس کے تقاضے

ڈاکٹر اسرار احمدؒ

  اطاعت اور محبت وہ دو اہم الفاظ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے  ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ جیسے فرمایا گیا: {اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ} -- اسی طرح محبت کا لفظ اللہ کے لیے بھی آتا ہے اور رسولؐ کے لیے بھی۔ جیسے سورۃ التوبۃ کی آیت24 میں فرمایا: ترجمہ: ’’ (اے نبیﷺ! ان مدعیانِ ایمان سے) کہہ دیجئے کہ اگر تمہیں اپنے باپ اور اپنے بیٹے اور اپنے بھائی اور اپنی بیویاں اور اپنے رشتہ دار اور وہ مال جو تم نے بڑی محنت سے کمائے ہیں اور جمع کیے ہیں اور اپنے وہ کاروبار جو تم نے بڑی مشقت سے جمائے ہیں اور جس میں تمہیں کساد کا اور مندے کا خوف رہتا ہے اور اپنی وہ عمارتیں جو تم نے بڑے ارمانوں کے ساتھ تعمیر کی ہیں جو تمہیں بڑی بھلی لگتی ہیں‘ اگر یہ چیزیں تمہیں محبوب تر ہیں اللہ سے اور اس کے رسول (ﷺ) سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے تو جائو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ سنا دے ‘اور اللہ ایسے فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ 
 یہاں حب اللہ کے ساتھ حبِ رسول کا ذکر کیا گیا ہے اور ساتھ ہی جہاد فی سبیل اللہ کی محبت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
 جب اللہ کی اطاعت اور اللہ کی محبت دونوں کو جمع کریں گے تو حاصل جمع کا نام ’’عبادت‘‘ ہے۔ عبادت صرف اللہ کی ہے ‘ رسول کی نہیں ہے۔ اور جب رسول کی اطاعت اور رسول کی محبت کو جمع کریں گے توحاصل جمع کو عبادت نہیں بلکہ ’’ اتباع‘‘ کہا جائے گا۔
عبادت کا اصل مفہوم ہے: ’’ انتہائی محبت کے جذبہ سے سرشار ہو کر اللہ کی بندگی اور پرستش کرنا ‘‘ اور اتباع کا مفہوم ہے:’’محبت کے جذبہ سے سرشار ہو کر پیروی کرنا ‘‘۔ اطاعت اور اتباع میں فرق یہ ہے کہ اطاعت کسی کے حکم کی جاتی ہے ‘جبکہ اتباع یہ ہے کہ کسی ہستی سے اتنی محبت ہو جائے کہ چاہے اُس نے حکم نہ دیا ہو لیکن اس ہستی کے ہر عمل اور فعل کی پیروی کرنا۔
  اتباع کا درجہ اطاعت سے بلند ہے اور اس کے مفہوم میں بہت وسعت ہے۔ اطاعت میں صرف حکم پیش نظر ہو گا اور اتباع میں نبی اکرم ﷺ کے ہر ہر عمل اور فعل کو بلکہ ہر ہراَدا کی پیروی کو سعادت سمجھا جائے گا چاہے آپؐ نے اِس کا حکم نہ دیا ہو۔گویا حب ِ رسول ﷺکا تقاضا، اتباعِ رسولﷺ ہے۔
  اتباعِ رسول کا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اس بات کو ملحوظ رکھیں کہ بحیثیت مجموعی حضورﷺ کی حیاتِ طیبہ کا رُخ کیا تھا! آپؐ نے کس کام کے لیے محنت کی! آپؐ کو کیا فکر دامن گیر تھی! آپؐ نے اپنی دن رات کی سعی و کوشش اور محنت و مشقت کا ہدف کیا معین فرمایا! --- اس دنیا میں ہر شخص شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے لیے کوئی نہ کوئی ہدف معین کرتا ہے‘ پھر اس کی ساری محنت اور بھاگ دوڑ اسی رخ پر ہوتی ہے۔ کوئی اپنے پیشے میں اعلیٰ سے اعلیٰ مہارت حاصل کرنے کے لیے اور اپنا مقام بنانے کے لیے محنت اور سعی وجہد کرتا ہے۔ یہ ساری سوچ اس کے ہدف کے تابع ہے۔
  سیرتِ مطہرہ کا سرسری سا بھی مطالعہ کریں تو حیرت ہوتی  ہے کہ حضورﷺ نے اپنے مشن کے لیے کتنی محنت کی ہے اور کتنی مشقت جھیلی ہے۔ ہم اگر حضورﷺ کا اتباع کرنے کے خواہشمند ہیں تو ہمارے لیےاہم ترین بات یہ ہو گی کہ حضورﷺ کی زندگی کا رُخ کیا تھا! آپؐ کے سامنے کیا مقصد تھا! کس ہدف کے حصول کے لیے آپؐ نے سعی و جہد فرمائی تھی!
