(گوشۂ تربیت) دعا - مرکزی شعبہ تعلیم و تربیت تنظیم اسلامی

14 /

دعامرکزی شعبہ تعلیم و تربیت، تنظیم اسلامی

دعا کے لغوی معنی پکارنا، التجا کرنا اور کسی کی طرف متوجہ ہونے کے ہیں۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کو یہ بات بہت پسند ہے کہ اس کے بندے اپنی تمام امیدیں اسی سے وابستہ رکھیں، اپنی ہر ضرورت اس کے سامنے پیش کریں، اپنی ہر مشکل اور پریشانی میں اسی کو پکاریں، اسی سے مدد طلب کریں، اسی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں، اس کی رحمت کے امیدوار رہیں اور اس کے عذاب سے پناہ چاہیں۔ بندے کے اسی عجز و انکسار کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے کا نام دعا ہے۔
ارشادِ الٰہی ہے:
{وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ط اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِیْنَ(60)}(المؤمن)’’اور تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ یقیناً وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کی بنا پر اعراض کرتے ہیں، وہ جہنم میں داخل ہوں گے ذلیل و خوار ہو کر۔‘‘
اسی طرح اللہ تعالیٰ سورۃ فاطر آیت نمبر 15 میں فرماتے ہیں:
{یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ اِلَی اللہِ ج وَاللہُ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ (15)} (سورۃ فاطر)’’اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو بے نیاز، حمد کے لائق ہے۔‘‘
1۔ دعا ایمان کا بنیادی تقاضا ہے
ایمان کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ بندہ یہ یقین رکھے کہ نفع و نقصان، عطا و منع اور کامیابی و ناکامی سب اللہ کے اختیار میں ہے۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے:
’’اے اللہ! جو تو عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جسے تو روک لے اسے کوئی عطا کرنے والا نہیں، اور کسی صاحبِ اقتدار کو تیرے مقابلے میں اس کی طاقت فائدہ نہیں دے سکتی۔‘‘(متفق علیہ)
2۔ دعا اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہے
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعا کو بے حد پسند فرماتے ہیں، یہاں تک کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں مانگتا اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جو اللہ تعالیٰ سے نہیں مانگتا، اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوتے ہیں۔‘‘  (جامع الترمذی)
یہ حقیقت قابلِ غور ہے کہ دیگر عبادات اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے کی جاتی ہیں، لیکن دعا ایسی عبادت ہے کہ اس کا ترک کرنا خود اللہ کی ناراضی کا سبب بن جاتا ہے۔ اس سے دعا کی عظمت اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔
3۔ دعا ہر حال میں آسان عبادت ہے
دعا ایسی عبادت ہے جس کے لیے نہ کسی مخصوص جگہ کی پابندی ہے، نہ کسی وقت کی، نہ صحت و بیماری کی، نہ سفر و حضر کی۔ بندہ ہر حال میں اپنے رب کو پکار سکتا ہے۔ارشادِ الٰہی ہے:
{وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ ط اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ لا فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ(186)}(سورۃ البقرۃ)
’’اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے پوچھیں تو بے شک میں قریب ہوں۔ پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس انہیں چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں، تاکہ وہ راہِ راست پائیں۔‘‘
4۔ دعا تقدیر کو بھی ٹال دیتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’دعا کے سوا کوئی چیز تقدیر کو نہیں ٹالتی اور حسنِ سلوک کے سوا کوئی چیز عمر میں برکت کا باعث نہیں بنتی۔‘‘ (جامع الترمذی)
’’بے شک دعا اس مصیبت میں بھی نفع دیتی ہے جو نازل ہو چکی ہو اور اس مصیبت میں بھی جو ابھی نازل نہیں ہوئی، پس اے اللہ کے بندو! دعا کو لازم پکڑو۔‘‘(جامع الترمذی)
علامہ ابن قیمؒ لکھتے ہیں:’’ دعا تقدیر کا بھی ایک حصّہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بعض مصیبتوں کا ٹالنادعاؤں کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔ اس لیے دعا اور تقدیر میں کوئی تعارض نہیں، بلکہ دعا بھی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تدبیر ہے۔‘‘
5۔ دعا آزمائشوں میں نفع بخش ہے
دنیا دارالامتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خوشی اور غم، آسانی اور سختی، صحت اور بیماری، فراخی اور تنگی، سب حالات سے آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{وَلَـنَـبْلُوَنَّــکُمْ بِشَیْ ئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ(155)}(سورۃ البقرۃ: 155)’’اور ہم ضرور تمہیں کسی قدر خوف، بھوک، اور مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔‘‘
آزمائشوں میں مومن کا سب سے مضبوط سہارا دعا ہے۔
دعا کی اہمیت
دعا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید کا آغاز بھی دعا سے ہوتا ہے اور اختتام بھی۔
قرآن مجید کا آغاز سورۃ الفاتحہ سے ہوتا ہے جس کا مرکزی مضمون ہے:
{اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ0}(سورۃ الفاتحہ: 6)
اور اختتام بھی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پر ہوتا ہے، جو سراسر اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی دعائیں ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بندۂ مومن کی زندگی بھی دعا سے شروع ہوتی ہے اور دعا ہی پر مکمل ہوتی ہے۔
دعا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے معزز عمل ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے زیادہ عزت والی کوئی چیز نہیں۔‘‘(جامع الترمذی)
دعا بندے کے فقر و احتیاج اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت و قدرت کے اعتراف کا عملی اظہار ہے، اسی لیے یہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔
دعا عبادت کا مغز اور روح ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ))(جامع الترمذی)’’دعا ہی عبادت ہے۔‘‘
اور اسی طرح فرمانِ نبوی ﷺ ہے:
((الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ))’’دعا عبادت کا مغز ہے۔‘‘
پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
{وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ طاِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِیْنَ(60)}(المؤمن)’’اور تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ یقیناً وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کی بنا پر اعراض کرتے ہیں، وہ جہنم میں داخل ہوں گے ذلیل و خوار ہو کر۔‘‘
معلوم ہوا کہ دعا محض عبادت کا حصہ نہیں بلکہ عبادت کی اصل روح ہے، کیونکہ دعا میں بندہ اپنے عجز و انکساری ، بندگی و انقیاد اور اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔
آدابِ دعا
دعا اگرچہ ہر وقت اور ہر حالت میں کی جا سکتی ہے، لیکن شریعت نے اس کی قبولیت کے لیے بعض آداب اور شرائط بھی بیان فرمائے ہیں۔ ان آداب کا اہتمام دعا کی قبولیت کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے اور بندے کے خشوع و خضوع میں اضافہ ہوتا ہے۔
1۔ اخلاص کے ساتھ دعا کرنا
دعا صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔ اس میں ریاکاری یا غیر اللہ پر اعتماد شامل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{فَادْعُوا اللہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْکَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ(14)} (المؤمن)’’پس اللہ ہی کو پکارو، اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے، خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘
اس آیت میں دعا کو خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ دعا بذاتِ خود عبادت ہے۔
سورۃ یونس آیت 106 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:{وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللہِ مَا لَا یَنْفَعُکَ وَلَا یَضُرُّکَ ج فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ(106)}  (سورۃ یونس)’’اور اللہ کے سوا اسے نہ پکاریے جو نہ آپ کو نفع دے سکے اور نہ نقصان، اور اگر آپ نے ایسا کیا تو پھر آپ بھی ظالموں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘
یہی مضمون سورۃ الفاتحہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:
{اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُo}’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔‘‘
معلوم ہوا کہ دعا، فریاد اور استعانت کا اصل مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
2۔ دعا کا آغاز حمد و درود سے کرنا
فضالہ بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نماز کے اندر دعا شروع کی اور نبی ﷺ پر درود نہیں بھیجا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اے نمازی! تم نے جلدی کی۔‘‘
پھر فرمایا:
’’جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی ﷺ پر درود بھیجے، اس کے بعد جو چاہے دعا کرے۔‘‘(جامع الترمذی)
3۔ دعا عاجزی اور خشوع کے ساتھ کی جائے
ارشادِ ربانی ہے:
{اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃًط اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(55)}(الاعراف)’’اپنے رب کو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے پکارو،بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا میں تکلف، تصنع اور آواز بلند کرنا ناپسندیدہ ہے، بلکہ عاجزی، انکساری اور دل کی حضوری مطلوب ہے۔
4۔قبلہ رُخ ہو کر اور ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا
اگرچہ ہر حالت میں دعا جائز ہے، تاہم سنت یہ ہے کہ اہم مواقع پر قبلہ رُخ ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی جائے۔ غزوۂ بدر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ قبلہ رُخ کھڑے ہوئے اور دونوں ہاتھ بلند کیے اور مسلسل اپنے رب سے دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ چادرِ مبارک کندھوں سے گر گئی۔ (صحیح مسلم)
5۔ یقین ِ کامل کے ساتھ دعا کرنا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ سے اس حال میں دعا کرو کہ تمہیں قبولیت کا یقین ہو، اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ غافل اور کھیل میں مشغول دل کی دعا قبول نہیں کرتا۔‘‘(جامع الترمذی)
قبولیت کی شرائط
قبولیت ِ دعا کے لیے صرف زبان سے دعا کرنا کافی نہیں بلکہ بعض شرائط اور اسباب کا بھی لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
i۔ حلال رزق
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو طویل سفر کرتا ہے، گرد آلود ہے، دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر یا رب! یا رب! پکارتا ہے، لیکن:
’’اس کا کھانا حرام ہے، اس کا پینا حرام ہے، اس کا لباس حرام ہے اور حرام ہی سے اس کی پرورش ہوئی ہے، تو اس کی دعا کیسے قبول کی جائے؟‘‘ (صحیح مسلم)
ii۔ گناہوں اور قطعِ رحمی سے اجتناب
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ کسی گناہ یا قطعِ رحمی کی دعا نہ کرے۔‘‘(صحیح مسلم)
iii۔ جلد بازی نہ کرنا
اسی حدیث کے آخر میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’تم میں سے ہر شخص کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ جلد بازی نہ کرے اور یہ نہ کہے کہ میں نے دعا کی مگر قبول نہیں ہوئی۔‘‘(صحیح مسلم)
دعا مومن کا سب سے مضبوط سہارا، سب سے مؤثر ہتھیار اور اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ سے تعلق کا سب سے قوی ذریعہ ہے۔ یہی وہ عبادت ہے جو بندے کے دل میں توحید، عاجزی، امید، خوف، محبت اور توکل پیدا کرتی ہے۔ دعا انسان کو اس حقیقت کا شعور دیتی ہے کہ تمام اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور اسی کے در سے ہر خیر حاصل ہوتی ہے۔
لہٰذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط رکھے۔
دعا کو اپنی زندگی کا معمول بنائے، اس کے آداب کا اہتمام کرے، حلال رزق کمائے، گناہوں سے بچے اور دعا کی قبولیت میں تاخیر سے مایوس نہ ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے وہی فیصلہ فرماتا ہے جو ان کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، یقین، خشوع اور آداب کے ساتھ دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری دعاؤں  کو قبول فرمائے اور ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین!