…تو ہے جاہل اجہل
عامرہ احسان
اسرائیل اندھا دھند ’گریٹر اسرائیل‘ ایجنڈے پر جاری وساری ہے۔امریکہ ،ایران جنگ دنیا کا دھیان یوں بٹائے ہوئے ہے کہ اچانک کسی بڑے اسرائیلی اعلان یا اقدام پر پلٹ کر فلسطین پر متوجہ ہوتی ہے ورنہ بھول بیٹھی ہے۔وہ مسلسل مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی ، یہودی قبضے میں دے کر ہی رہا ہوتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ قانوناً مسلمانوں پر پابندی عائد کر کے یہودی عبادات کے لیے مختص کرنا، طے شدہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ مگر بھاری جنگی جرائم کے عادی اسرائیل کے نزدیک ہر جرم (ابنیاء کے فخریہ قتل کرنے والوں کے ہاں) ناک پر بیٹھی مکھی کی طرح اُڑا دیا جاتا ہے۔ ’بھیا ہوا کو توال تو اب ڈر کا ہے کا‘… کے مصداق امریکہ چیف کو توالِ گلوب، چھوٹا بھائی ہے اسرائیل کا۔ چھوٹا اس لیے کہ امریکہ کے بھی اسرائیل کے آگے پَر جلتے ہیں۔ ورنہ آج عالمی عدالتِ انصاف کے وارنٹ کارگر ہو گئے ہوتے۔
اب پوری روایتی 78 سالہ ڈھٹائی بروئے کار لاتے اسرائیلی وزیر دفاع ، کاٹز اور سیکورٹی وزیر اتمار بن گویر نے 7 سالوں میں 19 لاکھ فلسطینیوں کو غزہ سے بتدریج نکالنے کا پلان ظاہر کیا ہے۔ صرف امریکہ کی اجازت درکار ہے۔ مغربی کنارے سے یہودی مسلسل فلسطینی نکال باہر کر رہے ہیں۔ امریکی کانگریس کے ڈیمو کریٹ ارکان نے جس کا شدید نوٹس لے کر خط لکھا۔ اس تازہ اعلان پر آٹھ بڑے مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ، پلان رد کیا۔ یو این سیکورٹی کونسل سے اس ضمن میں اپنے فرائض ادا کرنے کو کہا۔ اپنے عزم کا اظہار کیا کہ فلسطینی قوم کے مفاد کے خلاف اُٹھائے جانے والے ہر اقدام کو رد کیا جائے گا۔ لیکن کیا دنیا بھر کے عوام کو یہ دیکھتے اب سالہا سال سے واضح نہیں ہو چکا کہ ’یہ کر دیں گے ، وہ کر دیں گے...‘ کہنے کے وقتی دعوے بہلاوے کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔ میڈیا سے خبریں اوجھل ہوتے ہی ملکی ، بین الاقوامی ہر سطح پر بڑوں کے مفادات حاوی رہتے ہیں۔ عام انسانوں ، چھوٹی قوموں پر ظلم کے ہمہ نوع کوڑے برستے رہتے ہیں۔ غزہ ، مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم سرزمین فلسطین کے جغرافیے کا ناقابل تنسیخ حصہ ہیں۔ مگر صرف بیانات اور کاغذوں پر!
موسمیاتی تبدیلی ، بحران پر دنیا میں کئی دہائیوں سے چیخ و پکار جاری تھی۔ اس میں گلوبل وارمنگ، زمینی درجۂ حرارت کے مسلسل بڑھنے پر متوجہ کیا جاتا رہا۔ مگر اس کی وجوہات میں زراعتی ، صنعتی و دیگر اسباب گنوا کر جنگوں میں استعمال کردہ ہلاکت خیز بارود، فاسفورس، یورینیم اجزاء سے صرف نظر کیا جاتا۔ جواب مجبوراً شامل کرنا پڑا ہے آلودگی کی جھوٹ سے آلودہ کتب و مطالعاتی مواد میں۔ افغانستان اور عراق جنگوں کے مقاصد میں سے ایک ان کا اپنی ’فائر پاور‘ (جنگی قوت) ٹسٹ کرنا شامل تھا۔ کہا گیا کہ:’ہم نے ہر قسم کے ہتھیار تیار کر رکھے ہیں۔ ہم انہیں استعمال کریں گے۔ اگر وہ کامیاب ہو جائیں اور ان کے بارے پتہ نہ چلے تو خاموشی بہتر ہے‘۔ اس وقت میڈیا ان کی مٹھی میں تھا۔ 1991ء کی جنگِ خلیج میں 40 ٹن ڈی پلیٹڈ یورینیم عراق پر برسایا تھا جس کے نتائج میں کینسر میں 700 فی صد اضافہ ہوا ۔ جھوٹ کی بنیاد پر عراق کے WMD(وسیع تباہی پھیلانے کے ہتھیاروں) کو تباہ کرنے کی آڑ میں 20 دن میں 200 ملین پاونڈ بم گرائے! اس وقت کس بے حسی اور بے دردی سے میڈیا رپورٹ کرتا تھا۔ راجر موسے ، بی بی سی ٹی وی نیوز کی ای میل لیک ہوئی: ’بی بی سی جنگ کوریج غیر معمولی ہے۔ یہ بالکل ورلڈ کپ فٹ بال کا سا محسوس ہوتا ہے جب آپ امِ قصر سے ایک جنگ کے کسی دوسرے ’تھیٹر‘ میں جاتے ہیں اور آپ جنگوں ما بین گھوم رہے ہیں۔ یہ تو غزہ میں الجزیرہ و دیگر فلسطینی صحافیوں نے جانوں پر کھیل کر حقائق دنیا تک پہنچا ئے تو پہلی مرتبہ اسرائیل، امریکہ اور ’جنگی تھیڑ‘ سجانے والوں کے حقیقی چہرے سامنے آئے۔
اب زمین، آسمان بھی ردِ عمل دینے پر تل گئے ہیں۔ دنیا میں 2 ارب مسلمان اور 7 ارب انسانی آبادی کھجور کی گٹھلی برابر بھیانک بلا اسرائیل کو لگام نہ دے سکی ؟ تمام ادارے ، بین الاقوامی قوانین ، عدالتیں لکھوکھا رپورٹیں لکھتے ، کمیٹیاں بناتے، تنخواہیں، مشاہرے بھاری بھر کم بٹورتے ظلم کے ہاتھ توڑ نہ سکے ؟ یادش بخیر مکے لہرا لہرا کر اپنے دور وزارتِ اعلیٰ میں شہباز شریف: ع ’اس نظامِ زر کو اب برباد ہونا چاہیے‘۔ پورے جوش وجذبے سے للکارا کرتے؎
ظلم بچے جَن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہیے
ہمارے یہ کہتے کہتے کہ تری آواز مکے اور مدینے ! اب یہ آواز مکہ پہنچ کر ’مکہ پیکٹ‘ بن گئی۔اسی کے تحت وہ خود وزیر اعلیٰ سے وزیر اعظم بلکہ بین الاقوامی ثالث ہو گئے! المیہ صرف یہ ہے کہ ظلم اتنا بے پناہ بڑھا اور اور پھیلا بچے جنتا گیا، کہ عدل تو عنقا ہو گیا دنیا بھر سے۔ خود پاکستان میں عدل زبر دست مراعاتی پیکجوں والی عدلیہ کا نام ہے۔ ورنہ باقی کام جابجا؟ ملزم گولیوں سے خود بخود اڑ جاتے ہیں۔ پولیس دم بخود ر پورٹ دیتی ہے کہ وہ آپس ہی میں گولیوں کے تبادلے میں مارے گئے۔ اعلیٰ ذِمّہ داران کے پاس فرصت کہاں!
خود اسلام آباد میں لاقانونیت کا وہ عالم ہے کہ چور دندناتے پھرتے ہیں۔ پے در پے وارداتیں۔ گاڑیاں،اے سی ، سولر پینل کی قیمتی تاروں ، اینٹینا،مختلف سیکٹروں میں یہ سب ہو رہا ہے۔ متاثرین ایف آئی آر کٹوانے گئے تو یہ تاکید کی گئی کہ آپ کڑیسیکورٹی، نگرانی کا ذاتی بندو بست بھی کر لیں۔ زیادہ تر نے حقائق جانتے ہوئے رپورٹ درج نہ کروائی۔پولیس بے چاری کہاں کہاں جائے! اب ملک بہت سے مزید انتظامی یونٹوں میں تبدیل ہو رہا ہے۔ تبدیلی کا یہ آپریشن بھی وقت طلب اور دقت طلب ہے۔ عوام اپنے سارے انتظام خود سنبھالیں۔ اب بے شمار سطحوں کی حکومتیں اور ڈھیروں کرسیاں ہوں گی۔ اتنے افسروں میں متعلقہ افسر ڈھونڈھنا بھو سے سے سوئی تلاش کرنے کے برابر ہوگا۔ سومعصوم حکومتوں اور افسروں کو نہ ستائیں۔امریکہ ایران جنگ سے امارات کی مخدوش معیشت کے پیشِ نظر بے چاروں کوجائیدادوں ،اثاثوں کی منتقلی کی پسوڑی پڑی ہے!
پمز کا سبق یہ بھی ہے کہ پرانے طریقے بحال کریں۔ بچے گھروں میںپیدا ہوا کرتے تھے تو محفوظ تھے اتنی انکوائریوں ، کمیٹیوں، رپورٹوں کی نوبت نہیں آتی تھی۔ 12ربیع الاول کو جب ملک میں چراغاں ہوا ، خوشی میں گولے داغے گئے ، قوم کس اذیت سے دوچار ہوگئی۔
ہمہ نوع ظلم و اذیت پر چہار جانب اللہ کی ناراضی اور غضب کے اسباب لا منتہا ہیں۔ موسم کوڑابن کر برسنا شروع ہو گیا۔ وجوہات میں جھوٹ اور ظلم کی جنگیں سرفہرست نظر آتی ہیں۔ بد عنوانی، رشوت ستانی، بے حیائی ، فحاشی، سود، جواد (جو ظلم کی مالی صورتیں ہیں)۔ یہ دور قطعۂ ہائے زمین پر قبضوں کے بھاری گناہ کا ہے۔ وراثت، جائیدادوں ، پراپرٹی ڈیلنگ میں شہروں سے نکل کر ملکوں تک بات جا پہنچی۔ قبضوں کا چلن گلوبل ہو گیا۔ ٹرمپ نے کینیڈا کی اونٹاریو جھیل امریکہ کے نام وائٹ ہاؤس میں بیٹھے بیٹھے لگادی ! مغربی ممالک کی اٹھان ہی بین الاقوامی قبضوں پر ہوئی ہے۔ ہمارے ہاں غصب کی حرمت دیکھئے:’ سنو! ظلم نہ کرو۔ خبردار کسی آدمی کا مال جائز نہیں ہے مگر اس وقت جب صاحب مال اپنی خوشی سے دے‘۔ (بیہقی) نیز آپﷺ نے فرمایا: ’جو شخص کسی کی بالشت بھر زمین ظلماً( زبردستی) ہتھیا لے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق اُس کی گردن میں ڈالے گا‘۔
(بخاری و مسلم)
زلزلوں نے پہلے جابجا دنیا ہلا ماری۔ اسی دوران بحرالکاہل میں ’ایل نینو‘ کی تپش نے غیر معمولی گرمی سے پریشان کر ڈالا۔ یورپ میں گرمی کی لہر نے ہوش اڑا دیئے۔ طغیانیاں، الجیریا میں 190 جگہ آگ بھڑک اٹھنا، انڈونیشیا میں آگ اور آتش فشاں پھٹنا۔ مشرقی چین میں طوفانی بارشوں کی زد سے 6 لاکھ لوگوں کو نکالنا پڑا۔ 2026 ء میں 18 ٹائفون اب تک آچکے۔ جاپان بھی نہ بچا۔اشیکاوا اور ٹویاما میں ایک لاکھ 80 ہزار افراد خطرے میں گھرے۔ ٹورنٹو، کینیڈا میں ہولناک سیاہ غصیلے بادل گھر گھر کر ، طوفان کے ساتھ مل کر درخت اکھاڑتے ، اولے برساتے رہے۔ جو پہلے فلیش لائٹ (روشنیاں) جگمگاتی تھیں اب فلیش فلڈ اور پھٹتے بادل دہلاتے ہیں۔
پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر نیپال تجربات کی روشنی میں اپنے بے حد و شمار گلیشیئروںاور ان میں گھری آبادی کی فکر کرنی ہے۔ خطرہ سر پر ہے۔ حکومت یا مسلسل بیرون ملک مصروف ہے یا نئے حکومتی بکھیڑے مول لے رہی ہے۔ پہلے ہی جھگڑوں ، فسا دوں ، بد انتظامیوں کا گھڑمس مچا ہے۔ ہم بین الاقوامی ہوئے پڑے ہیں۔یکسوئی سے ملک میں کاروبارِ زندگی (اپنا نہیں ، ہمارا! عوام کا) پر دن رات ایک کریں تو ملک سنبھلے! یہ بھی یادرکھیے:
چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ دانشوراپنے خالق کو نہ جانے تو ہے جاہل ، اجہل
tanzeemdigitallibrary.com © 2026