     مکہ میں نبی اکرم ﷺ اورآپؐؐ کے صحابہ کرام ؓ سخت ترین مصیبتیں جھیل رہے ہیں‘ حضورؐ کے ساتھیوں کو دہکتے انگاروں پر لٹایا جا رہا ہے‘ مکہ کی سنگلاخ اور تپتی ہوئی زمین پر گردن میں رسی ڈال کر جانوروں کی لاش کی طرح گھسیٹا جا رہا ہے۔ ایک مؤمنہ کو نہایت بہیمانہ ہی نہیں بلکہ انتہائی کمینگی سے شہید کیا جا رہا ہے۔ ایک مؤمن کے ہاتھ پائوں چار اونٹوں سے باندھ کر اُن اونٹوں کو چار سمت میں ہانک دیا جاتا ہے کہ جسم کے چیتھڑے اُڑ جاتے ہیں‘ لیکن جوابی کارروائی کی اجازت نہیں ہے۔ مکہ میں بارہ برس تک حضورﷺ کے کسی جاں نثار نے مشرکین مکہ کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی‘ کوئی بدلہ نہیں لیا۔ اس لیے کہ حضورﷺ کا فرمان تھا کہ اپنے ہاتھ باندھے رکھو! کوئی جوابی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ حالانکہ مکہ میں جو حضراتِ گرامی دولت ایمان سے مالامال ہوئے تھے اُن میں سے ہر ایک شجاعت و بہادری میں ایک ایک سو کے برابر ضرور تھا ‘ اور ان کی تعداد ایک سو کے لگ بھگ تھی۔ لیکن نبی اکرمﷺ کے حکم ’’کُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ‘‘ کی تعمیل میں کسی نے اپنی مدافعت میں بھی ہاتھ نہیں اُٹھایا۔ ایک طرف یہ انتہا ہے‘ دوسری طرف مدنی دَور میں حضورﷺ کے ہاتھ میں تلوار ہے‘ علم ہے ۔آپ ؐکے جاں نثار اصحاب ؓ  کے ہاتھوں میں تلواریں ہیں‘ نیزے ہیں‘ تیر کمان ہیں۔ جوابی کارروائی ہو رہی ہے۔
پچھلی چند صدیوں میں جب نہ صرف ہندوستان بلکہ عالم اسلام کے کثیر رقبہ پر مغربی سامراج کا سیاسی و عسکری استیلاء تھا اور اکثر مسلم ممالک کسی نہ کسی مغربی طاقت کے غلام تھے‘ حکمران اقوام کی طرف سے اسلام پر بڑے شدید اعتراضات کیے گئے کہ اسلام بڑا خونخوار مذہب ہے ‘ مسلمان بڑی خونی قوم ہے اور اسلام تو تلوار کے زور پر پھیلا ہے ع    ’’ بوئے خوں آتی ہے اس قوم کے افسانوں سے‘‘۔ اغیار نے ہم پر یہ تہمت اِس شد و مد سے لگائی کہ علامہ شبلی مرحوم جیسے عالم دین‘ سیرت نگار‘ مؤرخ نے بھی معذرت خواہانہ انداز اختیار کیا اور سیرت کی پہلی جلد میں لکھا کہ نبی اکرم ﷺ اور آپؐ کے صحابہ کرامj نے اقدام میں نہ پہل کی اور نہ تلوار اُٹھائی ‘بلکہ تلوار اُٹھائی تو مجبوراً اور اپنی مدافعت میں اُٹھائی۔ علامہ شبلی مرحوم تو پھر بھی اس معاملے میں قابل عفو قرار دئیے جا سکتے ہیں کہ اُن کا دَور وہ تھا جب انگریز کی حکومت اور اُس کا غلبہ تھا۔ لیکن  حیرت اور افسوس اِس بات پر ہے کہ ایک دینی جماعت کے پلیٹ فارم سے ایک نامور عالم دین کی طرف سے پاکستان کی آزاد فضا میں یہ کہا گیا ہے کہ ’’ حضور ﷺ اوردَورِ خلافت  راشدہ میں جتنی جنگیں ہوئی ہیں وہ صرف دفاعی جنگیں تھیں‘‘۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!
  اصولی بات یہ ہے  کہ تصادم کا آغاز اصولاً داعی انقلاب کرتا ہے‘ اقدام اُس کی جانب سے ہوتا ہے۔ غور کیجیے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعوت کا آغاز کہاں سے فرمایا! آپؐ نے لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور گلی گلی صدا بلند فرمائی : (( یَا اَیُّہَا النَّاسُ قُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ تُفْلِحُوْا)) (مسند احمد) اِس دعوت کے مضمرات اور مفہوم پر غور کیجیے‘ حضورﷺ فرما رہے ہیں کہ تمہارا مذہب غلط ہے اور اِس مشرکانہ مذہب پر قائم شدہ تمہارا نظام فاسد ہے۔ یہ صدیوں سے قائم و رائج نظام کے خلاف اعلانِ بغاوت ہے یا نہیں؟ مکہ کی پرامن فضا میں نعرئہ بغاوت کس نے بلند کیا؟ پرسکون شہری زندگی کے تالاب میں پتھر کس نے پھینکا کہ پورے تالاب میں ارتعاش کی لہریں اٹھ گئیں! 
ہجرت کے بعد مکہ والوں کے خلاف اقدام میں پہل حضورﷺ کی طرف سے ہوئی ہے۔ ہجرت کے بعد پہلے چھ مہینے حضورﷺ نے داخلی استحکام میں صرف فرمائے۔ اِس کے بعد آپؐ نے غزوئہ بدر سے قبل آٹھ چھاپہ مار دستے بھیجے جن میں سے چار میں آپؐ خود سپہ سالار تھے۔ اِن مہموں کے دو مقصد تھے۔ پہلا  قریش مکہ کے قافلوں کے راستوں کو مخدوش بنانا جو قریش کی معاشی زندگی کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتے تھے۔ اسے موجودہ دَور کی اصطلاح میں قریش کی معاشی ناکہ بندی کہا جائے گا۔ دوسرا مقصد تھاقریش کی سیاسی ناکہ بندی۔
رسول اللہﷺ نے مکہ اور مدینہ منورہ کے مابین بسنے والے بعض قبیلوں کو اپنا حلیف بنا لیا اور بعض کو غیر جانب دار کہ وہ جنگ کی صورت میں نہ حضورﷺ کا ساتھ دیں گے نہ قریش کا۔انہی میں سے ایک مہم عبداللہ بن جحش ؓ کی سرکردگی میں وادیٔ نخلہ بھیجی۔ یہ وادی طائف اور مکہ کے مابین واقع ہے۔ اس راستے سے قریش کے تجارتی قافلے طائف سے ہو کر یمن کے ساحل تک جاتے تھے۔ حضورﷺ کی ہدایت تھی کہ قریش کی نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھو اور ہمیں خبر دیتے رہو۔ ان حضراتؓ کو لڑائی کا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ لیکن صورتِ حال ایسی پیش آئی کہ اس دستہ کی قریش کے ایک قافلے سے مڈبھیڑ ہو گئی جو کافی مالِ تجارت اور پانچ افراد پر مشتمل تھا۔ ان مشرکین میں سے ایک شخص قتل ہوا‘ دو فرار ہو گئے ‘ دو کو قیدی بنالیا گیا اور ان کو اور مالِ غنیمت کولے کر یہ حضراتؓ مدینہ واپسآ گئے ۔ ہجرت کے چھ ماہ بعد آٹھ مہمات کی صورت میں اقدام کی پہل نبی اکرمﷺ کی طرف سے ہوئی اور پہلا مشرک مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوا۔
