(زمانہ گواہ ہے) ’’مکہ معظمہ پر ڈرون حملہ‘‘ - محمد رفیق چودھری

11 /

اس وقت محض دفاعی معاہدوں سے زیادہ مُسلم اتحاد بنانے کی

ضرورت ہے تاکہ مسلم ممالک کے درمیان جاری کشیدگیوں 

کو کم کیا جاسکے ، اگر آپس میں اُلجھتے رہے تو اسرائیل

اور امریکہ فائدہ اٹھائیں گے :رضاء الحق

مکہ معظمہ پر ڈرون حملے کی حوثیوں نے تردید کی ہے۔

وقت کی اہم ضرورت ہے کہ حوثیوں اور سعودی عرب کے

مابین صلح کروائی جائے تاکہ اسرائیل کو رخنہ ڈالنے کا

موقع نہ مل سکے:ڈاکٹر فرید احمد پراچہ

’’مکہ معظمہ پر ڈرون حملہ‘‘

پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا اظہار خیال

میز بان : وسیم احمد

مرتب : محمد رفیق چودھری

سوال:یمن کے حوثیوں کی طرف سے مبینہ طور پر سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں ڈرون اٹیک کیا گیا ہے جسے خوش قسمتی سے انٹرسیپٹ کر لیا گیا اور کسی بھی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ۔ اس پر آپ کیا کہیں گے؟
ڈاکٹر فریداحمد پراچہ: مکہ مکرمہ صرف سعودی عرب کا شہر نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مقدس شہر ہے ۔ مکہ ہمارے دلوں اور روحوں کا شہر ہے ، اس لیے اس پر اگر کوئی حملہ کرتا ہے تو وہ پورے عالم اسلام پر حملہ ہے ۔ جیسے پہلے ایک بارحرم پر قبضہ ہوا تھا تو دنیا نے دیکھ لیا تھا کہ مسلمان ہر چیز برداشت کرلیتے ہیںمگر حرمین شریفین پر آنچ کبھی برداشت نہیں کرتے ۔ اب جو حملہ ہوا ہے اس کے بعد بھی پورا عالم اسلام مضطرب ہے ۔حوثیوں نے حملے کی تردید کر دی ہے۔ حالانکہ سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی جاری ہے ، جگہ جگہ ڈرون حملے ہو رہے ہیں ، کسی جگہ انہوں نے تردید نہیں کی لیکن یہاں اُنہوں نے کہا کہ یہ حملہ ہم نے نہیں کیا ۔ اس سے ظاہر ہے مسلمان چاہے کسی بھی فرقے کا ہو اور جتنی بھی سعودی عرب سے دشمنی ہو وہ کبھی حرمین شریفین پر حملہ نہیں کر سکتا ۔ اسرائیل کی یہ کوشش تھی کہ ایران اور عربوں کے مابین فرقہ وارانہ جنگ چھڑ جائے تو اب اس میں وہ کامیاب ہوتا ہوانظر آرہا ہے ۔ ایران امریکہ جنگ کے دوران بھی کئی ڈرون حملے ایسے ہوئے جن کی ایران نے تردید کی ۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ اسرائیل خود ایسے حملے کرکے مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان اور سعودی عرب کا ایک معاہدہ بھی ہے ۔ حرمین شریفین کی حفاظت کی جائے گی اور کوئی بھی ایسی مذموم کوشش کامیاب نہیں ہوگی ۔ ان شاء اللہ !اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین جنگ کوکوشش کرکے روکا جائے تاکہ اسرائیل کو رخنہ ڈالنے کا موقع نہ مل سکے ۔
سوال: مکہ مکرمہ پر حملہ پورے عالم اسلام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے ۔ حملے کا سنتے ہی ہر مسلمان کا دل مکہ مکرمہ کی جانب کھنچ رہا ہے ۔جب حوثیوں کی جانب سے تردید آگئی تو اس کے بعد ہم کیا سمجھیں کہ یہ حملہ کسی گریٹ گیم کا حصہ تھا ؟
رضاء الحق: حرمین شریفین تو مسلمانوں کی ریڈ لائن ہے اور کوئی بھی مسلمان اس کو کراس کرنے کی کوشش نہیں کر سکتا ۔ سب کے علم میں ہے حوثیوں کی پشت پناہی ایران کر رہا ہے ۔ پہلے بھی جب مکہ مکرمہ پر میزائل حملوں کی خبریں گردش کرتی تھیں تو حوثیوں نے اس وقت بھی تردید کی تھی ۔ اگر مکہ پر حملوں کی ان کوششوں کے تانے بانے تلاش کیے جائیں تو وہ جاکر دجال کے لشکر کے ساتھ ملتے ہیں کیونکہ احادیث میں بھی یہ خبریں ہیں کہ حرمین شریفین پر حملے کی کوشش سوائے لشکرِ دجال کے کوئی اور نہیں کرے گا ۔ حوثی بھی یہ جانتے ہیں کہ مکہ مکرمہ پر حملہ کرکے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اُلٹا نقصان پہنچے گا کیونکہ پورا عالم اسلام ان کے خلاف ہو جائے گا ۔ صرف اسرائیل ہی ایسا دشمن ہے جو چاہتا کہ مسلمان ایک دوسرے کے خلاف ہو جائیں اور اسرائیل کا پشت پناہ امریکہ ہے جس کی فالس فلیگ حملوں کے حوالے سے پوری ایک تاریخ ہے ۔ پرل ہاربر کا واقعہ ایک مثال ہے ۔ پھر نائن الیون کے بارے میں تو ہر کوئی جانتاہے کہ ایک فالس فلیگ حملہ تھا ۔ انڈیا بھی اسرائیل کا اتحادی ہے اور وہ بھی فالس فلیگ حملے کرتاہے ۔ گلف آف ٹونکن کا واقعہ جس میں امریکہ کا پورا جہاز ڈوب گیا تھا ، جب تحقیقات ہوئیں تو اسرائیل ملوث نکلا اور بعد میں اسرائیل نے تسلیم بھی کیا ۔ اب بھی ابلیسی اتحاد ثلاثہ یہی چاہتا ہے کہ شیعہ سنی فساد شروع ہو جائے اور جو تھوڑی سی اُمید پیدا ہوئی تھی کہ مسلم ممالک بھی آپس میں متحد ہو سکتے ہیں وہ بھی دم توڑ جائے ۔ کیونکہ مکہ معاہدہ جس میں پاکستان ، ترکیہ اور سعودی عرب شامل ہیں ، کوشش نظر آرہی تھی کہ ایران اور دیگر مسلم ممالک بھی اس میں شامل ہوجائیں ۔ یہ اسرائیل کو گوارا نہیں ہے ۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق محمد بن سلمان نے ٹرمپ کو مدد کے لیے فون کیا تو ٹرمپ نے مدد کو ابراہم اکارڈز سے مشروط کر دیا۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ مسلم ممالک مل کر سعودی عرب اور حوثیوں کی صلح کروائیں اور ایران بھی اس میں اپنا کردار ادا کرے اور سب مل کر مشترکہ دشمن کے خلاف مزاحمت کریں ۔ جس طرح حرمین شریفین ہمارے لیے محترم ہیں اسی طرح مسجد اقصیٰ بھی ہمارے لیے محترم ہے ، اس کی حفاظت بھی تمام مسلم ممالک کی ذمہ داری ہے ۔
سوال:نائن الیون کے واقعہ کو 25 سال ہوگئے ۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جو جنگ شروع ہوئی تھی ، آپ کے خیال میں وہ دہشت گردی کے خلاف تھی یا مسلم دنیا کی جغرافیائی، سیاسی اور معاشی تشکیل نو کا منصوبہ تھا؟
ڈاکٹر فریداحمد پراچہ:سردجنگ کے خاتمہ کے بعد جب دنیا یونی پولر ہوگئی اور امریکہ نے نیو ورلڈ آرڈر کا اعلان کر دیا تو اس کے بعد سے ہی مسلم دنیا کے خلاف جنگ کا آغاز ہو چکا تھا ۔ کہا گیا تھا کہ پہلے دنیا کو سرخ خطرہ تھا اب دنیا کو سبز خطرہ ہے ۔اِس سے قبل رچرڈ نکسن کی طرف سے اعلان ہوگیا تھا کہ جہادی اسلام اور پولیٹیکل اسلام دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔ ہنٹنگٹن کی کتاب ’’دی کلیش آف سولائزیشن‘‘ منظر عام پر آگئی جس میں اسلامی تہذیب کو مغربی تہذیب سے متصادم قراردیا گیا ۔ پھر فوکو یامہ کی کتاب ’’دی اینڈ آف ہسٹری‘‘ آگئی جس میں مغربی تہذیب کو حتمی تہذیب قراردیا گیاکہ اب اس کے علاوہ کوئی اور تہذیب دنیا میں گوارا نہیں ۔ یہ سارا سلسلہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کا اعلان تھا مگر اس وقت مسلم ممالک نے ، دینی حلقوں نے کوئی تیار ی نہیں کی ، نہ آپس میں منظم اور متحد ہونے کی ضرورت کو محسوس کیا ۔ نائن الیون کے واقعہ پر دنیا میں 210 کتابیں لکھی گئیں ، کئی ڈاکومنٹریز بنیں اور سب کا نچوڑ یہی تھا کہ یہ ایک ڈراما تھا ، پہلے سے منصوبے کے ساتھ باقاعدہ نزدیک اور دور کے کیمرے لگا کر پورا سین فلمایا گیا تھا ۔ اس دن ٹوئن ٹاورز میں یہودیوں کی تمام دوکانیں اور دفاتر بند تھے ۔جہاز ٹکرانے سے عمارت کا ایک حصّہ تباہ ہوتا ہے ، پوری عمارت پگھل کر نہیں گرجاتی ۔ پھر جہاز ٹکرانے سے پہلے ہی عمارت میں دھماکے ہوتے ہوئے ڈاکومنٹریز میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔ واقعہ کے فوراً بعد اسرائیلی وزیراعظم نے اعلان کردیا کہ یہ القاعدہ کی کارروائی ہے ۔ یہ سوالیہ نشان ہے کہ چند منٹ کے اندر کیسے تحقیقات ہوگئیں کہ واقعتاً القاعدہ ہی ملوث ہے ؟ پھر اس پورے واقعہ پر کوئی عدالتی کمیشن نہیں بنا ، حالانکہ امریکہ جیسی ریاست میں جہاں  انصاف اور قانون کی بالادستی کے دعوے کیے جاتے ہیںاور جہاں ٹیکنالوجی بے پناہ ہے ایسے جہازوں کا اُڑتے رہنا اور پھر عمارتوں سے ٹکرا جانا ممکن ہی نہیں ہے ۔ اتنے بڑے فیلیئر پر کسی بھی ذمہ دار کو سزا نہیں ہوئی ۔ 25 سالوں میں ان سوالوں کے جوابات سامنے نہیں آسکے ۔ صرف مسلمانوں کو ٹارگٹ بنانے کے لیے دونوں بڑی پارٹیوں کی مشترکہ رپورٹ میں یہ کہہ دیا گیا کہ یہ اسلامی دہشت گردی ہے ۔ اس کے بعد دنیا میں لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا ۔ صدر بش نے اعلان کیا صلیبی جنگیں شروع ہو گئی ہیں ۔ حالانکہ افغانستان کا کوئی فرد نائن الیون کے واقعہ میں ملوث نہیں تھا لیکن 40 ممالک نے متحد ہو کر افغانستان کو تباہ کر دیا گیا ۔ اسی طرح ویپن آف ماس ڈسٹریکشن کا جھوٹا افسانہ گھڑ کر عراق میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا ، جن میں5 لاکھ بچے بھی شامل تھے ۔ بعد میں معافی بھی مانگ لی گئی کہ WMDایک جھوٹ تھا ۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ مسلم ممالک نے اس کے باوجود بھی کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور اس کے باوجود بھی امریکہ پر بھروسا کرتے رہے ۔ حالانکہ واضح تھا کہ یہ جنگ مسلمانوں کے خلاف ہے اور اسی وجہ سے وہ نبی اکرم ﷺ کے توہین آمیز خاکے بھی شائع کرتے رہے ۔
سوال:نائن الیون سے لے کر آج تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ امریکہ سمیت عالمی طاقتیں کبھی اتنے بڑے انسانی نقصان پر نادم ہوں گی یا کوئی ذمہ داری قبول کرے گا ؟
رضاء الحق:نائن الیون سے ٹھیک 2 ماہ پہلے ایونجلسٹس کے میگزین دی فلاڈلفیا ٹرمپٹ کے ایڈیٹر جیرڈ فلوری نے اداریے میں یہ الفاظ لکھے تھے : 
"Most people think the crusades are a thing of the past over forever. But they are wrong. Preperations are being made for a final crusade and it will be the bloodiest of all!"
