قادیانیوں کی سرگرمیاں ملک اور دین کے لیے انتہائی خطرناک
ہیں۔ ان کو صرف غیر مسلم قرار دینا کافی نہیں ہےبلکہ کوئی
ایسا طریقہ کار اختیار کرنا پڑے گا کہ ان کو مسلم شناخت
اختیار کرنے سے مکمل طور پر روکا جاسکے :رضاء الحق
295-Cکے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ نام نہاد این جی اوز
اور ’’ ہیومن رائٹ کمیشن آف پاکستان (HRCP)‘‘ ہیں جو کہ
قادیانیوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں :رانا محمد حسن
’’7ستمبر1974ء کا تاریخی پارلیمانی فیصلہ ‘‘
پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا اظہار خیال
میز بان : وسیم احمد
مرتب : محمد رفیق چودھری
سوال: عقیدہ ختم نبوت ہمارے عوام میں کیا مقام رکھتا ہے اور 7 ستمبر 1974ء کے تاریخی فیصلے کا سیاسی اور مذہبی سطح پر عملی نفاذ کیسے ممکن ہے؟
رضاء الحق:انتہائی اہم سوال ہے کیونکہ اس وقت باطل قوتوں کا 90فیصد فوکس اس با ت پر ہے کہ مسلمانوں کا حضور ﷺ سےتعلق کمزور کیا جائے۔ کیونکہ نبی کریمﷺ سے مسلمانوں کا تعلق کمزور ہوگا تو قرآن سے بھی خودبخود تعلق کمزور ہو جائے گا ۔ کسی بھی مسلمان کے لیے ایمان لانے کا بنیادی تقاضاغیب پر یقین ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کو کسی نے نہیں دیکھا جو بھی ہم تک پہنچا وہ حضور ﷺکے ذریعے ہی پہنچا۔چاہےوہ وحی جلی (قرآن پاک) کی صورت میں ہو یا وحی خفی (احادیث مبارکہ)کی صورت میں ہو۔ختم نبوت کے حوالےسے ہم غافل ہو رہے ہیں لیکن باطل غافل نہیں ہے۔سابق برطانوی وزیراعظم گلیڈ سٹون نے قرآن کو لہرا کر کہا تھا کہ یہ کتاب جب تک موجود ہے مسلمانوں کے اندر سے اسلام کے اجتماعی نظام کو قائم کرنے کی سوچ وفکر ختم نہیں ہوسکتی۔بہرحال پاکستان جس طرح کے حالات میں معرض وجود میں آیاوہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص نشانی تھی۔پھر سول سروس اوراسٹیبلشمنٹ کی سروس اس دور میں بنائی ہی اس لیے گئی تھیں کہ غلامانہ ذہن کو غلامی کے اندر ہی رکھا جائےاور اسے حقیقی معنوں میں آزاد نہ ہونے دیا جائے کیونکہ پاکستان حاصل کرنے کا مقصد دنیوی ترقی نہیں تھا بلکہ اسلام کا نظام خلافت راشدہ کو سامنے رکھ کر قائم کرنا تھا۔ اس حوالے سے قائداعظمؒ کا باقاعدہ فرمان موجود ہے جس کا تذکرہ ڈاکٹر ریاض علی شاہ نےاپنی خود نوشت میں کیا ہے۔چنانچہ اسی کے تسلسل میں قرارداد مقاصد کا پاس ہو جانا، پھرتمام مکاتب فکر کے 31 علماء کا نفاذ اسلام کے لیے 22 نکات پر متفق ہو جانا قیام پاکستان کے مقصد سے ہم آہنگ تھا۔ اسی تسلسل میں قادیانیوں کو بھی غیر مسلم قرار دیا گیا ۔ اصولی طور ہونا یہ چاہیے تھا کہ ان کو کافر قرار دیا جاتا لیکن چونکہ یہ ایک علمی بحث بھی ہے کہ پھر ان کے ساتھ کیا کیا جائے جو اسلام چھوڑ کر مرتدہو جائیں ؟ مرتد کی سزا بہرحال اپنی جگہ موجود ہے۔ تمام مسالک کی فقہی کتابوں میں یہ بحث موجودہے۔ بہرحال 1974ء میںپارلیمان میں طویل بحث کے بعد وہ تاریخی فیصلہ ہوگیا جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔اب عملی نفاذ کیسے ہو؟ اس حوالے سے 1984ءکا اینٹی قادیانی آرڈیننس اپنی جگہ موجود ہے۔ آئین کی شقات 295اور 298میں اس حوالے سے تفصیلات موجود ہیں۔ اس آرڈیننس کو منظور کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ قادیانی غیر مسلم قرار دیے جانے کے باوجوددھوکے سےمسلم شناخت کو اختیار کر رہے تھے ۔ مثلاً وہ مسلمانوں کی طرح ہی اذان دے رہے تھے ، اپنی عبادت گاہیں بھی مساجد کی طرز پر بنا رہے تھے۔اب مسئلہ یہ ہے کہ جب تک تمام سٹیک ہولڈرز (سیاستدان،علماءکرام، بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ،عوام اور دینی جماعتیں) مل کر ان معاملات کو سمجھ کر ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے تب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔ قادیانیوں کی سرگرمیاں اسلام کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ ان کو صرف غیر مسلم قرار دینا کافی نہیں ہےبلکہ کوئی ایسا طریقہ کار اختیار کرنا پڑے گا کہ ان کو مسلم شناخت اختیار کرنے سے مکمل طور پر روکا جائے ۔ اس کے بعد ہی ہم اس مقصد کو حاصل کرسکتے ہیں جس کے لیے پاکستان بنایا گیا تھا۔
رانامحمد حسن:جب تقسیم ہند کا مرحلہ آیا تو مسلم لیگ کی طرف سے ظفراللہ خان قادیانی کو باؤنڈری کمیشن کا نمائندہ مقرر کیا گیا ، اُس نے جان بوجھ کر گورداس پوراور پٹھان کوٹ کا علاقہ انڈیا کو دے دیا جس کی وجہ سے انڈیا کا قبضہ کشمیر پر بھی ہوگیا ۔ ظفر اللہ قادیانی نے وہ موقف پیش کیا جو بشیر الدین محمودقادیانی کا تھا۔کیونکہ اس دوران جب میٹنگز ہوتی تھیںتو بشیر الدین محمود وہاں اثرانداز ہونے کی کوشش کرتا تھا ، اس پر مسلمان وکلاء نے اعتراض اُٹھایا تو ظفراللہ قادیانی نے کہا کہ اگر اس کو نہ آنے دیا گیا تو میں کیس نہیں لڑوں گا ۔ انگریز ظفراللہ قادیانی کو صدر پاکستان بنانا چاہتے تھے ۔ قادیانی اخبار نے یہ خبر شائع کی کہ ظفراللہ قادیانی عنقریب پاکستان کا پہلا صدر ہوگا۔ پہلے تو قادیانیوں کی پوری کوشش رہی کہ پاکستان نہ بنے اور جب بن گیا تو پھر اس پر قبضہ کرنے کی ان کی پوری پلاننگ تھی۔ برٹش اور صہیونی لابیز کے ذریعے اعلیٰ عہدوں پر جا بیٹھے۔ 1953ء میں انہوں نے فساد مچایااور ہزاروں مسلمان شہید ہوئے۔ 1974ء میں ان کو غیر مسلم قراردینا کافی نہیں تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ 1984ء میں مزید قوانین بنانے پڑے ۔ لیکن قادیانیوں نے آج تک آئین پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔ قادیانیوں کا یہ اصول ہےکہ جو قادیانی جس جس ملک میں موجود ہیں وہ اس ملک کے قوانین کا احترام کریں سوائے پاکستان کے۔
رضاء الحق:قائد اعظم نے گورنر جنرل بننے کے بعدایک ہی ادارہ قائم کیا تھا:ڈیپارٹمنٹ آف ریلیجس ری کنسٹریکشن آف پاکستان،اس کا سربراہ نومسلم علامہ محمد اسدؒ کو بنایا تھا۔ قائداعظمؒ کا خواب تھا کہ اس ادارے کے تحت پاکستانی اداروں کی اسلامائزیشن کا عمل شروع ہو مگر ظفراللہ خان قادیانی نے سازش کرکے علامہ محمد اسدؒ کو ملک سے باہر بھیج دیا اور ادارے کو ختم کر دیا گیا ۔قائداعظم ؒکی بھی وفات ہوگئی اور علامہ محمد اسدؒ مایوس ہو کر پاکستان چھوڑ گئے ۔ قادیانی اب بھی اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ۔
سوال:پاکستان کے آئین کی شق295 سی توہین رسالت کے سدباب کے لیے ہے لیکن بدقسمتی سے لبرل و سیکولر طبقہ اس قانون کی مخالفت کرتا ہے۔ اُن کے مطابق اس قانون کا غلط استعمال ہوتاہے ۔ کیا وہ اس قانون کا غلط استعمال روکنا چاہتے ہیں یا اس کو سرے سے ختم کرنے کے خواہاں ہیں ؟
رانامحمد حسن:اس میں کوئی شک نہیں کہ توہین رسالت کے واقعات کو روکنے کےلیےآئین میں شق 295 سی شامل کی گئی تھی اور بعد میں اس میں ترمیم کرکے توہین رسالت کے مجرموں کے لیے سزائے موت مقرر کی گئی لیکن بدقسمتی سے آج تک اس قانون کا نفاذ نہیں ہو سکا۔ نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ نام نہاد این جی اوز اور ’’ ہیومن رائٹ کمیشن آف پاکستان (HRCP)‘‘ ہیں ۔ HRCPکے بانی ممبران میں ایک مشہور قادیانی ظفر چودھری بھی شامل ہے جو 1970ء کی دہائی میں پاکستان کا ایئر چیف رہ چکا ہے۔اس ادارے کو باہر سے فنڈنگ آتی ہے اور یہ سب سے زیادہ 295سی کی مخالفت کرتاہے ، اس کے خلاف پروپیگنڈا شائع کرتاہے اورلابنگ کرتاہے جس کی وجہ سے 295سی کا نفاذ مشکل بنا دیا گیا ہے ۔ مشرف دور سے قبل عام ASI توہین رسالت کی FIRکاٹتا تھا لیکن مشرف نے ترمیم کردی کہ SP لیول کاپولیس آفیسر انویسٹیگیشن کرے گا اور پھر FIR درج ہوگی ۔ اب حالت یہ ہے کہ ایسے مجرموں کے خلاف FIRبھی آسانی سے نہیں کٹتی ۔ اگر کٹ بھی جائے تو معاملہ ٹرائل کورٹ میں جاتا ہے ، ہائی کورٹ میں جاتا ہے ، سپریم کورٹ میں جاتا تو اس کے بعد بھی ان سزاؤں کا نفاذ نہیں ہوتا ۔ قادیانی لابی پہلے اس قانون کو بننے نہیں دے رہی تھی ، جب بن گیا تو اس کا نفاذ نہیں ہونے دیتی ۔ اگر کوئی عدالتی فیصلہ آجائے تو اس کے خلاف یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ ہمیں ان عناصر کو بے نقاب کرنےکی ضرورت ہےکیونکہ اگر 295 سی نہیں ہوگاتوپھر لوگ قانون کو ہاتھ میں لینا شروع کر دیں گےجس سے ملک میں انارکی اور بدامنی پھیلے گی۔ میرا خیال ہے کہ 295 سی کے حوالے سے ہمیں غیرمسلم اقلیتوں کے ساتھ اچھے ماحول کے اندر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔ میری خود کئی لوگوں سے بات چیت ہوئی ہے اور انہوں نےکہا کہ کسی صورت بھی نبی کریمﷺ یا دیگر انبیاءکرام؊کی توہین ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ہمیں اقلیتوں کو اعتماد میں لے کر اس پروپیگنڈے کو کاؤنٹر کرنے کی ضرورت ہے جو بیرونی فنڈنگ حاصل کرنے والی این جی اوزکر رہی ہیں۔
سوال: آج کل سوشل میڈیاایک ایسا ٹول بن گیا ہے جس کے ذریعے شرپسند عناصر توہین رسالت بھی کرتے ہیں ، قرآن پاک اور مقدس ہستیوں کی بے حرمتی بھی کرتے ہیں ۔ ریاست ایسے عناصر کو کنٹرول کرنے میں کیوں ناکام ہے؟
