(اظہارِ خیال) دجال کی عالمی حکومت اور نیوورلڈ آرڈر کی حقیقت (قسط: 10) - محمد رفیق چودھری

14 /

دجال کی عالمی حکومت اور نیوورلڈ آرڈر کی حقیقت(قسط :10)رفیق چودھری

دجالی نظام کے قیام کی کوششوں کی جدید تاریخ 
جن و انس کی آزمائش کے لیے معرکہ حق و باطل روز اوّل سے جاری و ساری ہے ۔ ہر دور میں اللہ نے اپنے پیغمبرؑ بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں تاکہ انسان ان کی تعلیمات کی روشنی میں اللہ کے دین کو بطور نظام قائم کر سکیں مگر ہر دور میں شیطان نے بھی اپنے آلۂ کاروں کے ذریعے کفر کا نظام قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس شیطانی دجل اور فریب کا شکار ہونے والی کئی قوموں پر اللہ نے عذاب بھیج کر دنیا میں بھی سخت سزائیں دیں تاکہ بعد والوں کے لیے عبرت ہو مگر شیطان کا فتنہ اِس قدر شدید ہے کہ ہر دور میں قومیں اس کا شکار ہوئیں ۔ یہاں تک کہ طوفان ِ نوح جیسے عظیم اور عالمی عذاب سے بھی کوئی عبرت حاصل نہ کی گئی اور اس کے کچھ عرصہ بعد ہی نمرود ی نظام کی شکل میں یہ فتنہ ازسر نو اُبھرا اور بعدازاں اسی فتنہ نے (ایک اور نمرودکے دور میں )اللہ کے پیغمبر حضرت ابراہیم  ؈  کو ہی آگ میں ڈال کر بلا شرکت غیرے اپنی بالادستی  قائم کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن حضرت ابراہیم ؑ کے عزم و استقلال سے نہ صرف نمرود کا نظام ِ باطل کا سرنگوں ہوا بلکہ ایک ایسی اُمت کی بھی بنیاد پڑی جس کے ذمے اللہ کے دین کو قائم کرنا تھا ۔ حضرت یوسف ؑ، حضرت داؤد ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کے ادوار میں اللہ کا دین بطور نظام قائم ہو ا بھی لیکن پھر وہ اُمّت بھی قبالہ (شیطانی علم)کی وجہ سے فتنہ دجال کا شکار ہو گئی اور نمرودوں اور فرعونوں کے دین (دجالی مذہب ) کے خلاف جہاد کرنے کی بجائے اللہ کے پیغمبروں کوہی قتل کرنا شروع دیا ۔ اس کے بعد اللہ نے نئی اُمّت کواُٹھایا ہے اور حق کے نظام کو قائم کرنے کی ذِمّہ داری اس کو سونپی ۔ ابھی جب مدینہ منورہ سے اللہ کے نظام کا قیام عمل میں آنے والا تھا تو اس سے پہلے ہی حزب الشیطان نے اپنا نظام قائم کرنے کی کوشش کی اور عبداللہ بن ابی کو بادشاہ بنانے کی تیاریاں شروع ہو گئیں ۔
مشرکین و منافقین اور قبالی یہودیوں میں اتحاد 
عبداللہ بن ابی قبیلہ خزرج کا سردار تھا اور اس نے عرب اور یہودی قبائل کو متحد کرکے اپنی بادشاہت قائم کرنے کا خواب دیکھا تھا لیکن جب رسول اللہﷺ کی آمد سے اسلامی ریاست کی بنیاد پڑی تو اس کی کیفیت بھی شیطان جیسی ہوگئی ۔جس طرح شیطان نے کہا تھا میں آدم ؑ سے اعلیٰ ہوں لہٰذا زمین پر خلافت میری ہونی چاہیے تھی ۔ اسی طرح عبداللہ بن ابی کے من میں بھی ایک سوچ تھی جس نے اُسے منافق بنا دیا ۔ اسی طرح یہودی قبائل بھی اسی لیے  مدینہ میں آکر آباد ہوئے تھے کہ آخری رسولﷺ کی آمد سے اُن کی عالمی بادشاہت کا آغاز ہوگا لیکن جب اللہ کے آخری رسول ﷺ بنی اسماعیل سے تشریف لائے تو  بہت کم تعداد میں یہودی جو صحیح العقیدہ تھے، اسلام پر قائم ہوئے۔ باقی جتنے قبالی یہودی تھے وہ حسد ، بغض اور تکبر کی وجہ سے شیطان کے ساتھی بن گئے ۔ دراصل وہ پہلے سے ہی اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر قبالہ کے شیطانی راستے پر چل رہے تھے ، اس لیے انہوں نے حقیقت کو اپنے سامنے پاتے ہوئے بھی اُسے چھپایا ۔ 
درحقیقت آخری زمانے کے عالمی دجالی نظام کے قیام کی کوششوں کا آغاز اسی وقت سے ہو گیا تھا جب قبالی یہودیوںنےاللہ کےآخری رسول ﷺاور آخری آسمانی کتاب سے پیٹھ پھیر کر مکمل طور پر قبالہ (شیطانی علم ) پر انحصار کرلیا اور اس کے مطابق دجال کو اپنا نجات دہندہ مان لیا۔چونکہ قبالہ اور بت پرستی ایک ہی اصل (بابلی اسرار)سے نکلے ہیں اس لیے قبالی یہودیوں کی زیادہ ہمدردیاں مشرکین کے ساتھ تھیں ۔جیسا کہ قرآن میں بھی ان کی اصلیت کا ذکر ہے : 
