حکمرانی، سادگی اور اسلامی ریاست کا مزاج
ڈاکٹر ضمیر اختر خان
اسلام آباد کےچیف کمشنر اور آئی جی کا 14 اگست کی تقریب میں شرکت کے لیے بگھی میں بیٹھ کر تشریف لانا پورے ریاستی و معاشرتی کلچر کی عکاسی تھی۔ دوسرکاری اہل کاروں کا بگھی پرآنا اگر معیوب ہے ،تو صدر اور وزیراعظم کا بگھی پربراجمان ہونا کیا ثواب ہے! شاید یہ معاملہ اتنی اہمیت اختیار نہ کرتا اگر ایک ہی دن قبل ناروے کے وزیرخارجہ پاکستان نہ آتے۔میرے خیال میں ناروے کے وزیر خارجہ Espen Barth Eide کے حالیہ دورۂ پاکستان کے موقع پر اُن کی سادگی نے اس بحث کو ایک غیر معمولی معنویت دے دی ہے۔ اسی پس منظر میں وسیع تر اسلامی، اصلاحی مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اور نبی ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں اپنے ارباب حل وعقد کے سامنے اسلام کے طرزحکمرانی اور اسلامی ریاست یعنی خلافت اسلامیہ کے مزاج کی وضاحت پیش کی جاتی ہے۔{اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ط} (ہود:88) ’’میں تو جہاں تک مجھ سے ہو سکے(تمہارے معاملات کی) اصلاح چاہتا ہوں۔‘‘
1۔ ریاستی منصب خدمت کے لیے ہے، شان و شوکت کے اظہار کے لیے نہیں:
اسلام آباد میں 14 اگست کی تقریب کے دوران چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی کے ایک رسمی بگھی میں سوار ہونے کا واقعہ بظاہر ایک معمولی سا انتظامی معاملہ تھا، مگر عوامی ردعمل نے اسے ایک بڑے قومی سوال میں تبدیل کردیا۔ سوال یہ نہیں رہ گیا کہ بگھی میں کون بیٹھا، کس کے کہنے پر بیٹھا اور کس مقصد کے لیے بیٹھا؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہماری ریاستی اور سیاسی زندگی میں نمود ونمائش(قرآنی اصطلاح اسراف وتبذیر)، پروٹوکول، مراعات اور حکمران طبقے کی نمائش کی آخر حد کہاں ہے؟
وزیر داخلہ محسن نقوی نے وضاحت کی ہے کہ چیف کمشنر اور آئی جی کی طرف سے کوئی غلطی نہیں ہوئی۔ اُن کے مطابق چیف گیسٹ اور بعض دیگر شخصیات صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کے باعث تاخیر کا شکار ہوگئیں، جبکہ عوام کافی دیر سے تقریب میں موجود تھے۔ چنانچہ پروگرام کو مزید مؤخر کرنے کے بجائے افسران کو اسے آگے بڑھانے کی ہدایت دی گئی۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ بگھی اصل میں چیف گیسٹ کے لیے رکھی گئی تھی اور افسران ابتدا میں اس میں سوار ہونے سے گریزاں تھے۔ اگر یہ وضاحت درست ہے تو پھر معاملہ محض دو سرکاری افسران کے طرزِ عمل کا نہیں بلکہ اس پورے انتظامی کلچر کا ہے جس میں اس طرح کا غیر ضروری انتظام/اہتمام خود ایک ایسی علامت بن جاتا ہے جو عوام اور حکمران طبقے کے درمیان فاصلے کو نمایاں کردیتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دونوں افسران کو خطوط کے ذریعے جو اصولی بات کہی گئی، وہ اپنی جگہ نہایت اہم ہےیعنی سرکاری عہدے عوام کی امانت ہیں اور ان پر فائز افراد کو عاجزی، ضبط، وقار اور بہتر فیصلہ سازی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔اس اصول سے اختلاف کی کوئی معقول وجہ نہیں۔ لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ کیا یہ اصول صرف چیف کمشنر اور آئی جی کے لیے ہے یا سب کے لیے؟ اگر بگھی میں بیٹھنا اِس لیے نامناسب ہے کہ اس سے نمود و نمائش، مراعات اور شان و شوکت کا تاثر پیدا ہوتا ہے تو پھر یہی اصول کسی وزیر، مشیر، سیاسی رہنما، حکمران، اپوزیشن لیڈر یا کسی دوسرے بااثر شخص کے لیے بھی یکساں ہونا چاہیے۔ ریاستی منصب جس قدر بلند ہو، اس کے حامل شخص کی ذِمّہ داری اتنی ہی زیادہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو منصب سے بڑا نہ بننے دے۔
2۔اصل مسئلہ بگھی نہیں، حکمرانی کا مزاج ہے:
ہمیں اِس واقعے کو افراد کے خلاف مقدمہ بنانے کے بجائے اپنے اجتماعی مزاج کا آئینہ سمجھنا چاہیے۔ ہماری سیاست اور بیوروکریسی میں ایک عجیب تضاد پیدا ہوگیا ہے۔ جب کوئی سہولت ہمیں حاصل ہو تو وہ ’’پروٹوکول‘‘، ’’روایت‘‘، ’’سکیورٹی‘‘اور’’سرکاری ضرورت‘‘ بن جاتی ہے؛ اور جب وہی چیز کسی دوسرے کو حاصل ہو تو ہمیں ’’وی آئی پی کلچر‘‘ اور" Pomp and Show "دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہ دوہرا معیار ختم ہونا چاہیے۔ اگر سادگی اچھی چیز ہے تو سب کے لیے اچھی ہے۔ اگر عوامی عہدہ امانت ہے تو ہر صاحبِ منصب کے لیے امانت ہے۔ اگر نمود و نمائش نامناسب ہے تو حکمران کے لیے بھی نامناسب ہے اور افسر کے لیے بھی۔ اگر عوام سے قربت مطلوب ہے تو وہ صرف تقریروں سے نہیں بلکہ طرزِ زندگی سے ظاہر ہونی چاہیے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنے آئین، اپنی قومی روایت اور بالخصوص اسلامی تعلیمات کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
3۔اسلام میں اقتدار عزت نہیں، امانت ہے:
قرآن مجید نے حکمرانی اور اختیار کے بارے میں بنیادی اصول واضح کردیا:
{اِنَّ اللہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُــؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَہْلِہَالاوَاِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ ط}(النساء: 58)
’’بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل لوگوں کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔‘‘
غور کیجیے! قرآن نے اقتدار کو سب سے پہلے امانت قرار دیا ہے، اعزاز نہیں۔ آج کا مسئلہ یہی ہے کہ ہم منصب کو امانت سے زیادہ عزت، طاقت، پروٹوکول اور مراعات کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔ اسلامی تصورِ حکمرانی میں حاکم اور افسر عوام سے اوپر کوئی مخلوق نہیں۔ وہ بھی اللہ کا بندہ ہے اور اس کے سامنے جواب دہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:((كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ))(متفق علیہ )
’’تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘
یہ حدیث صرف حکمرانوں کے لیے نہیں؛ ہر ذِمّہ دار شخص کے لیے ہے۔ صدر، وزیراعظم، وزیر، جرنیل، جج، بیوروکریٹ، پولیس افسر، استاد، تاجر، صنعت کار، والدین مربی، علماء مشائخ، عوام ہر شخص اپنے دائرے میں ذِمّہ دار ہے۔
4۔ہمارے لیے اصل نمونہ رسول اللہ ﷺ ہیں:
اسلامی تہذیب کا کمال یہ ہے کہ اس نے اقتدار کو انسان کے لیے تکبر کا ذریعہ نہیں بننے دیا۔ رسول اللہ ﷺ پوری اُمّت کے قائد تھے۔ آپ ﷺ ریاست کے سربراہ تھے۔ آپ ﷺ سپہ سالار تھے۔ آپ ﷺ قاضی تھے۔ آپ ﷺ کے پاس وفود آتے تھے۔ بادشاہوں کے خطوط آتے تھے۔ لیکن آپ ﷺ کی زندگی میں شاہانہ تصنع اور شخصی جاہ و جلال نہیں تھا۔ آپ ﷺ لوگوں میں اِس طرح بیٹھتے کہ باہر سے آنے والا شخص کبھی کبھی پوچھ لیتا کہ ’’تم میں محمدؐ کون ہیں؟‘‘ یہ محض سادگی نہیں تھی؛ یہ اسلامی حکمرانی کا شعوری تصور تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اقتدار کو اپنے لیے آسائش نہیں بلکہ اُمّت کی خدمت اور اللہ کے سامنے جواب دہی سمجھا۔ اسی لیے اسلامی ریاست میں حکمران کی عظمت اس کے قافلے کی طوالت سے نہیں، اس کے عدل کی گہرائی سے ناپی جاتی ہے۔
5۔خلفائے راشدین: اقتدار کی سادگی کا عملی نمونہ
رسول اللہ ﷺ کے بعد خلفائے راشدین نے اسی طرزِ حکمرانی کو آگے بڑھایا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ خلافت سنبھالتے ہیں تو اُن کا طرزِ احساس یہ نہیں کہ اب میں ایک عظیم منصب پر پہنچ گیا ہوں، بلکہ یہ کہ میرے کندھوں پر ایک عظیم ذِمّہ داری ڈال دی گئی ہے۔
حضرت عمر فاروق ؓ کی زندگی تو اسلامی حکمرانی میں سادگی، احتساب اور عوامی جواب دہی کی سب سے روشن مثالوں میں شمار ہوتی ہے۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ رات کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے اور رعایا کے حالات خود معلوم کرتے تھے۔ یہی وہ تصور تھا جس میں خلیفہ کے لیے سب سے بڑا اعزاز یہ نہیں تھا کہ لوگ اس کے سامنے کھڑے ہوں، بلکہ یہ تھا کہ کوئی مظلوم اس تک پہنچ سکے۔ حضرت عمر ؓ سے منسوب وہ معروف جملہ اسلامی سیاسی اخلاق کا پورا فلسفہ بیان کرتا ہے:
’’اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو مجھے اندیشہ ہے کہ عمرؓ سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘خواہ اس روایت کی سند پر اہل علم نے گفتگو کی ہو، اس میں موجود تصور اسلامی حکمرانی کی روح سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ اقتدار جتنا بڑا ہوگا، جواب دہی اتنی ہی بڑی ہوگی۔
ناروے کے وزیر خارجہ نے ہمیں کیا آئینہ دکھایا؟
اور اب ذرا اسی 14 اگست کے ماحول میں ایک دلچسپ اتفاق دیکھیے۔ ناروے کے وزیر خارجہ Espen Barth Eide 13ا ور 14 اگست کو پاکستان کے دورے پر آئے۔ یہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی نارویجین وزیر خارجہ کا پہلا دورۂ پاکستان تھا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، پاکستانی حکام سے مذاکرات کیے اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔مگر پاکستانی عوام کی توجہ صرف سفارتی مذاکرات پر نہیں گئی۔ اُن کی پاکستان آمد کی جو تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں، ان میں وہ ایک عام کمرشل پرواز سے اترتے ہوئے اور اپنا سفری بیگ خود کھینچتے دکھائی دئیے۔ اس منظر نے پاکستانی معاشرے میں VIP کلچر کے بارے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ یہاں ہمیں ٹھہر کر سوچنا چاہیے۔ ایک طرف ایک غیر مسلم ملک کا وزیر خارجہ ہے، جو اپنے ملک کی حکومت میں ایک انتہائی اہم منصب رکھتا ہے؛ دوسری طرف ہمارا اسلامی معاشرہ ہے جس کی سب سے بڑی شخصیات نے ہمیں سادگی، تواضع، عدل اور خدمت کا درس دیا۔ تو پھر ہمیں کس سے سبق لینا چاہیے؟ یہ سوال ناروے کے وزیر خارجہ کی تعریف یا اپنے ملک کی تحقیر کے لیے نہیں۔ یہ سوال اپنے گریبان میں جھانکنے کے لیے ہے۔ اگر ایک جدید مغربی ریاست کا اعلیٰ عہدیدار سادگی کے ساتھ سفر کرسکتا ہے تو ہمارے اسلامی معاشرے میں یہ سادگی اور بھی زیادہ قابلِ فخر ہونی چاہیے، کیونکہ اس کے پیچھے محض جدید انتظامی کلچر نہیں بلکہ ہماری اپنی دینی روایت موجود ہے۔
6۔فوج، بیوروکریسی اور سیاست:سب کے لیے ایک معیار
یہ اصلاح صرف سیاست دانوں سے نہیں مانگی جانی چاہیے۔ ہمیں ایک ہی اصول پورے ریاستی نظام پر نافذ کرنا ہوگا۔فوج ہو یا بیوروکریسی، سیاست ہو یا عدلیہ، حکومت ہو یا اپوزیشن عہدہ بڑا ہو سکتا ہے، انسان نہیں۔ ریاستی ذِمّہ داری کسی شخص کو عوام سے کاٹنے کے لیے نہیں بلکہ عوام کی خدمت کے لیے ملتی ہے۔ سکیورٹی کی حقیقی ضرورت اپنی جگہ مسلم ہے۔ بعض اعلیٰ عہدیداروں کے لیے حفاظتی انتظامات ناگزیر بھی ہوسکتے ہیں۔ لیکن سکیورٹی اور شاہانہ پروٹوکول میں فرق ہونا چاہیے۔ جہاں حقیقی خطرہ ہو وہاں حفاظتی انتظام ضرور ہو۔ لیکن جہاں صرف رواج، دکھاوا، عادت یا منصب کی نمائش ہو، وہاں سوال ضرور اُٹھنا چاہیے: یہ سہولت عوام کے پیسے سے کیوں؟ یہ فاصلے کس لیے؟یہ نمائش کس مقصد کے لیے؟اور سب سے بڑھ کر: کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مزاج سے مطابقت رکھتی ہے؟
7۔عوام کو بھی اپنا طرزِ زندگی بدلنا ہوگا:
لیکن اصلاح صرف حکمرانوں سے مانگنا بھی کافی نہیں۔ ہم سب کو اپنے رویوں پر نظر ڈالنی ہوگی۔ اسلام صرف حکمرانوں کو سادگی کا حکم نہیں دیتا؛ وہ پورے معاشرے کو اعتدال اور تواضع کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:
{وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاج } (بنی اسرائیل : 37) ’’اور زمین پر اکڑ کر نہ چلو۔‘‘
اور: {وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا (26) اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ ط}(بنی اسرائیل:26،27) ’’اور فضول خرچی نہ کرو، بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔‘‘
آج اگر ایک وزیر شاہانہ گاڑی استعمال کرتا ہے تو سوال اُٹھتا ہے؛ لیکن اگر ایک عام آدمی اپنی استطاعت سے بڑھ کر شادی بیاہ، لباس، جہیز، دعوت اور دیگر معاملات میں نمود و نمائش کرتا ہے تو ہم اسے ’’معاشرتی روایت‘‘ کہہ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔یہ بھی درست نہیں۔ اسلامی سادگی صرف ایوانِ اقتدار سے شروع نہیں ہوگی؛ گھر سے شروع ہوگی۔
ہمیں اپنی شادیوں میں سادگی چاہیے۔ اپنی تقریبات میں سادگی چاہیے۔ اپنے لباس میں وقار چاہیے۔ اپنی گاڑیوں اور گھروں میں نمود سے بچنا چاہیے۔ اپنے بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ عزت مہنگے لباس، بڑی گاڑی، وسیع گھر یا طاقتور تعلقات سے نہیں بلکہ کردار، علم، تقویٰ اور خدمت سے حاصل ہوتی ہے۔
