اقامت ِدین کی جدوجہد فرض ہے
(عہد جدید کے مفسرین کی آراء کی روشنی میں)
مسجد جامع القرآن ، قرآن اکیڈمی لاہورمیں امیرِ تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے21اگست 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص
مرتب: ابو ابراہیم
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
اقامتِ دین کی جدوجہد کا فرض ہونا ڈاکٹر اسراراحمدؒ ، مولانا مودودی ؒ یا عہد جدید کےدیگر سکالرز اور علماء کا پیدا کردہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ اُمّتِ کا ساڑھے 14 سو سال سے اس پر اجماع ہے ۔ گزشتہ خطبات جمعہ میں ہم نے اسی تناظر میں اسلاف اور ائمہ کے اقوال اور ماضی بعید اور قریب کے جید علماء کی تفاسیر سے حوالے پیش کیے تھے ، اسی تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے آج ہم عہد جدید کے 7اہل علم اور مفسرین کی آراء آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔ ان شاء اللہ !
سب سے پہلے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا حوالہ پیش کریں گے ۔ اُن کی سینکڑوں کتب اور مواعظ شائع شدہ ہیں۔ ان میں سے ایک الافادات الیومیہ ہے جس میں سورۃ الحج کی آیت 41 کی تشریح انہوں نے کی ہے۔
{اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِط وَلِلہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ(41)} ’’وہ لوگ کہ اگر انہیں ہم زمین میں تمکّن عطا کر دیں تووہ نماز قائم کریں گےاور زکوٰۃ ادا کریں گےاور وہ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔ اور تمام امور کا انجام تو اللہ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہے۔‘‘
اس آیت کی تشریح میں وہ لکھتے ہیں :
’’ حکومت کا مقصد عصری اقامتِ دین ہے۔( اللہ کے دین کا قائم ہونا) اگر ایسی نیت ہے تو کوشش کریں یعنی حدود شریعت کا تحفظ شرط ہے۔‘‘
یعنی اگر ان احکامات پر عمل کرنے کی نیت ہے تو حدود شریعت کا تحفظ پیش نظررہنا چاہیے ۔ حدود صرف سزاؤں کو نہیں کہتے، شریعت کے احکامات کو حدود کہا جاتا ہے۔ سورۃ النساء کی آیات 11اور12 میں وراثت کے احکامات کے بارے میں تفصیل آئی ہے اور وہیں ذکر آیا کہ یہ اللہ کی حدود ہیں۔روزے کے متعلق سورۃ البقرہ کے 23ویں رکوع میں احکامات آئے ہیں ۔ وہاں بھی ان احکامات کو اللہ کی حدود قرار دیا گیا ۔شرعی سزاؤں کے لیے بھی حدود کا لفظ آتا ہے اور شریعت کے احکامات کےلیے بھی۔ مولانااشرف علی تھانوی ؒ آگے فرماتے ہیں :
’’ مگر اب تو ایسا اطلاق ہو رہا ہے کہ شریعت کے خلاف ہو یا موافق۔تو ایسی حکومت تو فرعون اور شداد کو بھی حاصل تھی۔ حکومت سے اصل مقصود اقامتِ دین ہے‘ اللہ کے دین کا قائم ہونا ‘اس کے احکامات کا نافذ ہونا۔ حکومت سے اصل مقصود اقامتِ دین ہے اور تدابیر یعنی ذرائع اس کے اسباب ہیں۔ اگر دین مقصود نہیں جیسا کہ آج کل حالت ظاہر ہے تو لعنت ہے ایسی حکومت پر۔‘‘
