اداریہ
رضاء الحق
روحِ محمد(ﷺ) اس کے بدن سے نکال دو!
اسلام محض چند عبادات، چند اخلاقی تعلیمات یا ایک مذہبی شناخت کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی وحی، قرآنِ مجید اور رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس اور اسوۂ حسنہ پر قائم ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا آخری کلام ہے اور رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول، قرآن کے اوّلین مخاطب، اس کے عملی شارح اور اس کی تعلیمات کے کامل ترین نمونہ ہیں۔ گویا قرآن اور رسولِ اکرم ﷺ کو ایک دوسرے سے جدا کرکے اسلام کا تصور ہی مکمل نہیں ہو سکتا۔ قرآن ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہدایت پہنچاتا ہے اور محمد ﷺ ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ اس ہدایت کو انسانی زندگی میں کس طرح نافذ اور قائم کیا جائے۔ اسی حقیقت کی بنا پر ایمان کے بنیادی اجزاء میں اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوںؑ اور یومِ آخرت پر ایمان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ مسلمان کا ایمان محض ان چیزوں تک محدود نہیں جنہیں وہ اپنی آنکھ سے دیکھ سکے۔ وہ اللہ تعالیٰ کو مانتا ہے، ملائکہ کو مانتا ہے، وحی کو مانتا ہے، آخرت، جنت، جہنم اور تقدیر پر ایمان رکھتا ہے۔ قرآن حکیم اہلِ ایمان کی تعریف ہی یہ کرتا ہے کہ وہ ’’غیب پر ایمان‘‘ رکھتے ہیں۔ یہی ایمان انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ اس کی اصل جواب دہی دنیا کی عدالتوں سے آگے ایک ایسی عدالت میں ہے جہاں نہ کوئی اثر و رسوخ کام آئے گا، نہ دولت، نہ اقتدار اور نہ ہی کسی بین الاقوامی طاقت کا دباؤ۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس سے محبت مسلمان کے ایمان کا محض جذباتی یا ثقافتی پہلو نہیں بلکہ عقیدے کا بنیادی تقاضا ہے۔ چنانچہ ناموسِ رسالت ﷺ کا مسئلہ مسلمانوں کے لیے کسی فرد، جماعت یا سیاسی حکومت کا بنایا ہوا مسئلہ نہیں؛ یہ خود اسلام کے بنیادی تصورِ ایمان سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ صحابۂ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ کی حرمت و عزت کے تحفظ کے لیے اپنی جان، مال، گھر، خاندان اور دنیا کی ہر آسائش قربان کردی۔ بعد کی صدیوں میں بھی لاتعداد مسلمان ایسے گزرے جنہوں نے عشقِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھا اور ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے جانیں نچھاور کیں۔ پاکستان کی تاریخ میں بھی ایسے افراد موجود ہیں جنہوں نے اسی جذبے کے تحت اپنی زندگیاں قربان کیں۔ تاہم یہاں ایک بنیادی اصول کو فراموش نہیں کیا جا سکتا: اسلام میں سزا دینے کا اختیار اصولی طور پر افراد، ہجوم یا غیرریاستی گروہوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ بااختیار عدالت اور ریاست کے پاس ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست کی ذِمّہ داری فیصلہ کن حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔
اگر کسی معاشرے میں کسی مقدس ہستی، مذہبی کتاب یا مذہبی شعائر کی توہین کے خلاف قانون موجود ہو لیکن ریاست اس قانون کو مؤثر طور پر نافذ نہ کرے، مقدمات برسوں لٹکائے، شواہد کی حفاظت نہ کرے، مجرموں کو کیفرِکردار تک نہ پہنچائے اور عدالتوں کو دباؤ سے محفوظ نہ رکھے تو معاشرے میں قانون ہاتھ میں لینے کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔ یہ رجحان بذاتِ خود انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں الزام اور جرم، تحقیق اور سزا، عدالت اور ہجوم کے درمیان فرق مٹنے لگتا ہے۔ پاکستان میں دفعہ 295-C اسی تناظر میں ایک نہایت حساس قانونی شق ہے۔ موجودہ قانونی ڈھانچے میں رسول اللہ ﷺ کی شان میں توہین آمیز کلمات یا تحریر کے جرم کے لیے سزائے موت اور جرمانے کی گنجائش موجود ہے۔ لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دفعہ 295-C کے تحت آج تک کسی شخص کی سزا پر عمل درآمد کرتے ہوئے اُسے پھانسی نہیں دی گئی۔ یورپی یونین کی پاکستان میں ایک سابق سفیر نے خود تسلیم کیا تھا کہ پاکستان میں توہینِ مذہب کے الزام میں کسی شخص کو پھانسی نہیں دی گئی۔ دوسری طرف مقدمات میں سزائے موت سنائے جانے کے واقعات موجود ہیں، جن میںتمام فیصلے بعد ازاں اعلیٰ عدالتوں نے ’’باہر ‘‘سے حکم آنے پر ختم کر دئیے۔
