(دعوت و تحریک) ختم ِنبوت کے دو مفہوم - ڈاکٹر اسرار احمد

11 /

ختم ِنبوت کے دو مفہوم

ڈاکٹر اسرار احمد

ختم نبوت کے یہ دو مفہوم کیا ہیں‘ اس کو آپ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ ہماری اپنی زبان اردو میں بھی ختم کے دو مفہوم ہیں۔ مثلاً ’’پیسے ختم ہو گئے‘‘ یعنی پہلے پیسے تھے‘ اب نہیں رہے۔ کسی شے کا پہلے وجود تھا‘ اب نہیں ہے۔ یا پنجابی میں کوئی کہے کہ ’’دانے مک گئے‘‘ یعنی پہلے گندم یا کوئی اور جنس تھی‘ اب نہیں ہے۔یہ ختم نبوت کا ایک مفہوم ہے کہ وہ نبوت جو حضرت آدم ں سے چلی آ رہی تھی (اس لیے کہ پہلے نبی حضرت آدمؑ تھے) وہ ختم ہو گئی۔   محمد رسول اللہﷺ کے بعد اب کوئی نبی نہیں۔ لیکن ختم کاایک دوسرا مفہوم بھی ہے۔ آپ کو معلوم ہے سکول کا طالب علم کہتا ہے: ’’میں نے اپنا ہوم ورک ختم کر لیا ‘‘۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اپنا کام مکمل کر لیا‘پورا کر لیا۔ ختم کا یہ دوسرا مفہوم ہے جس کی رو سے نبوت اور رسالت حضورﷺ پر کامل ہوئی۔
ذرا نوٹ کیجئے‘ پہلا مفہوم اپنی جگہ پر ایک واقعہ ہے‘ حقیقت ہے‘ لیکن اس میں فضیلت کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ ایک زنجیر چلی آ رہی تھی‘ آتے آتے ختم ہو گئی‘ تو اس کی آخری کڑی میں فضیلت کا کیا مفہوم ہوا؟ اس اعتبار سے حضورﷺ کی عظمت کا کوئی پہلو سامنے نہیں آتا۔ بلکہ آپ ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ نبوت رحمت ہے‘ نبوت تو نوعِ انسانی کی ہدایت کا ایک سلسلہ تھا۔ چنانچہ جہاں سے وہ شروع ہوئی اس کی فضیلت زیادہ ہونی چاہیے بنسبت اس کے کہ جہاں آکر وہ ختم ہو گئی۔ اس اعتبار سے حضورﷺ کی عظمت کا کوئی انکشاف نہیں ہوتا۔ حضورﷺ کی عظمت اور فضیلت کا پہلو تو اس اعتبار سے ہے کہ نبوت آپٖؐ پر کامل ہو گئی‘ رسالت کی آپؐ پر تکمیل ہو گئی۔
یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں قرآن مجید اور حدیث شریف میں حضورﷺ کے ضمن میں خاص طور پر تکمیل‘ اِکمال‘ اِتمام اور تتمیم جیسے الفاظ بکثرت استعمال ہوئے ہیں۔{اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَـکُمْ دِیْنَکُمْ}’’آج کے دن ہم نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا‘‘۔ { وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ} ’’اور تم پر اپنی نعمت کا اِتمام فرما دیا‘‘۔{وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاط}(المائدۃ:3) ’’اور اب (قیامت تک کے لیے) اسلام کو تمہارے لیے بطورِ دین پسند کر لیا‘‘۔ اسی طرح قرآن حکیم میں دو مرتبہ یہ الفاظ آئے ہیں : {وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ(8)} (الصف) ’’اللہ اپنے نور کا اِتمام فرما کر رہے گا چاہے یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو‘‘ ۔اور{وَیَاْبَی اللّٰہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ(32)} (التوبہ) ’’اللہ کو ہرگز یہ منظور نہیں مگر یہ کہ وہ اپنے نور کا اِتمام فرما کر رہے گا ‘ چاہے یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو‘‘۔ اسی طرح حدیث میں آتا ہے: ((اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُ تَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ)) ’’مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اخلاق کے جو بلند مقامات ہیں ان کا اِتمام کر دوں‘‘۔ تو آپ دیکھ رہے ہیں کہ اکمال‘ تکمیل‘ اتمام اور تتمیم ‘ یہ الفاظ کثرت کے ساتھ حضرت محمد رسول اللہ ﷺکی نبوت و رسالت اور آپؐ:کی بعثت کے ضمن میں آ رہے ہیں۔ آنحضورﷺ کی اصل فضیلت اسی اعتبار سے ہے اور آپؐ:کی نبوت کی عظمت کا انکشاف اسی پہلوسے ہوتا ہے۔ یوں سمجھئے کہ ایسا نہیں ہے کہ ایک فصیل جس کی اونچائی برابر تھی چلی آ رہی تھی اور ایک جگہ آ کر ختم ہو گئی۔ یہ ختم نبوت کا پہلا مفہوم ہے۔ دوسرا معاملہ یہ ہے کہ ایک چیز تدریجاً ترقی کرتے کرتے اپنے نقطہ ٔ :عروج کو پہنچی اور ختم ہو گئی۔ ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
ختم نبوت کا جو پہلا مفہوم ہے اس کی قانونی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اس لیے کہ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حضورﷺ کے بعد اگر کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو وہ کذاب‘ دجال ‘جھوٹا اور کافر ہے ‘اور جس کسی نے بھی اس کی تصدیق کی‘ اس کو مان لیا وہ بھی دائرئہ اسلام سے خارج اور مرتد شمار ہو گا۔ یہ اس کی قانونی اہمیت ہے۔ کوئی شخص مسلمان رہا یا نہیں رہا‘ یہ تو بڑا اہم مسئلہ ہے جس کی حیثیت قانونی ہے۔ اگر کسی نے حضورﷺ کے بعد کسی نبی کی نبوت کا اقرار کر لیا یا خود اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تو وہ مرتد ہے‘ واجب القتل ہے‘ اس کی بیوی کا اس سے نکاح ختم ہو گیا۔یہی وجہ ہے کہ ختم نبوت کے اس مفہوم پر علماء کرام نے بڑی تفصیل سے گفتگوئیں اور تقاریر کیں‘ خطبات دیئے‘ اور تصانیف تحریر کیں۔ ا س موضوع پر مولانا سید انور شاہ کاشمیریmکی کتاب میرے نزدیک حرف آخر ہے‘ جس پر کوئی اضافہ نہیں ہو سکتا۔ 
ختم نبوت کا دوسرا مفہوم کہ حضورﷺ پر نبوت اور رسالت کی تکمیل ہوئی ہے‘ چونکہ اس کی کوئی قانونی اہمیت نہیں تھی لہٰذا اس پر کماحقہ توجہ نہیں ہوئی۔ اس پہلو کو نمایاں کرنا درحقیقت اصل موضوع ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ علماء کرام کی تقاریر میں ختم نبوت پر گفتگو ہوتی ہے تو قرآن مجید کی یہی ایک آیت پیش کی جاتی ہے: {مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَـآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖیْنَ ط} (الاحزاب:40) ’’(اے مسلمانو! حضرت) محمد (ﷺ )  تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں‘ مگر وہ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کی مہر ہیں‘‘۔ حضرت زید بن حارثہص کو اگر حضورﷺ نے منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا تو واضح کیا جا رہا ہے کہ منہ بولا بیٹا کوئی حقیقت نہیں رکھتا‘ورنہ آپؐ :کسی مرد کے والد نہیں ہیں ----آپ کو اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں بیٹے دئیے بھی لیکن وہ جلد ہی فوت ہو گئے۔ آپﷺ :کی عمر کے آخری دَور میں بھی حضرت ماریہ قبطیہk کے: بطن سے حضرت ابراہیم کی ولادت ہوئی ‘ وہ بھی بچپن ہی میں فوت ہو گئے لیکن آپؐ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کی مہر ہیں۔ یعنی مہر لگ گئی اور یہ راستہ بند ہو گیا۔ یہاں سے اب کسی اور نبوت کے اِجرا کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ 
غور کیجئے کہ یہ آیت کس سیاق و سباق میں آئی ہے۔ عرب میں ہمیشہ سے ایک رواج چلا آ رہا تھا اور یہ ان کی تہذیب و ثقافت کا جزوِ لازم تھا کہ کسی کااگر منہ بولا بیٹا ہے اور اس کا انتقال ہو گیا یا اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو منہ بولے بیٹے کی بیوہ یا مطلقہ بیوی سے وہ شخص کبھی نکاح نہیں کر سکتا۔ وہ گویا حرامِ مطلق ہے۔ شریعت میں یہ حکم نہیں ہے۔ شریعت میں صلبی بیٹے کی بیوی حرامِ مطلق ہے۔ وہ بیوہ ہو جائے یا مطلقہ ہو جائے تو باپ اس سے شادی نہیں کر سکتا۔ وہ محرماتِ ابدیہ میں سے ہے ‘لیکن منہ بولے بیٹے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ ا س رسم کو توڑنے کے لیے اگر خود حضورﷺ اس پر عمل نہ کرتے تو کسی طرح بھی یہ صورت ختم نہیں ہو سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت زینب ؓ کو جب زیدبن حارثہ صنے طلاق دے دی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت زینبؓ کا حضور ﷺ کے ساتھ آسمان پر نکاح کر دیا۔ زمین پر یہ نکاح بعد   میں ہوا ہے  ---- یہاں فرمایا کہ اب اگر حضرت محمد رسول اللہﷺ یہ کام (یعنی اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح) نہ کرتے تواس غلط رسم کی اصلاح کی کوئی شکل نہ ہوتی‘اس لیے کہ آپؐ کے بعد تو کوئی نبی آنے والا ہے نہیں۔ چنانچہ ختم نبوت کا جو قانونی مفہوم ہے اس کے اعتبار سے یہ متعلقہ آیت ہے‘ اس میں کوئی شک نہیں‘ لیکن میں نے جو دوسری آیات تلاوت کی ہیں‘ وہ ختم نبوت کے دوسرے مفہوم کے اعتبار سے اہم ہیں۔ یعنی آپﷺ کی فضیلت اور آپؐ:کی عظمت والا مفہوم کہ آپؐ پر رسالت اور نبوت کی تکمیل ہوئی ہے۔ ان آیات پر گفتگو بعد میں ہو گی ۔ پہلے میں چاہتا ہوں کہ ختم نبوت کے جو   دو مفاہیم میں نے بیان کیے ہیں‘ ان کے اعتبار سے ہم بعض احادیث نبویہؐ:کا مطالعہ کر لیں۔
 (۱) جامع ترمذی اور سنن ابی دائودمیں حضرت ثوبان ص سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :
(( اِنَّہٗ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ ثَـلَاثُوْنَ کَذَّابُوْنَ‘ کُلُّھُمْ یَزْعُمُ اَنَّہٗ نَبِیٌّ‘ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ  لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ)) ’’میری اُمت میں تیس افراد ایسے اٹھیں گے جو کذاب (انتہائی جھوٹے) ہوں گے‘ ان میںسے    ہر شخص اپنے بارے میں یہ گمان کرتا ہو گا کہ وہ نبی ہے‘ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں‘ اب میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘
اس حدیث میں اس قانونی مفہوم کو بہت ہی عمدگی کے ساتھ واضح کر دیا گیا کہ اگرچہ دجال اٹھیں گے‘ نبوت کے جھوٹے مدعی پیدا ہوں گے‘ لیکن میں آخری نبی ہوں۔حضورﷺ کے اپنے زمانے میں مدعیانِ نبوت اُٹھ گئے تھے‘ پھر اس دور میں تو ان کی رفتار بڑی تیز ہو گئی ہے‘ آخری زمانہ آ رہا ہے‘ تیس کی تعداد اب پوری ہونی ہے۔ بہاء اللہ ایران میں اٹھا‘ غلام احمد قادیانی ہندوستان میں اٹھا‘ ابھی آپ کے ہاں ایک یوسف کذاب سامنے آیا تھا جس کو ایک شخص نے ساہیوال جیل میں گولی مار دی ہے‘ وہ بھی کہتا تھا کہ میں محمدؐ ہوں‘ معاذ اللہ‘ ثم معاذ اللہ‘ ثم معاذ اللہ… پچھلے دنوں خبر آئی تھی کہ ملتان میں کسی نے نبوت کا دعویٰ کر دیا ہے۔ وہ گرفتار کیا گیا ہے اور اُس پر مقدمہ چل رہا ہے۔ یہاں حضورﷺ نے فرما دیا کہ میری اُمت میں تیس افراد ایسے ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے مگر وہ جھوٹے ہوں گے‘ حقیقت یہ ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
(۲) بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ صسے مروی ہے کہ رسول اللہ:ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’قیامت اُس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تیس کے قریب ایسے افراد نہ اٹھا دئیے جائیں جو دجال ہوں گے‘ کذاب ہوں گے‘ ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔‘‘ (متفق علیہ)
(۳) حضرت ابوہریرہ ص ہی سے مروی اس مفہوم کی حدیث سنن ابی دائود میں بایںالفاظ آئی ہے : 
((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَخْرُجَ ثَـلَاثُوْنَ دَجَّالُوْنَ‘ کُلُّھُمْ یَزْعُمُ اَنَّہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ)) ’’قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ تیس دجال ظاہر نہ ہو جائیں‘ جن میں ہر شخص یہ کہے گا اور سمجھے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔‘‘
یہ تین حدیثیں ختم نبوت کا قانونی مفہوم دوٹوک انداز میں بیان کر رہی ہیں کہ محمدرسول اللہ:ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ 
ایک اور حدیث ملاحظہ کیجئے۔ اس میں تکمیل نبوت کا تصور آ رہا ہے‘ یہ بڑی پیاری حدیث ہے۔ یہ حدیث بھی حضرت ابوہریرہ ص سے مروی ہے اور اس کی سند بہت قوی ہے۔ یہ متفق علیہ حدیث ہے‘ یعنی بخاری اور مسلم دونوں میں موجود ہے۔ حضورﷺ فرماتے ہیں:
’’یقیناً میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے ایک عالیشان عمارت تعمیر کی‘ اس نے اس عمارت کو بہت عمدہ اور خوبصورت بنایا‘سوائے اس کے کہ اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ پھر لوگ آ کر اس عمارت کے چکر لگانے لگے اور (اس کی خوبصورتی اور عظمت ِشان پر) تعجب کا اظہار کرنے لگے۔ اور لوگ کہتے :  بھلا یہ اینٹ کیوںنہ لگائی گئی؟ آپﷺ نے فرمایا : وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔‘‘
مسلم کی ایک روایت میں الفاظ آئے ہیں: ((فَاَنَا مَوْضَعُ اللَّبِنَۃِ ‘ جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْاَنْبِیَائَ)) ’’پس اُس اینٹ کی جگہ (مکمل کرنے والا) میں ہوں‘ میںآیا تو میں نے انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا۔‘‘
ایک حدیث میں یہ الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں: ((خُتِمَ بِیَ الْبُنْیَانُ وَخُتِمَ بِیَ الرُّسُلُ)) ’’میرے ذریعے سے اس عمارت (قصر رسالت) کی تکمیل ہو گئی اور مجھ پر رسولوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔‘‘
اب یہاں محل اور محل میں ایک کمی اور اس کمی کا آپﷺ کے ذریعے پورا ہو جانا‘ یہ ہے تکمیل نبوت و رسالت کا معاملہ۔ 
 ختم نبوت کے قانونی تقاضے
ختم نبوت کا یہ پہلو کہ جس شخص نے بھی حضورﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا ہے یا کرے گا‘ وہ کذاب ‘ دجال‘ جھوٹا‘ کافر‘ مرتداور واجب القتل ہے‘ یہ اس کا قانونی تقاضا ہے۔ چنانچہ عالم اسلام میں اس سے پہلے جب بھی کسی نے ایسا دعویٰ کیا تو جب تک مسلمانوں کی حکومتیں تھیں‘ ایسے افراد کو قتل کر دیا گیا۔ آپ کو معلوم ہے کہ حضورﷺ کے فوراً بعد مسیلمہ کذاب اور جو دوسرے بڑے بڑے مدعیانِ نبوت اُٹھ کھڑے ہوئے تھے‘ اُن کے خلاف جہاد کیا گیا اور انہیں تہ تیغ کیا گیا۔ ایران میں علی محمد باب اٹھا تو وہاں چونکہ مسلمانوں کی حکومت تھی لہٰذا اُسے قتل کر دیا گیا۔ پھر اُس کے مرید بہاء اللہ نے نبوت کا دعویٰ بھی کیا اور خدا   کا ظہور (Manifestation of God)  ہونے کا بھی۔ بہاء اللہ کی موت اگرچہ طبعی ہوئی لیکن سرکاری طور پر ایران سے بہائیت کا تقریباً خاتمہ کردیا گیا۔ اب بھی کوئی بہائی ایران میں نہیں رہ سکتا‘ سب وہاں سے بھاگ چکے ہیں‘ کوئی وہاں آئے گا تو قتل کر دیا جائے گا۔ لیکن بدقسمتی سے غلام احمد قادیانی کے دعوائے نبوت کے وقت ہندوستان میں انگریز کی حکومت تھی‘ لہٰذا ہر شخص کو کھلی چھوٹ تھی۔ اکبر الٰہ آبادیؒ نے بڑے خوبصورت الفاظ میں وہ نقشہ کھینچاہے:
گورنمنٹ کی خیر یارو منائو
گلے میں جو آئیں‘ وہ تانیںاڑائو
کہاں ایسی آزادیاں تھیں میسر
’’انا الحق‘‘ کہو اور پھانسی نہ پائو!
