زوال کی انتہا اور نجات کا راستہ
محترمہ عارفہ خان کوئٹہ
1924 ءمیں خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد ملت اسلامیہ الطاف حسین حالی کے ان اشعار کی منہ بولتی تصویر نظر آتی ہے ۔
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گر کر نہ ابھرنا دیکھے
مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جذر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے
خلافت کے خاتمے کے بعد پوری امت بتدریج ستاون ملکوں میں بٹ گئی جس نے امت کے تصور کو دھندلا کر قوم پرستی کے چہرے کو نمایاں کیا۔اب ہر شخص کا مرنا جینا اس کے وطن کے لیے ہے۔ کوئی فلسطین کی آزادی کے لیے گردنیں کٹا رہا ہے تو کوئی ایران کی عظیم تہذیب اور سلطنت کا جھنڈا اٹھائے امریکہ سے نبرد آزما ہے لیکن ساتھ ہی عرب ممالک کو بھی زیر کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ دشمن لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور پوری امت لہو میں ڈوبی اِسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے پر مجبور ہے۔ اس ذلت کی وہی ایک وجہ ؎
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے آدمی کو دیتا ہے نجات
وہ ایک سجدہ پوری امت کے لیے بہت بھاری ہو چکا ہے جس کی وجہ سرکار دو عالم ﷺ نے ایک حدیث میں بیان فرما دی تھی کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب قومیں تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے کے دسترخوان پر مہمان ٹوٹ پڑتے ہیں صحابہؓ نے پوچھا یا رسول اللہﷺ کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے فرمایا نہیں تعداد بہت ہوگی لیکن ’وہن‘ کی بیماری میں مبتلا ہوں گے پوچھا گیا اے اللہ کے رسولﷺ وہن کیا ہے؟ فرمایا:’’دنیا کی محبت اور موت سے نفرت‘‘ کی اصل وجہ ایمان کی وہ کمزوری ہے جو موروثی عقیدے سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ حقیقی ایمان سے خالی دل قرآن کی اصل تعلیم سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ مغربی فلسفے پر ایمان کی بنیاد کہ اللہ کو مانو لیکن اللہ کی نہ مانو ایسے ایمان کی بنیاد پر عروج تو نہیں زوال ہی مقدر ٹھہرے گا۔ عذاب کے کوڑے ہم پر اسی طرح برستے رہیں گے جب اپنی منزل ہی معلوم نہ ہو تو قدم غلط جگہ ہی پڑیں گے۔
امت کی عظیم اکثریت کو علم ہی نہیں کہ نظام کس شے کا نام ہے اور اسے کیسے تبدیل کرنا ہے۔ دورِ غلامی میں آنکھ کھولنے والی اُمّت مسلمہ غلامانہ ذہنیت سے نکلنے کو تیار ہی نہیں۔ اسے اس فرسودہ اور کرپٹ نظام کی تباہ کاریوں کا علم ہی نہیں وہ تو مغرب کے نظام کو ہی نجات اور ترقی کا ذریعہ سمجھتی ہے ۔ اسلام کے نظام ِعدلِ اجتماعی کی برکات کا اسے علم ہی نہیں ان حالات میں جب امت مسلمہ کی عظیم اکثریت میں غلط اور صحیح کا شعور ہی نہیں تو زوال سے عروج کا سفر کیسے طے کیا جا سکتا ہے۔ حکومتیں عوام کے اس جاہلانہ طرز عمل سے فائدہ اٹھا کر اسٹیٹس کو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور امت کا زوال انتہا کو پہنچتا جا رہا ہے۔ کبھی کسی حکومتی اہلکار کا ضمیر کچھ وقت کے لیے بیدار ہوتا ہے اور وہ نظام کے ناکام ہونے کا اعتراف تو کرتا ہے لیکن یہ اسے نہ تو استعفیٰ دینے پر مجبور کرتا ہے اور نہ اصلاح احوال کی طرف توجہ دینے پر آمادہ کرتا ہے بلکہ وہ اسی نظام میں رہتے ہوئے اور اسی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بیان جاری کر دیتا ہے اور پھر اسی راہ کا مسافر بن کر تباہی کی منزل کی طرف رخ پھر لیتا ہے۔ لیکن مقام عبرت تو وہ لمحہ ہے جب اسمبلی کا ایک غیر مسلم رکن اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ؐ کے خلاف جنگ جاری رکھ کر معیشت کی بحالی کسی دیوانے کا خواب معلوم ہوتی ہے، بجٹ کا کثیر حصّہ سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے اور وہ بھی اندرونی قرضوں کی مد میں۔اور شراب پر پابندی کا بل بھی ایک غیر مسلم ہی پیش کرتا نظر آتا ہے جب کہ مسلمان اراکین اس کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔ ع ’’کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ۔
غرض پوری امت کے عوام اور حکومتیں ایک ہی کشتی میں سوار ہو کر اسی کے پیندے میں سوراخ کرکے اسے ڈبونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ نماز روزہ ادا کرکے امت کی خوشحالی کے خواب دیکھے جارہے اور اگرچہ نماز اور روزہ اہم عبادات ہیں مگر اجتماعی سطح پر قوم کےکرتوتوں کے نتیجے میں خوشحالی نہیں اللہ کے عذاب کے آثار نمایاں ہوتے جارہے ہیں۔ اس پستی کے دور میں یوم استحصال کشمیر ہو یا یوم آزادی پاکستان سب کچھ نعروں دعوں کے سوا کچھ نہیں۔ کشمیر سے لے کر بلوچستان تک اور خیبرپختونخوا سے لے کر سندھ تک سب نامعلوم افراد کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں۔ سب سے سستا خون، خونِ مسلم ہے جو بے دریغ بہہ رہا ہے تمام راستے بند نظر آ رہےہیں۔ نجات کا واحد راستہ قرآن سے جُڑ جانا ہے جو حقیقی ایمان کا تقاضا کر رہا ہے ہر شخص سچی توبہ کر کے قرآن کو اپنا امام بنا کر پورا نظام زندگی اسی کے مطابق اختیار کرے تاکہ دنیا اور آخرت کی کامیابیاں حاصل ہو سکیں۔