(قرطاس) کیا جمہوریت اور انتخابی عمل ایک ہی چیز کے دو نام ہیں؟ - ڈاکٹر فواد لوہانی

14 /

کیا جمہوریت اور انتخابی عمل ایک ہی چیز کے دو نام ہیں؟

ڈاکٹر فواد لوہانی

انتخابی عمل یا انتخابی طریقہ کار، انتظامی معاملات چلانے کے حوالے سے ریاستی سربراہ (یا کابینہ) چننے کا طریقہ بہت قدیم ہے۔ اس کی ابتدا یورپ سے نہیں  ہوئی، بلکہ اس کی جڑیں ہر اس مقام اور معاشرے میں ہیں جہاں قبائلی نظام قائم تھا۔ 
ایک سردار کے مرنے پر اگلا سردار کون بنے گا؟ موروثیت کی روایت آنے سے پہلے اس چیز کا فیصلہ انتخابات سے ہوتا تھا۔ 
قدیم قبائلی سیاسی نظام کے علاوہ؛ ایک نظریاتی جماعت کے قائم کردہ نظام میں بھی، رہنما کے اس دنیا سے جانے کے بعد اُس کی ٹیم کے کس رکن یا کامریڈ کو سربراہ بنایا جائے گا؟ اس اہم معاملے کا فیصلہ، اس نئے قائم کردہ نظام کے سرکردہ افراد کے مابین انتخابی عمل سے کیا جاتا۔ 
بہت سے لوگ جمہوریت اور انتخابی عمل کو گڈمڈ کر دیتے ہیں؛ جمہوریت ایک سیاسی نظریہ ہے جو عوامی حاکمیت کی بات کرتا ہے؛ یعنی پالیسی سازی اور قانون سازی میں آخری و حتمی اختیار لوگوں کے پاس ہے۔ جمہوریت دراصل سرمایہ داری نظام (یعنی کیپیٹلزم) کا ایک ستون ہے۔ اس میں فیصلے کرنے کی بنیاد کسی الہامی یا مذہبی کتاب و عقیدے کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ کثرت رائے سے ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ اگر اکاون فیصد لوگ اس بات کے حق میں فیصلہ دے دیں کہ شراب جائز ہے تو اس ریاست میں شراب بنانا، بیچنا، خریدنا، پینا، پلانا قانونی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ اسی طرح ہر مذہب میں زنا ممنوع اور حرام   فعل مانا جاتا ہے، لیکن جمہوری ملکوں میں زنا کاری کے اڈوں (چکلے، بروتھلز) کو باقاعدہ سرکاری سرپرستی ملی ہوئی ہے۔ یعنی جمہوری معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہوتا ہے جہاں حلال و حرام اور جائز و ناجائز قرار دینے کے فیصلے کا اختیار لوگوں کے پاس ہوتا ہے؛ اگر لوگ کثرت رائے سے شراب و زنا کو جائز و قانونی قرار دیں گے تو ایسے افعال اس ملک میں رائج ہو جائیں گے۔ جب کہ اسلام کا اصول یہ ہے کہ جس چیز کو خالق نے حرام قرار دے دیا، اسے پوری مخلوق مل کر بھی حلال قرار نہیں دے سکتی۔ المیہ یہ ہے کہ انتخابی طریقہ کار کو ہی جمہوریت کہہ کر جمہوریت کے بارے میں رائے بنائی جاتی ہے۔ 
جس طرح ایک قبیلے میں ہونے والا انتخابی عمل، ایک نظریاتی جماعت کے انتخابی عمل سے طریقہ کار کی رو سے تو مماثلت رکھ سکتا ہے، لیکن بنیادی اصولوں میں فرق کی بناء پر ہم اسے ایک جیسا انتخابی عمل نہیں کہہ سکتے۔ اسی طرح ڈاکوؤں کے سردار کے مرنے پر دوسرا سردار کون بنے گا؟ اس کا فیصلہ بھی انتخابی عمل سے کیا جاتا ہے، لیکن اس انتخابی عمل کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ ڈاکوؤں کے ’’مقاصد اور کام‘‘ کو جواز مل چکا ہے۔ 