اگراسلامی حکومت ہوتی یا مسلمان حکومت ہی ہوتی تومرزا کو یہ جرأت نہ ہوتی۔ مسلمان حکومتوں کے دوران جس نے ’’انا الحق‘‘ کہا (منصور) وہ سولی چڑھا دیا گیااور جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا وہ قتل کر دئیے گئے ‘ لیکن یہاں انگریز کی حکومت تھی‘ جس میں کھلی چھوٹ تھی کہ چاہو تو خدائی کا دعویٰ کر دو‘ نبوت کا دعویٰ کر دو‘ رسالت کا دعویٰ کر دو‘ کوئی پوچھنے والا نہیں‘ کوئی پکڑنے والا نہیں‘ کسی دار و گیر کا کوئی اندیشہ ہی نہیں۔ اسی زمانے میں غلام احمد قادیانی نے ایک دعوتی خط امیرکابل کو لکھا کہ وہ اس کی نبوت پر ایمان لائیں۔ جب وہ خط وہاں پہنچا تو امیر کابل نے اسی خط پر دو الفاظ لکھ کر خط واپس کر دیا : ’’ایں جا بیا!‘‘ یعنی ذرا یہاں آئو! یہاں آ کر تم نبوت کا دعویٰ کرو تو پتا چل جائے کہ کس بھائو بکتی ہے۔ تم انگریز کی چھتری تلے بیٹھے ہوئے دعوے کر رہے ہو اور انگریز تمہاری پشت پناہی کر رہا ہے۔ تم نے جہاد کو ختم کر دیا‘ حرمت ِقتال کا فتویٰ دے دیا۔ انگریز کو اور کیا چاہیے؟ Glad Stone جبکہ برطانیہ کا وزیر اعظم تھا ‘اُس نے اپنی پارلیمنٹ میںقرآن کو لہرا کر کہا تھا کہ جب تک یہ کتاب موجود ہے دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا‘ یہ تو جہاد اور قتال کی بات کرتی ہے۔ تو انگریز کو اور کیا چاہیے تھا کہ اگر کوئی اس قتال کو منسوخ کر دے اور مسلمانوں میں سے جذبہ ٔجہاد و قتال فی سبیل اللہ کو نکال دے تو اس سے بڑی اور کیا خدمت ہو گی! امیر کابل کے دولفظی جواب میں یہ پیغام مضمر تھا کہ اگر تمہیں یہ دعوت دینی ہے تو ذرا یہاں آ کر مجھے دعوت دو تاکہ تمہارے چودہ طبق روشن ہوں اور تمہیں معلوم ہو کہ اس دعویٰ کرنے کا مطلب کیا ہے!
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم پر اللہ کا بڑا کرم ہوا تھا کہ اس ملک میں1974ء میں قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت قرار پانے کا فیصلہ ہوا۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ بہت ہی مبارک فیصلہ تھا۔ اس کے لیے جو تحریک اٹھی وہ بھی بہت ہی عمدہ تھی‘ بہت پرامن تھی‘ بہت منظم تھی۔ مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اس کے قائد تھے۔ کوئی سیاسی لیڈر اس میں نمایاں نہیں تھا‘ خالص دینی تحریک تھی۔ پھر اُس وقت ہمارے ہاں حکمران ذوالفقار علی بھٹو تھا جو خالص سیکولر ذہن کا آدمی تھا‘ اور قادیانیوں نے1970ء کے الیکشن میں اُس کی حمایت کی تھی۔ قادیانی سمجھتے تھے کہ وہ تو ہمارا اپنا آدمی ہے ‘لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھوں بہترین طریقے سے‘ جس پر اعتراض کیا ہی نہیں جا سکتا‘ پارلیمنٹ کے ذریعے سے فیصلہ کرایا۔ کوئی آرڈی نینس ‘ کوئی حکم یا فرمان جاری نہیں ہوا تھا۔ پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی بنائی گئی اور قادیانیوں اور لاہوریوں کو اپنا موقف کھل کر پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ ان دونوں گروہوں کے سرکردہ لوگوں نے اس کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر بیانات دئیے اور وضاحت سے اپنا موقف بیان کیا ۔اُس وقت ان کا خلیفہ مرزا طاہر احمد کا غالباً بڑا بھائی مرزا ناصر احمد تھا‘ اس نے کہا کہ غلام احمد قادیانی کو ہم ڈنکے کی چوٹ پر نبی مانتے ہیں۔ لہٰذا اس کے بعد پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا کہ یہ غیر مسلم ہیں۔ 
یہ ایک صحیح فیصلہ تھا‘ لیکن یہ فیصلہ ادھورا تھا۔ اس لیے کہ اس فیصلے سے قادیانیت کے فتنے کو کوئی گزند نہیں پہنچا ہے۔ غیر مسلم قرار دئیے جانے کے فیصلے کے باوجود وہ فتنہ جوں کا توں پنپ رہا ہے‘ جوں کا توں پھیل رہا ہے اور اپنے سرطان کی جڑیں ہمارے معاشرے میں پھیلا رہا ہے۔ ویسے تو عالمی سطح پر انہیں بڑی سرپرستی حاصل ہو گئی ہے‘ پوری مغربی دنیا ان کی سرپرستی کر رہی ہے‘ لیکن اندرونِ ملک بھی اس فتنے کا قلع قمع اگر ہو سکتا تھا تو صرف اُس وقت جبکہ اس فیصلے کا جو قانونی اور منطقی تقاضا ہے‘ وہ بھی پورا کیا جاتا‘ اور وہ یہ کہ مرتد کی سزا قتل نافذ کی جاتی۔ اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ص کے زمانے میں مدعیانِ نبوت سے قتال کیا گیا‘ اور اسلامی تاریخ میں جتنے بھی لوگوں نے نبوت کے دعوے کیے انہیں ہمیشہ قتل کیا گیا۔ لہٰذا مرتدین کی سزا قتل جب تک نافذ نہیں ہو گی ‘ اس فتنے کو کوئی گزند نہیں پہنچے گا‘ بلکہ وہ تو اس فیصلے کے بعد اپنے آپ کو مظلوم سمجھتے ہیں اور دنیا کے سامنے مظلوم   کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں ۔ آپ جتنے چاہیں  آرڈی نینس نافذ کر لیں لیکن وہ سارے اسلامی شعائر استعمال کرتے ہیں۔ ان کے ہاں جمعہ کی نماز ہوتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ مسجد کی شکل نہیں بنا سکتے‘ ماڈل ٹائون میں ایک بڑی کوٹھی کے اندر اُن کا جمعہ ہوتا ہے ‘ان کے عید کے اجتماعات ہوتے ہیں۔وہ سارے شعائر اسلامی کو استعمال کر رہے ہیں اور الٹا مظلومیت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے‘ جیسے دنیا میں یہودیوں نے Holocaustکی مظلومیت کا لبادہ اپنے اوپر اوڑھا ہوا ہے کہ ہم جو چاہیںنوعِ انسانی پر ظلم کر لیں یہ ہمارا حق ہے‘ اس لیے کہ ہم نے Holocaust کی صورت میں بہت بڑا ظلم سہا تھا۔ جرمنوں نے ہمارے ساٹھ لاکھ آدمی ختم کر دیے تھے‘ تو ہم اگر آٹھ‘ دس لاکھ فلسطینی اور دوسرے مسلمانوں کو قتل کر دیں گے تو کون سی بڑی بات ہے؟ اسی طرح قادیانیوں نے مظلومیت کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جس روز بھی یہ فیصلہ ہوا‘ ساتھ ہی واضح کر دیا جاتا کہ آج کی اس تاریخ سے پہلے پہلے جو قادیانی ہیں وہ تو اقلیت قرار پائیں گے‘ لیکن اس فیصلے کے نفاذ کے بعد جو شخص بھی قادیانیت اختیار کرے گا اس پر قتل مرتد کی حد جاری کی جائے گی۔ جب تک یہ نہیں ہو گا اس فتنے کا استیصال تو دور کی بات ہے‘ اس کو کوئی گزند بھی نہیں پہنچ سکتا۔