اگر کوئی آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم ہوتا تو وہ سوال اُٹھاتاتا کہ واقعہ سے دو ماہ پہلے جیرڈ فلوری کو کیسے پتہ چل گیا یہ ہونے والا ہے ؟ بہرحال مسلمانوں کا قتل عام تو پہلی جنگ عظیم سے ہی شروع ہوگیا تھا، وہ جنگ بھی خاص طور پر خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے لیے تھی ، اسی دوران 1917ء میں بالفورڈیکلیریشن پیش ہوا جس میں اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کیا گیا ، اس کے بعد سے مسلمانوں کا مسلسل قتل عام ہورہا ہے ۔ نائن الیون تو ایک بہانہ تھا اور ابھی ٹاورز مکمل طور پر گرے بھی نہیں تھے کہ عالمی میڈیا نے وارآن ٹیرر کا بیانیہ شروع کر دیا تھا ۔’’ وار آن ٹیرر‘‘ کے نام پر مسلمانوں کے خلاف جنگ کا آغاز افغانستان سے کیا گیا اور بدقسمتی سے پاکستان بیس کیمپ بنا ۔ہم نے 30 ارب ڈالر امریکہ سے لیے اور بدلے میں 90 ہزار مسلمانوں کو شہید کروایا اور تقریباً ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا نقصان بھی اُٹھایا ۔ پھر اس پرائی جنگ کی وجہ سے ہم نے اپنوں کو ہی ناراض کرلیا ۔ بھارت کو بھی موقع مل گیا اور اس نے افغانستان میں 18 قونصل خانے کھول کر پاکستان میں دہشت گردی شروع کردی اور آج بھی بلوچستان اور کے پی کے میں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے ۔ وار آن ٹیرر کے نام پر پوری دنیا میں ایک ملین کے قریب مسلمانوں کو شہید کیا گیا ۔ عراق پر اقوام متحدہ کی مخالفت کے باوجود حملہ کر دیا ۔ اس سے پہلے عراق کویت جنگ کے دوران جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تھا اور لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا تھااور معاشی پابندیوں کی وجہ سے لاکھوں بچوں اور بڑوں کی زندگیاں خطرے میں تھیں تو اس دوران امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ میڈلن البرائٹ سے کسی صحافی نے پوچھا کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے 6 لاکھ بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں ،ان تک ادویات نہیں پہنچ رہیں ، کیا یہ سب قابل قبول ہے ؟ اُس نے ایک سیکنڈ کا توقف کیے بغیر جواب دیا ۔ بالکل یہ قابل قبول ہے ۔ یعنی 6 لاکھ مسلمان بچوں کی زندگیاں امریکیوں کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتیں ۔ پھر عرب سپرنگ کے نام سے جو سلسلہ شروع کیا گیا اس کی وجہ سے لیبیا ، شام ، مصر ، لبنان اور عرب ممالک میں لاکھوں مسلمان شہید کیے گئے ۔ مصر میں اخوان المسلمون کی جمہوریت بھی انہیں قبول نہیں ہوئی اورفوجی بغاوت کے ذریعے لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ حالیہ برسوں میں غزہ ، لبنان اور ایران پر حملے کرکے لاکھوں  مسلمانوں کو شہید کیا گیا ۔ اتنے بڑے پیمانے پر مسلمانوں  کے قتل عام پر بھی نہیں کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی ۔ افغانستان سے انخلاء کے بعد جب امریکی سینٹ کمیٹی میں امریکی ڈیفنس چیف لائڈ اسٹن تھرڈ سمیت جرنیلوں سے سوالات کیے گئے تو امریکی نقصان کے بارے میں تو پوچھا گیا لیکن ایک ملین مسلمان جو اس جنگ میں شہید ہوئے ان کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ گویا کہ ایک ملین مسلمانوں کی جانوں کی ان کے ہاں کوئی قدرو قیمت نہیں ۔ اسی طرح اسرائیلی اپوزیشن لیڈرنفتالی بینٹ نے 2014ء میںکہا تھا کہ میں نے فلسطینیوں کو قتل کیا اور مجھے اس پر فخر ہے ۔ اس کے باوجود ہمارے مسلم ممالک ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ان کی مدد کریں گے ۔
سوال: نائن الیون کےبعد ان 25 سالوں میں مسلم دنیا نے کیا سبق سیکھا اور عالمی طاقتوں کے مقابلے میں کوئی مشترکہ سیاسی و دفاعی پالیسی اپنانے کی سوچ پیدا ہوئی؟  آپ کے خیال میں مسلمانوں کی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟
ڈاکٹر فریداحمد پراچہ:یہ المیہ ہے کہ مسلم دنیا ان 25 سالوں میں بھی منظم نہیں ہوسکی ۔ حالانکہ 57 مسلم ممالک ہیں ،تیل کی دولت ان کے پاس ہے ، بہترین افواج ہیں ، ہر طرح کے وسائل موجود ہیں ۔ اگر یہ آپس میں تجارتی معاہدے کریں تو انہیں عالمی طاقتوں پر انحصار کی ضرورت ہی نہ پڑے ۔ اس وقت امریکی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار سعودی عرب ہے ۔ ہم غیروں کی منڈی بنے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ یہی اسلحہ مسلم ممالک سے خریدا جا سکتا ہے ۔ ایران میں سخت پابندیوں کے باوجود روزانہ 300 ڈرون بن رہے ہیں ۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی فضائیہ نہیں بننے دی تو اس نے متبادل کے طور پر ڈرون ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرلی ۔ یہی ٹیکنالوجی مسلم ممالک آپس میں شیئر کر سکتے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان نے جوہری اسلحہ کی تیاری میں مہارت حاصل کرلی ہے ۔ ملائشیااور انڈونیشیا نے بھی کئی چیزوں خصوصاً معیشت میں ترقی کی ہے ۔ یہ سب مہارتیں عالم اسلام کی متاع بے بہا بن سکتی ہیں ۔ آپس میں انٹیلی جنس شیئرنگ کر سکتے ہیں ۔مسلم ممالک سے ماضی میں اس حوالے سے بہت سی کوتاہیاں ہو چکی ہیں لیکن ہماری آنکھیں کھل جانی چاہئیں ۔ اب تو امریکہ اور اسرائیل بھی کھل کر سامنے آگئے ہیں کہ کس طرح وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لیے فالس فلیگ حملے کر رہے ہیں ۔ تیل کے ذخائر ایران میں تباہ ہوں یا عرب ممالک میں تباہ ہوں وہ عالم اسلام کا ہی نقصان ہے ۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمارے فیصلے کون کروا رہا ہے ۔ کیا ہم اپنے فیصلے خود نہیں کر سکتے ؟اگر اب بھی ہمارے دلوں میں احساس زیاں پیدا ہوجائے تو ہم یہ ساری چیزیں سوچنے کے لیے مل کر بیٹھ سکتے ہیں ۔
سوال: یمن اور سعودی عرب کے تنازع کی اصل وجوہات کیا ہیں؟ اور کیا یہ لڑائی بھی عالمی طاقتوں کی گریٹ گیم کا حصہ ہے؟
رضاء الحق:یمن اور سعودی عرب کا تنازع اسی گریٹ گیم کا حصہ ہے جس کے تحت خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا گیا اور پھر مسلمانوں کو آپس میں تقسیم کر دیا گیا ۔ اس تقسیم کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے صہیونی آبادکاری فلسطین میں شروع ہوئی اور پھر اسرائیل قائم ہوگیا جو اب گریٹر اسرائیل منصوبے کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ اس دوران انہوں نے بہت سےمسلم ممالک پر براہ راست حملے کرکے انہیں تباہ کیا اور کچھ ممالک کے اندر انتشار پیدا کرکے انہیں تباہ کیا ۔ کچھ مسلم ممالک کوابراہم اکارڈز کے نام پر ساتھ ملا لیا گیا ۔ اب سعودی عرب کو بھی ابراہم اکارڈز میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اس کے لیے شیعہ سنی تفرقہ پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔امریکہ نے ایران کا ہوا کھڑا کرکے عرب ممالک میں اپنے اڈے قائم کرلیے ۔ حالانکہ ان کے لیے اصل خطرہ اسرائیل ہے مگر انہوں نے ایران کو خطرہ سمجھ کر امریکہ اور اسرائیل کی طرف جھکاؤ کیا۔ یمن میں بھی ایرانی اور سعودی پراکسیز کی لڑائی شروع کروائی گئی ۔ چین کی کوششوں سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کچھ کم ہوئی تھی اور دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوئے تھے جوکہ اسرائیلی ایجنڈے کے خلاف تھا لہٰذا انہوں نے دوبارہ یمن میں تنازع کھڑا کرکے کشیدگی کو ہوا دی ۔ یہ گریٹ گیم جتنا جلدی مسلمانوں کی سمجھ میں آجائے اتنا ہی ان کا فائدہ ہے ۔
سوال: یمن کی جنگ میں اصل متحارب قوت کونسی ہے جو سعودی عرب کے خلاف لڑ رہی ہے اور مکہ معاہدہ میں شامل تمام مسلم ممالک کو للکار رہی ہے ؟
ڈاکٹر فریداحمد پراچہ:ایران نے حوثیوں کی مدد کی ، انہیں اسلحہ بھی دیا ، ٹریننگ بھی دی ، پیسہ بھی دیا لیکن اس وقت صورتحال یہ ہے کہ حوثی خود کفیل ہو چکے ہیں ۔ اس وقت وہ ایران کے کنٹرول میں بھی نہیں ہیں ۔ وہ اپنے فیصلے خود کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان کے پاس بیلسٹک میزائل ، کروز میزائل اور ہر طرح کے ڈرونز بھی آگئے ہیں۔ اینٹی شپ ویپنزان کے پاس موجود ہیں ۔ اب وہ باقاعدہ گریٹ گیم کا حصہ بن چکے ہیں ۔
سوال: حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے جواب میں مکہ دفاعی معاہدہ میں شامل مسلم ممالک کے لیے کیا آپشنز موجود ہیں ۔ پاکستان کو خاص طور پر اس حوالے سے کیا رول ادا کرنا چاہیے؟
رضاء الحق:پاکستان کوبراہ راست یمن میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے ۔ مکہ پر ڈرون حملے کی حوثیوں نے تردید بھی کردی ہے ۔ غالب امکان یہی ہے کہ یہ ڈرون حملہ اسرائیل کی سازش ہو سکتی ہے ۔ وہ پہلے بھی ایسی حرکتیں کرتا رہا ہے ۔ نتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران خود کہا تھا کہ وہ ایران پر حملوں کے لیے UAEکو استعمال کرتا رہا ہے ۔ عالمی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ عرب ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو اسرائیل، عرب ممالک کے خلاف ہی استعمال کرتا رہا ہے اور الزام ایران پر لگایا گیا۔ مکہ دفاعی معاہدہ میں شامل مسلم ممالک یقیناً ان حقائق سے واقف ہوں گے ۔ اس وقت دفاعی معاہدوں سے آگے بڑھ کر مشترکہ اتحاد بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مسلم ممالک کے درمیان اختلافات اور کشیدگیوں کو کم کیا جاسکے ۔ چین اور روس کو بھی معاہدوں میں شامل کرنا چاہیے ۔ سب مل کر امن کے قیام کی کوشش کریں ، اس میں ان سب کا فائدہ بھی ہے ۔ بصورت دیگر اگر ہم آپس میں جنگ میں الجھتے رہے تو پھر اسرائیل اور امریکہ کے مقاصد پورے ہو جائیں گے ۔
ڈاکٹر فریداحمد پراچہ: سعودی عرب بھی فوری طور پر یہ نہیں چاہتا کہ جنگ بڑھے بلکہ وہ بھی چاہتا ہے امن قائم ہو ۔ مکہ معاہدہ میں شامل ممالک کو جنگ میں کودنے کی بجائے مرحلہ وار مذاکرات کے ذریعے امن کے قیام کی کوشش کرنی چاہیے ۔ پاکستان اور ترکی خاص طور پر اس حوالے سے کردار ادا کرسکتے ہیں ۔
سوال:مرحلہ وار سے کیا مراد ہے؟
ڈاکٹر فریداحمد پراچہ:پاکستان نے جس طرح  امریکہ ایران جنگ کو رکوانے کے لیے مرحلہ وار مذاکرات کرانے میں کردار ادا کیا ہے ، اسی طرح حوثیوں سے بھی مذاکرات کیے جا سکتے ہیں ، ایران بھی اس میں مدد کر سکتاہے ۔ پاکستان انٹیلی جنس اور سکیورٹی کے معاملات میں بھی سعودی عرب کی مدد کرسکتاہے ۔ یعنی جنگ میں براہ راست ملوث ہونے سے کم کے تمام آپشنز اور مراحل پر غور کیا جاسکتاہے ۔