ہمیں’’VIP پاکستان‘‘نہیں’’خادم پاکستان‘‘چاہیے:
ہمارا اصل مسئلہ بگھی نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ تصور ہے کہ جس کے پاس منصب ہے وہ عام آدمی سے الگ ہے۔ ہمیں اس ذہنیت کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں VIP culture سے service cultureکی طرف جانا ہوگا۔ ہمیں ایسے حکمران چاہئیں جو عوام کے درمیان بیٹھنے میں عار محسوس نہ کریں۔ ایسے افسر چاہئیں جن کے دفاتر کے دروازے عام شہری کے لیے بند نہ ہوں۔ ایسے سیاست دان چاہئیں جو انتخاب کے وقت ہی نہیں بلکہ اقتدار کے دوران بھی عوام کو اپنا مالک سمجھیں۔ ایسے فوجی و سول افسر چاہئیں جو اپنے منصب کو عزت کا ذریعہ نہیں بلکہ ذِمّہ داری کا بوجھ سمجھیں۔ اور ایسے شہری چاہئیں جو اپنے حکمرانوں سے بھی وہی معیار مانگیں جو اسلام نے ان کے لیے مقرر کیا ہے۔
8۔بگھی میں بچے کو بٹھانے کا خیال:
اس پورے واقعے میں ایک جملہ شاید سب سے زیادہ معنی خیز ہے: اگر میں وہاں سرکاری افسر ہوتا تو بگھی میں بیٹھنے کے بجائے کسی بزرگ یا بچے کو اُس میں بٹھا دیتا۔ یہی دراصل اس واقعے کو ایک خوبصورت قومی پیغام میں تبدیل کرنے کا راستہ تھا۔14 اگست پاکستان کا جشن ہے۔ اگر ایک بگھی واقعی موجود تھی تو اس میں ایک بزرگ شہری کو بٹھایا جاتا۔ کسی محنت کش کو بٹھایا جاتا۔ کسی شہید کے بچے کو بٹھایا جاتا۔ کسی معذور پاکستانی کو بٹھایا جاتا۔ کسی ایسے بچے کو بٹھایا جاتا جس کے لیے وہ منظر زندگی بھر کی یاد بن جاتا۔ تب وہ بگھی حکمران کی شان کی علامت نہیں بلکہ عوام کی عزت کی علامت بن سکتی تھی۔
9۔ہمیں اپنی ریاست کے چہرے کو بدلنا ہوگا:
آج پاکستان کو صرف معاشی اصلاحات، سیاسی استحکام اور انتظامی تبدیلیوں کی ضرورت نہیں۔ سب سے زیادہ اسے اخلاقی انقلاب کی بھی ضرورت ہے۔ ایسا انقلاب جو ہمیں یاد دلائے کہ ریاستی عہدہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔ ایسا انقلاب جو حکمران کو یاد دلائے کہ کل اُسے اسی عوام کے درمیان واپس جانا ہے۔ ایسا انقلاب جو بیوروکریٹ کو یاد دلائے کہ فائل کے دوسری طرف ایک انسان ہے۔ ایسا انقلاب جو سپاہی کو یاد دلائے کہ اس کا منصب قوم کی حفاظت کے لیے ہے، مراعات کے لیے نہیں۔ ایسا انقلاب جو سیاست دان کو یاد دلائے کہ ووٹ لینے والا دراصل عوام کا خادم ہے، مالک نہیں۔ اور ایسا انقلاب جو عام شہری کو بھی یاد دلائے کہ اسلامی معاشرہ صرف حکمرانوں کے بدلنے سے نہیں بنتا؛ انسانوں کے بدلنے سے بنتا ہے۔
10۔وزیراعظم کے لیے بھی ایک اصولی گزارش:
وزیراعظم کا یہ کہنا کہ سرکاری عہدے عوام کی امانت ہیں، قابلِ تحسین ہے۔ مگر اس اصول کو ایک قدم آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت واقعی سادگی اور عوامی خدمت کو قومی پالیسی بنانا چاہتی ہے تو ایک جامع سادگی اور کفایت شعاری ضابطۂ اخلاق نافذ کیا جائے۔ اس میں سرکاری تقریبات، سرکاری گاڑیوں، قافلوں، پروٹوکول، سرکاری رہائش گاہوں، بیرونِ ملک دوروں، وفود، سرکاری ضیافتوں اور غیر ضروری نمائشی انتظامات کے واضح اصول مقرر کیے جائیں۔ اور سب سے اہم بات: یہ اصول حکومت کے ہر فرد پر یکساں لاگو ہوں۔ ورنہ عوام یہی سمجھیں گے کہ بگھی صرف اس وقت مسئلہ بنتی ہے جب اس میں کوئی افسر بیٹھا ہو؛ اور جب کوئی طاقتور شخصیت بیٹھے تو وہی بگھی ’’پروٹوکول‘‘ بن جاتی ہے۔
11۔بگھی سے سبق لیجیے:
اسلام آباد کی وہ بگھی چند لمحوں کے لیے ایک تقریب کا حصہ بنی تھی، مگر اس نے ہمیں ایک بہت بڑا آئینہ دکھا دیا۔ ایک طرف ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین کی وہ عظیم روایت ہے جس میں اقتدار عاجزی پیدا کرتا تھا۔ دوسری طرف آج کا وہ سیاسی و انتظامی کلچر ہے جس میں کبھی کبھی اقتدار کے ساتھ پروٹوکول، قافلہ، رکاوٹیں، فاصلے اور نمائش بھی آجاتی ہے۔ اور اسی دوران ایک غیر ملکی وزیر خارجہ پاکستان آتا ہے، سادگی سے اترتا ہے، اپنا سامان خود اُٹھاتا ہے، سرکاری مذاکرات کرتا ہے اور واپس چلا جاتا ہے۔ اس منظر نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ سادگی کے سبق کے لیے ہمیں ہمیشہ مغرب کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں؛ ہمارے پاس تو اِس سے کہیں عظیم تر نمونہ چودہ سو سال پہلے سے موجود ہے۔ ہمیں صرف اسے دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سادگی، حضرت ابوبکرhکی امانت، حضرت عمر ؓ کا احتساب، حضرت عثمان ؓ کی سخاوت، حضرت علی ؓ کا عدل، یہی اسلامی ریاست کے اصل زیورات ہیں۔ نہ بگھی، نہ لمبا قافلہ، نہ غیر ضروری پروٹوکول، نہ شاہانہ رہائش، نہ عوام سے فاصلہ۔ اسلامی حکمرانی کی اصل شان یہ ہے کہ حکمران تخت پر بیٹھ کر بھی اپنے آپ کو اللہ کا بندہ اور عوام کا خادم سمجھے۔ لہٰذا اسلام آباد کی بگھی کے واقعے کو صرف دو افسران کے احتساب کا معاملہ نہ بنائیں۔ اسے ایک ملی عہد بنائیں:
ریاستی منصب امانت ہےنمائش نہیں۔
اقتدار خدمت ہےشاہی مراعات نہیں۔
پروٹوکول ضرورت تک نمائش سے آگے نہیں۔
اور پاکستان صرف اسلامی جمہوریہ نام سے نہیں، بلکہ اپنے حکمرانوں، افسران اور شہریوں کے کردار سے بھی اسلامی نظر آنا چاہیے۔ اگر ہم واقعی پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف قوانین نہیں بدلنے؛ اپنے طرزِ زندگی، اپنے سیاسی کلچر اور اپنے اجتماعی مزاج کو بدلنا ہوگا۔ اور شاید 14 اگست کی اس بگھی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے: حکمران اگر عوام سے بلند ہوکر بیٹھے گا تو فاصلے بڑھیں گے؛ اور اگر عوام کے درمیان بیٹھے گا تو ریاست مضبوط ہوگی۔ پاکستان کو حکمران نہیں، خادم درکار ہیں۔ اور ہمیں ایک ایسی ریاست درکار ہے جہاں سب سے بڑا منصب بھی انسان کو سب سے بڑا نہیں، سب سے زیادہ جواب دہ بنائے۔ ((اللّٰهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًاوَارْزُقْنَا اجْتِنَا بَهُ)) ’’اے اللہ ! ہمیں حق کو حق ہی دکھااور اس کی اتباع کی توفیق دے اور باطل کو باطل ہی دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق عطافرما۔‘‘آمین یارب العالمین!