حب ِرسولﷺ اور اس کے تقاضےحصّہ دوئمڈاکٹر اسرار احمد ؒ
(گزشتہ سے پیوستہ)
رسول اللہﷺ کی بعثت کے امتیازی مقصد کے ذکر میں قرآن حکیم میں تین جگہ یعنی سورۃ التوبہ‘ سورۃ الفتح اور سورۃ الصف میں فرمایا گیا :ترجمہ: ’’ وہی (اللہ ) ہے جس نے بھیجا اپنے رسولؐ کو‘‘ (یہاں واحد کا صیغہ آیا رسول‘ جبکہ سورۃ الحدید میں رُسل جمع کا صیغہ تھا۔
کیا دے کر بھیجا!
{بِالْہُدٰی}پہلی چیز جو حضورﷺ کو دے کر بھیجے گئے وہ ہے الہدیٰ یعنی قرآن حکیم‘ ابدی ہدایت نامہ ۔ لیکن حضورﷺ کو ایک اور چیز {وَدِیْنِ الْحَقِّ } ’’ اور سچا دین‘‘ بھی دیا گیا۔ یہ وہ نظام ہے جواللہ کی طرف سے نوعِ انسانی کے لیے آخری اور مکمل شریعت اور عدل و قسط پر مبنی ہے ۔
حضورﷺ نے دعوت بھی دی‘ تبلیغ بھی فرمائی‘ تربیت بھی دی‘ تزکیہ بھی کیا۔ لیکن اس تمام جدوجہدکا مقصد کیا ہے! وہ ہے{ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ }’’تاکہ اس دین حق کو (اور اس نظامِ عدل و قسط کو) پورے نظامِ اطاعت پر غالب کر دیں‘‘ زندگی کاکوئی گوشہ اِس سے باہر نہ رہ جائے۔
یہ ہے مقصدبعثت تمام رسولوں کا کہ نظامِ عدل و قسط قائم ہو‘ ظلم‘ ناانصافی‘ جبرواستبداد اور استحصال کا خاتمہ ہو جائے اور اس نظامِ عدل و قسط کے قیام کے لیے جو اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے نازل فرمایا‘ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے والے اپنے سر دھڑ کی بازی لگا دیں ۔ اب جبکہ حضورﷺ کی بعثت ِخصوصی کا مقصد معین ہو گیا تو اللہ اور اس کے آخری نبی و رسول ﷺ پر ایمان لانے اور حضورﷺ سے محبت کا دعویٰ کرنے کے کچھ نتائج اور تقاضے سامنے آتے ہیںجنہیں ترتیب وار پیش کیا جارہا ہے۔
حضورﷺ کی محبت اور آپؐ کی اتباع کا پہلا نتیجہ یہ نکلنا چاہیے کہ ہماری زندگی کا مقصد وہی ہو جو آپؐ کی بعثت کا مقصد ہے۔ باقی تمام چیزیں اِس کے تابع ہو جائیں۔ مقصد اگریہ نہیں ہے پھر تو نقشہ ہی جدا ہو گیا۔ ہم نے زندگی کے بعض گوشوں میں حضورﷺ کی پیروی کرلی‘ مثلاً آپؐ کے لباس کی‘ وضع قطع کی‘ آپؐ کے روزانہ کے معمولات کی پیروی کرلی تو اپنی جگہ ہر چیز مبارک ہے‘ حضورﷺ کے نقش قدم کی جس طور اور جس انداز سے بھی پیروی کی جائے گی وہ نہایت مبارک ہے‘ مگربحیثیت مجموعی حضورﷺ نے اپنی زندگی کی جدوجہد کا جو رُخ معین فرمایا وہ اختیار نہیں کیا تو ان سب میں اتباع نتیجہ خیز نہیں ہو گی۔ سورۃ البقرۃ کی آیت: 148 میں فرمایا گیا: ترجمہ:’’ہر شخص کے سامنے کوئی ہدف ہے‘ کوئی مقصد ہے‘ جس کی طرف وہ بڑھ رہا ہے‘‘۔
اس جہادِ زندگانی میں ہر شخص کا کوئی نہ کوئی ہدف ہے۔ تو پہلی چیز جو حضورﷺ کی محبت کے تقاضا کے طور پر سامنے آئے گی وہ یہ ہے کہ ہمارا ہدف بھی وہی ہو جائے جو حضورﷺ کا تھا۔
اس اتباعِ رسولؐ کی پہلی منزل یہ ہو گی کہ ہر مسلمان شعوری طورپر اپنی زندگی کا ہدف معین کر لے کہ میری زندگی کا مقصد‘ میری زندگی کا ہدف‘ وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی تھی او ر وہ ہے اللہ کے دین کا غلبہ۔؎
مری زندگی کا مقصد ترے دیں کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلماں میں اسی لیے نمازی
میں نماز پڑھتا ہوں تا کہ اللہ یاد رہے‘ روزہ رکھتا ہوں تا کہ نفس کے منہ زور گھوڑے کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت مجھ میں برقرار رہے‘ زکوٰۃ ادا کرتا ہوں تا کہ مال کی محبت دل میں ڈیرا لگا کر نہ بیٹھ رہے‘ لیکن ان تمام اعمال کو ایک وحدت میں پرونے والا مقصد کیا ہے! وہ ہے اللہ کے دین کی سرفرازی‘ اللہ کے دین کی سربلندی۔ جس کی زندگی کا ہدف یہ نہیں ہے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ یہیں سے اُس کی زندگی کا رُخ بدل گیا۔ بعض اجزاء میں وہ حضور ﷺ کے نقش قدم کی پیروی کر بھی رہا ہے تو بحیثیت مجموعی حضور کا اتباع مقصود و مطلوب نہ رہا تو اب اس جزوی پیروی کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔ البتہ بحیثیت مجموعی اگر رخ وہی اختیار کر لیا تو اب ہر معاملہ میں حضورﷺ کی پیروی نورٌ علیٰ نور کے درجہ میں آجائے گی۔
یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ہر کام ہر طریقے پر نہیں ہو سکتا۔ ہر کام کے لیے ایک طریقہ معین ہے۔ گندم کاشت کرنی ہے تو اُس کا خاص موسم ہے‘ اُسی میں کاشت کریں گے تو فصل ملے گی۔ ورنہ بیج بھی ضائع ہو جائے گا خواہ اخلاص کتنا ہی ہو۔ پھر یہ کہ اس کے لیے زمین کو تیار کرنا ہو گا ۔ زمین تیار نہیں کی اور بیج بکھیر آئے تو کیا فصل مل جائے گی! معلوم ہوا کہ گندم کے حصول کا ایک نہج ہے‘ منہج ہے‘ طریق کارہے۔اگر اِس کی پیروی نہیں کریں گے تو گندم نہیں اُگے گی۔ اسی طرح اس نظامِ عدل و قسط کو قائم کرنے کے لیے بھی‘ جو رسول اللہﷺ نے قائم کیا‘ وہی طریق کار اختیار کرنا ہو گا جو رسول اللہﷺ نے اختیار فرمایا ۔
ایک شخص غلط فہمی میں ایک طریق کار پر عمل کر رہا ہے‘ وہ اپنی جگہ مخلص ہے اور سمجھتا ہے کہ اسی طریقے سے اسلامی انقلاب آجائے گا‘ اسلامی نظامِ عدل و قسط قائم ہو جائے گا تو خلوص کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر تومل جائے گا ‘ لیکن دُنیا میں اس کی محنت کامیاب نہیں ہو گی۔ لہٰذا ہمارا دوسرا شعوری فیصلہ یہ ہوناچاہیے کہ ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ حضور ﷺ نے کس طریقے سے انقلاب برپا فرمایا‘ کس نہج سے نظامِ عدل و قسط قائم فرمایا‘ کس طریقے سے ظالمانہ‘ استبدادی اور استحصالی نظام کو ختم کر کے ’’لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ‘‘ کی منزل تک رسائی فرمائی؟
جب ہمارا یہ شعوری فیصلہ ہو جائے گا تو ضرورت ہو گی کہ ہم سیرتِ طیبہ کا گہرا مطالعہ کریں اور یہ معلوم کریں کہ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے حضورﷺ نے کیا طریق کار اختیار فرمایا تھا۔
نبی کریمﷺ کے منہجِ انقلاب کو سمجھنے کے لیے جب سیرتِ مطہرہ کا مطالعہ کیا تو انقلاب کے مختلف مراحل کا ایک واضح خاکہ سامنے آ گیا جس کی روشنی میں سیرت کے تمام واقعات انتہائی مربوط و بامعنی معلوم ہوئے۔ مطالعے کا حاصل یہ ہے کہ انقلابی جدوجہد کے چھ مراحل ہیں۔ پہلا مرحلہ دعوت و تبلیغ کاہے۔ یعنی انقلابی نظریئے کی نشرواشاعت! اسلام کا انقلابی نظریہ ہے نظریۂ توحید۔ جان لیجیے کہ یہ نظریہ نہایت انقلابی ہے اور اس کی زد بہت دُور دُور تک پڑتی ہے۔ سماجی اور معاشرتی میدان میں توحید کا تقاضا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں۔ سب کا خالق ایک اللہ ہے۔پیدائشی اعتبار سے کوئی اونچا اور کوئی نیچا نہیں ہے۔ ذات پات اور حسب و نسب کی بنیاد پر تمام تقسیموں کی مکمل نفی ہو جاتی ہے۔ اسی توحید کی ایک فرع یہ ہے کہ حاکم صرف اللہ ہے۔{اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ}(یوسف:40) یعنی حاکمیت مطلقہ صرف اللہ کے لیے ہے۔ انسان کا کام صرف یہ ہے کہ اللہ کی حاکمیت کے نظام کو قائم کرے ۔ ہاں اللہ کی عطا کردہ شریعت کے دائرے کے اندر اندر قانون سازی کی جا سکتی ہے۔ سیاست کے میدان میں اس سے بڑا انقلابی نظریہ اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔
اسی طرح معاشیات کے میدان میں توحید کا تقاضا کیا ہے! {لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط} ’’آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اُن کا مالک صرف اللہ ہے‘‘۔ ملکیت انسان کے لیے ہے ہی نہیں۔ انسان کے پاس جو کچھ ہے بطورِ امانت ہے۔ اصل مالک تو اللہ ہے ۔
ملکیت میں تصرف کا حق لامحدود ہوتا ہے۔ آپ کا مال ہے آپ جو چاہیں کریں‘ میری ملکیت ہے میں جو چاہوں کروں۔ لیکن امانت میںایسا نہیں کر سکتے۔ امانت میں تصرف مالک کی مرضی کے مطابق ہو گا۔ مالک کی مرضی کے خلاف تصرف کیا جائے گا تو وہ خیانت شمار ہو گا۔ نظریۂ توحید کے تین تقاضے آپ کے سامنے آ گئے۔ معاشرتی سطح پر انسانی مساوات‘ سیاسی سطح پر اللہ کی حاکمیت اور انسان کے لیے خلافت کا تصور اور معاشی سطح پر ملکیت کی بجائے امانت کا تصور!
انقلابی جدوجہد کے دوسرے مرحلے کا عنوان ہے ’’تنظیم‘‘ یعنی وہ لوگ جو شعوری طور پر توحید کی اس انقلابی دعوت کو قبول کر لیں‘ اُنہیںجماعتی شکل میں منظم کیا جائے‘ کہ محض نظریہ کی دعوت و تبلیغ سے انقلاب نہیں آ سکتا جب تک اس کی پشت پر فدائین اور سرفروشوں کی جماعت نہ ہو۔ اسلامی انقلاب کے لیے ایک جماعت چاہیے‘ جان نثاروں کی جماعت جو پورے طور پر منظم ہو۔ جس کے لیے ہماری دین کی اصطلاح ہے سمع و طاعت یعنی سنو اور اطاعت کرو۔ گویا ڈسپلن اِس نوع کا ہو جیسے فوج میں ہوتا ہے۔ ڈھیلے ڈھالے نظم کے ساتھ انقلاب نہیں لایا جا سکتا۔
تیسرا مرحلہ ہے تربیت اور تزکیہ کا‘ یعنی جس اللہ کے لیے یہ سب کچھ کر رہے ہو‘ اُس کے احکام کو پہلے اپنے اوپر نافذ کرو۔ جس رسول ﷺ کے اتباع میں انقلاب برپا کرنے چلے ہو‘ پہلے اُس رسولؐ کی ہر اَداکو اپنی سیرت میں جذب کرو۔ جب تک یہ نہیں ہو گا کوئی کوشش بارآور نہیں ہو گی۔ فرض کیجیے کہ ایک شخص بہت فعال ہے‘ تنظیمی اور جماعتی کاموں میں لگا رہتا ہے‘ بہت بھاگ دوڑ کرتا ہے ‘ لیکن اُس سے دین کے احکام پر عمل میں کسل مندی‘ تساہل اور بے رغبتی کا اظہار ہوتا ہے‘ تو ایسے سپاہیوں سے گاڑی نہیں چلے گی۔ ایسے لوگ کسی امتحان کے مرحلہ میں خالی کارتوس ثابت ہوں گے۔ لہٰذا تیسرا نہایت اہم مرحلہ ہے تربیت اور تزکیہ کا ۔صحابہ کرام ؓ حضور نبی کریم ﷺ کی تربیت کا شاہکار تھے‘ ہمارے لیے اصل آئیڈیل وہ ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ جو تربیت حضورﷺ نے صحابہ کرام ؓ کی فرمائی تھی، اس کی کوئی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ وہ بات ہے جس کی گواہی دشمنوں کی طرف سے ملی۔ حضرت عمر فاروق hکے عہد خلافت میں جب سپاہِ اسلام ایرانیوں کے خلاف صف آرا تھیں تو رستم سپہ سالارِ افواجِ ایران نے مسلمان فوجوں کے حالات معلوم کرنے کے لیے جاسوس بھیجے۔ وہ بھیس بدل کر مسلمانوں کے کیمپ میں حالات کا مشاہدہ کرتے رہے۔ واپس جا کر انہوں نے رستم کو رپورٹ پیش کی کہ ’’ یہ عجیب لوگ ہیں ‘ رات کو راہب نظر آتے ہیں اور دن میں شہ سوار ہیں‘‘۔ دُنیا نے یہ دونوں چیزیں علیحدہ علیحدہ تو دیکھی تھیں۔ عیسائی راہب بڑی تعداد میں موجود تھےلیکن وہ دن کے وقت بھی راہب ہوتے تھے اوررات کے وقت بھی۔ ان کے ہاتھ میں تلوار تو نظر نہیں آتی۔ اسی طرح قیصر و کسریٰ کی افواج بھی موجود تھیں ‘لیکن جو دن کا فوجی ہے وہ رات کا بھی فوجی ہے۔ جہاں رات کو فوج کا پڑائو ہو جاتا تھا وہاںآس پاس کی کسی عورت کی عصمت کا محفوظ رہ جانا ایک معجزہ ہوتا تھا۔ گل چھرے اُڑائے جا رہے ہیں‘ شراب کے دَور چل رہے ہیں‘ دل کھول کر عیاشی ہو رہی ہے۔ اب نبی اکرم ﷺ کی تربیت و تزکیہ کا کمال دیکھئے کہ دو متضاد چیزوں کو جمع کر دیا ۔ صحابہ کرام ؓ کی سیرت و کردار پر اس سے زیادہ جامع تبصرہ ہو ہی نہیں سکتا ۔
کسی انقلابی جدوجہد کے یہ تین ابتدائی مراحل ہیں۔ دعوت‘ تنظیم اور تربیت و تزکیہ ۔ان کا حاصل یہ ہے کہ ایک انقلابی جماعت وجود میں آئے جو ایک طاقت اور قو ّت بن جائے۔ اس قو ّت و طاقت کا کام یہ ہے کہ جب تک یہ طاقت بڑھ رہی ہے، اپنے آپس کے روابط و تعلق کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرے۔ اپنی تنظیم کو مضبوط سے مضبوط تر کرے‘ اپنی دعوت کے ذریعے سے اپنے حلقہ اثر کو وسیع کرنے کی جدوجہد کرے‘ جب تک اتنی طاقت نہیں ہو جاتی کہ وہ باطل سے ٹکرا سکے اُس وقت تک صبر محض پر عامل رہے۔ کُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ ’’ ہاتھ بندھے رکھو!