’’کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہیں کتاب میں سے ایک حصّہ دیا گیا تھا‘وہ ایمان لاتے ہیں بتوں پر اور شیطان پر‘اور کہتے ہیں ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے کفر کیا (یعنی مشرکین) کہ ان اہل ِایمان سے زیادہ ہدایت پر تو یہ ہیں۔‘‘(النساء : 51)
 یہ سب لوگ اپنے تکبر ، حسد اور بغض کی وجہ سے ابلیس کے ہمنوا اور اسلام کےدشمن بن گئے۔ ان کی مشترکہ کوشش رہی کہ اللہ کا نظام قائم نہ ہونے پائے تاکہ وہ خود اپنا نظام قائم کر سکیں ۔ اللہ کے دین کے ساتھ اُن کا حسد ، بغض اور تکبر اُس وقت مزید کھل کر سامنے آگیا جب جنگ بدر میں حزب اللہ کو فتح نصیب ہوئی ۔جیسے ہی فتح کی خبر مدینہ  منورہ پہنچی تو یہ قبالی یہودی غصے اور نفرت میں آگ بگولہ ہوگئے ۔ کعب بن اشرف یہودی نے یہاں تک کہہ دیا : 
”تف ہو تم پر ۔ سرداران قریش تو عرب کے شرفاء اور عوام کے بادشاہ تھے ، اگر محمد (ﷺ)نے انہیں ختم کردیا ہے تو پھر زندگی سے موت بہتر ہے ۔‘‘ (تاریخ ابن خلدون ، جلد دوم ، صفحہ 79) 
اِس کے بعد وہ مکہ میں مشرکین کے پاس پہنچا ( اس کی زوجیت میں ابی العیص بن امیہ کی پوتی تھی ) اور اشعار پڑھ پڑھ کر مشرکین کو آنحضرتﷺ کی مخالفت پر اُبھارنے لگا۔ اس کے بعد وہ مدینے لوٹا اور مسلمان عورتوں کے متعلق اشعار کہنے لگا (ابن خلدون ، جلد دوم صفحہ 80)۔شاید اس کا مقصد مسلمانوں کو اشتعال دلا کر جنگ پر اُبھارنا تھا تاکہ میثاق مدینہ ختم ہو جائے اور سب کفار و مشرکین مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑ سکیں ۔ اسی دوران ایک واقعہ ہوا کہ ایک مسلم خاتون یہودی سنار کی دوکان میں خریداری کے لیے گئی ، یہودیوں نے اس کا نقاب اُتارنا چاہا، انکار پر انہوں نے اُس خاتون کی چادر خفیہ طور پر کسی چیز سے باند ھ دی ، جب وہ اُٹھی تو اس کا نقاب اُتر گیا ۔ مسلم خاتون کے شور مچانے پر ایک مسلمان نے آکر یہودی سنار کو قتل کر دیا ۔ یہودی پہلے ہی مسلمانوں کی جنگ بدر میں فتح سے آگ بگولا تھے اُنہوں نے حملہ کرکے اُس مسلمان کو شہید کر دیا۔ یوں یہودیوں نے خود میثاق مدینہ کو توڑ ڈالا ۔ایک روایت کے مطابق انہوں نےجنگ بدر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے  اللہ کے رسول ﷺسے یہاں تک کہا : ”اس غرہ میں نہ رہنا ، تمہارا مقابلہ ایسی قوم سے ہوا تھا جو لڑائی سے ناواقف تھی ، واللہ اگر تم ہمیں آزماؤ گے تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم لوگ مرد ہیں ۔ “ یہ کہہ کر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو واپس کر دیا اور میثاق مدینہ سے منحرف ہو گئے ۔ اس کے بعد قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی : 
’’اور اگر تمہیں کسی قوم سے دغا بازی کا ڈر ہو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو، اس طرح کہ تم اور وہ برابر ہو جاؤ، بے شک اللہ دغا بازوں کو پسند نہیں کرتا۔ ‘‘(الانفال :58)
اِس کے بعد اُن کے خلاف جہاد کا حکم نازل ہوا اور بنو قینقاع کا محاصرہ کر لیا گیا۔ 16 ویں دن بنو قینقاع نے ہتھیار ڈال دئیے ۔ جب ان کو قیدی بناکر لایا گیا اور سزا کے نفاذ کا وقت آیا تو عبداللہ بن ابی اُن کے دفاع میں کھڑا ہوگیا اور ان کو قتل کرنے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے حضورﷺ کا راستہ روک لیا ، یہاں تک کہ اُس نے نبیﷺ کی زرہ بکتر کے پہلو کو پکڑ لیااور کہا : 
”نہیں! خدا کی قسم میں آپ کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک آپؐ میرے حلیفوں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کریں۔ چار سو بے زرہ اور تین سو زرہ پوش، جنہوں نے مجھے ہر سرخ و سیاہ (دشمن) سے بچایا، کیا آپؐ ایک ہی صبح ان سب کو کاٹ ڈالیں گے؟ خدا کی قسم، میں ایسا شخص ہوں جو وقت کے الٹ پھیر (حوادث) سے ڈرتا ہے۔“(تاریخ الطبری ، تاریخ الأمم والملوك - جلد 2)
معلوم ہوا کہ عبداللہ بن ابی کا یہود سےکوئی عہد تھا اور وہ اس عہد کو اللہ کے دین (نظام ) پر ترجیح دے رہا تھا اوران سب کی کوشش تھی کہ اللہ کا دین قائم نہ ہونےپائے ۔ چنانچہ اسی وجہ سے عبداللہ بن ابی نے جنگ اُحد میں بھی سازش کی اور عین جنگ سے قبل اپنا لشکر لے کر واپس آگیا، غزوۂ بنی مصطلق کے بعد انصار اور مہاجرین کے درمیان ایک معمولی تنازعہ کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے عبداللہ بن ابی نے مہاجرین کے حوالے سے یہاں تک اعلان کیا کہ وہ واپس مدینہ پہنچ کر ان کو وہاں سے نکال دے گا ۔ اس واقعہ کے بعد ہی سورہ منافقین نازل ہوئی ۔ اسی سفر میں واقعہ اُفک پیش آیا اور عبداللہ بن ابی نے حزب اللہ میں انتشار پھیلانے کے لیے اہل بیت کی کردار کشی کی ۔ اللہ نے آیاتِ تطہیر نازل فرما کر اس فتنہ کا رد کیا  ۔
630ءمیںجب رومیوں کے خلاف جہاد کا اعلان ہوا تو منافقین نے ایک یہودی کے مکان میں بیٹھ کر سازش تیار کی کہ مسلمانوں کو غزوہ تبوک سے ہر ممکن روکا جائے ۔ اس کوشش کا مقصد یہی تھا کہ اسلام عالمی نظام کی شکل اختیار نہ کرنے پائے۔ آنحضرتﷺ نے یہودیوں  کے اس مکان کو جلانے کا حکم دیا ۔ خیبر کے یہودیوں میں سے ابن ابی حقیق (ابو رافع ) بھی مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو اُبھارنے لگا اور وہ بھی کعب بن اشرف کی طرح قتل ہوا۔ اسی طرح بنو نضیر نے آنحضرت ﷺ کے قتل کی سازش کی، نتیجہ میں اس یہودی قبیلہ کے خلاف بھی جہاد کا اعلان ہوا تو عبداللہ بن ابی نے انہیں خفیہ طور پر مدد کی یقین دہانی کرائی اور مسلمانوں کے خلاف لڑنے پر اُکسایا ۔  لیکن جب بنو نضیر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئے تو ان کا طرفدار بن کر عبداللہ بن ابی نے ان کی جان بخشی اور پُرامن جلاوطنی کی سفارش کی ۔ چنانچہ بنو قینقاع کی طرح  بنو نظیر کوبھی عبداللہ بن ابی نے بچا لیا ۔ان میں سے کچھ خیبر کے یہودیوں کےپاس چلے گئے اور وہاں جاکر اسلام  کے خلاف سازشیں کرنے لگے۔ حتیٰ کہ مشرکین مکہ اور       بنو عطفان کو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا جس کے نتیجہ میں غزوۂ خندق پیش آیا ۔
غزوہ ٔخندق میں یہودیوں کے تیسرے قبیلے    بنو قریضہ نے غداری کی تو انہیں بھی مدینہ سے نکلنا پڑا ۔  اس کے بعد غزوئہ خیبر میں اس فتنہ کی سرکوبی ہوئی۔ ان سب یہودی قبائل کے جو لوگ بچ گئے تھے  وہ شام اور عراق کی طرف ہجرت کرگئے جہاں بعدازاں انہوں نے عبداللہ بن سبا یہودی کے فتنہ کا ساتھ دے کر مسلمانوں کی یکجہتی اور اتحاد میں دراڑیں ڈالنے میں اپنا مذموم کردار ادا کیا ۔ اندازہ کیجئے کہ یہ اللہ کے نظام کے خلاف کتنی بڑی سازش تھی جو شروع میں ہی یہود و مشرکین اور منافقین نے مل کر رچائی تھی ۔ وہ چاہتے تھے کہ اسلام بطور عالمی نظام قائم نہ ہو تاکہ وہ اپنا (شیطانی ) نظام دنیا پر مسلط کرسکیں لیکن جب اس کوشش میں ناکام ہوئے تو عبداللہ بن سبا کے ذریعے سبائی فتنہ کھڑا کیا گیا تاکہ مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر اسلامی نظام دنیا میں پھیلنے سے روکا جائے اور اسلام    بطور نظام کمزور ہو جائے ۔ (جاری ہے )