دین و دانش
اسلام بطور مذہب اور دین
ابو موسیٰ
کرۂ ارض جسے ہم دنیا کہتے ہیں اِس میں پہلے انسان یعنی حضرت آدم ؑ صرف پہلے انسان ہی نہ تھے بلکہ پہلے پیغمبر بھی تھے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسانیت کا آغاز ہی مذہبی بنیادوں پر کیا۔ مزید یہ کہ صورتِ حال کو مکمل طور پر واضح کرنے کے لیے دنیا میں اپنے نمائندے یعنی انبیاء اور رُسل کو بھیجا اور زبور، تورات، انجیل اور قرآنِ پاک جیسی مقدس کتب اُن پر نازل کی گئیں تاکہ انسان اُن پر ایمان لائیں اور اپنی زندگی کو اِن مقدس ہستیوں کی شریعت کے تابع کریں۔انسانوں کی عظیم اکثریت نے اِسے کم از کم نظری طور پر اور عقیدہ کی حیثیت سے تسلیم کیا اور اِس کے انکار کو منکر اور گناہ مانا۔ لیکن ایک اچھی خاصی تعداد میں انسانوں نے اللہ اُس کے نمائندوں اور اُس کی نازل کردہ کتب کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جنہیں ہم ملحد کہتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی کو نہیں مانتے تو انبیاء و رُسل پر ایمان، معجزات، یومِ حشر اور جزا و سزا کو کیوں تسلیم کریں گے۔ اُن کا معاملہ فی الحال ملتوی کر دیں درحقیقت اللہ تعالیٰ کی نشانیاں دکھائی جا سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو نہیں دکھایا جا سکتا اور نہ ہی وہ برسر زمین یہ نشانیاں دیکھنے کو تیار ہیں اور نہ خود میں جھانکنا ضروری سمجھتے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کی یہ نشانیاں نہ صرف زمین و آسمان میں آشکار ہیں بلکہ خود انسان کے اندر بھی موجود ہیں۔
ملحدین کا عجیب معاملہ یہ ہے کہ وہ اللہ کو تو نہیں مانتے البتہ نیچر کو تسلیم کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نیچر جس کا اردو ترجمہ فطرت کیا جا سکتا ہے، وہ کہاں سے ٹپک پڑے گی۔ بعض ملحدین نے اِس بحث میں کارنر ہو کر یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ کوئی انتہائی intelligent قوت ہے جو اِس دنیا کے بیلنس کو قائم رکھے ہوئے مثلاً آبادی اور خوراک کا بیلنس اُن کے مطابق جب یہ بیلنس بگڑ جاتا ہے خاص طور پر یوں کہ آبادی زیادہ ہو جاتی ہے اور خوراک کم پڑ جاتی ہے تو دنیا میں ایسا حادثہ یا حادثے وقوع پذیر ہوتے ہیں جس سے بیلنس پھر قائم ہو جاتا ہے۔ یہ دلیل ایک ایسے ہی گروہ نے بڑے پُرزور انداز میں دی ہے لیکن راقم کے نزدیک یہ دلیل بڑی بودھی ہے۔ یہ کہنا کہ کروڑوں سال پہلے ایک دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجہ میں یہ دنیا وجود میں آگئی اِس پر راقم کو وہ پرانی کہانی یاد آتی ہے کہ ایک مسلمان بادشاہ کے دربار میں ایک ملحد نے چیلنج کیا کہ کوئی میرے ساتھ خدا کے وجود کے حوالے سے بحث کرے۔ میں ثابت کروں گا کہ خدا نام کی کوئی شے نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ بادشاہ نے ایک عالم دین کو بلا بھیجا۔ عالم دین کافی وقت گزرنے کے باوجود نہ آیا تو ملحد کہنے لگا کہ آپ کا عالم بھاگ گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ کچھ وقت گزرا تو عالم دین دربار میں پہنچ گیا بادشاہ نے اتنی دیر کر دینے کی وجہ پوچھی تو عالم دین بولا میرا گھر ندی کے اُس پار ہے۔ میں جب ندی کنارے آیا تو کشتی دستیاب نہیں تھی۔ میں پریشان ہوگیا پھر ہوا یوں کہ لکڑی کے چند تختے جو پانی میں بہتے آ رہے تھے خود بخودجُڑ گئے کشتی وجود میں آگئی تو میں اِس کشتی میں سوار ہو کر ندی کے اِس پار پہنچ گیا۔ ملحد قہقہہ لگا کر کہنے لگا کہ کتنا جھوٹا ہے آپ کا یہ عالم دین یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ لکڑی کے تختے خود بخود جُڑجائیں اور کشتی بن جائے تب وہ عالم دین گرجا اور بولا تو یہ کیسے ہوتا ہے کہ اتنی بڑی دنیا خودبخود یعنی اپنے آپ وجود میں آجائے جبکہ کوئی بنانے والا نہ ہو۔
بہرحال آگے بڑھنے سے پہلے یہ سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ تین مذاہب ایسے ہیں جنہیں آسمانی مذاہب کہا جا سکتا ہے، یہودیت، عیسائیت اور اسلام ۔ یہودی اپنا تعلق حضرت موسیٰ ؑ سے جوڑتے ہیں اور حضرت عیسیٰ ؑ سے پہلے تک آنے والے انبیاء کرام ؑ کو تسلیم کرتے ہیں۔ عیسائی خود کو حضرت عیسیٰ ؑ کے پیروکار کہتے ہیں اور اُنہیں آخری رسول مانتے ہیں۔ البتہ جلد ہی عیسائیوں میں تثلیث کا مسئلہ کھڑا ہوگیا اور اُنہوں نے اللہ تعالیٰ حضرت مریم ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کو معاذ اللہ ایک خاندان بنا کر الوہیت کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا جبکہ مسلمان حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کو اللہ کے رسول تو تسلیم کرتے ہیں لیکن حضورﷺ کو آخری نبی اور رسول مانتے ہیں اور ختم نبوت کو اسلام کا جزو لاینفک قرار دیتے ہیں اور آپﷺ کے بعد نبوت پر دعوےدار کو کاذب اور جعلساز قرار دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی دور میں اپنے وقت کے نبی یا رسول ﷺ پر ایمان نہ لانا کفر ٹھہرا۔ ہمارے عقیدے کے مطابق جس شخص کے سامنے آخری نبی اور رسول یعنی حضرت محمد ﷺ کی دعوت آئی اور اُس نے اُس کا انکار کیا وہ کافر ہے اگرچہ یہ اختلاف اپنی جگہ ہے کہ اُسے کافر نہیں غیر مسلم کہنا چاہیے لیکن راقم کا مقصد صرف یہ تھا کہ بہرحال اُنہیں ملحدین سے الگ کرنا ہوگا، وہ اللہ کو کسی نہ کسی انداز میں مانتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ تینوں آسمانی مذاہب سے منسلک یہودی، عیسائی اور مسلمان کبھی مکمل طور پر ہم آہنگی اور باہمی اتفاق پیدا نہ کر سکے کسی زمانے میں یہودیوں اور عیسائیوں کی دشمنی بدترین سطح پر تھی۔ آج یہودیوں اور عیسائیوں میں گٹھ جوڑ نظر آتا ہے اور وہ مل کر مسلمانوں کے بدترین دشمن بنے ہوئے ہیں مسلمان بڑے پُرزور اور جوشیلے انداز میں دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کی کتاب قرآن پاک واحد الہامی کتاب ہے جس کے متن کی قیامت تک تحفظ کی ذمہ داری اللہ نے خود لی ہے جبکہ بقایا آسمانی کتابوں یعنی تورات اور انجیل میں وقت کے ساتھ رد و بدل ہو چکا ہے۔