یہ بات تو ساری دنیا کو معلوم ہے کہ حضورﷺ نے مدینہ تشریف لانے کے بعد متعدد جنگیں لڑی ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں نقشہ کھینچا گیا ہے :ترجمہ؛ ’’ اللہ کی راہ میںقتال کرتے ہیں‘ پھر قتل کرتے بھی ہیں اورقتل ہوتے بھی ہیں‘‘(التوبۃ:111) تو مکی زندگی اور مدنی زندگی کا فرق سامنے ہے۔ ان میں بظاہر بڑا تضاد موجود ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مشہور مؤرخ ٹائن بی(1889ء تا 1975ء) جسے اس دَور میں فلسفہ تاریخ میں اتھارٹی تسلیم کیا جاتا ہے‘ نے ایک جملے میں پورا زہر بھر دیا ہے۔ نقل کفر کفر نہ باشد۔ وہ کہتا ہے :
"Muhammad failed as a Prophet but succeeded as a statesman"
اُس کے اس جملہ کی زہرناکی کو آپ نے محسوس کیا! وہ یہ کہہ رہا ہے کہ مکہ میں محمد (ﷺ) کی زندگی تو نبیوں کے مشابہ ہے۔ دعوت ہے‘ تبلیغ ہے‘ وعظ ہے‘ نصیحت ہے‘ تلقین ہے‘ انذار ہے ‘ تبشیر ہے‘ صبر ہے‘ پتھرائو ہو رہا ہے‘ لیکن جوابی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ عیسائیوں کےو آئیڈیل حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما الصلوٰۃ والسلام‘ کی زندگی کا نقشہ یہی تو تھا! حضرت مسیحؑ نے تلوار تو کبھی نہیں اٹھائی! آپؑ کبھی کسی حکومت کے سربراہ تو نہیں بنے! حضرت یحییٰ ؑکے ہاتھ میں بھی کبھی تلوار نہیں آئی! تو ٹائن بی کے نزدیک مکہ میں حضورﷺ کی جو سیرت نظر آتی ہے وہ نبوت کے نقشہ پر کچھ نہ کچھ پوری اترتی ہے۔ وہ اگرچہ حضورﷺ کی نبوت کی تصدیق نہیں کرتا لیکن یہ مانتا ہے کہ سیرت کا مکہ میں جو نقشہ ہے وہ نبیوں کی سیرت و زندگی سے مشابہ ہے ‘لیکن اس کے کہنے کے مطابق وہاں حضورﷺ ناکام ہو گئے۔ نعوذ باللّٰہ منْ ذٰلک۔ وہاں سے تو جان بچا کر نکلنا پڑا۔ البتہ مدینہ میں اسے محمد رسول اللہﷺ بالکل ایک نئی شکل میں نظر آئے ۔ سپہ سالار ہیں‘ شہسوار ہیں‘ صدرِ مملکت ہیں‘ مدینہ کی شہری ریاست کے سربراہ ہیں‘ آپؐ ہی چیف جسٹس ہیں‘ مقدمات آ رہے ہیں اور آپؐ فیصلے صادر فرما رہے ہیں۔ معاہدے کر رہے ہیں‘ مدینہ آتے ہی یہود کے تینوں قبیلوں کو معاہدہ میں جکڑ لیا ہے‘ عرب کے دوسرے قبائل سے معاہدے ہو رہے ہیں۔ تو وہ کہتا ہے کہ یہ صورت تو ایک سیاستدان کی نظر آتی ہے۔اس میں پیغمبرانہ شان اُسے نظر نہیں آتی۔ 
اِسی ایک جملہ کی شرح ہے جو ایک برطانوی مؤرخ مسٹر منٹگمری واٹ(1909ء تا2006ء) نے دوسرے اندازسے کی ہے۔چند سال قبل مرکزی حکومت کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ سیرت کانفرنس میں مسٹر واٹ کو مدعو کیا گیا تھا کہ وہ آ کر ہمیں سیرتِ مطہرہ سمجھائے۔ اس شخص نے سیرت پر دو کتابیں علیحدہ علیحدہ لکھی ہیں۔ ایک کا نام ہے’’Muhammad at Mecca‘‘اوردوسری کا نام ہے’’Muhammad at Medina‘‘ (ﷺ) اس نے رسول اللہﷺ کی سیرت کو دو حصوں میں بانٹ کر دراصل اس ظاہری تضاد کو نمایاں کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ مکہ والے محمد (ﷺ) اور ہیں جبکہ مدینہ والے محمد (ﷺ) اور ہیں۔یہاں یہ مثال اس لیے دی ہے کہ کسی نہ کسی درجہ میں اور بظاہر تضاد واقعتا نظر آتا ہے۔ دشمنوں نے اِس کا غلط فائدہ اُٹھایا اور اسے تنقید کا موضوع بنا لیا۔ لیکن ہمیں بھی یہ ماننا پڑے گا کہ دو رنگ جدا ہیں جن کی میں بعد میں وضاحت کروں گا کہ ان کا آپس میں ربط کیا ہے۔
6ھ میں حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہﷺ اور قریش مکہ کے مابین صلح کا ایک معاہدہ ہوا تھا جو صلح حدیبیہ کے نام سے سیرت کی تمام کتابوں میں موجود ہے۔ اس صلح کی شرائط بڑی حد تک یک طرفہ نظر آتی ہیں اور بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے دب کر صلح کی ہے۔ یہاں تک کہ صحابہ کرامj انتہائی مضطرب اور بے چین تھے کہ دب کر کیوں صلح کی جا رہی ہے ! ہم اتنے کمزور تو نہیں‘ ہم حق پر ہیں‘ ہم حق کے لیے جانیں دینے کے لیے تیار ہیں۔ چودہ سو صحابہ کرامj موت پر بیعت کر چکے تھے‘پھر دب کر صلح کیوں ؟صلح کی شرائط میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ واپس جائو‘ احرام کھول دو‘ اس دفعہ عمرہ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اوّل تو یہی بات صحابہ کرامؓ کے لیے ناممکن القبول تھی۔ احرام باندھ کر آئے تھے۔ چنانچہ صحابہ کرامؓ میں اضطراب پیدا ہوا کہ عمرہ کیے بغیر احرام کیسے کھول دیں! پھر ایک شرط یہ بھی تھی کہ مکہ کا کوئی شخص اگراپنے ولی کی اجازت کے بغیر مدینہ جائے گا (یعنی اسلام قبول کر کے جائے گا) تو مسلمانوں کو اُسے واپس کرنا ہو گا ‘لیکن اگر کوئی شخص مدینہ سے اسلام چھوڑ کر (مرتد ہو کر) مکہ آجائے گا تو اُسے قریش واپس نہیں کریں گے۔ بظاہر بڑی غیر منصفانہ بات تھی۔ اس پر صحابہ کرام ؓ بڑے جزبز ہوئے‘ ان کے جذبات میں جوش و ہیجان پیدا ہوا کہ یہ صلح تو مساوی شرائط پر نہیں ہو رہی ۔
        چنانچہ جب صلح نامہ پر دستخط کے بعد نبی اکرم ﷺ  نے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا کہ احرام کھول دئیے جائیں اور قربانی کے جو جانور ساتھ ہیں اُن کی یہیں قربانی دے دی جائے تواس وقت صحابہ کرامؓ کے جذبات کا عالم یہ تھا کہ کوئی نہیں اُٹھا۔ کیفیت یہ تھی کہ سب ہی دل شکستہ تھے۔ حضورﷺ نے دو مرتبہ پھر فرمایا کہ احرام کھول دئیے جائیں اور قربانیاں دے دی جائیں ‘لیکن پھر بھی کوئی نہیں اُٹھا۔ حضور ﷺ ملول اور رنجیدہ ہو کر خیمہ میں تشریف لے گئے۔ عام معمول یہ تھا کہ سفر میں حضورﷺ    کے ساتھ کوئی نہ کوئی زوجہ محترمہؓ ہوتی تھیں۔ چنانچہ اس سفر میں حضرت اُمِ سلمہ ؓ آپؐ کے ساتھ تھیں۔ حضورﷺ نے اُن سے ذکر فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور! آپ کسی سے کچھ نہ کہئے‘ بس آپؐ قربانی دے دیجیے اور احرام کھول دیجیے ۔ حضورﷺ باہر تشریف لائے ‘قربانی دی اور حجام کو بلایا کہ سر کے بال مونڈ دو اور آپؐ نے احرام کھول دیا۔ صحابہ کرامؓ نے جب یہ دیکھا تو سب کھڑے ہو گئے۔ جو صحابہ ؓقربانی کے جانور ساتھ لائے تھے انہوں نے قربانیاں دیں اورحلق یا قصر کرا کے احرام کھول دئیے۔ اس صورتِ حال کی تاویل و توجیہہ یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ پر اُس وقت انتظار کی سی حالت طاری تھی‘ وہ اِس خیال میں تھے کہ شاید کوئی نئی شکل پیدا ہو جائے‘ شاید نئی وحی آجائے۔ لیکن جب حضورﷺ نے احرام کھول دیا تو حالت ِ منتظرہ ختم ہو گئی اور سب نے حکم کی تعمیل کی ‘ورنہ معاذاللہ ہم صحابہ کرامؓ کے متعلق ہر گز کسی حکم عدولی کا گمان تک نہیں کر سکتے۔ یہ سارا پس منظر قدرے تفصیل سے اس لیے رکھا ہے کہ آپ صحیح اندازہ کر سکیں کہ 6ھ میں حدیبیہ کے مقام پر جو صلح کا معاہدہ ہوا اس کی شرائط واقعتا غیر مساوی تھیں اور حضور اکرمﷺ بظاہر دب کر صلح فرما رہے تھے۔ گویا اُس وقت آپؐ بہرصورت صلح کرناچاہتے تھے۔
لیکن دو سال بعد جب قریش نے معاہدے کی ایک شق کی خلاف ورزی کی ‘اور حضورﷺ نے اس پر ان کی گرفت فرمائی تو قریش مکہ نے خود صلح کے خاتمے کا اعلان کر دیا ۔تب ابوسفیان کو ‘جو اُس وقت پورے قریش کے قبیلہ کی سرداری کے منصب پر فائز تھے احساس ہوا کہ جذبات میں آ کر اُن سے بڑی غلطی ہو گئی ہے‘ یہ صلح توہمارے تحفظ کی ضامن تھی‘اس صلح کی تجدید ہونی چاہیے ۔ چنانچہ وہ خود چل کر مدینہ پہنچے‘ سر توڑ کوششیں کیں‘ سفارشیں ڈھونڈیں کہ کسی طرح حضورﷺ صلح کی تجدید کی منظوری دے دیں۔ لیکن بارگاہِ رسالت سے صلح کی تجدید کے لیے کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ غور کیجیے ‘یہاں بھی بظاہر بڑا تضاد نظر آتا ہے۔
