(حسن معاشرت) حافظ عاکف سعید حفظ اللہ : ایک دل نواز شخصیت - ڈاکٹر ضمیر اختر خان

13 /

حافظ عاکف سعید حفظ اللہ : ایک دل نواز شخصیت

ڈاکٹر ضمیر اختر خان

زندگی کے سفر میں بعض لوگ ایسے ملتے ہیں جن سے ملاقات کا دورانیہ اگرچہ مختصر ہوتاہے، مگر ان کی شخصیت کا اثر دیرپا ہو جاتا ہے۔ وقت گزر جاتا ہے، حالات بدل جاتے ہیں، بہت سے چہرے یادوں کے دھندلکے میں گم ہو جاتے ہیں، لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی   ایک مسکراہٹ، ایک جملہ، ایک مصافحہ یا محبت بھر احسنِ سلوک دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتا ہے۔محترم حافظ عاکف سعید میرے لیے ایسی ہی ایک شخصیت ہیں۔ ان سے میرا تعلق محض تنظیمی رفاقت تک محدود نہیںبلکہ محبت،اپنائیت اور قلبی تعلق کاایک احساس ہمیشہ رہا۔ ان کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی دل نوازی ہے۔وہ سامنے والے کو محض سنتے نہیں،اُسے محسوس بھی کرتے۔ گفتگو میں شائستگی،طبیعت میں حلم و بردباری، مزاج میں سادگی اور برتاؤ میں شفقت! اس وقت علیل  ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں شفائے کاملہ عطا فرمائے! 
ان کے اندر اپنے عظیم والد محترم ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی ذہانت اور علمی رسوخ کی جھلک نمایاںرہی، مگر وہ اپنی ذات میں بھی ایک منفرد شخصیت ہیں۔ علم ان کے لیے محض اظہارِ فضیلت کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ دین اور قرآن کے ساتھ ان کے تعلق کا وسیلہ ! قرآن مجید سے ان کی محبت ان کی تلاوت میں بھی محسوس ہوتی۔ وہ قرآن مجید کی تلاوت مصری لہجے میں نہایت خوب صورتی اور دل نشینی سے کرتے۔ان کی آواز میں قرآن کی آیات سننا ایک الگ ہی کیفیت پیدا کردیتا۔ حافظ صاحب کی شخصیت کا میرے دل پر سب سے گہرا نقش ان کے علم یا خطابات نے نہیں، بلکہ ان کے حسنِ سلوک نے چھوڑا۔
وہ ایک صبح جو کبھی نہیں بھولی
یہ واقعہ اس زمانے کا ہے جب میں کراچی سے لاہور آیا تھا۔ میں تنظیم میں نیانیا شامل ہوا تھا۔ دل میں تنظیم کے مرکز کو دیکھنے، رفقاء سے ملنے اور اس ماحول کو قریب سے دیکھنے کا بڑا شوق تھا۔ ان دنوں مرکز تنظیم اسلامی 36-K ماڈل ٹاؤن، لاہور میں واقع تھا۔ صبح کے وقت میں مرکز پہنچا۔ میرے دل میں ایک عجیب سا جوش تھا۔ ایک نئی دنیا دیکھنے کا احساس! خیال تھا کہ مرکز میں  رفقائے تنظیم سے ملاقات ہوگی، محبت ملے گی، تعارف ہوگا اور ایسا محسوس ہوگاجیسے اپنے ہی لوگوں کے درمیان آگیا ہوں۔البتہ میری توقع کے برعکس صورتِ حال کچھ مختلف نکلی۔ میں مرکز کے مختلف دفاتر میں گیا۔ سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ کسی دفتر میں داخل ہوتا تو کوئی خاص توجہ نہ ملتی۔میں ایک دفتر سے دوسرے دفتر جاتا رہا،دل میںایک عجیب سی کیفیت پیدا ہونے لگی۔ میں نیا تھا، کسی کو جانتا بھی نہیں تھا، اس لیے کسی سے شکوہ بھی نہیں کر سکتا تھا۔آخرکار میں باہر آگیا۔ 
