(الہدیٰ) اللہ تعالیٰ کا علم اور قدرت ہر چیز پر محیط ہے - ادارہ

13 /
الہدیٰ
 
اللہ تعالیٰ کا علم اور قدرت ہر چیز پر محیط ہے
 
 
 
آیت 29 {اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ} ’’کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ رات کو پرو لاتا ہے دن میں اور دن کو پرو لاتا ہے رات میں‘‘
اِس مفہوم کے اعتبار سے اس کی مثال تسبیح کے دانوں کی سی ہے ‘یعنی قدرتِ الٰہی سے دن اور رات کی ترتیب ایک ڈوری میں پروئے گئے سیاہ اور سفید رنگ کے دانوں کی سی ہے کہ ایک سیاہ اور ایک سفید دانہ باری باری چلے آ رہے ہیں۔ ان الفاظ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں۔ یعنی دن جب گھٹتا ہے تو رات اس کے کچھ حصے پر قابض ہو جاتی ہے گویا وہ اس میں داخل ہو جاتی ہے۔ اور اسی طرح جب رات گھٹتی ہے تو اس کے کچھ حصے پر دن قبضہ  (encroachment) کر لیتا ہے۔
{وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَز کُلٌّ یَّجْرِیْٓ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّاَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(29)} ’’اور اُس نے مسخر کر دیا ہے سورج اور چاند کو۔ یہ سب کے سب چل رہے ہیں ایک وقت معین تک کے لیے‘ اور یہ کہ اللہ باخبر ہے اُس سے جو تم کر رہے ہو۔‘‘ 
آیت 30 {ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْحَقُّ وَاَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ الْبَاطِلُ لا} ’’یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور یہ کہ یہ لوگ جس کسی کو بھی اس کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہے‘‘
لغوی اعتبار سے ہر وہ چیز ’’باطل‘‘ہے جو اگرچہ نظر تو آ رہی ہو مگر اس کا وجود حقیقی نہ ہو۔ جیسے ’’سراب‘‘ کہ دور سے دیکھنے پر پانی نظر آتا ہے مگر اصل میں وہ پانی نہیں ہوتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے سوا جس کسی کو بھی کوئی معبود سمجھ کر پکارتا ہے، وہ محض دھوکہ اور سراب ہے ۔
{وَاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ(30)}’’اور یقیناً اللہ ہی سب سے بلند و بالا اور عظمت والا ہے۔‘‘ 
 
درس حدیث
 
جنت اور اس کی نعمتیں
 
عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکْ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ:((غَدْوَۃٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْرَوْحَۃٌ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَافِیْھَاوَلَقَابَ قَوسِ اَحَدَکُمْ اَوْ مَوضِعُ قَدَمٍ مِنَ الْجَنَّۃِ، خَیْرٌ مِنَ الدُّنیَا وَمَا فِیھَاوَلَوْاَنَّ امْرَاۃً مِنْ نِّسَائِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ اطَّلَعَتْ اِلَی الْاَرْضِ لَاَضَائَتْ مَابَیْنَھُمَا وَلَمَلَأَتْ مَا بَیْنَھُمَا رِیْحًا وَلَنَصِیْفُھَا عَلٰی رَأْسِھَا خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا))  (صحیح بخاری)
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کی راہ میںگزرنے والی  ایک صبح یا ایک شام دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ اور جنت میں تمہاری ایک کمان کے برابر جگہ یاا یک قدم کے فاصلے کے برابر جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے۔ اور اگر اہل جنت کی بیویوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف جھانکے تو ان دونوں کے درمیان (یعنی جنت سے لے کر زمین تک) روشنی ہی روشنی ہو جائے ، اور مہک اور خوشبو سے بھر جائے، اور اس کے سر کا صرف دوپٹہ دنیا اور اس کی ساری چیزوںسے بہتر ہے۔‘‘
تشریح: حدیث کے ابتدائی حصے میں دعوت واقامت ِدین کے سلسلے میں اللہ کی راہ میں نکلنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اللہ کی راہ میں تھوڑی دیر کے لیے نکلنا دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے۔ حدیث کے دوسرے حصے میں جنت کی نعمتوں خصوصاً اہل جنت کی بیویوں کے غیرمعمولی حسن و جمال کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس حدیث میں اہل ایمان کو دین کی دعوت عام کرنےاور اقامت ِدین کی جدوجہد کرنے کی ترغیب وتشویق دلائی گئی ہے۔