‘‘ چاہے تمہارے ٹکڑے اُڑا دئیے جائیں‘ تم ہاتھ مت اٹھائو۔ انقلابی جدوجہد میں اس صبر محض کی بہت اہمیت ہوتی ہے ‘اس لیے کہ اگر ابتدائی مراحل میں انقلابی جماعت تشدد پر اتر آئے تو اس معاشرے میں موجود باطل نظام کو اِس بات کا اَخلاقی جواز حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ اس مختصر سی انقلابی طاقت کو کچل ڈالے۔ اس کے برعکس وہ انقلابی جماعت اگرصبر محض کی پالیسی کو اختیار کرے اور ظالموں کی جانب سے تشدد کو جھیل جائے تو معاشرے کی رائے عامہ اس جماعت کے حق میں ہموار ہوتی چلی جائے گی کہ ان کا بس ایک جرم ہے کہ اللہ کو مانتے ہیں اور محمدﷺ کے دامن سے وابستہ ہیں۔ مکہ کے تمام لوگ تو سنگ دل نہیں تھے ۔ وہاں کی خاموش اکثریت تو دیکھ رہی تھی کہ مسلمانوں کو ناحق ستایا جا رہا ہے اور یہی مسلمانوں کی اخلاقی فتح تھی جو بعد میں غزوئہ بدر میں اس طرح ظاہر ہوئی کہ 313 بے سروسامان لشکر کے سامنے ایک ہزار کا مسلح لشکر ٹھہر نہ سکا اور مسلمانوں نے کفار کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔
یہ صبر محض انقلابی تحریک کا نہایت اہم مرحلہ ہے۔ مراحل کو ترتیب وار شمار کرتے ہوئے صبر محض چوتھا مرحلہ قرار پاتا ہے ورنہ حقیقت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ مرحلہ دعوت کے پہلے دن سے شروع ہو جاتا ہے اور ابتدائی تینوں مراحل یعنی دعوت‘ تنظیم اور تربیت کے شانہ بشانہ چلتا ہے۔یہ صبر محض اُس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک اتنی طاقت نہ ہو جائے کہ اس نظام کے ساتھ باضابطہ تصادم مول لیا جا سکے۔واضح رہے کہ ٹکرائو کے بغیر انقلاب نہیں آتا‘ ٹھنڈے ٹھنڈے وعظ اور نصیحت سے انقلاب کبھی نہیں آیا‘ لیکن پختہ ہوئے اور مناسب تیاری کے بغیر ٹکرائو ہو گیا تو تمام جدوجہد اکارت جائے گی۔ لیکن جب طاقت اتنی فراہم ہو جائے کہ وہ انقلابی جماعت یہ محسوس کرے کہ اب ہم برملا اور کھلم کھلا باطل کو چھیڑ سکتے ہیں‘ اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں ‘تو انقلاب کا پانچواں مرحلہ شروع ہو جائے گا جس کا عنوان ہے اقدام یعنیactive resistance ۔یعنی اب اُس نظام کی کسی دکھتی رگ کو چھیڑا جائے گا۔ ہمارے دَور میں اگر کوئی ایسی اسلامی انقلابی جماعت وجود میں آجائے تو یہ فیصلہ کرنا کہ اب کافی طاقت فراہم ہو گئی ہے اور اقدام کا مرحلہ آ گیا ہے ‘اس کا انحصار امیر کے اجتہاد پر ہو گا۔ نبی اکرم ﷺ کے لیے تو یہ فیصلہ اللہ کی طرف سے تھا۔ ہجرت ہو رہی ہے ‘ ساتھ ہی آیت نازل ہو گئی:{اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْاط وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرٌ(39)} (الحج) ’’اب اجازت دی جا رہی ہے (قتال کی) ان لوگوں کو جن پر جنگ مسلط کی گئی ہے، اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا ہے۔ اور یقیناً اللہ اُن کی نصرت پر قادر ہے۔‘‘
اب وحی تو نہیں آئے گی۔ اب یہ فیصلہ اجتہاد سے ہو گا۔ اب فہم و ادراک کی پوری قو ّتیں کام میں لا کر فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا ہمارے پاس اتنی طاقت ہے کہ ہم باطل نظام کے ساتھ ٹکر لے سکتے ہیں! مشورے کے بعد اگر امیرجماعت کی یہ رائے بن گئی کہ ہمارے پاس معتدبہ تعداد میں ایسے کارکن موجود ہیں جو منظم ہیں‘ سمع و طاعت کے خوگر ہیں‘ اُن کا تعلق مع اللہ مضبوط ہے‘ اُن کی اسلامی نہج پر تربیت ہو چکی ہے ‘تزکیۂ نفس کی وادی سے وہ گزر چکے ہیں‘ اللہ کی راہ میں جان دینے کو وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں‘ تو پھر چیلنج کیا جائے گا اور آگے بڑھ کر اقدام کیا جائے گا۔