پھر وہ لمحہ آیا جس نے اس پوری صبح کا رنگ بدل دیا۔سامنے سے محترم حافظ عاکف سعید آتے دکھائی دیئے۔ انہوں نے مجھے دیکھا تو جس انداز سے ملے، وہ آج بھی میرے دل میں محفوظ ہے۔ چہرے پر مسکراہٹ، انداز میں تپاک اور لہجے میںاپنائیت۔انہوں نے میرا حال پوچھا،اور مجھے اپنے دفتر میں لے گئے۔مجھے بٹھایا۔ چائے پلائی۔ کچھ دیر گفتگو کی۔ بس اتنی سی بات تھی، لیکن میرے لیے وہ صرف چائے کا ایک کپ نہیں تھا۔ وہ ایک نئے رفیق کے دل میں جگہ بنانے کا انداز تھا۔ وہ یہ احساس دلانے کا طریقہ تھا کہ: ’’آپ یہاں اجنبی نہیں ہیں۔  بلکہ ہمارے اپنے ہیں۔‘‘
میں حافظ صاحب کے دفتر سے اُٹھ کر باہر آیا تو سامنے سے ڈاکٹر اسرار احمدؒ تشریف لاتے دکھائی دیئے۔ اُنہوںنے حسبِ معمول گرم جوشی سے میرا حال احوال پوچھا۔ شاید میرے اندر کی کیفیت اس وقت تک جمع ہو چکی تھی۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے قدرے شکوہ آمیز انداز میں عرض کیا: ’’ڈاکٹر صاحب! مجھے تو یہاں ایسا لگا جیسے ہر ایک ناراض بیٹھا ہوا ہے۔ کسی کو کسی کی خبر ہی نہیں۔ صرف حافظ عاکف سعید صاحب ہی وہ واحد شخص ہیں جنہوں نے نہ صرف میرا حال پوچھا بلکہ مجھے اپنے دفتر لے گئے،بٹھایا اور چائے بھی پلائی۔‘‘
یہ سن کر ڈاکٹر صاحب نے بھی یقیناً محسوس کیا ہوگاکہ ان کے صاحب زادے نے ایک نئے رفیق کے دل کو کس طرح جیت لیا ہے۔ آج اس واقعے کو کئی برس گزر چکے ہیں۔ مرکز بدل گیا، لوگ بدل گئے، زمانہ بدل گیا لیکن وہ صبح نہیں بدلی۔ وہ آج بھی میرے حافظے میں اسی طرح روشن ہے۔
ایک کپ چائے کی یاد
میں نے زندگی میں بہت لوگوں کے ساتھ چائے پی ہے۔ بہت سے بڑے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ بہت سے مواقع آئے اور گزر گئے۔ حیرت کی بات ہے کہ ان سب میں مجھے محترم حافظ عاکف سعید کے دفتر میں   پی گئی وہ چائے آج تک یاد ہے۔کیوں؟ اس لیے کہ بعض اوقات چائے کپ میں نہیں، تعلق میں ہوتی ہے۔اس چائےمیں محبت، خلوص اور اپنائیت کی جو حرارت تھی،وہ برسوں بعدآج بھی محسوس ہوتی ہے۔یہی حافظ عاکف سعید کی شخصیت کا کمال ہے۔وہ ایک منصب دار سے پہلے انسان تھے۔ اسی لیے ان کے پاس بیٹھنے والا خود کو ان سے چھوٹا محسوس نہیں کرتا تھا!