سوال:کیامسئلہ فلسطین حل کیے بغیر عالم عرب میں امن ممکن ہے ؟
ڈاکٹر فریداحمد پراچہ:صرف عالم عرب میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک کہ مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوگا ۔ اسرائیل نے غزہ میں جس دہشت گردی کا مظاہرہ کیا اس کے خلاف پوری دنیا اُٹھ کھڑی ہوئی ۔اب ساری دنیا کو پتا چل چکا ہے کہ اسرائیل فلسطین پر ناجائز قبضہ کر رہا ہے ۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا انسانی حقوق کا مسئلہ ہے ۔ فلسطینیوں کے حق میں اب یونیورسٹیوں میں بھی آواز اُٹھ رہی ہیں ، کھیل کے میدانوں میں اُٹھ رہی ہیں ، ہر شہر اور ہر ملک میں فلسطین کی آزادی کے نعرے لگ رہے ہیں ، خود امریکہ کے اندر لگ رہے ہیں ۔ اس لیے اس معاملے کو سلجھائے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ یہ صرف عالم اسلام کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے ۔
سوال:ہر گزرتے دن کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تبدیل ہورہی ہے ، ایران امریکہ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز بند ہوگیا ، اب حوثیوں نے اگر باب المندب کو بھی بند کردیا تو تیل اور گیس کی سپلائی دنیا کو کیسے ہوگی ؟ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کی اکانومی کا کیا حشر ہوگا ؟ اس مسئلے کا حل کیا ہے ؟
رضاء الحق:صرف ترقی پذیر ہی نہیں ترقی یافتہ ممالک بھی متاثر ہوں گے۔ یورپ تو پہلے ہی روس یوکرائن جنگ کی وجہ سے بہت متاثر ہے ۔ گزشتہ سردیوں میں وہاں گیس نہیں مل رہی تھی ۔ ترقی پذیر ممالک اگر سیاسی اور معاشی خودمختاری کی پالیسی اختیار کریں ، ورلڈ بینک ، IMFاور امریکہ وغیرہ سے قرضے نہ لیں تو ان کی معیشت ترقی کر سکتی ہے۔ جن ممالک کے پاس اپنا تیل اور گیس ہے وہ تو پھر بھی کچھ عرصہ گزار لیں جائیں گے لیکن پاکستان جیسے ممالک جن کے پاس نہ تیل ہے اور نہ ایکسپورٹ ہے ، صرف سودی قرضوں پر ان کی معیشت چل رہی ہے وہ مزید سودی قرضوں میں ڈوب جائیں گے، ایک اندازے کے مطابق پاکستان کا 90 فیصد بجٹ سود کی ادائیگی پر خرچ ہو گا کیونکہ انڈسٹری بند اور معیشت کو چلانے کے لیے مزید قرضے لینے پڑیں گے ۔ پاکستان کے پاس بہت سی معدنیات ہیں جن کو خود ایکسپورٹ کرکے پاکستان زرمبادلہ کما سکتاہے ، پاکستان اپنی پالیسی کا رُخ تبدیل کرتے ہوئے روس ، چین ، ایران، عرب ممالک ، وسط ایشیائی ممالک سے تجارت کر سکتاہے ۔ بصورت دیگر تیل کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ مہنگائی بہت بڑھے گی ۔ اسرائیل خطے میں امن نہیں چاہتا ۔امریکہ 2.8بلین ڈالر کا مزید اسلحہ اسرائیل کو دے رہا ہے ۔ امریکہ کبھی اسرائیل کا ساتھ نہیں چھوڑے گا ۔ حل یہی ہے کہ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک مل کر خطے میں امن کے قیام کے لیے کوشش کریں ورنہ سب مشکل میں پڑجائیں گے ۔ مسلم ممالک کے پاس ہر قسم کے وسائل موجود ہیں ، یہ ایک مربوط پالیسی اپنا کر مشکل صورتحال کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