البتہ مغربی دنیا کو بھی آزادیٔ اظہار کے بارے میں اپنے دوہرے معیارات پر غور کرنا چاہیے۔ یورپی یونین خود تسلیم کرتی ہے کہ ہولوکاسٹ سے انکار یا اس کی تحریف متعدد یورپی ممالک میں قابلِ سزا جرم ہے، جبکہ یورپی قانونی نظام ’نفرت انگیز اظہار‘ اور بعض تاریخی جرائم کے انکار پر بھی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ جرمنی میں نازی دور کے جرائم کی عوامی تردید یا تحقیر بھی قانوناً جرم ہے۔ امریکہ میں بھی 2026ء تک 27ریاستیں سزائے موت کو اپنے قوانین میں برقرار رکھے ہوئے ہیں اور وفاقی حکومت بھی اسے قانونی سزا کے طور پر برقرار رکھتی ہے۔ لہٰذا اگر بعض ’’تہذیبی و تاریخی‘‘ مقدسات کی توہین کو مغربی ممالک اپنے معاشرتی امن، انسانی وقار یا تاریخی شعور کے تحفظ کے لیے قانون کے ذریعے محدود کر سکتے ہیں تو مسلمانوں کے لیے قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی حرمت کا ناقابلِ تعرض ہونا اور مغرب کا اِس کو ’’انتہاپسندی‘‘ قرار دینا ایک دجالی دہرا نظام نہیں تو کیا ہے؟
پاکستان میں ختمِ نبوت کا مسئلہ بھی اسی بنیادی اسلامی عقیدے سے وابستہ ہے۔ قرآن مجید نے حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ کو ’’خاتم النبیین‘‘ قرار دیا اور رسول اللہ ﷺ نے متعدد احادیث میں واضح فرمایا کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اسی بنیادی عقیدے کی روشنی میں پاکستان کی پارلیمان نے 1974ء میں آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانی اور لاہوری گروہوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ اس فیصلے سے قبل قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سامنے دونوں گروہوں کے نمائندوں کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور تفصیلی سوال و جواب کا موقع دیا گیا۔ سرکاری کارروائی کے مطابق قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد سے کئی دن تک سوالات کیے گئے جبکہ لاہوری گروہ کے نمائندوں سے بھی علیحدہ کارروائی ہوئی۔ بعد ازاں 7 ستمبر 1974ء کو دوسری آئینی ترمیم منظور ہوئی۔ اس تاریخی واقعے کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے آئینی نظام نے ایک جھوٹے مدعی نبوت اور اُس کے ساتھ والے گروہ کا خود کو مسلمان کہلانے کی آئینی حیثیت متعین کر دی کہ وہ غیر مسلم ہیں۔ اس آئینی حقیقت کا تقاضا ہے کہ ریاست اپنے آئین اور قوانین پر غیر جانب داری سے عمل کرے۔ قانون کی پابندی ہی وہ راستہ ہے جو عقیدے کے تحفظ اور شہری نظم دونوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ آج اِس خطرہ کو سوشل میڈیا کے بے قابو ماحول نے مزید سنگین کر دیا ہے۔ قرآن مجید، رسول اللہ ﷺ، اہلِ بیتؓ، ازواجِ مطہراتؓ، صحابۂ کرامؓ اور دیگر مقدسات کے خلاف انتہائی فحش اور اشتعال انگیز مواد کے منظم پھیلاؤ کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ وزارتِ مذہبی امور نے بھی ماضی میں ایف آئی اے اور متعلقہ تحقیقات کے حوالے سے لاکھوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے بارے میں تشویش ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ بعض منظم گروہ مذہبی توہین آمیز مواد کے ذریعے معاشرتی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں سائبر توہینِ مقدسات کے مقدمات میں ایسے افراد بھی گرفتار ہوئے ہیں جن کا تعلق بظاہر مسلم معاشرے سے ہے۔
یہاں ایک اور نہایت اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے: توہین آمیز مواد اور فحاشی کا باہمی امتزاج۔ اسلام نے حیا کو ایمان کے ساتھ جوڑا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’حیا ایمان کا حصّہ ہے۔‘‘ چنانچہ قرآن یا رسول اللہ ﷺ کی توہین کو فحش مواد کے ساتھ جوڑ کر پیش کرنا محض مذہبی گستاخی نہیں بلکہ معاشرتی و اخلاقی فساد کی ایک انتہائی خطرناک شکل بھی ہے۔ اگر مقدس کلام کے نسخے کسی مجرمانہ کارروائی میں استعمال ہوئے ہوں تو انہیں محض ’’ثبوت‘‘ سمجھ کر بے حرمتی کا شکار نہیں ہونا چاہیے؛ شواہد کو محفوظ رکھنے کے لیے جدید فرانزک طریقے اختیار کیے جائیں اور پھر ان نسخوں کے بارے میں شرعی و قانونی تقاضوں کے مطابق فیصلہ کیا جائے اور جلد از جلد ایسے نسخوں کی تطہیر اور اُن کو شرعی احکامات کے مطابق دفنانے کا اہتمام کیا جائے۔
اس سارے معاملے میں ریاست، سیاسی جماعتوں، مذہبی جماعتوں، علماء، وکلاء، بارایسوسی ایشنز، ذرائع ابلاغ اور عام مسلمانوں کی ذِمّہ داریاں اپنی اپنی جگہ واضح ہیں۔ قرآن مجید کی حرمت اور رسول اللہ ﷺ کی ناموس کا تحفظ صرف نعروں، جلسوں یا احتجاجی بیانات سے نہیں ہوگا؛ اس کے لیے مضبوط قانون، مؤثر تفتیش، آزاد اور محفوظ عدلیہ، جدید سائبر فرانزک، تیز رفتار مگر عادلانہ نظامِ انصاف اور مجرموں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی ضروری ہے۔ جو شخص جھوٹا الزام لگائے اُسے بھی قانون کے تحت سزا ملنی چاہیے اور جو شخص حقیقتاً توہین کا مرتکب ثابت ہو اُسے بھی قانون کے مطابق سزا سے بچنے کا راستہ نہیں ملنا چاہیے۔ اسی طرح ایسے بدبخت عناصر جو دفعہ 295-Cکو ’’کالا قانون‘‘ قرار دے کر اس کی مکمل تنسیخ کا مطالبہ کرتے ہیں، ان کی بھی قانون کے مطابق گرفت لازمی ہے۔ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حصّہ ہے، لیکن ایسا اظہار جو دانستہ طور پر مذہبی اشتعال، فساد یا عوامی انتشار کو جنم دے، اس کے قانونی نتائج سے کسی بھی معاشرے میں مکمل استثنا نہیں دیا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنے قیام کے بنیادی نظریاتی تشخص کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہتا ہے؟ اگر پاکستان اپنے آپ کو اسلامی جمہوریہ کہتا ہے تو اسے اسلام کے بنیادی تصورات، قرآن کی حاکمیت، سنتِ رسول ﷺ کی رہنمائی، ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت ﷺ کے احترام کو محض آئینی عبارتوں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست میں قانون سب کے لیے یکساں ہوگا، عدالتیں مضبوط ہوں گی، مجرم خواہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو قانون کے سامنے جواب دہ ہوگا، بے گناہ کو محض الزام پر سزا نہیں دی جائے گی اور کسی مقدس ہستی کی توہین کو ’’آزادیٔ اظہار‘‘ کے مبہم پردے میں چھپانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں، یہ ہمارے ایمان کا امتحان بھی ہے۔ قرآن مجید، رسول اللہ ﷺ اور اسلام کے مقدسات سے ہماری محبت ہمارے دعوائے ایمان کی سچائی کا آئینہ ہے۔
لہٰذا آج پاکستان کو نہ مغرب کے دباؤ کے سامنے اپنی دینی شناخت سے دستبردار ہونے کی ضرورت ہے اور نہ اپنے جذبات کو بے لگام ہجوم کے حوالے کرنے کی۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ پاکستان ایک مضبوط، خودمختار، عادل اور اسلامی فلاحی ریاست کی حیثیت سے اپنے قوانین کو مؤثر بنائے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں معاشرتی و قانونی نظام کی اصلاح کرے۔ سائبر جرائم اور توہین آمیز مواد کے خلاف جدید ریاستی صلاحیت پیدا کرے اور ہر مقدس معاملے کو قانون کے دائرے میں تحفظ فراہم کرے۔ تب ہی دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے گا کہ مسلمان نبی اکرم ﷺ کی حرمت کے بارے کبھی سمجھوتا نہیں کیا کرتے۔ ہماری اصل منزل ایسی اسلامی فلاحی ریاست کا قیام ہے جہاں شریعتِ محمدی ﷺ کی روح میں عدل قائم ہو، قانون سب پر یکساں نافذ ہو، مقدسات کی حرمت محفوظ ہو اور کسی بیرونی طاقت کی پاکستان کے دینی، آئینی اور قانونی معاملات میں مداخلت کی گنجائش باقی نہ رہے۔ مغرب تو چاہتا ہی یہی ہے کہ مسلمان اپنے اصل کو چھوڑ کر مغربی تہذیب کو اپنا لیں۔ اِس ابلیسی سازش کو ناکام بنانا ہم سب کی اجتماعی ذِمّہ داری ہے۔ یہ صرف پاکستان کی دنیا میں کامیابی کا مسئلہ نہیں؛ یہ ہماری آخرت کی کامیابی و ناکامی کا بھی معاملہ ہے۔
بقول اقبال: ؎
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو
tanzeemdigitallibrary.com © 2026