امارت اور دعوت کا سفر
جب محترم حافظ عاکف سعیدنے تنظیم اسلامی کی امارت سنبھالی تو اُن کی شخصیت کا ایک دوسرا پہلو بھی پوری طرح سامنے آیا۔ تقریباً اٹھارہ سال وہ تنظیم اسلامی کے امیر رہے۔یہ ایک طویل عرصہ تھا۔ اس دوران انہوں نے تنظیم کے پیغام کو پاکستان کے طول و عرض تک پہنچانے اور بیرونِ ملک بھی اس کا تعارف وسیع کرنے کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ تنظیم کے اجتماعات، دورے، خطابات اور دعوتی سرگرمیاں ان کے دورِ امارت میں وسیع پیمانے پرجاری رہیں۔ انہوں نے اپنے والد محترم ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی قائم کردہ دعوتی، تحریکی و انقلابی ذِمّہ داری کو بطریقِ احسن آگے بڑھایا۔یہ ان کے لیے ایک منفرد اعزاز بھی ہے کہ تنظیم اسلامی کے بانی، ان کے والد محترم ڈاکٹراسرار احمدؒ نے بھی اُن کے ہاتھ پر سمع و طاعت کی بیعت کی ہوئی تھی۔ یہ محض ایک خاندانی نسبت نہیں تھی بلکہ اس میں ایک گہرا تنظیمی اور تربیتی مفہوم بھی پوشیدہ تھا۔ ڈاکٹرصاحبؒ نےانہیں صرف بیٹے کے رشتے سے نہیں بلکہ ایک ذِمّہ دار رفیق تنظیم کی حیثیت سے بھی قبول کیا۔
منصب سے الگ ہوئے، تعلق سے نہیں
       اگست 2020ء میں جسمانی عوارض کے باعث محترم حافظ عاکف سعید نے خود تنظیم کی امارت سے سبک دوشی اختیار کرلی۔ منصب ختم ہوگیا، لیکن اُن کی شخصیت کا اثر اور اُن سے محبت کا تعلق ختم نہیں ہوا۔ میرے لیے تو حافظ صاحب آج بھی اسی صبح کے حافظ عاکف سعید ہیں۔ وہی محبت بھرا چہرہ‘وہی تپاک ‘وہی اپنائیت۔ انسان کی اصل عظمت یہی ہے کہ وہ لوگوں کے دل میں عہدے سے نہیںبلکہ اپنے کردار سے جگہ بنائے۔محترم حافظ عاکف سعید نے میرے دل میں بھی ایسی ہی جگہ بنائی ہوئی ہے۔ 
کچھ لوگ یاد نہیں آتے، دل میں اترے رہتے ہیں
       جب کبھی حافظ صاحب کا ذکر ہوتا ہے تو میرے ذہن   میں سب سے پہلے ان کےاہم خطابات یا ان کی طویل تنظیمی خدمات نہیں آتیں۔مجھے وہ پہلی صبح یاد آتی ہے۔  کبھی کبھی کسی انسان کی پوری شخصیت کو سمجھنے کے لیے ایک واقعہ ہی کافی ہوتا ہے۔ میرے لیےچائے پلانے کا وہ واقعہ محترم حافظ عاکف سعید کی شخصیت کا استعارہ بن گیا ہے۔وہ بڑے خاندان سے تعلق رکھتے تھے، مگر اس  خاندانی نسبت نے انہیں عام آدمی سے دور نہیں کیا۔ وہ امیرِ تنظیم تھے، مگر امارت نے ان کے اندر سے انسان کو نہیں نکالا۔ وہ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے صاحب زادے ہیں، مگر اپنی ذات کی پہچان بھی رکھتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ لوگوں کےلیے نرم دل رکھنے والے انسان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے دین کی خدمت کا جو کام لیا،اسے شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ان کے جسمانی عوارض کو دور فرما کر انہیں صحت کاملہ،عاجلہ اور مستمرہ عطا فرمائے۔  محترم حافظ صاحب کی عمر، علم اور عمل میں برکت دے۔ آمین یا رب العالمین! 
         اگر کبھی مجھ سے پوچھا جائے کہ:’’حافظ عاکف سعید کی سب سے بڑی خوبی کیا ہے؟‘‘ تو شاید میں کسی طویل فہرست کی طرف نہ جاؤں۔ میں صرف اتنا کہوں گا: ’’وہ دردِدل رکھنے والے انسان ہیں۔‘‘