(دین و دانش) دعوتِ حق کا مشن - محمد حسین

13 /

دعوتِ حق کا مشن

محمد حسین

خدائی پیغام رسانی کا کام انسانیت کے آغاز سے لے کر ساتویں صدی عیسوی تک پیغمبروں کے ذریعہ ہوا ہے۔ نبوت کی سطح پر اس کام کی انجام دہی کا فائدہ یہ تھا کہ اسے معجزاتی تائید کی قوت حاصل رہتی تھی۔ نبی جب اپنی قوم کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے تو اس کے ساتھ منجانب اللہ وہ ایسے معجزات پیش کرتے جو ان کی دعوت کی صداقت پر غیر معمولی برہان بن سکیں۔ ختم نبوت کے بعد صورتِ حال یہ ہو گئی کہ دعوت کی ذمہ داری تو بدستور اپنی پوری شدت کے ساتھ باقی ہے مگر دعوت کے حق میں معجزاتی تائید باقی نہیں رہی۔
حقیقت یہ ہے کہ بعد کو آنے والے داعیوں کے لیے اللہ نے یہ انتظام کیا کہ اس مقصد کے لیے خود انسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا تاکہ دعوتی مشن کے حق میں وہ تائید ہم کو معمولی حالات میں مل جائے جس کو پچھلے لوگ صرف غیرمعمولی حالات میں پانے کی توقع کر سکتے تھے۔ افسوس کہ موجودہ دور میں ہم اس راز کو سمجھ نہ سکے اور اس سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے۔
قرآن پاک میں شرک کو ظلم عظیم کہا گیا ہے۔ اس کے بالمقابل توحید کی بابت ارشاد ہوا ہے کہ وہی کل صداقت ہے۔ قدیم ترین زمانہ سے انسانی زندگی کا نظام شرک کی بنیاد پر قائم چلا آرہا تھا۔ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے تمام پیغمبر وہ اسی لیے آئے کہ لوگوں کو شرک کی برائیوں سے آگاہ کریں اور توحید کی بنیاد پر زندگی کا نظام قائم کریں تاکہ انسان کے اوپر دنیا اور آخرت کی کامیابیوں کا دروازہ کھل سکے‘ مگر قوموں نے پیغمبروں کی بات چلنے نہ دی۔  نبی عربیﷺ پہلے پیغمبر ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت کے تحت یہ کامیابی حاصل ہوئی کہ انہوں نے شرک کو ختم کر کے توحید کی بنیاد پر ایک مکمل انقلاب برپا کر دیا۔ یہ انقلاب جو ساتویں صدی عیسویں میں ظہور میں آیا‘ اس کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ تھا کہ اس نے تاریخِ انسانی میں پہلی بار مظاہر کائنات کے تقدس کو ختم کر دیا اور انسانیت کے لیے اس مادی نعمت کے ظہور کی راہ ہموار کی جس کو جدید سائنس کہا جاتا ہے۔
تہذیب جدید کے مؤرخین کے سامنے ایک سوال یہ رہا ہے کہ فطرت کے خزانے اوّل دن سے زمین کے اوپر موجود تھے‘ انسان کے اندر ضروری ذہنی صلاحیت بھی قدیم ترین زمانہ سے پائی جاتی رہی ہے‘ پھر اس خزانہ کو انسانی تمدن کے لیے استعمال کرنے میں اتنی دیر کیوں لگی۔ انسان لاکھوں برس سے زمین پر آباد ہے مگر زمین کے قدرتی خزانوں کو موجودہ شکل میں استعمال کرنے کی تاریخ صرف چند سو برس پیچھے تک جاتی ہے۔ مورخ آرنلڈ ٹائن بی نے بجا طور پر اس کا جواب یہ دیا ہے کہ قدیم زمانہ کا انسان زمین کو دیوتا سمجھتا تھا۔ یہاں کی ہر چیز اس کے لیے الٰہ کا درجہ رکھتی تھی۔ وہ ان کو دیکھتا تو ان کے بارے میں اس کے اندر تقدس اور پرستش کا جذبہ پیدا ہوتا تھا۔ اس نفسیانی فضا میں زمینی ذرائع کو انسانی خدمت کے لیے استعمال کرنے کا جذبہ نہیں ابھر سکتا تھا۔ ٹائن بی کے الفاظ میں یہ توحید کا عقیدہ ہے جس نے کائنات کے تقدس کو ختم کیا اور ہر چیز کو ایک خدا کی مخلوق بتایا۔ اس طرح یہ نفسیاتی فضا پیدا ہوئی‘ جس میں انسان اپنے اس سیارہ کو دیوتا سمجھنے کے بجائے اپنا خادم سمجھے اور اس پر تصرف کر سکے۔
کائناتی تقدس ختم ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ عالم طبعی کے بارے میں انسان کا نقطۂ نظر بدل گیا‘ انسانی تعلقات کے تمام شعبے بھی اس سے انتہائی گہرائی کے ساتھ متاثر ہوئے۔ مشرکانہ نظام کے تحت جس طرح یہ ہوا تھا کہ طبعی دنیا میں جو چیز زیادہ روشن اور نمایاں نظر آئی اس کو اللہ سمجھ لیا گیا‘ اسی طرح انسانی عظمتوں کے بارے میں بھی فوق الفطری عقیدے قائم ہو گئے تھے۔ بادشاہ دیوتائوں کی اولاد قرار پائے۔ مذہبی پیشوائوں کے ساتھ اللہ کا خصوصی رشتہ فرض کر لیا گیا۔ جس انسان کے اندر کوئی بڑائی نظر آئی‘ اس کے متعلق یقین کر لیا گیا کہ اس کو کوئی خاص آسمانی حیثیت حاصل ہے جو دوسروں کو حاصل نہیں۔
اسلامی انقلاب کے بعد جب شرک کا نظام ٹوٹا اور توحید کو غلبہ حاصل ہوا تو انسانی عظمتوں کو فوق الفطری معتقدات سے وابستہ کرنے کا ذہن بھی ختم ہو گیا۔ اب سارے انسان ایک خدائے برتر کی یکساں مخلوق قرار پائے۔ ایک انسان اور دوسرے انسان میں فرق کرنے کی وہ بنیاد باقی نہ رہی جس کی وجہ سے تاریخ کے نامعلوم زمانوں سے انسانیت اونچ نیچ میں مبتلا چلی آرہی تھی اور انسان اپنے حقیقی شرف سے محروم تھا۔ پیغمبر اسلام نے توحید کی بنیاد پر جو انقلاب برپاکیا‘ اس نے اللہ کی برتری اور اس کے مقابلہ میں سارے انسانوں کی یکسانیت اس طرح ثابت کی کہ قدیم روایتی نظام بالکل ٹوٹ کر رہ گیا۔ انسانیت ایک نئے راستہ پر چل پڑی۔ لوگوں کے عقائد بدل گئے۔ پیشوائی اور سرداری کا سابقہ نظام درہم برہم ہو گیا۔ وہ شہنشاہتیں زمیں بوس ہو گئیں جو فوق الفطری عظمتوں کا یقین دلا کر لوگوں کے اوپر حکومت کر رہی تھیں۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار اس تبدیلی کا آغاز ہوا جو ساری دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز کاسبب بنی۔
پیغمبر آخر الزماںؐ اور آپؐ کے ساتھیوں کے ذریعہ جو انقلاب برپا کیا گیا وہ اگرچہ اصلاً توحید اور آخرت پر مبنی ایک انقلاب تھا مگر اس نے بہت سے دور رس دنیوی نتائج بھی پیدا کئے۔ آپؐ کے لائے ہوئے انقلاب کے دنیوی نتائج میں سب سے اہم وہ نتائج ہیں جنہوں نے قدیم زمانہ کے سماجی اور اجتماعی نظام کو اس طرح بدل دیا کہ وہ حالات ہی ختم ہو گئے جن میں دعوت حق کا کام ایک انتہائی مشکل کام بن گیا تھا۔ اب دعوت حق کا وہ کام ایک سادہ اور آسان کام بن چکا ہے جس کے لیے اٹھنے والوں کو قدیم زمانہ میں فرعون کے اس چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ’’میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پائوں کاٹ دوںگا اور تم کو سولی پر چڑھا دوںگا‘‘۔ اسی طرح اس انقلاب نے قدیم زمانہ کے اس فکری ڈھانچہ کو بدل دیا‘ جس نے قیاسات اور توہمات کو علم کا درجہ دے رکھا تھا۔ کائنات میں چھپی ہوئی خداکی تصدیقی نشانیاں لوگوں کے سامنے آگئیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دعوتِ حق کا وہ کام جس کے لیے اس سے پہلے معجزاتی تائید کی ضرورت ہوتی تھی۔ اب ممکن ہو گیا کہ خود علم انسانی کے ذریعہ اس کو ثابت اور مدلل کیا جا سکے۔
تاریخ کا رخ موڑنے کا یہ عمل جو ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوا تھا‘ موجودہ زمانہ میں وہ اپنی انتہائوں کو چھو رہاہے۔ اللہ کے دین کی خاطر کام کرنے والوں کے لیے اب خود انسانی اسلحہ خانہ میں ہر قسم کے تائیدی ذرائع موجود ہیں۔ تمدنی انقلاب نے اب اس کا موقع دے دیا ہے کہ دعوت اسلام کا کام اس طرح کھلے میدان میں کیا جائے‘ جہاں کوئی فرعون اور کوئی نمرود راستہ روکنے کے لیے موجود نہ ہوں۔ حقائق کی دنیا کے انکشافات اب انسان کے علم میں آ رہے ہیں۔ وہ نہ صرف تمام دوسرے ادیان کو  بے اعتبار ثابت کر رہے ہیں بلکہ مثبت طور پر دین حق کی صداقت کی گواہی بھی دے رہے ہیں۔
اسلام کے زیر اثر پیدا شدہ اس انقلاب نے جدید دنیا میں اسلام کی توسیع و اشاعت کے نئے دروازے کھول دیئے۔ ایک طرف یہ ممکن ہو گیا کہ توحید کی پیغام رسانی کے کام کو نہایت قوت کے ساتھ بالکل آزادا نہ ماحول میں شروع کیا جا سکے۔ دوسری طرف پریس اور جدید ذرائع ابلاغ نے تاریخ میں پہلی بار یہ امکان پیدا کیا کہ اسلامی دعوت کی مہم کو عالمی سطح پر منظم کیا جا سکے مگر عین اس وقت ایک حادثہ پیش آیا۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پراٹھنے والی تحریکوں نے دعوت کے بجائے سیاست کا رخ کر لیا۔ وقت کے حکمرانوں سے ٹکراکر انہوں نے اپنے لیے نئے عنوان سے دوبارہ وہی مشکلات پیدا کر لیں جن کو اسلام کے ہزار سالہ عمل نے ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا تھا۔
اسلام کی تاریخ میں کوئی واقعہ اتنا المناک نہیں  جتنا یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اٹھنے والی تقریباً تمام     اسلامی تحریکوں نے سیاسی محاذ آرائی کو کام سمجھا اور ٹھیک اس وقت جب تاریخ کا عمل اپنی آخری انتہا کو پہنچ کر ہمارے لیے دعوتی کام کا عالی شان میدان کھول رہا تھا‘ ہم انتہائی نادانی کے ساتھ ایک ایسی سیاسی لڑائی میں مشغول ہو گئے اور غلبہ و اقامت دین کے لیے ہمہ گیر دعوت و تحریک کی ضرورت و اہمیت کو بھلا بیٹھے۔ اب اس غلطی کی واحد تلافی یہ ہے کہ مروجہ سیاست بازی کو مکمل طور پر ترک کر کے اعلیٰ علمی سطح پر اور اس کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر قرآن و سنت کے پیغام کو پہنچانے کا کام فوراً شروع کر دیا جائے‘ ساتھ ہی ساتھ برسراقتدار طبقے کے خلافِ شریعت کاموں پر راہ نمائی کا فریضہ انجام دیا جائے۔ اس سے عوام الناس میں نظام خلافت کی ضرورت اور قدروقیمت کا شعور پیدا ہو گا اور اس کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے گی۔