اب یہ جو ظاہری تضادات نظر آ رہے ہیں ،ان کے مابین ربط قائم کرناہو گا۔یہ ربط قائم ہو گا نبی اکرم ﷺ کے اصل ہدف اور مقصود کی تعیین سے‘ جس کے لیے آغازِ نبوت سے مسلسل جدوجہد ہو رہی ہے۔ تو جان لیجیے کہ یہ ہدف اور یہ مقصود و مطلوب ہے :’’ اللہ کے دین کو غالب کرنا‘‘۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے ایک وقت میں ہاتھ روکنے کا حکم ہے‘ مدافعت میں بھی ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں ہے‘جبکہ ایک وقت میں ہاتھ کھولنے اور اقدام کرنے کا حکم ہے۔ ایک وقت میں اسی مقصد کے لیے صلح مفید ہے‘ لہٰذا صلح کی جا رہی ہے‘ اپنی انانیت کو آڑے آنے نہیں دیا جا رہا‘ دب کر اور کسی قدر شکست خوردگی کے انداز میں صلح کی جا رہی ہے اور ایک وقت میں اِس مقصد کی خاطر جب صلح نہ کرنا مفید ہے تب صلح نہیں کی جا رہی ہے۔ تمام تضادات درحقیقت مقصد کو صحیح طور پر سمجھ لینے ہی سے رفع ہوتے ہیں۔ 
قرآن مجید میں رسولوں کی بعثت کا بنیادی مقصد سورۃ الحدید کی آیت25 میں بیان فرمایا گیا ہے؛ ترجمہ : ’’بلاشبہ‘ بالتحقیق ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو بینات کے ساتھ  اور ہم نے ان رسولوں کے ساتھ کتاب بھی نازل فرمائی اور میزان بھی‘‘۔ یعنی واضح تعلیمات اور واضح نشانیاں دے کر۔یہ سب کس لیے کیا! رسول کیوں بھیجے! کتاب اور میزان کس لیے نازل فرمائی! اس مقصد کو آیت کے اگلے حصہ میں معین فرمایا گیا؛ترجمہ : ’’ تا کہ لوگ عدل و انصاف پر قائم ہوں‘‘۔ گویا رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجنے اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان یعنی شریعت نازل فرمانے کی غایت اور مقصد بیان فرما دیا گیا: تاکہ لوگ عدل و قسط پر قائم ہوں ۔ ظلم کا خاتمہ ہو جائے ‘ جبراوراستبداد کا خاتمہ ہو جائے اور استحصال کا قلع قمع ہو جائے۔ لیکن یہ نظامِ عدل کون سا ہو گا؟نظامِ عدل اجتماعی کا ایک تصور وہ ہے جو کمیونسٹوں کے ہاں ملتا ہے‘جبکہ  ایک تصور مغربی ممالک کاہے۔ کوشش سب کی یہ ہے کہ ہم کسی حقیقی نظامِ عدلِ اجتماعی تک پہنچ جائیں ‘لیکن انسانوں کے اپنے بنائے ہوئے جتنے تصورات ہیں، ان میں کسی نہ کسی پہلو سے کوئی نقص یا خامی رہ جاتی ہے۔ حقیقی نظامِ عدلِ اجتماعی صرف وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کے ذریعے سے نوعِ انسانی کو عطا فرماتا ہے‘ جسے ہم دین و شریعت کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ اللہ کے آخری نبی اور رسول محمد ﷺ پر اِس شریعت کی تکمیل ہو گئی ہے۔
  اب ذرا اس پہلو پر غور کیجیے کہ اس نظامِ عدل و قسط کے قیام میں رکاوٹ کون بنے گا؟ ظاہر بات ہے کہ جو مظلوم ہیں وہ تو چاہیں گے کہ ظلم کا خاتمہ ہو ، جن کے حقوق غصب کیے گئے ہیں وہ تو چاہیں گے کہ ظالمانہ نظام ختم ہو جائے اور عادلانہ نظام قائم ہو۔ مگر جنہوں نے ناجائز طور پر اپنی حکومتوں کے قلادے لوگوں کی گردنوں پر رکھے ہوئے ہیں اور ایک غیر منصفانہ نظام قائم کیا ہوا ہے،کیا وہ کبھی پسند کریں گے کہ استحصالی و ظالمانہ نظام ختم ہو جائے اور عدل و قسط کا نظام قائم ہو؟