اتحادِ ملت اسلامیہ کے زیرِ اہتمام آل پارٹیز پریس کانفرنس
5 ستمبر 2026ءبروز ہفتہ امیر محترم کے حکم کے مطابق مرکزی ناظم نشر و اشاعت برادرم رضاء الحق، امیر حلقہ لاہور شرقی برادرم نور الوریٰ اور راقم پر مشتمل وفدنے لاہور پریس کلب میں اتحاد ملت اسلامیہ کے زیرِ اہتمام آل پارٹیز پریس کانفرنس میں شرکت کی۔ پریس کانفرنس میں مختلف مذہبی، دینی اور سیاسی جماعتوں کے نمائندگان موجود تھے ۔ پریس کانفرنس کا آغاز نمازِ عصر کے فوراً بعد شام تقریباً 5:00 بجے تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی گئی۔
تمام جماعتوں کے نمائندگان نے پاکستان میں توہینِ قرآن، توہینِ رسالت اور توہینِ مقدسات کے ملزمان کو تحفظ دینے اور 295 سی کے قانون کو نشانہ بنانے کے خلاف اپنے اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ناموسِ قرآن اور ناموسِ رسالتﷺ ہماری ریڈ لائنز ہیں۔ لہٰذا اِس کو کراس مت کیا جائے اور ہم ناموسِ رسالتﷺ کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے لیے ہر دم تیار ہیں۔
تقریباً 5:20 بجے شام تنظیم اسلامی کاموقف پیش کرتے ہوئے راقم نے اپنی 5منٹ کی گفتگو میں سب سے پہلے اتحاد ملت اسلامیہ فورم کو مبارک باد پیش کی کہ اس مبارک موضوع پر انہوں نے آل پارٹیز پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔راقم نے کہا کہ اتحادملت اسلامیہ کا مؤقف محض کسی ایک تنظیم یا جماعت یا چند لوگوں کا مؤقف نہیں بلکہ یہ پاکستان کے ہر مسلمان اور پورے عالمِ اسلام کا موقف ہے، جس کی تنظیم اسلامی مکمل تائید کرتی ہے۔ راقم نے کہا کہ تنظیم اسلامی دل و جان سے اس مقصد کے لیے اپنے آپ کو پیش کرتی ہے۔
راقم نے کہا کہ 295 سی کے غلط استعمال کا پروپیگنڈا بالکل بے بنیاد ہے اور آج تک اِس نوعیت کاکوئی ایک کیس بھی سامنے نہیں آیا کہ کسی بے گناہ کو اِس قانون کے تحت سزا ملی ہو۔ المیہ تو یہ ہے کہ جن افراد کے خلاف عدالتوں میں جرم ثابت ہو چکا تھا، آج تک اُن میں سے کسی ایک کی سزا پر بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
راقم نے مزید کہا کہ 295 سی ایک سیفٹی وال کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ قانون جہاں پر ناموس رسالتﷺ کا قانون ہے، وہیں یہ پاکستانی معاشرے ، پاکستانی ریاست اور پاکستانی حکومت کے تحفظ کا بھی قانون ہے۔ اگر اس قانون کو ختم کرنے کی ابلیسی کوشش کی گئی تو ملک کے اندر شدید انارکی پھیلنے کا خدشہ موجود ہے ۔پھر لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں گے ، جس کا نتیجہ ہرگز اچھا نہیں ہو گا۔
لہٰذا حکومت ہوش کے ناخن لے اور اس قانون کے خلاف بولنے والوںاور پراپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور اگر ایسا قانون موجود نہیں کہ 295 سی کے خلاف بولنے والوں کو سزا دی جا سکے تو پھر فی الفور ضروری قانون سازی کی جائے۔
راقم نے سوال اُٹھایا کہ کیا بدطینت لوگوں کے لیے صرف اسلام ، قرآن اور صاحبِ قرآنﷺ کی ذاتِ اقدس ہی بچ گئے ہیں کہ نام نہاد اظہار رائے کی آزادی کے نام پر اِن کی توہین کی جائے؟
آخر میں راقم نے اس بات کا اظہار کیا کہ ان تمام مسائل کا حل اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان میں شریعتِ محمدی ﷺ کا نفاذ ہے۔ ہم سب کو مل کر شریعت کے نفاذ کے لیے کوشش کرنی چاہیے تاکہ صحیح معنی میں پاکستان اسلامی فلاحی ریاست بن سکے اور اگر ہم ایسا کریں گے تو امریکہ اور یورپی یونین سمیت کسی ملک کو یہ جرأت نہیں ہوگی کہ توہین قرآن، توہین رسالت اور توہین مقدسات کے ملزمان کے حق میں آوازیں اُٹھائیں۔ اسی کے اندر مسلمانوں کی دنیا اور اخرت کی فلاح مضمر ہے۔
شام تقریباً 6:30 بجے اجتماعی دعا پرپریس کانفرنس کا اختتام ہوا۔ (مرتب کردہ: مجاہد امین، استاذ و معاون شعبہ تعلیم و تربیت، تنظیم اسلامی، پاکستان)