رضاء الحق:ہر ملک کا ایک قانون ہوتا ہے اور اس ملک کے شہری اس کی پاسداری کرتے ہیں۔یورپ کے کسی ملک میںہولوکاسٹ کے خلاف کوئی بات کر ے تو اسے فوراً سزا دی جاتی ہے لیکن پاکستان میں توہین رسالت کے مجرموں کو بھی سزا نہیں ہوتی۔ کوئی ایک کیس بھی ایسا نہیں ہے جس میں مجرم کو سزا ہوئی ہو ، البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ ثابت شدہ کیس جب بڑی عدالت میں گیا تو مجرم کو چھوڑ دیا گیا ۔ آسیہ بی بی کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ پھر توہین رسالت کے قانون کی مخالفت کی جاتی ہے ، اس کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا جاتاہے ۔ حالانکہ اگر کسی کیس میں کوئی غلطی ہو تو اسے قانون کے تحت سدھارا جاتاہے نہ کہ قانون کو ہی ختم کردیا جاتاہے ۔ کیا قتل کے کیسز میں غلطیاں نہیں ہوتیں ؟ جو چور ہوتا ہے اسی کو چوری کی سزا سے خطرہ ہوتا ہے اور وہی اس کی مخالفت کرتاہے ۔ جو گستاخ ہیں یا گستاخوں کی پشت پناہی کرتے ہیں انہیں 295سی سے خطرہ ہے ۔ ورنہ یہاں پر سارے مسلمان ہیں ان کو تو کوئی مسئلہ نہیں ۔امریکہ میں سزائے موت کا قانون ابھی بھی بہت سی ریاستوں میں موجود ہے لیکن بیرونی قوتیں پاکستان میں سزائے موت کی مخالفت کرتی ہیں اور جتنے بھی بین الاقوامی معاہدے ہوتے ہیں ان میں یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ سزائے موت کو ختم کرو کیونکہ باطل قوتوں نے سزائے موت کو توہین رسالت اور توہین مقدسات کے ساتھ ٹائی اپ کردیا ہے ۔ سوشل میڈیا تو بے لگام افکار کا ایک جنگل ہے ۔ جب تک لگام نہیں ڈالی جائے گی یا متبادل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مہیا نہیں کیے جائیں گے تب تک ایسے واقعات کو روکنا مشکل ہے۔ توہین مقدسات صرف توہین رسالت تک محدود نہیں بلکہ قرآن پاک ، صحابہ کرام؇، امہات المومنینؓ اور دیگر مذاہب کے رہنماؤں کی بھی توہین کی جاتی ہے ۔ قرآن تو کہتا ہے ان کے بتوں کو بھی برا نہ کہوکیونکہ وہ پلٹ کے تمہارے خدا کو برا کہیں گے۔ یہ سب ایک پلاننگ کے تحت ہورہا ہے ۔ حدیث میں ہے کہ ایمان اور حیاایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں‘ایک جائے گا تو پھر دوسرا بھی ساتھ جائے گا۔دوسری حدیث میں ہے کہ اگر تم میں حیا نہ رہےتو پھر جو چاہے کرو۔دراصل باطل قوتیں بے حیائی پھیلا کر ایمان کو ہمارے دلوں سے نکالنا چاہتی ہیں ۔ لہٰذاصرف 7 ستمبر کا دن منانا کافی نہیں ہے بلکہ توہین مقدسات کے سدباب کے لیے ہمہ وقت کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ جب تک تمام سٹیک ہولڈرزایک پیج پر نہیں آئیں گے اس وقت تک ٹھوس اقدام ممکن نہیں ہو سکتا۔ دین کے نام پر بننے والے اس ملک کے مفاد میں کیا ہے ؟اس حوالے سے ایک بھر پور آگاہی مہم کی ضرورت ہے ۔جو جہاں تک آواز پہنچا سکتاہے وہاں تک آواز پہنچانے کی کوشش کرے ۔
سوال:پوری دنیا میں آج کل آزادی اظہار رائے کا بہت واویلا ہے۔یہ ایک انسانی حق ہے جو ملنا چاہیے لیکن آزادی اظہار رائے کی حد بھی تو مقرر ہونی چاہیے۔ کیا دنیا میں کہیں ایسا ہوتاہے کہ اس حق کو مذہبی نفرت اور توہین مقدسات تک پھیلا دیا جائے ؟