لیکن ان طبقات میں بھی کچھ سلیم الطبع لوگ ہوتے ہیںجو بیدار ہو جاتے ہیں‘ ان کو احساس ہو جاتا ہے کہ واقعی یہ نظام غلط ہے۔ چنانچہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت و تبلیغ کے نتیجہ میں خود آلِ فرعون میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئے تھے ۔ قرآن حکیم میں ایک مؤمن آلِ فرعون کا ذکر موجود ہے۔ سورۃ المؤمن کی آیت 28 میں اُن کی پوری تقریر نقل کی گئی ہے۔
یہ صاحب جو آلِ فرعون کے اہم سرداروں میں سے تھے‘ فرعون کے دربار میں ان کا اونچا مقام تھا‘ ایمان لے آئے تھے! یہ اس لیے ہوا کہ ان کی انسانیت بیدار تھی۔ 
سورۃ الحدید کی اس آیت ِمبارکہ کے اگلے ٹکڑے میں فرما دیا گیا ؛ترجمہ:’’ ایسے لوگوں کی سرکوبی اور علاج کے لیے ہم نے لوہا بھی اتارا ہے۔‘‘
 لوہے میں جنگ کی صلاحیت ہے ‘اس سے اسلحہ بنتا ہے۔ لوگوں کے لیے اس لوہے میں دیگر تمدنی فائدے بھی ہیں ۔ لیکن اس آیت کی رو سے لوہے کا اصل مقصد یہ ہے کہ میزانِ خداوندی کے نصب کرنے کے مشن میں جو لوگ بھی رسولوں کے اعوان و انصار بنیں اور نظامِ عدل و قسط کے قیام کے لیے تن من دھن لگانے کے لیے تیار ہو جائیں‘ وہ حسب ِ ضرورت اور حسب ِ موقع اس لوہے کی طاقت کو استعمال کریں اور ان لوگوں کی سرکوبی کریں جو اِس راہ میں مزاحم ہوں۔ چنانچہ اسی آیت مبارکہ کے اگلے حصہ میں اس کو اللہ تعالیٰ ایمان کی کسوٹی اور اپنی اور اپنے رسولوں کی نصرت قرار دیتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے؛ ترجمہ:’’یعنی اللہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون ہیں اس کے وفادار بندے جوغیب میں رہتے ہوئے اللہ کے دین کی اقامت کے لیے اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتے ہیں ۔‘‘یہ آیت ِ مبارکہ ختم ہوتی ہے ان الفاظ مبارکہ پر:ترجمہ: ’’بے شک اللہ قوی ہے‘ زور آور ہے‘ زبردست اور غالب ہے‘‘۔ یعنی لوہے کی طاقت کو ہاتھ میں لے کر اللہ کی راہ میں محنت کرنے اور اللہ کی نازل کردہ میزانِ شریعت کو نصب کرنے کی تعلیم و ہدایت اس لیے نہیں دی جا رہی کہ معاذ اللہ‘ وہ تمہاری مدد کا محتاج ہے‘ اُس القوی العزیز کو تمہاری مدد کی کیا حاجت! البتہ تمہاری وفاداری اور ایمان کا امتحان مقصود ہے۔ سورۃ الحدید کی یہ آیت قرآن مجید کی بڑی انقلابی آیت ہے اور اس میں عمومی اسلوب و انداز میں ایک قاعدہ کلیہ کے طور پر رسولوں کی بعثت کا مقصد‘ ان کو کتاب و میزان دینے کی غایت اور لوہے کے نزول کا سبب بیان ہوا ہے۔    (جاری ہے)