سیرت النبی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ و السلام میں یہ اقدام ہمیں اِس شکل میں ملتا ہے کہ حضورؐ نے مدینہ تشریف لے جا کر ٹھنڈی چھائوں میں آرام نہیں فرمایا۔ مستشرقین اور مغربی مؤرخین کی ہرزہ سرائی دیکھئے کہ وہ ہجرت کا ترجمہ Flight to Madina کرتے ہیں۔Flight کا ترجمہ ہو گا فرار۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔ محمد رسول اللہﷺ نے مدینہ جا کر معاذ اللہ پناہ نہیں لی تھی۔ ہجرت دراصل عنوان ہے اس کا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ اور ان کے اعوان و انصارؓ کے لیے ایک base فراہم کر دی تھی کہ جہاں سے اسلامی انقلاب کی تحریک کو launch کرنا ہے اور اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہے۔ حضورﷺ نے مدینہ تشریف لا کر صرف چھ مہینے داخلی استحکام پر صرف فرمائے ۔ اس عرصہ میں تین کام کیے ہیں۔ پہلا کام مسجد نبوی کی تعمیر‘ یہ مرکز بن گیا۔ دوسرا کام مہاجرینؓ اور انصارؓ کی مواخات اور تیسرا کام یہود کے تین قبیلوں سے معاہدے کر کےاُن کو معاہدوں میں جکڑ لیا۔ طے پا گیا کہ وہ اپنے مذہب پر قائم رہیں گے‘ اُن کے تمام شہری حقوق محفوظ رہیں گے‘ لیکن اگر کبھی کسی طرف سے مدینہ پر حملہ ہوا تو وہ مسلمانوں کا ساتھ دیں گے یا بالکل غیر جانب دار رہیں گے۔
ان ابتدائی چھ مہینوں کے بعد راست اقدام کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ آپؐ نے چھاپہ مار دستے بھیجنے شروع کر دئیے۔ قریش کی شہ رگ پر ہاتھ ڈالا اور ان کے تجارتی قافلوں کو مخدوش بنا دیا۔اِن مہمات کا نتیجہ تھا کہ قریش کا ایک ہزار کا لشکر کیل کانٹے سے لیس ہو کر حملہ آور ہوا۔اور یوں انقلاب محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ و السلام کا چھٹا اور آخری مرحلہ یعنی مسلح تصادم کا آغاز ہو گیا۔ یہ چھٹا اور آخری مرحلہ چھ سال کے عرصہ پر محیط ہے۔ اس دوران ہر طرح کی اونچ نیچ آئی۔ بدر میں 70 کافر مارے گئے‘ 14 مسلمان شہید ہوئے۔ اُحد میں 70 صحابہ j شہید ہو گئے۔ نشیب و فراز آئے ہیں۔{ یُـقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَـیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَ قف} (التوبۃ:111) ’’وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں۔ قتل کرتے بھی ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں‘‘۔ اللہ کی طرف سے یہ ضمانت نہیں تھی کہ اے اہل ایمان! میری راہ میں جنگ کرو‘ تم میں سے کسی کو کوئی آنچ نہیں آئے گی‘ یہ گارنٹی تو کہیں نہیں دی گئی تھی۔ تم کو تو اپنی جانیں دے کر اپنی صداقت کا ثبوت دینا ہے۔ عام اہل ایمان کو کہاں گارنٹی ملتی‘ حضورﷺ کے لیے بھی گارنٹی نہیں تھی۔ طائف میں جب حضورؐ پر پتھرائو ہوا ہے تو آپؐ کا جسد ِاطہر لہو لہان ہوا کہ نہیں ہوا!! اُحد میں جب حضورﷺ کے چہرئہ مبارک پر تلوار کا وار پڑا ہے تو آپؐ کے دندان مبارک شہید ہوئے کہ نہیں ہوئے! خون کا فوارہ چھوٹاکہ نہیں اور حضورﷺ کے رخسارِ مبارک پر خود کی دوکڑیاں گھسیں کہ نہیں گھسیں! یہ سب کچھ ہوا۔ ان آزمائشوں سے گزرنے کے بعد‘ اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں لگا دینے کے بعد وہ مرحلہ بھی آتا ہے کہ اللہ کی غیبی تائید و نصرت آ کر رہتی ہے۔یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ کامیابی قدم چومے گی: {وَاَنْـتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْـتُمْ مُّـؤْمِنِیْنَ (139)}(آل عمران)’’اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مؤمن ہوئے۔‘‘