یہودی اور عیسائی ماضی، حال اور مستقبل میں کیا کرتے رہے ہیں اور کیا کریں گے یہ وہ جانیں اور اللہ جانے۔ اللہ تعالیٰ یقیناً اپنے علمِ کامل کی بنیاد پر اور قادر مطلق ہونے کی حیثیت سے بہترین فیصلہ فرمائے گا۔ راقم اب صرف اسلام اور مسلمانوں کو موضوع بحث بنائے گا۔اگرچہ یہ وہ باتیں ہیں جو عام مسلمان بھی جانتا ہے لیکن اِن باتوں کو دہرانا قرآنی اسلوب اختیار کرنا ہے تاکہ اذہان و قلوب میں اچھی طرح رچ بس جائیں۔
مذہب ِاسلام کی عمارت ارکانِ خمسہ پر کھڑی ہے۔ (1) کلمہ طیبہ یا کلمہ شہادت (2) نماز (3) روزہ (4) زکوٰۃ (5)حج ۔ مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کا مطلب ہے کہ پہلا رکن خود بخود ادا ہوگیا۔ جہاں تک نماز کا تعلق ہے بلاخوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ یہ اسلام کا اہم ترین رکن ہے، اُس کی کچھ وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ بقایا تمام ارکان کی فرضیت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے احکامات وحی کے ذریعے زمین پر رسول اللہﷺ کو پہنچائے لیکن نماز کی فرضیت کے لیے اپنے محبوب رسول اکرم ﷺ کو آسمانوں پر بلایا اور نماز بطور آسمانی تحفہ آپ ﷺ کو دی گئی جسےہم واقعہ معراج کہتے ہیں۔ نماز ہر مسلمان پر فرض عین ہے ماسوائے پاگل اور بے ہوش کے۔ ظاہر ہے اُنہیں اپنی ذات کا ادراک نہیں تو وہ نماز کیسے ادا کریں گے۔ نماز سے پہلے سنت طریقہ سے وضو ہوگا۔ پانی کے ناپید ہونے یا طبی وجوہات کی بنا پر تیمم کیا جا سکتا ہے، جس میں مٹی استعمال کی جاتی ہے۔ نماز کے حوالے سے کسی قسم کی دوسری مصروفیت قابلِ قبول نہیں۔ قرآن پاک مسلمانوں کو جنگ کے دوران نماز پڑھنے کا طریقہ سکھاتا ہے تو گویا جان کا خطرہ مول لے کر بھی نماز پڑھنا ہوگی۔ اگر نماز جنگ میں نہیں چھوڑی جا سکتی تو گویا کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑی جا سکتی۔ نماز مسجد میں باجماعت ادا کرنا ہوگی البتہ موجودہ حالات میں خواتین کے لیے مسجد میں نماز پنج وقت اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔ بہرحال اُنہیں جمعہ اور عیدین کی نمازیں مسجد میں پڑھنا چاہیے۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ کیونکہ عام مسلمانوں کو معلوم ہے۔ اس کی تفصیل ضروری نہیں۔ بامرِ مجبوری بیٹھ کر یا لیٹ کر بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ اوقات کے حوالے سے آغاز یا وقت کے اختتام سے پہلے پہلے پڑھی جانی چاہیے۔ نماز خالصتاً بدنی عبادت ہے۔ اس کا کسی قسم کے مالی معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ نماز کے دوران پوری کوشش ہونا چاہیے کہ تمام دنیوی حالات سے الگ ہو کر خضوع و خشوع سے ادا کی جائے۔ نماز کے دوران بہت سے اچھے بُرے خیالات وارد ہوتے ہیں شعوری کوشش ہونا چاہیے کہ جس حد تک ممکن ہو اُن سے بچا جائے۔ نماز صرف بندہ اور اللہ کا معاملہ ہے، جان بوجھ کر کسی قسم کی نوعیت کی مداخلت شرک تک پہنچا دیتی ہے۔
اسلام کا تیسرا رکن روزہ ہے وہ خالصتاً بدنی عبادت ہے اگرچہ سحر و افطار میں کچھ نہ کچھ خرچ کرنا پڑتا ہے لیکن وہ تو بصورتِ دیگر یعنی روزہ نہ ہونے کی صورت میں انسان کی ضروریات میں شامل ہوتا ہے۔ روزہ کی بڑی خاص اہمیت ہے۔ روزہ داروں کے جنت میں داخل ہونے کے لیے خاص دروازہ ہے جسے باب الریان کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نیکی کا اجر بتایا ہے جو سات سو گنا تک ہے لیکن روزہ کے بارے میں فرمانِ الٰہی ہے کہ یہ میرے لیے ہے اور اِس کی جزا میں خوددوں گا یعنی اِس کی جزا کا کوئی حساب کتاب نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کو روزہ دار کے منہ کی بُو بہت پسند ہے۔ روزہ رکھانے اور افطار کرانے کا بہت ثواب ہے۔ رمضان کے روزے تو ہر مسلمان کے لیے فرض ہے۔ نفلی روزے بھی ثواب رکھتے ہیں۔ حضورﷺ ہر سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے۔ علاوہ ازیں ایامِ بیضیعنی ہر اسلامی(قمری) مہینے کی13،14اور15 تاریخوں کے روزے بھی بڑے اہم ہیں۔ ذوالحج کی پہلی سے نو تاریخ تک کے روزے بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اسی طرح 9،10یا10،11 محرم کے روزوں کا اپنا ثواب ہے۔
اسلام کا چوتھا رکن زکوٰۃ خالصتاً مالی عبادت ہے۔ ریاست یہ اموالِ ظاہرہ پر سے عوام سے وصول کرے گی۔ پانچواں رکن حج بیت اللہ کی عبادت ہے۔ حج بڑی جامع عبادت ہے انگریزی کا لفظ comprehensive زیادہ بہتر ترجمانی کرتا ہے ۔اس عبادت میں مال بھی خرچ ہوتا ہے اور جان بھی لگانا پڑتی ہے۔ لیکن ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سب کچھ مذہب اسلام کہلائے گا۔ یعنی فرد کے عقائد، عبادات اور رسومات۔ لیکن جب ہم اسلام کا بطور دین ذکر کریں گے تو اس کا مطلب ہوگا کہ ہم اس میں اجتماعیت کا اضافہ کر رہے ہیں۔گویا جو کچھ مذہب کے حوالے سے فرائض ہیں وہ تو اس کا لازمی حصہ ہوں گے۔ لیکن دین اسلام سیاسی، معاشی اور معاشرتی معاملات کا احاطہ بھی کرے گا۔ یعنی ایک مسلمان ریاست میں سیاسی نظام کیسا ہوگا اور سیاست کس طرح ہوگی۔ اسی طرح معاشی نظام کن بنیادوں پر اُستوار ہوگا اور سماجی نظام کیسا ہوگا۔جہاں تک سیاسی معاملات کا تعلق ہے اسلام ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے یعنی امرھم شوریٰ بینہم گویا مسلمان ریاست میں تمام معاملات مشاورت سے طے پائیں گے۔ اگرچہ خلیفہ وقت کو مکمل اختیارات حاصل ہوں گے لیکن شریعت کو بالا دستی حاصل ہوگی ،کسی کو بھی کسی انداز میں شرعی حدود پھلانگنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ قرآن و حدیث کی کسوٹی پر تمام معاملات کو پرکھا جائے گا اور یہی تمام فیصلوں کی بنیاد ہوں گے۔
جہاں تک اسلامی ریاست کی معاشی پالیسی کا تعلق ہے اس میں سود کی بیخ کنی کی جائے گی۔ دین اسلام نہ صرف سود لینے دینے والے، بلکہ اس کو تحریر کرنے والے کو بھی مجرم قرار دیتا ہے۔ اسلامی ریاست کی معاشی پالیسی میںیہ بات بھی بڑی اہم ہوگی کہ ارتکاز دولت کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔آج اگر ہم اپنے معاشرے پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ارتکاز دولت نے معاشرے کو بری طرح تباہ کر دیا ہے۔ اسلامی ریاست کا حق ہے کہ اگر وہ ضروری سمجھے تو زکوٰۃ کے علاوہ بھی ٹیکس لگا سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا تصور تو یہ ہے کہ اپنی ضروریات کے بعد جو کچھ ہے اسے اپنے مسلمان بھائیوں کی خدمت کے لیے خرچ کرے۔ معاشرے میں مالی اونچ نیچ بہت برائیوں کی جڑ ہے۔ اکثر مسلمان دانشور کیمونزم اور سوشل ازم پر شدید تنقید کرتے ہیں۔ اور اسے غیر اسلامی قرار دیتے ہیں جو کافی حد تک درست ہے۔ لیکن راقم کی رائے میں سرمایہ دارانہ نظام نے جو انسانیت کو نقصان پہنچایا ہے اس کی تلافی بہت مشکل ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے یہ تصور دیا ہے کہ اپنے جانور کو کھلاؤ پلاؤ تاکہ تمہاری گاڑی کھینچ سکے لیکن اس کو کبھی اس قابل نہ ہونے دو کہ وہ بنیادی ضروریات سے آگے سوچ سکے ۔ گویا کچھ لوگوں کے لیے باقی تمام دنیا ایک ایسے بیل کی حیثیت رکھتی ہوجو سرمایہ داروں کی کھیتی سینچنے میں مصروف ہو۔
جہاں تک اسلام کے سماجی نظام کا تعلق ہے قرآن پاک نے اس پر بڑی طویل بحث کی ہے جس کا ظاہر ہے کسی جریدے کی اشاعت میںاحاطہ نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ اسلام میں سماجی نظام نے معاشرے کو صحیح، مستحکم اور پاکیزہ بنیاد فراہم کرنے کی راہ ہموار کی ہے اور اس میں ایک خاندان، ایک معاشرے کے ان معاملات کو موضوع بحث بنایا ہے جس سے ایک پاکیزہ معاشرہ وجود میں آئے گا۔اس میں عورت کے لیے پردے کا حکم ہے۔ مرد کو غض بصر کا حکم ہے۔ وراثت کی تقسیم پر طویل اور تفصیلی بحث کی ہے تاکہ ایک مسلمان خاندان مضبوط اور مستحکم ہو کر ابھرے اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے اہم رول ادا کر سکے۔ عجب بات یہ ہے کہ غیر اسلامی دنیا نے سماجی معاملات کو غیراہم قرار دے کر ریاستی معاملات سے بالکل الگ تھلگ رکھا جس کے وہ نتائج بھگت رہے ہیں۔ خاندان توڑ پھوڑ کا شکار ہیں۔ ازدواجی زندگی تباہ ہو چکی ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ مغرب کا معاشرہ انسانی سطح سے گر کر حیوانی سطح پر آ گیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے مسلمان ان کی صنعت و حرفت کی ترقی سے اتنا مرعوب ہوگئے ہیں کہ وہ بھی ان کی پیروی کر رہے ہیں اوراس نقصان میں حصہ دار بن رہے ہیں۔لیکن آخری اور حتمی بات یہ ہے کہ کوئی نظام کاغذات اور دستاویزات میں کتنا ہی اچھا اور مفید کیوں نہ ہو جب تک اُس کونافذ نہ کیا جائےگا، وہ نتائج نہیں دے سکتا۔ اِس کی مثال یوں ہے کہ ڈاکٹر کے نسخہ پر عمل نہیں ہوا تو گویا شفا کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔لہٰذا جب تک مسلمان ریاست میں اسلام بحیثیت نظام نافذ نہیں ہو گا کسی بہتری کی قطعی طور پر امید نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام کے نفاذ کے لیے جان و مال کھپانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!