رانامحمد حسن:دنیا میںتو ایسا بھی ہوتاہے کہ ہولو کاسٹ پر بات کرنے والے صحافیوں کو نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے ۔ فلسطین میں پچھلے تین سالوں کے اندر 200 سے زیادہ صحافیوں کو شہید کر دیا گیا۔ الجزیرہ کے دفتر کو بم سے اڑا دیا گیا۔ ہم پاکستان میں رہتے ہیں ،پاکستان کے آئین میں فریڈم آف سپیچ سے متعلق آرٹیکل موجود ہے کہ آپ پاکستان کے قانون کے اندر رہتے ہوئے اپنی بات کو دوسرے تک پہنچا سکتے ہیں۔ کسی بھی ملک کا آئین ریاست اور شہریوں کے مابین ایک معاہدے کی حیثیت رکھتا ہےاور آپ جب ایک ملک میں اپنا شناختی کارڈ بنواتے ہیں تو آپ خودبخود مان لیتے ہیں کہ میں اس ملک کا شہری ہوں اور اس کے قانون کی پاسداری کروں گا ۔ پاکستان کا قانون آپ کو توہین رسالت، قرآن پاک اور مقدس شخصیات کی توہین سے منع کرتاہے ۔آئین میں قادیانیوں کو کہا گیا آپ اپنی عبادت کے طریقے کو نماز نہیں کہیں گے،اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کے طرز پر نہیں بنائیں گے۔آپ کسی بھی طور پر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر نہیں کریں گے۔اس پر قادیانیوں کی طرف سے کہا جاتاہے کہ یہاں فریڈم آپ سپیچ نہیں ہے۔کئی یورپی ممالک میں قادیانی اپنی عبادت گاہ کا مینار نہیں بنا سکتے، وہاں تو قادیانی یہ نہیں کہتے کہ ہمیں فریڈم آف سپیچ نہیں ہے۔لیکن پاکستان کا قانون جب کہتا ہے کہ قادیانی اپنی عبادت گاہ کے اوپر مینار نہ بنائیں تو یہاں یہ شور مچاتے ہیں ۔ اصل معاملہ فریڈم آف سپیچ کا نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک کو جو قرضے دیے جاتے ہیںان کو فریڈم آف سپیچ وغیرہ سے نتھی کر دیا جاتاہے تاکہ ان کو بلیک میل کیا جا سکے ۔ ابھی پچھلے دنوں ایک سیاسی جماعت کے لیڈر کے بچوں نے پریس کانفرنس میں پاکستان کے GSPسٹیٹس کی بات کی،یہ پریس کانفرنس ارینج کروانے والا محمود الرحمان قادیانی ہے جو سویٹزرلینڈ کا پارلیمنٹیرین بھی ہے اور اقوام متحدہ میں قادیانی جماعت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس نے BNA کے ڈاکٹر وسیم بلوچ کے ساتھ بھی پریس کانفرنس کی کہ پاکستان کا GSP سٹیٹس ختم کردیا جائے کیونکہ پاکستان میں مذہبی آزادی نہیں ہے ۔ یعنی وہ عناصر جو پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں اُن کے ساتھ مل کر قادیانی پاکستان کے خلاف سازش کر رہے ہیں ۔ دوسری طرف وہ چاہتے ہیں کہ 295سی ختم کر دیا جائے تاکہ وہ قرآن پاک ، انبیاء اور مقدسات کی توہین کر سکیں ، معاذاللہ ۔ قادیانی دنیا میں پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ وہ پاکستان میں مظلوم ہیں حالانکہ جو مظالم وہ مسلمانوں کےساتھ کر رہے ہیں اُن کو سامنے لایا جائے تو دنیا حیران ہو جائے گی ۔ ہم نے KTV نیوز کی جانب سے چند ماہ قبل ایک رپورٹ شائع کی ہے ، جس کا عنوان ہے : ’’قادیانی جماعت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں۔‘‘اس میں ہم نے کیس سٹڈیز کو بھی شامل کیا ہے اور قادیانیت کو ترک کرنے والے مسلمانوں کے انٹرویوز بھی شامل کیے ہیں ۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح قادیانی جماعت نے ان کو نجی ٹارچر سیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا ، انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسایا اور ان کی جائیدادوں پر قبضہ کرلیا ۔ اگر کسی نے قادیانیوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کو تھانے میں جاکر رپورٹ کرنے کی کوشش کی تو اس پر فائرنگ کر دی ، شہید کر دیا ۔ قادیانی جماعت انسانی حقوق کی پامالیوں میں جس قدر ملوث ہے، اس کی رپورٹ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس مانیٹر نے شائع کی ہے، وہ بھی ہم نے شامل کی ہے ۔ ان کے جنسی جرائم کی رپورٹس بھی ہیں ۔ جب اقوام متحدہ میں قادیانی کھڑے ہو کر پاکستان کے خلاف تقریر کرتے ہیں تو ان رپورٹس کو وہاں دنیا کے سامنے لایا جانا چاہیے تاکہ دنیا کو پتا چلے کہ قادیانی مظلوم نہیں بلکہ ظالم ہیں ۔
سوال: 295 سی کے مجرمین پر پہلے تو مقدمات ہی صحیح طرح سے نہیں چلائے جاتے ، اگر مقدمہ چلتا بھی ہے تو اس قانون کا ٹھیک طرح سے اطلاق نہیں ہوپاتا جس کی وجہ سے لوگوں میں غم و غصہ بڑھتا ہےجسے مذہبی شدت پسندی کا نام دے کر پروپیگنڈا کے لیے استعمال کیا جاتاہے ۔ اگر ملک میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت بن جاتی ہے‘ کسٹم کے لاز میںالگ سے عدالت ہے‘بینکنگ کے معاملات کے لیے بینکنگ کورٹس ہیں۔ اسی طرح حساس مذہبی مقدمات کے لیے کوئی بااثرخصوصی عدالت کیوں نہیںبنائی جاتی ؟
رضاء الحق: آئین کی شق 260 میں مسلم اور غیر مسلم کی وضاحت کی گئی ہے ۔ اس کی ذیلی شق 3 میں قادیانیوں کو غیر مسلم ڈکلیئر کیا گیا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود قادیانی خود کو مسلمان کہہ رہے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے ۔ جب کوئی شہری ملک کے آئین کو نہیں مانتا تو پھر اس کو یہ کہنے کا بھی حق نہیں ہے کہ اس کے ساتھ امتیازی سلوک ہورہا ہے ۔ جہاں تک خصوصی عدالت کے قیام کی بات ہے تو میں یہ نہیں کہتا کہ جائز نہیں ہے ۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ عدالت بھی کام کر پائے گی؟ آپ عدالت بنا دیتے ہیں ، اس کو مکمل ثبوت اور شواہد بھی آپ فراہم کرتے ہیں ، FIAوالے بھی پیش ہوتے ہیں ، کارروائی چلنے کے بعد واضح نظر بھی آرہا ہو کہ فیصلہ ملزم کے خلاف جارہاہے لیکن اس کے باوجود ملزم بری ہو جاتا ہے ۔ موجودہ عدالتوں میں بھی یہی کچھ ہورہا ہے کیونکہ عالمی اداروں کی طرف سے حکومتوں پر پریشر ہوتاہے ۔ اس کے مقابلے میں جب تک عوام کی اکثریت کا پریشر نہیں آئے گا عدالتیں انصاف نہیں کر پائیں گی ۔ مبارک ثانی کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے مجرم کے خلاف تب سنایا جب عوام کا پریشر آیا ۔ہمارے ادارے قرآن اکیڈمی سمیت 9 دینی اداروں نے بھی اپنی تجاویزعدالت میں پیش کیں ۔سب نے قادیانی کو بری قرار دینے کے فیصلہ کو غلط کہاسوائے غامدی صاحب کے ادارے نے۔ لہٰذا نئی عدالتیں بنانے سے بہتر ہے کہ عوام کو آگاہی دی جائے اور انہیں اپنے مذہبی حقوق اورناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے کھڑا کیا جائے ۔
