کسی کو کمتر نہ جانو…
حسیب آصف شیخ ( مرکزی شعبہ نشرو اشاعت)
ایک خوبصورت اور شاداب وادی کے دامن میں ایک چھوٹا سا قصبہ ’’روشن پور‘‘ واقع تھا۔ یہ قصبہ اپنی سادگی اور پُرسکون ماحول کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔ اسی قصبے کے ایک چھوٹے سے گھر میں نو سالہ ظہیر اپنے والدین اور دادی کے ساتھ رہتا تھاجو عام بچوں سے ذرا مختلف تھا۔ جہاں قصبے کے دوسرے بچے شام ہوتے ہی کرکٹ کھیلنے یا ویڈیو گیمز میں وقت گزارنے کو ترجیح دیتے تھے، وہیں ظہیر اپنے کمرے کے ایک خاص کونے میں بیٹھا کچھ نہ کچھ بنانے یا جوڑنے میں مصروف رہتا۔ اُس کے کمرے کا وہ کونہ کسی چھوٹے سے گودام جیسا لگتا تھا، جہاں پرانے کھلونوں کے کٹے پھٹے پرزے، لوہے کے چھوٹے تار، پلاسٹک کی خالی بوتلیں، بطاریاں اور ڈبے بکھرے رہتے تھے۔ ظہیر کو خراب اور فالتو چیزوں کو توڑ کر اُن سے کوئی نئی اور کام کی شے بنانے کا ایک عجیب سا جنون تھا۔لیکن اُس کا یہ شوق قصبے کے دوسرے بچوں کی نظر میں ایک فضول کام تھا۔ گلی کے بچے اکثر اُس کا مذاق اُڑاتے اور جب بھی وہ اُسے گلی سے گزرتے دیکھتے تو آوازیں کستے: ’’دیکھو! روشن پور کا کباڑی آ گیا!‘‘ یاظہیر! آج کچرے سے کیا نیا خزانہ ملا ہے؟‘‘
ظہیر کو ان کی باتیں سن کر دُکھ تو ہوتا، لیکن وہ کبھی جواب میں لڑتا نہیں تھا۔ اس کی دادی جان ہمیشہ اُسے پیار سے سمجھاتی تھیں، ’’بیٹا! لوگ تمہاری بات تب تک نہیں سمجھیں گے جب تک تم اپنے فن سے اُن کی زندگی میں کوئی روشنی نہیں لے آتے۔ لوگوں کی باتوں پر دل چھوٹا نہیں کرتے، بلکہ اپنے کام پر توجہ دیتے ہیں۔‘‘دادی کی یہ بات اُس کے دل میں اتر گئی تھی۔
ایک دن روشن پور کے سب سے بڑے اسکول کی جانب سے پورے قصبے کے بچوں کے لیے ایک عظیم الشان ’’سائنس اور آرٹ نمائش‘‘کا اعلان کیا گیا۔ نمائش کا مقصد بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو سامنے لانا تھا۔ پورے قصبے کے بچوں میں ایک جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی۔ ہر کوئی اس نمائش میں حصہ لے کر پہلا انعام جیتنا چاہتا تھا۔قصبے کے امیر اور خوشحال گھرانوں کے بچوں نے فوراً شہر کے بڑے بڑے مالز کا رُخ کیا۔ کسی نے چمکدار ریموٹ کنٹرول کار خریدی، کسی نے بازار سے پہلے سے بنا ہوا روبوٹ خریدا، تو کسی نے مہنگے ویڈیو پروجیکٹر کا انتظام کیا۔ پرویز، جو گلی کے بچوں کا سرغنہ تھا اور ظہیر کا سب سے زیادہ مذاق اُڑاتا تھا،نے اپنے والد سے ایک بہت مہنگا اور جدید ترین ڈرون کیمرہ منگوایا تاکہ وہ نمائش میں سب کو متاثر کر سکے۔
ظہیر نے بھی نمائش میں حصّہ لینے کا فارم بھر دیا۔ لیکن اس کے پاس بازار سے مہنگی چیزیں خریدنے کے لیےپیسے نہیں تھے۔جب پرویزکو پتہ چلا کہ ظہیر بھی مقابلے میں شامل ہے تو اُس نے ہنستے ہوئے کہا، ’’ظہیر! کیا تم نمائش کے ججوں کو اپنا پرانا کچرا دکھا کر انعام جیتنے کا سوچ رہے ہو؟‘‘
ظہیر نے پرویز کی بات پر مسکرا کر بس اتنا کہا، ’’پرویز! چیز کی اہمیت اُس کی قیمت سے نہیں،بلکہ اس کو بنانے میں لگی محنت اور سوچ سے ہوتی ہے۔‘‘
نمائش میں صرف ایک ہفتہ باقی تھا۔ ظہیر نے اپنے ذہن میں ایک خاکہ تیار کیا۔ قصبے میں اکثر رات کے وقت بجلی چلی جاتی تھی اور خاص طور پر غریب محلے کے بچوں کو موم بتی کی روشنی میں پڑھنا پڑتا تھا جس سے اُن کی آنکھیں خراب ہوتی تھیں۔ ظہیر نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک ایسا آلہ بنائے گا جو بغیر بجلی کے چلے اور روشنی کے ساتھ ساتھ گرمی میں ہوا بھی دے۔اُس نے پورے ایک ہفتے تک رات دن محنت کی۔محلے کی پرانی دکانوں سے پھینکے ہوئے پلاسٹک کے ڈبے، موٹر سائیکل کی پرانی دکان سے چند پرزے، ایک ٹوٹا ہوا سولر پینل، اور پرانی ٹارچ کے ایل ای ڈی بلب جمع کیے۔اُس کا پورا کمرہ ایک چھوٹی لیبارٹری بن چکا تھا۔ کئی بار اُس کے ہاتھ پر چوٹ لگی، کئی بار موٹر نے کام کرنا بند کر دیا اور وہ مایوس ہوا، لیکن اُس نے ہمت نہ ہاری۔ وہ اپنی دادی جان کی نصیحت کو یاد رکھتا اور دوبارہ کام میں لگ جاتا۔
بالآخر نمائش سے ایک دن پہلے، اس نے اپنا پروجیکٹ تیار کر لیا۔ یہ ایک چھوٹا سا ’’ملٹی پرپز سولر لیمپ اور پنکھا‘‘تھا۔ یہ نچلی سطح پر پڑے کچرے سے بنا تھا لیکن کام بالکل جدید ترین آلے کی طرح کرتا تھا۔ سورج کی روشنی سے اُس کی بیٹری چارج ہوتی تھی، جس سے رات کو تیز روشنی والا لیمپ جلتا اور ساتھ ہی ایک چھوٹا پنکھا بھی چلتا تھا جو بالکل بھی آواز نہیں کرتا تھا۔نمائش کا دن آ پہنچا۔ ہال کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ بڑے بڑے بینرز لگے تھے اور قصبے کے معززین، اسکول کے اساتذہ اور تمام والدین ہال میں موجود تھے۔ تمام بچوں نے اپنے اپنے اسٹال لگا رکھے تھے۔پرویز کے اسٹال پر لوگوں کا بڑا ہجوم تھا کیونکہ اُس کا ڈرون ہوا میں اُڑ رہا تھا اور سکرین پر ویڈیو بنا رہا تھا۔ دوسرے بچوں نے بھی بازار سے خریدی ہوئی خوبصورت اور چمکدار چیزیں سجائی ہوئی تھیں۔ ان سب کے درمیان، ظہیر کا اسٹال بہت سادہ تھا۔ اس کے میز پر پرانے پلاسٹک اور گتے سے بنا ہوا ایک عجیب سا آلہ رکھا تھا۔ بچے اُس کے اسٹال کے پاس سے گزرتے اور ہنس کر آگے بڑھ جاتے۔دوپہر کے وقت مقابلے کے ججوں کی ٹیم ہال میں آئی۔ ججوں میں شہر کے ایک معروف سائنسدان اور اسکول کے پرنسپل شامل تھے۔ وہ باری باری تمام بچوں کے اسٹالز کا معائنہ کر رہے تھے۔جب وہ پرویز کے اسٹال پر پہنچے توپرویز نے غرور سے اپنا ڈرون چلا کر دکھایا۔ لیکن بدقسمتی سے، کچھ ہی دیر میں ڈرون کی بیٹری ختم ہو گئی اور وہ نیچے گر گیا۔ جب ججوں نے پرویز سے پوچھا کہ ’’کیا تم نے یہ خود بنایا ہے؟‘‘تو پرویز کا چہرہ فق ہو گیا اور اُسے ماننا پڑا کہ یہ بازار سے خریدا گیا ہے۔ ججوں نے خاموشی سے اپنے پیڈ پر کچھ لکھا اور آگے بڑھ گئے۔آخر میں ججوں کی ٹیم ظہیر کے سادہ سے اسٹال پر پہنچی۔پرنسپل صاحب نے مسکرا کر پوچھا: ’’بچے! آپ نے کیا بنایا ہے اوراِس میں کون سی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی ہے؟‘‘ظہیر نے بغیر کسی جھجھک یا ڈر کے، بہت اعتماد کے ساتھ جواب دیا: سر! یہ 'سولر روشنی اور ہوا کا آلہ ہے۔ اِسے بنانے کے لیے میں نے کوئی جدید یا مہنگی ٹیکنالوجی نہیں خریدی، بلکہ قصبے کے اس کچرے کو استعمال کیا ہے جسے لوگ ضائع کر دیتے ہیں۔ظہیر نے آلے کا سوئچ آن کیا۔ سولر پینل سے منسلک چھوٹی بیٹری نے فوراً کام شروع کر دیا۔ پرانے ایل ای ڈی بلب سے اتنی تیز روشنی نکلی کہ ہال کا وہ کونہ جگمگا اٹھا، اور ساتھ ہی لگا ہوا چھوٹا پنکھا تیز ہوا دینے لگا۔
ظہیر نے آگے بات جاری رکھی: ’’ہمارے قصبے کے غریب محلے میں رات کو جب بجلی جاتی ہے تو بچوں کی پڑھائی رک جاتی ہے۔ یہ آلہ دن بھر سورج کی مفت روشنی سے چارج ہوتا ہے اور رات کو بغیر کسی خرچے کے بچوں کو روشنی اور ہوا دیتا ہے۔ اسے بنانے پر میرا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا کیونکہ یہ سب ضائع شدہ چیزوں سے بنا ہے۔‘‘
سائنسدان جج ظہیر کی بات سُن کر حیران رہ گئے۔ انہوں نے آلے کو قریب سے دیکھا، اس کی تاروں کے جوڑ اوروائرنگ کو پرکھا۔ وہ ظہیر کی اس چھوٹی سی عمر میں اتنی بڑی سوچ اور عملی انداز دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ ہال میں موجود تمام لوگ اب ظہیر کے اسٹال کے گرد جمع ہو چکے تھے۔شام کے وقت نتائج کا اعلان ہونے والا تھا۔ تمام بچے دل میں دھک دھک محسوس کر رہے تھے۔
پرنسپل صاحب مائیک پر آئے اور انہوں نے بولنا شروع کیا: ’’آج کی اس نمائش میں ہم نے بہت سے مہنگے اور خوبصورت کھلونے دیکھے۔ لیکن سائنس اور آرٹ کا اصل مقصد بازار سے چیزیں خرید کر دکھانا نہیں، بلکہ اپنے ذہن اور محنت سے معاشرے کے مسائل کا حل نکالنا ہے۔انہوں نے ایک لمحے کا وقفہ لیا اور پھر پرجوش آواز میں کہا: ’’اس سال کی نمائش کا پہلا انعام اور گولڈ میڈل جاتا ہے... ظہیر کو!پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ ظہیر کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔جب وہ اسٹیج پر انعام لینے گیا تو اس کے والدین اور دادی جان کا سر فخر سے بلند تھا۔ ججوں نے اُسے نقد انعام کے ساتھ ساتھ اس کی آئندہ تعلیم کے لیے اسکالرشپ کا سرٹیفکیٹ بھی دیا۔تقریب کے ختم ہونےکےبعد، وہ بچے جو پہلے ظہیر کو ’’کباڑی‘‘ کہہ کر اس کا مذاق اڑاتے تھے، شرمندگی سے اپنے سرجھکائے ہوئے تھے۔ پرویز آگے بڑھا اور اس نے ظہیر سے ہاتھ ملا کر کہا، ’’ظہیر! مجھے معاف کر دو۔ میں نے تمہاری محنت اور تمہارے شوق کا مذاق اُڑایا۔ تم واقعی ایک سچے سائنسدان ہو۔ کیا تم مجھے بھی یہ آلات بنانا سکھاؤ گے؟‘‘
ظہیر نے مسکرا کر پرویز کو گلے لگایا اور کہا، ’’ٹیکنالوجی اور علم بانٹنے کے لیے ہوتے ہیں،پرویز! ہم سب مل کر نئی چیزیں بنائیں گے۔‘‘
اس دن کے بعد سے روشن پور کے بچوں نے بازار سے مہنگے کھلونے خریدنے کی ضد چھوڑ دی اور ظہیر کے ساتھ مل کر اپنے قصبے کو صاف رکھنے اور پرانی چیزوں سے نئی اور مفید اشیاء بنانے کی تربیت لینے لگے اور یوں ظہیر کی محنت نے نہ صرف اس کی زندگی بدلی بلکہ پورے قصبے کے بچوں کی سوچ بھی بدل دی۔
خصوصی رپورٹ
امیر محترم شجاع الدین شیخ کا حلقہ حیدر آباد
کا دعوتی و تنظیمی دورہرپورٹ:عبدالرحیم بیگ مرزا، ناظم نشرواشاعت حلقہ
29 اگست 2026ء کو امیر محترم شجاع الدین شیخ، نائب ناظم اعلیٰ جنوبی پاکستان (2) محترم عارف جمال فیاضی کے ہمراہ دعوتی و تنظیمی دورہ پر حیدر آباد پہنچے۔
پہلا دن: ہفتہ، 29 اگست 2026ء
امیر تنظیم اسلامی جناب شجاع الدین شیخ اور نائب ناظم اعلیٰ جنوبی پاکستان( 2 )صبح 11:00 بجے مسجد جامع القرآن حیدرآباد تشریف لائے، جہاں امیر حلقہ نے ان کا استقبال کیا۔
صبح 11:30 بجے مدرسہ دار العلوم مظاہر العلوم لطیف آباد کے مہتمم مولانا مفتی فصیح صاحب کی دعوت پر امیر محترم نے محترم عارف جمال فیاضی اور امیر حلقہ حیدر آباد محترم امجد حسین چنہ کے ساتھ مدرسے کا دورہ کیا۔
بعد نمازِ عصر حلقہ حیدرآباد کے دیرینہ ملتزم رفیق محترم غلام نبی کلوڑ کے گھر تشریف لے گئے اور ان کی عیادت کی۔
بعد نمازِ مغرب نئے مقررکردہ مقامی امراء محترم فہد لغاری، امیر قاسم آباد شرقی اور محترم عاکف اقبال، امیر نواب شاہ سے انفرادی ملاقاتیں کی اور تنظیمی رہنمائی فرمائی۔
بعد نمازِ عشاء دورے کا سب سے بڑا عوامی اجتماع ایمپائر بینکوئیٹ لطیف آباد میں بعنوان ’’نبیٔ اکرم ﷺ کا مشن اور ہم‘‘ منعقد ہوا۔
امیر محترم نے امت مسلمہ کی موجودہ زبوں حالی اور زوال کے اسباب پر تفصیلی کلام فرمایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ہم نبی اکرم ﷺ کے حقیقی مشن یعنی ’’اقامت دین‘‘ کے لیے جدوجہد نہیں کریں گے، پستی اور تنزلی کا شکار رہیں گے۔
پروگرام کے دوران تنظیم اسلامی کے تعارف اور فعالیت پر مبنی ایک ڈاکیومنٹری/ ویڈیو بھی دکھائی گئی۔ پروگرام میں تقریباً 600 مرد اورپردہ میں موجود 300 خواتین یعنی کل 900 نے شرکت کی۔
دوسرا دن: اتوار، 30 اگست 2026ء
صبح 09:00 تا 10:30 بجے حیدرآباد کے 70 ذمہ داران کے ساتھ خصوصی ملاقات اور سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی۔
صبح 11:00 تا ظہر حلقہ حیدرآباد کے ’’آل رفقاء اجتماع‘‘ میں 150 رفقاء کی شرکت رہی۔ امیر محترم نے تفصیلی خطاب فرمایا، رفقاء کے سوالات کے جوابات دیے اور تذکیر بیعت کا بھی اہتمام ہوا۔ بعد ازاں رفقاء کے ساتھ ظہرانہ تناول فرمایا۔
بعد نمازِ عصر: لطیف آباد کے مخیر حضرات سے خصوصی ملاقاتیں کیں اور دعوتی کام میں تعاون پر گفتگو ہوئی۔
بعد نمازِ مغرب دورے کا دوسرا بڑا دعوتی اجتماع ’’یوتھ میٹ اپ‘‘ مرینہ بینکوئیٹ لطیف آباد میں منعقد ہوا۔
امیر محترم نے دورِ حاضر میں درپیش جدید فکری، اخلاقی اور معاشرتی مسائل کے حوالے سے نوجوانوں کی فکری رہنمائی فرمائی اور ان کے سوالات کے اطمینان بخش جوابات دیے ۔اس نشست میں 300 سے زائد نوجوانوں نے شرکت کی۔
تیسرا دن: پیر، 31 اگست 2026ء
بعد نمازِ فجر امیر محترم شجاع الدین شیخ نے کیڈٹ کالج سانگھڑ کے طلبہ کو فکری و تربیتی لیکچر دیا، جس کے بعد یہ دعوتی و تنظیمی دورہ خیر و برکت کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