مولانااشرف علی تھانوی ؒ کے یہ الفاظ پاکستان بننے سے پہلےکے ہیں۔کراچی میں علماء کی ایک مجلس میں ، میں نے عرض کیا تھا کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہمیں اسلامی ریاست کا وفادار ہونا چاہیے ، بالکل ہونا چاہیے مگر پہلے یہ تو واضح ہونا چاہیے کہ اسلامی ریاست کسے کہتے ہیں ۔ اُمّتِ کے علماء نے بہت پہلے واضح کر دیا ہے کہ اسلامی ریاست قرار پانے کے لیے کچھ بنیادی شرائط ہیں ۔ موجودہ دور کے علماء کا یہ کام ہے کہ وہ ان شرائط پر بات کریں ، لوگوں کو بتائیں ۔ اس پر بعض حلقوں کو پریشانی ہو گئی کہ میں نے یہ بات کیوں کر دی؟ مولانا اشرف علی تھانوی ؒ تو قیام پاکستان سے پہلے لکھ رہے ہیں کہ اگر دین مقصود نہیں جیسا کہ آج کل حالت ظاہر ہے تو لعنت ہے ایسی حکومت پر۔
دوسری رائے مفتی محمدشفیع ؒ کی ہےجو انہوں نے اپنی تفسیر معارف القرآن میں ’اقامت دین فرض اور اس میں تفریق کرنا حرام ہے‘کے عنوان سے لکھی ہے ۔ یہ تفسیر اُنہوں نے سورۃ الشوریٰ کی آیت 13 کی تشریح میں لکھی ہے ۔ آیت کا ترجمہ :
’’(اے مسلمانو!) اللہ نے تمہارے لیے دین میں وہی کچھ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اُس نے نوحؑ کو کی تھی‘اور جس کی وحی ہم نے (اے محمدﷺ) آپ کی طرف کی ہے‘اور جس کی وصیت ہم نے کی تھی ابراہیمؑ کواور موسیٰ ؑکو اور عیسیٰ ؑکوکہ قائم کرو دین کو۔اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔‘‘
یعنی دین کو قائم کرنے کی جدوجہد کرنے کا حکم اللہ نے اپنے تمام انبیاءؑ کو دیا اور یہ ہمیشہ سے اللہ کے بندوں پر فرض ہے ۔ پھر دین کے قیام سے مراد کیا ہے ؟ اس کی تفصیلات ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے بھی بیان کی ہیں ۔ لیکن ہم یہاں اِن تفصیلات میں نہیں جائیں گے بلکہ عہد حاضر کےدیگر علماء کی آراء پیش کریں گے تاکہ یہ معلوم ہو کہ ڈاکٹراسراراحمد ؒ اپنی طرف سے بات نہیں کررہے تھے بلکہ یہ اُمّتِ کے علماء کا متفقہ موقف ہے ۔ مفتی محمد شفیع ؒ امام قرطبی ؒ کا حوالہ پیش کرتے ہوئے آگے لکھتے ہیں:
’’ خلاصۂ کلام یہ کہ اس آیت میں حکم اس دین مشترک اور متفق علیہ کے قائم رکھنے کا ہے جس پر تمام انبیاء علیہم السلام متفق اور مشترک چلے آئے ہیں۔اِس میں اختلاف کو تفرق کے لفظ سے تعبیر کر کے ممنوع کیا گیا ہے۔ انہی قطعی احکام میں اختلاف و تفرق کو احادیث مذکورہ میں ایمان کے لیے خطرہ و سبب ِہلاکت فرمایا ہے اور اقامت دین سے مراد اس پورے دین پر قائم دائم رہنا، اس میں کسی شک و شبہ کو راہ نہ دینا اور کسی حال اس کو نہ چھوڑنا شامل ہے۔‘‘
آج بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوگئی ہے کہ صرف نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج اور عقیدے کا نام ہی اسلام ہے ۔ مفتی محمد شفیع ؒ اور دیگر مفسرین نے لکھا ہے کہ تمام انبیاء کے ہاں معاشرتی ہدایات بھی موجود تھیں ، سیاسی رہنمائی بھی موجود تھی ‘معاشی اعتبار سے بھی رہنمائی موجود تھی ‘سزاؤں کے حوالے سے بھی تصورات سب کے ہاں مشترک تھے۔ لہٰذا صرف عقیدے بیان نہیں کیے جائیں گے، صرف عبادات کا اہتمام نہیں ہوگابلکہ شریعت کے احکامات کا نفاذ بھی ہو گا جس میں لوگوں کی جان ‘مال‘ آبرو‘ عقل اور عقیدے کی حفاظت ہوگی۔ یہ پانچ باتیں بڑی اہم ہے اور ان کو ’’مقاصد الشریعہ‘‘کہتےہیں۔یعنی شریعت نے جو احکامات عطا کیے ہیں اُن میں بڑا مقصد لوگوں کے عقیدے، جان ، مال ، آبرو اور عقل کی حفاظت کرنا ہے ۔یہ تمام انبیاء کرام ؑ کا مشترک دین ہےاور اس کا قیام ہوگا۔
تیسری رائے مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’’ سب انبیاء ؑ اور ان کی اُمتوں کو حکم ہوا کہ دین الٰہی کو اپنے قول اور عمل سے قائم رکھیں اور اصل دین میں کسی طرح کی تفریق اور اختلاف کو روا نہ رکھیں۔‘‘
دین صرف پڑھانے یا بیان کرنے کے لیے نہیں آیا بلکہ عمل کے لیے آیا ہے اور عمل صرف انفرادی سطح پر نہیںبلکہ اجتماعی سطح پر بھی مطلوب ہے۔ علامہ شبیراحمد عثمانی ؒ سورۃ بنی اسرائیل کی آیات 80 اور 81 کا حوالہ پیش کرتے ہیں :
’’اور دعاکیجیے کہ اے میرے رب مجھے داخل کر عزّت کا داخل کرنا اور مجھے نکال عزّت کا نکالنا‘اور مجھے خاص اپنے پاس سے مددگار قوت عطا فرما۔اور آپؐ کہہ دیجیے کہ حق آگیا اور باطل بھاگ گیا۔یقیناً باطل ہے ہی بھاگ جانے والا ۔‘‘
اس کے بعد وہ اس کی تشریح میں لکھتے ہیں :
’’ دنیا میں کوئی قانون ہو سماوی یعنی آسمانی یا ارضی یعنی زمین والوں کا اس کے نفاذ کے لیے ایک درجے میں ضروری ہے کہ حکومت کی مدد ہو۔
یہی دعا حضورﷺ نےبھی مانگی تھی :
{وَّاجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا (80)} ’’اور مجھے خاص اپنے پاس سے مددگار قوت عطا فرما۔‘‘
یہ غلبہ اور قوت کی دعا حکومت اور اختیار کے لیے تھی تاکہ شریعت کے احکام کو نافذ کیا جاسکے ۔ اگر دنیا اپنی طرف سے کوئی قانون بناتی ہے تو اس کے نفاذ کے لیے بھی حکومت چاہیے ، اللہ کا قانون نافذ کرنے کے لیے بھی صرف مساجد میں درس کافی نہیں ہے ، اے سی والے ماحول میں دینی تبلیغ و تربیت کافی نہیں ہے ، دینی نشرواشاعت کافی نہیں ہے ، یہ سب کام بھی کرنے والے ہیں لیکن باہر نکل کر شریعت کے نفاذ کی جدوجہد بھی لازم ہے ۔ مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ آگے لکھتے ہیں :
’’جو لوگ دلائل اور براہین سننے اورسورج کی طرح حق واضح ہو چکنے کے بعد بھی ضد اور عناد پر قائم رہیں ان کے ضرر اور فساد کو حکومت کی مدد ہی سے روک لگ سکتی ہے ۔‘‘
چور کا ہاتھ کاٹنا پڑے گا،قاتل کو پھانسی دینی پڑے گی، ظالموں کا ہاتھ روکنا پڑے گا، تبھی لوگوں کی جان مال آبرو محفوظ ہوگی۔لیکن یہ تب ممکن ہوگا جب یہ سزائیں نافذ کرنے کے لیے آپ کے پاس حکومت ہوگی۔ اس کے بعد مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ سورۃ الحدید کی آیت25 کا حوالہ دیتے ہیں جس کوڈاکٹر اسرار احمدؒ نے بھی اپنے منتخب نصاب کے دروس میں بارہا بیان کیا :
{لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِج وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ}’’ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان اُتاری تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔ اور ہم نے لوہا بھی اُتارا ہے ‘اس میں شدید جنگی صلاحیت ہے اور لوگوں کے لیے دوسری منفعتیں بھی ہیں۔‘‘
رسول کیوں بھیجے گئے؟ معجزات کیوں عطا کیے گئے؟ کتاب کیوں دی گئی؟ شریعت کا قانون کیوں دیا گیا؟ اس لیے کہ انسانیت عدل و قسط پر قائم رہے ۔ لیکن عدل و قسط کے نظام کو قائم کرنے میں جو لوگ رکاوٹ بنیں ، ان کے خلاف تلوار اُٹھانی پڑے گی۔ پیغمبر وںؑ نے تلوار اٹھائی۔ قرآن میں قتال کا تذکرہ ہے‘ محمد مصطفیﷺ نے میدان قتال میں کھڑے ہو کر دکھایا۔
چوتھی رائے شیخ عبدالرحمٰن سعدی ؒ کی ہے۔ تفسیر سعدی بڑی معروف ہے، اہل الحدیث مکتب فکر میں اکثر اس کا حوالہ دیا جاتا ہے۔وہ سورۃ محمد کی اس آیت :
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ (7)} ’’اے اہل ِایمان! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے گا۔‘‘
کی تفسیر میں حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ اقامت دین کی جدوجہد میں حصہ لے کر اور دین کے دشمنوں کے خلاف جہاد کر کے اللہ تعالیٰ کی مدد کریں۔ یعنی اللہ کے دین کی نصرت کریں اور اُن کی اس ساری جدوجہد کا مقصود رضائے الٰہی کا حصول ہو۔ اگر اہل ایمان نے ایسا کیا تو اللہ اُن کی مدد کرے گا اور اُنہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔ یعنی اطمینان اور استقلال کے ساتھ ان کے دلوں کو تقویت بخشے گا، ان کے جسموں کو قوت سے نوازے گا اور دشمنوں کے مقابلے میں اُن کی مدد کرے گا۔‘‘
اس کے بعد شیخ عبدالرحمن سعدی ؒ عالم عرب کے ایک مفسر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں :
اس آیت کے ذیل میں تفسیر اضواء البیان میں علامہ محمدالامین الشنقیطی نے لکھا ہےکہ اللہ کی مدد کرنے سے مراد یہ ہے کہ اہل ایمان اللہ کے دین اور کتاب کی مدد کریں ۔ اوامر کا حکم دیں اور نواہی سے بچیں اور محمدﷺپر نازل کردہ شریعت کے نفاذ کے لیےکوشش اور جہاد کریں ۔
پانچویں رائے پیر کرم شاہ الازہری ؒ کی ہے۔ یہ بریلوی مکتب فکرکے بہت بڑے عالم گزرے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی جب فیڈرل شریعت کورٹ میں جج تھے تو یہ بھی ان کے ساتھ جج ہوا کرتے تھے ۔ ان کی تفسیر ’’ضیاء القران‘‘ کا بڑا حصہ جیل میں مکمل ہوا ہے۔سورۃ الشوریٰ کی آیت 13 کی تشریح میں وہ لکھتے ہیں :
’’ تمام انبیاء کرام ؓ کو یہی حکم دیا گیا تھا کہ اس دین کو قائم کرو، لوگوں کی عملی زندگیوں میں اسے رائج کرو تاکہ لوگوں کے اعمال اسی دین کے قالب میں ڈھل جائیں۔ صرف زبانی دعوت دینا اور اس دعوت کے محاسن کو بیان کرتے رہنا ہی انبیاء کا فریضہ نہ تھا بلکہ اُن کی ذِمّہ داری یہ تھی کہ جہاں یہ نظام حیات رائج نہیں وہاں اسے رائج کیا جائے اور جہاں یہ رائج ہے وہاں یہ اہتمام کیا جائے کہ یہ رواج پذیر رہے۔‘‘
ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ یہی بات ڈاکٹر اسرار احمد ؒ بھی بیان کرتے تھے کہ دین کو قائم کرنایا قائم رکھنا ایک ہی بات ہے ۔ اگر کہیں دین قائم ہو چکا ہو تو اس کو قائم رکھنا فرض ہے اور جہاں دین قائم نہیں ہے وہاں اس کو قائم کرنے کی جدوجہد کرنا فرض ہے ۔ یہی بات پیر کرم شاہ الازہری ؒ بیان کر رہے ہیں۔
چھٹی رائے استاد محمد مبارک ؒ کی ہے جو کہ سرزمین شام سے تعلق رکھنے والے انتہائی محترم استاد ہیں ۔ انہوں نے اپنی کتاب’’ الفکر الاسلامی الحدیث فی مواجہات الافکار الغربیہ ‘‘ میںمغربی افکار پر چوٹیں لگائی ہیں اور اقامتِ دین کی تناظر میں لکھتے ہیں :
’’ ہمارے موجودہ دور میں کامل مسلمان اس کوسمجھا جاتاہے جو اپنی خانقاہ میں بیٹھ کر ہروقت ذکر و اذکار اور عبادت میں مصروف رہتاہے ۔ معاشرے میں کیا ہورہا ہے ؟ اس سے کوئی غرض نہیں رکھتا ۔ عبادت کی یہ صورت قطعی طور پر اس صورت کے مطابق نہیں ہے جس پر نبی کریم ﷺ اور آپؐ کے نقش قدم پر چلنے والے صحابہ کرام ؓ عمل پیرا تھے۔ اگرایک طرف ان کی زندگی کا ایک بڑا جز وعبادت تھا تو دوسری طرف جہاد بھی اس کی صفات کو بھرے ہوئے تھا۔ معاشرے کو غلط عقائد سے آزاد کرنے کا جہاد‘ صحیح عقائد کو دلوں میں بٹھانے کا جہاد ‘معاشرے کو ظالم کے ظلم و استبداد سے نجات دلانے کا جہاد‘ کمزوروں کی مدد کا جہاد اور لوگوں کے درمیان عدل کے قیام کا جہاد۔ اسی طرح ایک مسلمان کی زندگی بھی ناقص اور مضطرب رہتی ہے جو جہاد اور معاشرتی اصلاح میں تو مشغول رہتا ہو مگر وہ عبادات اور تعلق باللہ سے خالی ہو ۔‘‘
یہ بڑی خوبصورت بات ہے۔صرف اپنی ذات تک دین کو محدود کرلینا رسول اللہ ﷺکا اُسوہ نہیں ہے۔دین تقاضا کرتاہے کہ باطل عقائد کا رد ہو‘ ظلم و جبرکا خاتمہ ہو‘ عدل کا قیام ہو۔ اسی طرح دنیا میں جہاد، انقلاب اور خلافت کے نعرے لگانا لیکن ذاتی زندگی میں اللہ کے ذکر اور عبادت سے محروم رہنا بھی اُسوہ نہیںہے۔ ڈاکٹراسراراحمدؒ نے سورۃ العصر کی روشنی میں راہ نجات کے عنوان سے انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر ایک مسلمان کی ذِمّہ داریوں کو بیان کیا ۔ شروع اپنی ذات سے کرنا ہے ، پھر اپنے گھر ، قریبی رشتہ داروں اور اپنے دائرہ اختیار میں دعوت دینی ہے اور آخر میں معاشرے میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کرنی ہے ۔
ساتویں رائے مولانا عبدالسلام بھٹوی ؒ کی ہے ۔ ان کی تفسیر القرآن الکریم ‘اہل الحدیث مکتب فکرمیں بہت مقبول ہے ۔ انہوں نے بھی سورۃ الشوریٰ کی آیت 13 کی روشنی میں بہت قیمتی اور جامع بات کی ہے :
’’اللہ تعالیٰ نے ان تمام پیغمبروں کو حکم دیا کہ دین قائم کرو، دین کو قائم کرنے میں خود اس پر عمل کرنا بھی شامل ہے، اس کی دعوت و تبلیغ بھی اور عملاً اسے نافذ کرنا بھی شامل ہے ۔ اللہ نے دعوت کے ساتھ ساتھ سورۃ التوبہ میںکفار سے جنگ کا حکم بھی دیا۔ حدیث میں بھی ذکر ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :((امرت ان اقاتل للناس)) مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں ،یہاں تک کہ وہ توحید رسالت کے کلمے کی گواہی دیں ،نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔‘‘
تھوڑا آگے جا کروہ مزید لکھتے ہیں:
’’ ظاہر ہے لوگوں کے درمیان اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ تب ہی ہو سکے گا جب اس کے مطابق فیصلہ کرنے والوں کی حکومت ہوگی۔ ‘‘
ڈاکٹراسراراحمدؒ نے بھی سورۃ المائدہ کی آیات 44، 45اور 47کی تفسیر میں یہی بات بیان کی ۔ عبدالسلام بھٹوی صاحب ؒ آگے مزید لکھتے ہیں :
’’ رسول اللہ ﷺ کی زندگی اقامت دین کا بہترین نمونہ ہے۔ آپﷺ نے دین قائم کرنے کے لیے دعوت و تبلیغ اور تلوار دونوں سے پورے عرب کو حلقہ بگوش اسلام کیااور ایسی حکومت قائم کر دی جو اللہ تعالیٰ کے پورے دین پر عمل کی ضامن تھی۔‘‘
سورۃ النصر میں ہم پڑھتے ہیں:
{وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللہِ اَفْوَاجًا (2)}’’اور آپؐ دیکھ لیں لوگوں کو داخل ہوتے ہوئے اللہ کے دین میں فوج در فوج۔‘‘
پہلے تو مشرکین کے سرداروں کانظام تھا، اس کے خاتمے کے لیے رسول اللہﷺ نے زبانی دعوت بھی دی اور تلوار بھی اٹھائی ۔تب جاکر اللہ کے دین کے مطابق فیصلے ہونا شروع ہوئے ۔اس کے بعد بھٹوی صاحب ؒ موجودہ دور کے مسلمانوں کی حالت زار یوں بیان کرتے ہیں :
’’اب مسلمانوں میں سے کسی کے ہاتھ میں اسلام کی دوچار چیزیں ہیں اور کسی کے ہاتھ میں پانچ دس یا کم و بیش، ان کی باقی ساری زندگی کفر کے نظام کی پابند ہے اور افسوس یہ ہے کہ وہ اس پر قانع ہیں ( مطمئن ہو کر بیٹھے ہوئے ہیں)اور کفر کے نظام کے پرزے بن چکے ہیں اور ان کے بہت سے لوگ دین اسلام کے غلبے سے مایوس ہو کر جمہوریت اور کفر کےنظام کو توڑنے کی کوشش کی بجائے انہیں اسلام ثابت کرنے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں ۔ ‘‘
جیسے ایک صاحب امریکہ میں بیٹھ کر سودی بینکنگ کے متعلق کہہ رہے ہیں کہ یہ تو اللہ کی نعمت ہے ،اور مغرب کی مادر پدر آزاد جمہوریت(جہاں اکثریت فیصلے کرتی ہے کہ کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے ) کے متعلق کہہ رہے ہیں کہ یہی تو حسن ہے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! اسی طرح کچھ مسلمان عرب کی بادشاہتوں پر مطمئن ہو کر بیٹھے ہیں اور سوچتے ہیں کہ نماز ، روزہ ، حج ، عمرہ ہورہا ہے تو بس اسلام زندہ ہے ۔ یعنی با طل نظاموں کے خلاف کھڑے ہونے کی بجائے اُنہیں درست ثابت کرنے میں آج کے مسلمان لگے ہوئے ہیں ۔