رانامحمد حسن:مبارک ثانی کیس میں عدالت نے جاوید احمد غامدی کے ادارے سے بھی آراء طلب کی تھیں لیکن انہوں نے قادیانیوں کے حق میں رائے دی۔ دراصل جاوید احمد غامدی قادیانیوں کے سہولت کار ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ ریاست کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کو غیر مسلم قرار دے تو اس کا فائدہ قادیانیوں کو پہنچتا ہے۔کچھ عرصہ قبل انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ قادیانیوں کے پیچھے نماز بھی ہو جاتی ہے ۔ اس سےلاکھوں نہیں کروڑوں لوگوں کےمذہبی جذبات مجروح ہوئے۔ ان نام نہاد دانشورکے خلاف میں نے اور ہمارے ختم نبوت جرنلسٹ فورم کے لیگل ایڈوائزر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ مصعب رسول صاحب نے NCCIAکے آفس میں درخواست جمع کروائی مگر آج تک کارروائی نہیں ہوئی ۔ انویسٹیگیشن آفیسر کی جانب سے کہا گیا کہ ہم پر بہت زیادہ پریشر ہے۔ حالانکہ موصوف نے آئین پاکستان کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں ۔ 1974ء کا فیصلہ محض اسمبلی کی کارروائی نہ تھی بلکہ اس کے پیچھے کروڑوں مسلمانوں کی جدوجہد اور قربانیاں شامل تھیں ۔ صرف 1953ء میں قادیانیوں نے جو فساد پھیلایا اس میں 10 ہزار سے زائد مسلمان شہید ہوئے ۔ دینی جماعتوں اور علماء کرام نے قیامِ پاکستان سے قبل بھی اور اس کے بعد بھی ختم نبوت کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی ۔ اس کے نتیجے میں قادیانی فتنہ کا سدباب ہوا ۔ پاکستان پہلی مسلم مملکت تھی جہاں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ۔ پھر پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں دیگر مسلم ممالک اور بعض غیر مسلم ممالک نے بھی اقدامات کیے ۔ ساؤتھ افریقہ کی عدالت نے بھی یہی فیصلہ سنایا۔ سعودی عرب میں 1974ء سے کچھ عرصہ پہلےمکہ معظمہمیںتمام مسلم ممالک سے تقریباً 140 علماء اکٹھے ہوئےاور یہ فیصلہ دیا کہ قادیانی غیر مسلم ہیں اور صہیونیت کی پیداوار ہیں ۔ انہوں نے مسلم ممالک کو تاکید کی کہ قادیانیوں کو کسی کلیدی عہدے پہ فائز نہ کیا جائےاور مسلم عوام کو ان کی سازشوں سے آگاہ کیا جائے ۔
سوال: کیا پاکستان میں کوئی ایسا نظام آ سکتا ہے کہ ناموس رسالت بھی پروٹوکول کے ساتھ محفوظ رہے اور قادیانی جو شور شرابہ کرتے ہیں کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے ، اس کا بھی سدباب ہو جائے ؟
رانامحمد حسن:نظام تو موجود ہے اور اس کے تحت قانون بھی موجود ہے ۔ پاکستان کا کوئی بھی شہری توہین مقدسات کے خلاف FIRدرج کروا سکتا ہے ، SPلیول کا آفیسر اس پر انوسٹی گیشن کرتا ہے ۔ جھوٹی FIRدرج کروانے والے کے خلاف بھی FIRہو سکتی ہے ۔ عدالتی کارروائی ہو سکتی ہے۔اگر الزام درست ثابت ہوتو پھر ٹرائل کورٹ میں معاملہ جاتاہے۔اس کے بعد ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں جاتا ہے، پھر فل بینچ میں بھی جا سکتا ہے ۔یہ پورا نظام پاکستان میں موجود ہے اور اتنا سخت نظام دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں ہے ۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس نظام کو چلنے نہیں دیا جارہا ہے ۔ اس وقت توہین مقدسات اور سائبر کرائم کے ساڑھے چار سو کیسز ہیں۔ یہ کیسز چلیں گے تو پتا چلے گا کہ نظام ٹھیک کام کررہا ہے یا نہیں ۔ لیکن یہاں جوں ہی کوئی ملزم پکڑا جاتاہے تو این جی اوز کی جانب سے بیانات آنا شروع ہو جاتے ہیں ، پھر یورپی ممالک اور عالمی اداروں کی جانب سے پریشر آنا شروع ہو جاتاہے ۔اصل میں پاکستان کی معاشی مجبوریاں اس نظام کو چلنے نہیں دیتیں ۔
سوال: 7 ستمبر 1974ء کا تاریخی فیصلہ ہمارے لیے کیا پیغام رکھتا ہے اور دور حاضر میں عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت ﷺکے تحفظ کے لیے ہمیں کیا حکمت عملی اپنانا ہوگی؟
رضاء الحق:سات ستمبر 1974ء کا فیصلہ اگر چہ نامکمل ہے کیونکہ قادیانیوں کو صرف غیر مسلم قرار دینا کافی نہیں ہے۔جو لوگ اسلام چھوڑ کر قادیانیت میں گئے ان کے لیے مرتد کی سزا کا مقرر کیا جانا بھی ضروری تھا۔ لیکن بہرحال 1974ء کا فیصلہ ایک تاریخ قدم تھا ۔ اس کے پیچھے دینی حلقوں اور علماء کی طویل جدوجہد کارفرما تھی، تب جاکر اسمبلی نے صحیح رُخ پر فیصلہ کیا ۔ اس تاریخی واقعہ سے ایک سبق ہمیں یہ بھی ملتا ہے کہ جب دینی حلقے فرقہ واریت سے بالا تر ہو کر ایک مقصد کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہےا ور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ یہ کامیابی تحریک پاکستان کی صورت میں بھی ملی ، ختم نبوت کی تحریک میں بھی ملی ۔ اسی طرح اگر دینی حلقے متحد اور منظم ہو کر یہ تحریک چلائیں کہ جہاں جہاں قادیانی اعلیٰ عہدوں پر ہیں وہاں سے اُن کو ہٹایا جائے اور طے شدہ آئینی دائرے تک محدود کریں ۔اس طرح جب ان کا اثر رسوخ ختم ہوگا تو عدالتیں بھی ٹھیک طرح سے کام کر سکیں گی ۔ تاہم دیرپا اور مستقل حل یہ ہے کہ جس مقصد کے لیے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنایا جائے گا ، اس کو پورا کیا جائے ۔ اگر یہ ہوگا تو ہمارے تمام مسائل حل ہو جائیں گے ۔ واضح ہو جائے گا کہ مسلم کون ہے اور غیر مسلم کون ہے ۔ اوّل تو کسی کو توہین مقدسات کی جرات ہی نہ ہوگی اور اگر کوئی اس کا ارتکاب کرے گا بھی تو اس کو قانون کے مطابق سزا ملے گی۔ اگر کوئی جھوٹا الزام لگائے گا توقذف کی سزا اس پر بھی لگے گی ۔ بہت سے مفاد پرست لوگ جو چند دنیوی مفادات کے لیے ،یورپ کے ویزوں کے لیے قادیانی بن جاتے ہیں ، لیکن جب یہاں اسلامی فلاحی ریاست ہوگی ، لوگوں کو اُن کے حقوق ملیں گے تو یہ سب چور دروازے بند ہو جائیں گے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلامی ریاست کے اندر لوگوں کو اپنے ایمان کی آبیاری کا موقع ملے گا ۔ ایمان ہوگا تو آخرت کا خوف بھی ہوگا ۔ اگر کوئی جج عدالت میں بیٹھ کر فیصلہ دے رہا ہے تو وہ بھی اُمتی ہے ، روزِ محشر اُسے بھی جواب دینا ہوگا۔ جو لوگ چند دنیوی مفادات کے لیے ایمان کا سودا کررہے ہیں انہیں بھی غور کرنا چاہیے کہ دنیا میں وہ ہمیشہ نہیں رہیں گے ، آخر موت آنی ہے اور آخرت میں جواب دینا ہوگا ۔ یہاں تو این جی اوز اور عالمی قوتیں پشت پناہی کرلیتی ہیں لیکن وہاں کوئی بھی چھڑانے والا نہ ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سچا مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے ۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026