(خصوصی رپورٹ) اخبارِ اسلام - خالد نجیب خان

13 /

اخبارِ اسلام


غزہ، اصل صور تِ حال کیا ہے؟ (بشکریہ: فرینڈز آف فلسطین)

تحقیق: خالد نجیب خان (معاون مرکزی شعبہ نشرو اشاعت)

l فلسطینی مرکزی شماریاتی ادارے کے مطابق 2025ء کے اختتام تک دنیا بھر میں فلسطینیوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہوگئی ہے، جن میں تقریباً 74 لاکھ فلسطین میں جبکہ تقریباً 81 لاکھ بیرونِ فلسطین آباد ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق فلسطینی مہاجرین اردن، لبنان، شام، خلیجی ممالک، یورپ، امریکا اور ترکیہ سمیت مختلف خطوں میں آباد ہیں۔
l اسرائیلی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے دوران النصر محلے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بچی سمیت دو فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ شہری دفاع کے مطابق تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے اب بھی 8 ہزار سے زائد لاشیں موجود ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ بھاری مشینری اور ضروری آلات کی کمی کے باعث انہیں نکالنے کا عمل انتہائی دشوار ہے۔فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد شہداء کی تعداد 1344 اور زخمیوں کی تعداد4481 ہوگئی ہے، جبکہ 7اکتوبر2023ء سے اب تک شہداء کی مجموعی تعداد73651 اور زخمیوں کی تعداد174592 تک پہنچ چکی ہے۔ عالمی بینک، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے جائزے کے مطابق غزہ میں 58 ملین ٹن سے زائد ملبہ جمع ہوچکا ہے۔ اس ملبے میں لوہے اور کنکریٹ جیسے دوبارہ قابلِ استعمال مواد کے ساتھ انسانی باقیات، غیر پھٹے ہوئے بم اور قانونی شواہد بھی موجود ہوسکتے ہیں۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق 2مارچ کے بعد اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 4381 افراد شہید اور12402 زخمی ہوچکے ہیں۔ وزارت کے مطابق 8 اکتوبر 2023ء سے لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں میں مجموعی طور پر8940 افراد شہید اور 30619زخمی ہوئے ہیں۔
l فلسطینی وزارتِ تعلیم نے غزہ میں نئے تعلیمی سال کے لیے تقریباً 700 مستقل تعلیمی مراکز اور25 عارضی سکول قائم کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ طلبہ کے لیے باقاعدہ تعلیم 19 ستمبر سے شروع کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ مستقل تعلیم سے محروم رہنے والے بچوں کے لیے آن لائن تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا۔ تقریباً 5لاکھ 41 ہزار طلبہ کو اس تعلیمی پروگرام سے فائدہ پہنچانے کا ہدف ہے۔نئے تعلیمی سال کے آغاز پر مغربی کنارے میں2537 سکولوں نے تقریباً 8 لاکھ 46 ہزار طلبہ و طالبات کے لیے اپنے دروازے کھول دئیے ہیں، تاہم فوجی چھاپوں، راستوں کی بندش اور سکولوں کی مسماری کے خطرات کے باعث تعلیمی نظام کو بدستور مشکلات کا سامنا ہے۔ نابلس کے حوارہ اور برقا سکولوں میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث تدریسی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ بیلجیئم کی وزیرِ پناہ گزین و ہجرت اینلین فان بوسویٹ نے تصدیق کی ہے کہ حکومت نے غزہ کے 13 فلسطینی طلبہ کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے، حالانکہ اُن کے پاس ویزے اور تعلیمی وظائف موجود ہیں۔
l ڈاکٹر عبدالرحمٰن زکی حمد نے کہا ہے کہ غزہ اور فلسطین کے موجودہ حالات نے جنگ، محرومی، مزاحمت اور تلخ تجربات کے درمیان پروان چڑھنے والی ایک نئی نسل کو جنم دیا ہے اور موجودہ حالات آئندہ نسل کی سوچ، ترجیحات اور مستقبل کے تصور پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔جبکہ اسلامک ریسرچ سینٹر کے بانی ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا ہے کہ غزہ کی صورتحال نے دنیا پر اسرائیل کے اثر و رسوخ کو نمایاں کردیا ہے۔
مسلم دنیا سے متعلق دیگر ممالک کی اہم خبریں