یہ 7 حوالے ہم نے موجودہ دور کے جید علماء کرام اور مفسرین کرام کی آراء سے پیش کیے جن کا تعلق دیوبند، اہلحدیث اور بریلوی تینوں مکاتب فکر سے ہے ۔ یہ سب علی وجہ البصیرت اللہ کے دین کے غلبے کی جدوجہد کو فرض سمجھتے ہیں اوریہی بات ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے بھی بیان فرمائی کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر سمیت شریعت کے بہت سے احکامات پر عمل صرف اُسی صورت میں ہوگا جب اسلامی نظام قائم ہو گا ، اسلام کو غلبہ و اقتدار ملے گا ۔ بصورت دیگر شرعی حدود کا نفاذ کیسے ہوگا ؟ یہ باطل نظام ہے جس کے تحت خلافِ شریعت قانون سازیاں ہوتی ہیں ، ججز خلاف شریعت فیصلے دیتے ہیں ، وہ باطل نظام جس کی وجہ سے مسلمان شریعت کے بہت سے احکامات پر عمل نہیں کر پاتے وہی منکر اعظم ہے ۔ اس منکر اعظم کے خلاف جہاد اولین فرض ہے۔یہی ڈاکٹر اسراراحمدؒ کا موقف تھا۔
یہ مقدمہ میں قارئین کے سامنے رکھتا ہوں کہ وہ اسلام کی آراء کو بھی پڑھیں ، مفسرین کو بھی پڑھیں اور پھر خود ہی فیصلہ کریں کہ کیا ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اقامت دین کی جدوجہد کی بات کرکے کوئی نئی بات کردی ہے ؟ اللہ کا قرآن کہتا ہے کہ دین کو قائم کرنے کا حکم اللہ نے تمام انبیاء کو دیا ، اللہ کے رسول ﷺ کی 23 برس کی جدوجہد اسی فرض کی ادائیگی کے لیے تھی ۔ صحابہ کرام ؇نے اپنی پوری زندگیاں اسی فرض کی ادائیگی میں گزار دیں ، انہوں نے اپنے گھر بار ، کاروبار ، اپنے پیارے اور اپنا وطن اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے قربان کردیا ۔ کیا ان صحابہ ؇ کے دلوں میں کوئی خواہشات نہیں تھیں ؟کیا انہیں اپنے بیوی بچے پیارے نہیں تھے ؟
تنظیم اسلامی کے جو رفقاء اقامت دین کے فریضہ کی ادائیگی میں لگے ہوئے ہیں ، اُن سے بھی یہی گزارش ہے کہ وہ اس کو فرض سمجھ کر ادا کریں ، یہ کوئی پارٹ ٹائم جاب نہیں ہے یا اختیاری مضمون نہیں ہے کہ دل کیا تو اختیار کیا ، نہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ روز قیامت ہر مسلمان سے پوچھا جائے گا کہ اللہ کے رسولﷺ نے تو اس جدوجہد میں اپنا خون تک بہایا ، ہجرت کی ، وطن چھوڑا، اپنے پیاروں کو قربان کیا ، صحابہ کرام؇ نے پوری زندگیاں اس فریضہ کی ادائیگی میں کھپا دیں ، تم نے میرے دین کے لیے کیا کیا ؟ تب ہمارے پاس کیا جواب ہوگا ؟آخرت میں ہم نے خود حساب دینا ہے ، جو اللہ کے نبی ﷺ کے مشن پر اعتراضات کرتے ہیں ، وہ اپنا حساب خود چکائیں گے ۔ تعالیٰ ہم سب کو دینی فرائض کو ادا کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین!