(کارِ ترقیاتی) ڈر اس کی دیر گیری سے … - عامرہ احسان

14 /

ڈر اس کی دیر گیری سے …

عامرہ احسان

ملکی اور بین الاقوامی سطح پر حالات کا اُتار چڑھاؤ ، ’رولر کوسٹر‘(برق رفتار جھولا) اثرات کا حامل ہے۔ ہر   ذی شعور حساس طبیعت کو زیروزبر کر ڈالنے والا۔ سماجی، معاشرتی، انتظامی، سیاسی، قیادت، عوام، ہر دائرے میں سبھی کچھ اختلال ( بد نظمی، خلل، ابتری) کا شکار ہے۔ دنیا ایسی ٹیڑھی چال چل رہی ہے کہ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی کا ’ٹرمپی محاورہ‘ صادق آتا ہے اس پر۔ وجہ بھی شاید انسانوں کا ایسی قیادت پر نہ صرف رضامند  ہو جانا بلکہ بائیڈن (جو شدید نسیان کا شکار تھا) کا وقفہ لے کر گلوبل کرسی ٔ قیادت پھر ٹرمپ کے حوالے کر دی گئی! یہ ہرگز روایتی امریکی صدر کی مانند نہیں ہیں۔ 
2001 ء سے بین الاقوامی سطح پر منصوبہ بندی  کے تحت جو جنگیں شروع کی گئیں ، انہیں آگے چل کر ملحمۃ الکبریٰ (احادیث کی اصطلاح) ، یا آرمیگیڈون کی صورت اختیار کرنا ہے۔( انجیل: نیا عہد نامہ میں عبرانی ’ہر مجدو‘ سے اخذ کردہ ، ہر مجدون) عرفِ عام میں اسلام، عیسائی، یہودی روایات میں ہونے والی بہت بڑی جنگ۔ ان جنگوں کا تقاضا گلوبل مقتدرین ، فیصلہ سازوں کے ہاں یہ ہے کہ یہ معقولیت، دانشورانہ، اصول و ضوابط کی پاسداری سے نہیں لڑی جاسکتیں۔ یعنی ’محبت اور جنگ میں سب جائز ہے‘ ، انہی کا مقولہ ہے۔ سو دیکھیے کہ وہ جارج بش تھا جس نے ، اکیسویں صدی کی پہلی گلوبل جنگ 51 ممالک کے ساتھ مل کر مکمل بے سروسامان افغانستان کے خلاف لڑی۔شراب نوشی کا شدید مریض جو بالآخر ایوینجلسٹ یا (روحانی) ’حیاتِ نو والا‘ کٹر عیسائی بن کر( 1985ء) ابھرا۔ پھر 2021ء تک جو کچھ ہوا تاریخ کا حصہ ہے۔ اگلے مراحل میں ٹرمپ( 2017ء-2021 ء) آیا۔ 2001 ء تا 2021ء اندھا دھند جنگیں امریکہ اور مغربی عالمی قوتوں کے ذریعے لڑی گئیں۔ جس میں عراق میں پورے اعتماد سے تباہ کن ہتھیاروں کی موجودگی کے جھوٹے پر و پیگنڈے پر اسے تہس نہس کرکے ’مطلوبہ مقاصد‘ تک پہنچا دیا گیا۔ اس جھوٹ کو بعد ازاں ڈٹ کر قبول بھی کیا۔ 2017 ء تا 2026 ء جو کچھ چلا اس میں اعلیٰ تعلیمی اسناد کا مالک ،سیاسی دانائی والا زیر ک صاحب ِفراست، دانا سیانا صدر درکار نہ تھا۔ بس ایسا شخص جو تمام بین الاقوامی اصول ضابطوں کو جوتے کی نوک پر رکھ کر امریکی (اصلاً اسرائیلی ) مفادات ، تسلط و غلبے کی اندھا دھند جنگ لڑ سکے۔ دنیا میں اپنے مدد گار ضرورت کے مطابق اکٹھے کر سکے۔ دیکھ لیجیے کہ ٹرمپ (پہلے جارج بش) نے کئی دہائیوں کے     طے شدہ قوانین، عرق ریزی سے مرتب کیے اصول، ضابطے ، کنونشنز، انسانی حقوق ، عدالت ہائے انصاف جس طرح سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غیر موثر کر دیئے وہ نہایت غیرمعمولی تاریخی اقدامات تھے۔ گوانتا مو ، ابو غریب ، لاپتگیاں ، اندھی قتل و غارت گری ، اجتماعی قبریں بھری گئیں۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ اسرائیل نے غزہ میں ایسی توڑی کہ دنیا ہل کر رہ گئی۔ اس میں طے شدہ پالیسی کے تحت مغربی ممالک میں اہل ضمیر کا شدید جذباتی ردِ عمل گوارا کیا گیا۔ ان کی پکڑ دھکڑ ، سزائیں، جرمانے تو ہوئے مگر نظام اور ظلم چلتا رہا۔ تاآنکہ غزہ تباہ حال کر کے      جنگ بندی کا تما شا تو کھڑا کیا مگر اسی دوران اسرائیل نے نہ صرف قتل اور بھوک ، قید و بند مسلط، جاری و ساری رکھی بلکہ 80 فی صد غزہ پر عملاً قبضہ کر لیا اور مغربی کنارے پر ’آبادکاروں‘ کا وحشیانہ تسلط مضبوط تر کر دیا۔
بلا شبہ با ضمیر امریکی آج بھی اپنی جنگ جاری رکھے ہیں۔ مثلاً 45 ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس( 47 کے مشاورتی اجلاس میں سے) نے اپنے دستخطوں سے (رائٹرز رپورٹ: 26 اگست) اسرائیلی وزیر اعظم    نتین یاہو کو خط لکھا ہے۔ غربِ اردن میں یہودی آباد کاروں کے تشدد کی بڑھتی لہر اور فلسطینیوں کی بڑی تعداد میں گرفتاریوں پر اسرائیلی سیکورٹی فورسز کو لگام دینے کا تقاضا کیا ہے۔ اسی دوران حالیہ ہفتوں میں آباد کاروں نے مساجد پر بھی حملے کیے ہیں۔ نوٹس لینے پر زور دیا ہے۔ اس خط کے مندرجات میں اسرائیلی فورسز کے ظلم کے شواہد ،  دیتے ہوئے غم و غصے کا اظہار نمایاں ہے۔ حکومت اور کانگریس میں ڈیموکرٹیس کی بالخصوص مغربی کنارے کے حوالے سے چپقلش بڑھ رہی ہے۔ کئی افراد نے اسرائیل کو امریکی فوجی امداد دینے پر پابندیاں عائد کرنے کو بھی کہا ہے غزہ میں ان کے جنگی اقدامات کے پیش نظرتاآنکہ امریکی سفیر برائے اسرائیل مائیک ہکابی کو جنگجو آباد کاروں کو اسرائیلی دہشت گرد کہنا پڑا۔
غزہ پر ٹوٹی قیامت کے زیر اثر ، امریکی سیاست ، عوامی رحجانات میں انقلابی تبدیلیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ مسلمانوں کے حوالے سے بھی کافی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ نیو یارک میں ہندوتوا کا پرچارک RSS ، انتہا پسند ہندو لیڈر موہن بھگوت کی آمد ، امریکی ہندوؤں کی ریلی پر میئر زہران ممدانی نے تحفظات کا برملا اظہار کیا۔ بطور میئر نیویارک ریلی قانوناً روکنے کے مجاز تو نہ تھے مگر چونکہ RSS ، جنونی بھارتی حکمران پارٹی، بی جے پی کی جنم بھومی ہے اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف مظالم، نفرت آمیز ایجنڈے کے لیے معروف ہے۔ اس لیے اسے نیویارک میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ بھگوت کی تقریر امن و آشتی اور انسانیت دوستی کے   حیران کن پیرائے میں اپنی مسلم کش دہشت گردی پر پردہ ڈالتی اسی ماحول اورپس منظر کا نتیجہ تھی۔
  اسی دوران نیپال میں گلیشیر کاہزاروں میٹر کا بہت بڑا بلاک تبت کی طرف سے دریا میں ٹوٹ کر گرنے سے جو قیامت دونوں جگہ آئی ، ایک زلزلے اور طوفانِ نوح کی سی کیفیت بنی۔یہ تودہ اپنے ساتھ چٹانیں، پتھر، درخت توڑتا بلا بن کر تبت سے نیچے وادی گھاٹی میں پل، عمارات نگلتا چلا گیا۔ پانی 40 فٹ بلند کیچڑ ملبے کی صورت دیوہیکل سیلاب تھا۔ صرف سیٹلائٹ تصاویر پہلے اور بعد کی رہ گئیں۔    زمینی مواصلات منقطع ہو گئیں۔ ہزاروں لاپتہ ہیں، دونوں اطراف نیپال اور تبت میں۔ ریڈ کراس کے مطابق 93 ہزار متاثرین ہیں۔ سینکڑوں غیر ملکی جو رابطے میں نہیں مزید ہیں۔ حادثہ نہایت غیرمتوقع اور تصور سے ماوراء ،   دل ہلا ڈالنے والا ہے۔
یہ اپنی جگہ کہ نیپال میں جولائی، اگست میں ہندوؤں نے بھارتی سرحد سے متصل نیپالی مسلمانوں کے ساتھ کیا، کیا تھا؟ کس طرح مساجد جلا ڈالی گئیں۔ قرآن   جا بجا جلائے۔ بھارتی RSS والا جنون سرحد کے اس پار سرگرم ،نیپال میں بھی وائرس کی طرح پھیلا۔ مارکیٹیں، املاک ،گاڑیاں، گھر جلائے ، عورتیں بچے قتل، فصلیں جلا ڈالیں۔ مسلمانوں نے کہا کہ وہ سب جو برما میں مسلمانوں کے ساتھ ہوا، وہی ہمارے ساتھ یہاں کیا گیا۔ گویا یہ جنونی مذہبی دو آتشہ ان کے حصے آیا۔ بھارتی ہندو توا ،  اور میانمار کے بدھ۔ مسلم خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔  سرخ سیاہ شعلوں اور دھوئیں میں گھری مسجد ، خوشی سے نعرہ زن کف آلود ہند و نوجوان۔26 اگست کو قرآن جلائے۔ مسجد تباہ کرنے پر روتی عورت: وہ ہمارے گھر جلا دیتے مسجد اور قرآن نہ جلا تے۔ الفاظ میں دبی بے چارگی۔مسلم کش فسادات اور معاشی قتلِ عام کے 4دن بعد نئے گلوکار وزیراعظم نے امن کی اپیل فرمائی! نیپال کی81فی صد ہندو اکثریتی ریاست میں5،6مسلم اور دیگراقلیتی ںآباد ہیں۔ 
ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا!
اور اب کیچڑ میں دھنسی مورتی کی تصویر۔ یہ تھے وہ پتھر کے خداجن کی خاطر تم نے مساجد ، قرآن ، مسلمان عورت پر ظلم ڈھایا ؟ صد ہزار شکر کہ اللہ نے ہمیں ارض و سما کے خالق و مالک کی پہچان دی۔ تاہم اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی ، دنیا تک قرآن کا عظیم پیغام پہنچانے سے غفلت، کفرکی چاکری ، فلسطین میں اقصیٰ اور مسلمانوں کے کما حقہ تحفظ سے دو ارب مسلمانوں کی بے اعتنائی اور سیکولرازم کے نشے میں ڈوبے مسلمان۔ ’جب لوگ منکر امر کو دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو ڈر ہے کہیں اللہ تعالیٰ اپنا عذاب سب پر عام نہ کر دیں‘۔ (مسند احمد) جو اُمّت پیدا ہی رب تعالیٰ کی پہچان، توحید، رسالت، قرآن کی تعلیم عام کرنے اور مقصد ِزندگی، لا علم دنیا کو دینے کے لیے تھی، حب دنیا اور کراہیۃ الموت کی اسیر ہو گئی تو ہم … خوار ہوئے تارک ِقرآن ہو کر، کی مجسم تصویر بن گئے۔ پاکستان میں خبروں کی دنیا میںآج نیپال، اور اس سے بہت پہلے برما کے مسلمانوں سے بلیک آؤٹ کم جرم تو نہیں۔ دینی جماعتیں ، علماء ہر طرف خاموشی طاری رہی۔ 
خود ہم اپنے ہاتھوں 14 ننھی نوزائیدہ جلی لاشوں کے بھی مجرم ہیں۔ زندگی کا ارزاںہونا۔ اداروں میں ہر سطح پر     نا اہلی، بد عنوانی، عملے کی غیر حاضری، بدانتظامی کا دور دورہ ہے۔صفا ئی کا حال ِزار نہ ہی پوچھیں!یہ ہسپتال اگر صدر، وزیر اعظم ،وزرا ء ، مشیران،ارکانِ پارلیمنٹ کے علاج پر مامور ہوتا (ان کا غیر ممالک یا پرائیوٹ علاج ممنوع ہوتا) تو آج اتنا بد حالی کا شکار نہ ہوتا کہ جگر کے ٹکڑے راکھ کر دیئے۔ پناہ بخدا!