l ایران: معاشی دباؤ کا مقابلہ، آبنائے ہرمز پر سخت مؤقف: ایرانی حکومت نے امریکی پابندیوں اور جنگی حالات کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات تیز کرتے ہوئے وزارتِ معیشت کے تحت خصوصی ’’اقتصادی جنگ‘‘ ہیڈکوارٹر قائم کردیا ہے، جس کا مقصد کاروبار، تجارت، مالی معاملات اور دیگر شعبوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا فوری حل تلاش کرنا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی مزید حملے کا جواب پہلے سے زیادہ تیز اور شدید ہوگا، تاہم اصل جنگ پیداوار، روزگار، مہنگائی، کرنسی کی قدر اور مارکیٹ مینجمنٹ کے محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہے۔ حکومت نے ماہانہ 110 لیٹر سے زیادہ پٹرول استعمال کرنے والوں کے لیے قیمت 5 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار تومان فی لیٹر کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ 110لیٹر تک استعمال کرنے والوں کے لیے قیمت برقرار رہے گی۔ ادھر امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ باضابطہ طور پر ختم کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں، تاہم دوسری جانب پینٹاگون خطے میں امریکی فوجی تعیناتی بڑھانے کی حکمت عملی پر بھی عمل پیرا ہے۔
l ترکیہ: طیارہ بردار جہاز سمندر میں اتارنے کا اعلان: ترکیہ نے 27 ستمبر 2027ء کو اپنا پہلا طیارہ بردار بحری جہاز سمندر میں اتارنے کا اعلان کیا ہے، جو بیک وقت بغیر پائلٹ طیاروں، بحری اور زیرِ آب گاڑیوں کی تعیناتی کی صلاحیت رکھے گا۔
l بھارت:20 مدارس بنداور قدیم مسجد شہید: ریاست اتراکھنڈ میں انتظامیہ نے مدارس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مزید تین مدارس سیل کر دئیے، جبکہ ریاست میں مکمل طور پر بند کیے گئے مدارس کی تعداد 20 ہوگئی ہے۔ اترپردیش کے شہر سہارنپور میں انتظامیہ نے تقریباً 70 سال پرانی مسجد کو عدالتی حکم کے بعد شہید کردیا۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے اقدام کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے ۔
l آسٹریا: طالبات کے اسکارف پر پابندی: 14 سال سے کم عمر طالبات کے اسکارف پہننے پر پابندی کا قانون نافذ ہوگیا ہے۔ خلاف ورزی پر 800 یورو تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔ جبکہ مسلم نمائندہ تنظیم نے قانون کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
l سعودی عرب: امریکہ سے 5 ارب ڈالر کے بم خریدنے کی منظوری: امریکہ نے سعودی عرب کو پانچ ارب ڈالر مالیت کے جدید بم فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق سعودی عرب کو 750 ملین ڈالر مالیت کے ٹینک انجن بھی فروخت کیے جائیں گے۔ امریکہ نے عمان کو ایف سولہ طیاروں سے متعلق 188 ملین ڈالر کی خدمات اور عراق کو 150 ملین ڈالر مالیت کے ہیلی کاپٹرز کی فروخت کی بھی منظوری دی ہے۔
l عراق: تیل برآمد کرنے کی صلاحیت میں اضافہ : عراق نے خام تیل برآمد کرنے کی یومیہ صلاحیت 30 لاکھ بیرل سے بڑھا دی ہے اور اسے 50 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ واضح رہے کہ عراق کے ثابت شدہ تیل کے ذخائر تقریباً 145 ارب بیرل ہیں۔