مختلف جمعیتوں اور گروہوں میں انتقالِ اقتدار و اختیار کے لیے انتخابی عمل وقوع پزیر ہوتا ہے، لیکن ہر انتخابی عمل جمہوریت نہیں ہوتا۔ جمہوریت اس نظریے کا نام ہے جس میں ریاست کی بنیادی پالیسی بنانے کا اختیار خالق کی بجائے مخلوق کے ہاتھ میں سمجھا جائے۔ 
جن لوگوں کا تاریخ کا مطالعہ تین صدیوں سے پیچھے نہیں جاتا، وہ جب ثقیفہ بنی ساعدہ میں ہونے والے فیصلے کو دیکھتا ہے تو اسے وہ طریقہ کار’’عین جمہوریت‘‘ نظر آتا ہے۔ 
جس بچے نے بچپن سے ہی اپنے آس پاس ہر شخص کو شراب پیتے ہوئے دیکھا ہو، وہ اگر کسی نارمل آبادی میں  آ جائے تو ہر شربت، جوس حتیٰ کہ دودھ کو بھی شراب سمجھے گا۔ 
یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے بچپن سے ہی اپنے ملک میں آمریت دیکھی، انہی آمریت عین اسلامی لگتی ہے۔ جن لوگوں نے لڑکپن سے ہی اشتراکی ادب کا مطالعہ کیا ہوتا ہے تو وہ اسلامی معاشرے میں اشتراکیت کے جراثیم پھیلانے کے لیے کہہ دیتا ہے کہ سوشل ازم عین اسلام ہے؛ اور جن کی اُٹھان جمہوری ادوار میں ہوئی، وہ جمہوریت کو عین اسلامی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ جمہوریت اس طرزِ حکومت کا نام ہے جس میں ریاست کی بنیادی پالیسی بنانے کا اختیار خالق کی بجائے مخلوق کے ہاتھ میں سمجھا جائے۔ 
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی اصطلاح کی اصل تعریف و تشریح وہی ہوتی ہے، جو تعریف و تشریح اس اصطلاح کے وضع کرنے والوں نے بیان کی ہو۔ 
جو لوگ ہر انتخابی عمل کو جمہوریت کہتے ہیں، یہ   دو طرح کے لوگ ہیں (معذرت کے ساتھ) نمبر ایک وہ لوگ جن کا تاریخ کا مطالعہ تین صدیوں سے پیچھے نہیں جاتا، نمبر دو، جو جان بوجھ کر مغالطہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ 
آخر میں ایک سوال؛ ان لوگوں سے ایک سوال جو انتخابی عمل کو جمہوری سمجھتے اور کہتے ہیں: اگر کسی ملک کی آبادی تیس کروڑ ہو اور اس ملک میں ووٹ دینے اور انتخابات میں حصّہ لینے کا قانونی حق صرف ایک لاکھ لوگوں کے پاس ہو تو کیا ایسے ملک کو جمہوری کہا جائے گا؟ 
ایک وضاحت:
      لیسیز فیئر (بےلگام معیشت)، سیکولرازم اور لبرل ازم؛ سرمایہ داری نظام کے تین ستون ہیں۔ یہ تینوں ستون اجتماعی زندگی کے ان تین سوالوں کے جواب دیتے ہیں جہاں کیپیٹل ازم فیوڈل ازم کی نفی کرتا تھا۔ یہ تینوں ستون ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کو قائم کرتے اور قائم رکھتے ہیں۔ ان تینوں میں سے کسی ایک ستون کو کسی دوسرے نظام میں پیوند کرنے کا ایک ہی مطلب ہے کہ باقی دو ستونوں کا راستہ بھی بنایا جائے۔ اور جمہوریت اس نظام کا مخصوص طرز حکومت ہے۔ یہ اس نظام کا icon ہے۔ جس طرح درج بالا تین ستون کسی اور نظام میں پیوند و پیوست نہیں ہوسکتے، اسی طرح یہicon  (جمہوریت) بھی دوسرے نظام میں پیوند و پیوست نہیں ہو سکتا۔