اب ایک اور اہم بات کی طرف اشارہ کروں گا کہ اس انقلابی عمل کے ابتدائی چار مراحل ہر دور میں بعینہٖ اسی طرح رہیں گے جیسے ہمیں سیرتِ مطہرہ میں نظر آتے ہیں۔ یعنی اسلامی انقلابی جدوجہد کا پہلا مرحلہ دعوت و تبلیغ کا ہو گا۔ اس میں قرآن کو مرکز و محور کی حیثیت حاصل ہو گی اور انقلابی نظریہ توحید ہی کا ہو گا۔
دوسرا مرحلہ ہے تنظیم ۔ یہاں بھی ہمیں سیرت مطہرہ سے حاصل ہونے والے اُسوہ کو جوں کا توں اختیار کرنا ہوگا۔ تنظیم کے معاملے میںحضورﷺ نے جو رہنمائی اُمّت کو دی ہے وہ نظامِ بیعت ہے۔ اجتماعیت کے لیے بنیاد بیعت ہو گی۔ اس رائے سے کسی کو اختلاف ہو سکتا ہے‘ لیکن میری رائے ہے کہ اسلامی انقلاب کے لیے ایک جماعت اور ایک تنظیم کی تاسیس کے لیے سیرت مطہرہ ﷺ میں بیعت کی سنت کے سوا کوئی دوسری صورت موجود نہیں ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عبادہ بن الصامت ؓ سے حدیث ملتی ہے‘ جس کی صحت پر اُمّت کے دوجلیل القدر محدثین امام بخاری اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما متفق ہیں۔:’’حضرت عبادہ بن صامتص سے روایت ہے ‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ جو حکم آپ ہمیں دیں گے ہم سنیں گے اور مانیں گے‘ چاہے آسانی ہو چاہے تنگی ہو‘ چاہے وہ ہمارے نفس کو اچھا لگے چاہے اِس کے لیے ہمیں اپنے نفس کو مجبور کرنا پڑے اور چاہے آپؐ ہم پر دوسروں کو ترجیح دیں ‘اور جس کو بھی آپؐ امیر مقرر فرما دیں گے ہم اس کا حکم مانیں گے اور اس سے جھگڑیں گے نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جو ہماری رائے ہو گی اور جس بات کو ہم حق سمجھیں گے اس کو بیان ضرور کریں گے ہم جہاں کہیں بھی ہوں۔ اور اللہ کے معاملہ میں حق بات کہنے سے ہم کسی ملامت گر کی ملامت سے ہرگز نہیں ڈریں گے۔‘‘ اس میں صرف یہ فرق ملحوظ رکھنا ہو گا کہ حضور کی اطاعت مطلق تھی‘ اس لیے کہ حضور کا ہر فرمان معروف کے حکم میں تھا‘ لیکن آپؐ کے بعد اب کسی بھی امیر کی اطاعت آزاد نہیں ہو گی بلکہ معروف کے دائرے کے اندر ہو گی۔ تربیت کے مرحلے میں بھی ہمیں پورے طور پر نبوی طریق کی پیروی کرنا ہو گی۔ اس میں اہم ترین چیزہے عباداتِ مفروضہ کا اہتمام اور ان کی پابندی‘ مزید برآں تلاوتِ قرآن اور حتی الامکان قیام اللیل کا اہتمام۔ اسی طرح صبر محض کے مرحلے کو بھی ہمیں بعینہٖ اسی طرح اختیار کرنا ہو گا جس طرح ہمیں سیرت میں مکی دور میں نظرآتا ہے۔ یعنی دعوت و تبلیغ کے اس کام میں اور اقامت ِ دین کی اس جدوجہد میں جو مصائب اور شدائد آئیں ان پر صبر کرنا ثابت قدم رہنا ‘اور اپنا ہاتھ روک کر رکھنا ۔یہ وہ چار ابتدائی مراحل ہیں جن میں ہمیں طریق نبویؐ کو جوں کا توں اختیار کرنا ہے۔
البتہ اسلامی انقلابی جدوجہد کے پانچویں اور چھٹے مرحلے یعنی اقدام اور مسلح اقدام کے معاملے میں ہمیں احوال و ظروف کی مناسبت سے کچھ ترمیم کرنی ہو گی اور اجتہاد سے کام لینا ہو گا۔ وجہ یہ کہ نبی اکرم ﷺ کا جس معاشرے سے معاملہ تھا‘ وہ ہر اعتبارسے خالص کافرانہ معاشرہ تھا۔ آج کسی بھی مسلم ملک میں یہ جدوجہد ہو گی تو
سابقہ مسلمانوں سے پیش آئے گا،خواہ وہاں کے حکمران اور عامۃ المسلمین کی اکثریت فاسق وفاجرہی ہو۔ وہ سیکولر ذہن رکھتے ہوں‘ لیکن کلمہ گو تو ہیں‘ شمار تو اُن کا مسلمانوں ہی میں ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اُس زمانہ میں طاقت کا زیادہ فرق نہیں تھا‘ جو تلواریں اُدھر مشرکین و کفار کے پاس تھیں وہی مسلمانوں کے پاس تھیں۔ مقداراورتعداد کا فرق ضرور تھا ‘لیکن نوعیت کا فرق نہیں تھا۔ لیکن آج کل جو استحصالی نظام بھی قائم ہے ‘ خواہ وہ سرمایہ دارانہ ہو یا جاگیردارانہ‘ اس کو تحفظ دینے والی حکومت ہوتی ہے جو انہی طبقات کے افرادپرمشتمل ہوتی ہے اور اس کے مفادات رائج الوقت نظام سے بڑی مضبوطی سے وابستہ ہوتے ہیں۔ لہٰذا مقابلہ میںحکومت آتی ہے جس کے پاس بے پناہ قوت و طاقت ہے۔ چنانچہ مسلح تصادم والی بات موجودہ دور میں بڑی مشکل ہے۔ اس کا کوئی بدل تلاش کرنا پڑے گا۔ وہ متبادل طریقے تمدن کے ارتقاء نے فراہم کیے ہیں۔پُرامن مظاہرے‘ پکٹنگ کرنا‘ گھیرائو کرنا‘ چیلنج کرنا کہ فلاں فلاں کام جو اسلام کی رو سے منکر ہیں ‘ہم یہاں نہیں ہونے دیں گے۔ یہ کام ہو گا تو ہماری لاشوں پر ہو گا۔ یہ وہ راستے ہیں جو تمدن کے ارتقاء کی بدولت ہمارے لیے کھلے ہیں۔ جب تک یہ مرحلہ نہیں آتا صرف زبان و قلم سے اِس کا اظہار کیا جائے گا کہ یہ کام اسلام کے خلاف ہیں‘ منکر ہیں‘ حرام ہیں۔ ان کو چھوڑ دو‘ ان سے باز آجائو‘ اِن کی جگہ معروفات کو رائج کرو‘ لیکن جب وہ وقت آجائے کہ اسلامی انقلابی جماعت یہ سمجھے کہ ہمارے پاس اتنی طاقت ہے کہ ہم مظاہروں کے ذریعے سے حکومت کو مجبور کر سکتے ہیں تو پھر چیلنج کیا جائے گا کہ اب یہ کام ہم نہیں ہونے دیں گے‘ سڑکوں پر نکل آئیں گے‘ پکٹنگ کریں گے۔ نتیجہ میں لاٹھی چارج ہو گا‘ گرفتاریاں ہوں گی‘ حکومت اورآگے بڑھے گی تو فائرنگ ہو گی۔ تو جب اس جماعت کے وابستگان نے پہلے ہی جان ہتھیلی پر رکھی ہوئی ہے‘ وہ سرپر کفن باندھ کر نکلے ہیں تو پیٹھ دکھانے کا کیا سوال! اب یا تو حکومت گھٹنے ٹیک دے گی‘ اس لیے کہ آخر فوج بھی اسی ملک کی ہے اور عوام بھی اسی ملک کے ہیں۔ اپنوں کے خون سے ہاتھ کب تک رنگ سکیں گے۔ یا پھر نذرانہ جان اپنے ربّ کے حضور پیش کر کے اس تنظیم کے ارکان سرخرو ہو جائیں گے۔
اس کی ایک مثال ایرانیوں نے پیش کر کے دکھا دی ہے۔ اگرچہ ایران میںانقلاب کے پہلے چار مراحل پر مطلوبہ درجہ میںکام نہیں ہوا تھا‘ اس میں خامیاں رہ گئی تھیں ۔لیکن انہوں نے شاہ کے خلاف مسلح بغاوت نہیں کی تھی‘ انہوں نے ہتھیار ہاتھ میں نہیں لیے‘خود جانیں دینے کے لیے سڑکوں پر آ گئے۔ ہزاروں مارے گئے‘ کوئی پروا نہیں ۔ لیکن اِن قربانیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ پولیس عاجز آگئی اور فوج نے مظاہرین پر گولیاں چلانے سے انکار کر دیا اور آخرکار شہنشاہ کو بھاگتے بنی اور انجام یہ ہوا کہ ع ’’ دو گز زمیں بھی ملی کوئے یار میں‘‘ ۔وہ شہنشاہ جو علاقہ میںامریکہ کا سب سے بڑا پولیس مین تھا‘ اُسے امریکہ بہادر نے بھی اپنے ہاں پناہ دینے سے انکار کر دیا۔ وہ کون سی طاقت تھی جس نے شہنشاہِ ایران کو حکومت چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا! وہ عوام کا جذبہ اورجان قربان کرنے پر آمادگی کی طاقت تھی۔ اس کے بغیر نظام نہیں بدلتا ۔ تو اس معاملے میں اجتہاد سے کام لیتے ہوئے ہمیں موجودہ حالات کے پیش نظر صبر محض ہی کی پالیسی پر کاربند رہتے ہوئے اقدام کرنا ہو گا‘ مسلح تصادم کی نوبت نہیں آئے گی۔
البتہ جہاں حالات سازگار ہوں تو امام ابو حنیفہ ؒ کا فتویٰ ہے کہ وہاں نہی عن المنکر کے لیے طاقت کا استعمال کیا جا سکتا ہے‘ تلوار اٹھائی جا سکتی ہے۔ ایسی بات نہیں ہے کہ کسی مسلمان فاسق و فاجر حکمران کے خلاف مسلح بغاوت کا راستہ بالکل بند کر دیا گیا ہو۔ بغاوت ہو سکتی ہے۔ البتہ فقہاء کرام نے اس کے لیے شرط یہ عائد کی ہے کہ طاقت اتنی ہو جائے کہ اپنے اندازے اور جائزے کی حد تک کامیابی کا واضح امکان نظر آتا ہو۔ باقی عملاً کیا ہو گا؟ تو بہت سے ان دیکھے عوامل ایسے پیدا ہو سکتے ہیں کہ آپ یقین سے نتیجہ کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ بہرحال یہ معاملہ اگرچہ مشروط ہے لیکن اتنی بات تو ثابت ہے کہ مسلح بغاوت حرام مطلق نہیں ہے۔
ہمارے ملک کے حالات میں عملاً مسلح بغاوت ممکن نہیں ہے بلکہ پرامن اور منظم مظاہرے اور وہ تمام اقدامات جن کا ذکر کیاجا چکا ہے۔ اس کا بدل ہے ۔ اس طرح ہم اللہ کی راہ میں جان تو دے سکتے ہیں ۔ اس کے لیے آمادگی ضرور رہنی چاہیے۔
حضورﷺ نے فرمایا:’’ اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد(ﷺ) کی جان ہے !میری یہ شدید آرزو ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جنگ کروں اور قتل کر دیا جائوں‘ پھر (مجھے زندہ کیا جائے اور پھر) میں اللہ کی راہ میںجہاد کروں اور قتل کر دیا جائوں۔پھر (مجھے زندہ کیا جائے اور پھر) میں اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور قتل کردیا جائوں‘‘۔ (صحیح مسلم)اس آرزو کا ہر مسلمان کے دل میں ہونا ایمان کی علامت ہے اور حضورﷺ کے اتباع کا لازمی تقاضا ہے ۔ اسی طریقے سے حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’جس کسی مسلمان نے اللہ کی راہ میں نہ کبھی جنگ کی اور نہ اُس کے دل میں اس کی آرزو تھی تو اگر اس حال میں اس کو موت آئی تو اُس کی موت ایک نوع کے نفاق پر ہو گی۔‘‘ گویا یہ ایمان کی شرطِ لازم ہے کہ یہ آرزو دل میں موجود ہو کہ اے اللہ! تیرے دین کی سربلندی کے لیے یہ جان کام آئے‘ گردن کٹے‘ اس جسم کے ٹکڑے ہو جائیں۔
اس خواہش کا ہونا ضروری ہے خواہ اس کا مرحلہ نہ آئے۔ صحابہ کرام ؓ میں بھی بہت سے ایسے ہیں کہ جن کا انتقال جنگ کا سلسلہ شروع ہونے سے پہلے ہو گیا۔ ممکن ہے مکی دَور میں کسی صحابی کی طبعی موت واقع ہو گئی ہو۔ ان کے لیے میدانِ جنگ میں گردن کٹانے کی نوبت آئی نہیں۔اسی طرح عین ممکن ہے کہ ہماری زندگیوں میں اللہ کی راہ میں جانی قربانی دینے کا مرحلہ نہ آئے‘ لیکن دل میں نیت ہو‘ آرزو ہو‘ تمنا ہو‘ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے واثق اُمید ہے کہ و ہ اس پر بھی اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔
حب رسول کا بنیادی تقاضا ہے اتباعِ رسولؐ ۔ یہ اتباع زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی مطلوب اور مبارک ہے‘ لیکن اس کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ہماری زندگی کا پورا رخ وہی ہو جائے جو نبی اکرمﷺ کی زندگی کا تھا۔ اوروہ رخ تھا غلبہ دین کی جدوجہد کا رخ‘ نظامِ عدل و قسط کا عملاً قیام و نفاذ! اسی مشن کے لیے حضورﷺ نے 23سال تک جاں گسل محنت و مشقت کی‘ اسی کے لیے صحابہ کرامj نے زندگیاں کھپا دیں۔ مصائب جھیلے‘ مظالم برداشت کیے‘ جانوں کے نذرانے پیش کیے ۔ حضورﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے نقش قدم پر ہماری زندگی کا رخ معین ہو جائے‘ ہماری دلچسپیاں اور ہمارے ذوق و شوق سیرتِ رسولؐ اور سیرتِ صحابہؓ کے سانچے میں ڈھل جائیں‘یہی حُب ِ رسول کا اصل تقاضا ہے۔ ؎
میری زندگی کا مقصد ترے دیں کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلماں میں اسی لیے نمازی!
(ختم شُد)