(منبرو محراب) نفاذ شریعت میں پوشیدہ حکمتیں اور مصلحتیں  - ابو ابراہیم

11 /

نفاذ شریعت میں پوشیدہ حکمتیں اور مصلحتیں 

قرآن و حدیث کی روشنی میں  

مسجد جامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی میں امیر ِتنظیمِ اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے4ستمبر2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

مرتب: ابو ابراہیم

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
گزشتہ ایک ماہ کے دوران اقامتِ دین کی جدوجہد کے حوالےسے خطبات جمعہ میں گفتگو ہوئی اور ہم نے قرآن و حدیث کے حوالہ جات کے علاوہ اسلاف اور مفسرین کے اقوال اور آراء بھی پیش کیں ۔ جس کا حاصل یہ تھا کہ اقامت ِدین کی جدوجہد کی فرضیت موجودہ دور کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس بات پر اُمت کے علماء کا مستقل اتفاق چلا آیا ہے۔اسی دوران ایک اہم نکتہ یہ بھی سامنے آیا کہ دین کے احکامات میں پوشیدہ حکمتیں بھی اللہ تعالیٰ  نے رکھی ہوتی ہیںجو  بعض اوقات انسان کو سمجھ میں نہیں  آتیں لیکن اُن پر عمل کرنے میں انسان اور انسانی معاشرے کا اپنا ہی فائدہ ہوتا ہے ۔ یہ حقیقت اگر ہمارے علم میں ہو تو اطمینانِ قلب بڑھ جاتا ہے اور عمل کی طرف رغبت بڑھتی ہے ۔ اگرچہ ہمارے دین میں شریعت کا حکم اس بات پر منحصر نہیں ہوتا کہ ہماری عقل میں ایک بات کی سمجھ آرہی ہے یا نہیں ۔ ہمارا ایمان تو یہ ہے :(( تصدیق بما جاء بہ النبیﷺ )) ہر وہ خبر جونبی کریمﷺ  نے دی، اس کی تصدیق کرنا ایمان ہے۔
  جب اللہ کو مان لیا تو اس کی ہر بات ماننی ہے۔ ایک مرتبہ جب رسول اللہﷺ پر ایمان لے آئے تو ان کی ہر بات ماننا پڑے گی ۔ البتہ ایمان لانے کے بعد بندہ غور و فکر کرے، حکمت کو تلاش کرے،اسرار و رموز کو تلاش کرے تو کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر یہ آیتِ کریمہ بڑی شان کے ساتھ نازل کی گئی:
{اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَـکُمْ دِیْـنَـکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ}(المائدہ:3) ’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیاہے‘اور تم پر اِتمام فرمادیا ہے اپنی نعمت کا۔ ‘‘
دین زحمت کے طور پر نہیں نعمت کے طور پر آیاہے۔ بعض جگہ مشکل لگتی ہے تو اسی میںبھی خیر ہی ہوتی ہے ان شاء اللہ۔ کیا ہم بچوں کی ایجوکیشن میں جان نہیں لگاتے، جان نہیں لگاتے اپنے پروفیشن میں، جان نہیں لگاتے اپنے کیریئر میں، جان نہیں لگاتے اپنے بزنس میں، رسک نہیں لیتے بزنس کے اندر۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد ہی دنیا میں کچھ ملتا ہے ۔ اگر دین کی راہ میں مشقت آ جائے، تو کون سا بڑا مسئلہ ہے؟ وہاں پر تو پھر اللہ کی رضا ملنے والی ہے۔ اللہ کی جنت ملنے والی ہے۔ ہمیشہ کی کامیابی ملنے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بھیجا تو کیا فرمایا:
{وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ(107)}( الانبیاء)  ’’اور (اے نبیﷺ!) ہم نے نہیں بھیجا ہے آپ کو مگر تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر۔‘‘ 
نبی رحمتؐ جو دین لے کر آئے ہیںوہ زحمت کے لیے نہیں بلکہ وہ نعمت کے لیے ہے۔ یہ انسانوں کا بنایا ہوا قانون نہیں ہے جس کو ہم قرآن اور سنت کہتے ہیں، یہ  ربِ کائنات کا عطا کردہ قانون ہے۔ اور اللہ تعالیٰ مخلوق کے بارے میں فرماتا ہے:
 {اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ط}(الملک:14) ’’کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟‘‘
اللہ خوب جانتاہے میرے بندے کے لیے کیا شے فائدہ مند ہے، کیا شے نقصان دہ ہے۔اسی طرح   اللہ تعالیٰ کئی مقامات پر اپنی صفت 'الحکیم کو بار بار ذکر فرماتا ہے اور 'العزیز کے ساتھ ذکر فرماتا ہے: 
{وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (3)} (الجمعہ)’’اور وہ بہت زبردست ہے‘ کمال حکمت والا ہے۔‘‘
عزیز کا ایک ترجمہ مکمل اختیار رکھنے والا ہے،جو —چاہے حکم دے۔ دنیا میں ہم کہتے ہیں:Boss is always right۔ اللہ توربِ کائنات ہے! وہ پوری کائنات کا بنانے، چلانے، تدبیر فرمانے والا ہے۔وہ 'العزیزہے، کل اختیار رکھنے والا، جو چاہے سو حکم دے۔ البتہ! وہ 'الحکیم ہے، اس کے احکام میں حکمتیں ہیں، مصلحتیں ہیں، فوائد ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر بات کی مصلحت سمجھ میں آ جائے؟ اسی طرح سورۃ الجمعہ میں ارشاد ہوتاہے :
’’وہی تو ہے جس نے اٹھایا اُمّیّین میں ایک رسول اُن ہی میں سے‘جو اُن کو پڑھ کر سناتا ہے اُس کی آیات اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں تعلیم دیتا ہے کتاب و حکمت کی۔اور یقیناً اس سے پہلے تو وہ کھلی گمراہی میں تھے۔‘‘(آیت:2)
آج بھی اگر کوئی تعلیم ، کوئی ازم (ism) ، کوئی نظام اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیم کے برعکس ہے تو وہ  کھلی گمراہی ہےبظاہر کتنا ہی جاذبِ نظر لگ رہا ہو۔ اس قرآن کے آنے سے پہلے اور صاحبِ قرآن رسول اللہ ﷺ    کے آنے سے پہلے یہ کھلی گمراہی میں تھے۔ بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے اس آیت کی تفہیم اور تشریح میں بارہا دروس دئیے اور ’’ 'نبی اکرمﷺ کا مقصدبعثت‘‘کے عنوان سے ایک کتابچہ بھی تحریر فرمایا ۔ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ  کی چار بنیادی ذِمّہ داریوں کا ذکر آیا :
1۔قرآن کی تعلیم دیتے ہیں ۔ اس قرآن کے ذریعے دل نرم ہوتے ہیں ۔  
2۔وہ تزکیہ کرتے ہیں۔ دل میں اللہ کی محبت، آخرت کی فکر، جواب دہی کا احساس اور خالق سے محبت پیدا ہو جائے۔
3۔ ان کو کتاب کی تعلیم دیتے ہیں۔ کتاب کا لفظ احکام کے لیے بھی آتا ہے۔ جیسا کہ سورۃ البقرہ کی آیت 183 میں فرمایا : {کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ }’’ تم پر بھی روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے۔‘‘
لہٰذا ایک مفہوم یہ ہوگا کہ آپ ﷺاحکام کی تعلیم دیتے ہیں۔جب قرآن کے ذریعے دل نرم ہو جائیں گے ، تزکیہ کے ذریعے باطل پاک ہو جائے گا تو پھر جو بھی حکم آئے گا اس کو ماننا اور اُس پر عمل کرنا آسان ہو جائے گا ۔ چاہے وہ نماز میں جھکنے کاحکم ہو یا میدانِ قتال میں گردن —پیش کرنے کا ہو۔
4۔وہ حکمت کی تعلیم دیتے ہیں ۔ اللہ کا حکم ماننا پہلی شرط ہے، پھر حکمت تلاش کریں کوئی منع نہیں۔ قرآنِ کریم میں اس کی دلیل بھی ہے اور اُمت کے اسلاف نے اس پر کلام بھی کیا۔ حضرت ابراہیم ؈کا مشہور واقعہ قرآن میں بھی بیان ہوا ہے :
’’اور یاد کرو جبکہ ابراہیم ؑ نے بھی کہا تھا:پروردگار! ذرامجھے مشاہدہ کرا دے کہ تو مُردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟(اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا:کیا تم (اس بات پر) ایمان نہیںرکھتے؟کہا : کیوں نہیں! (ایمان تو رکھتا ہوں) لیکن چاہتا ہوں کہ میرا دل پوری طرح مطمئن ہوجائے۔فرمایا: اچھاتو چار پرندے لے لو اور انہیں اپنے ساتھ ہلا لو‘پھر اُن کے ٹکڑے کر کے    ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو۔‘‘ (البقرہ:260)
یہاں بھی واضح ہوگیا کہ ایمان لانے کے بعد حکم ماننا شرط ہے ۔ اس کے بعد دل کے اطمینان کے لیے حکمت تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ اسی لیے اللہ نے انبیاء کو معجزے عطا فرمائے تاکہ وہ پورے وثوق اور یقین اور conviction کے ساتھ لوگوں کے سامنے دعوتِ دین کو پیش کر سکیں۔اسی تناظر میں اُمت کے علماء اور مفسرین نے احکام ِ الٰہی میں پوشیدہ حکمت کو بیان کیا ہے ۔ 
شاہ ولی اللہ ؒ نےاپنی مشہور کتاب’’ حجۃ اللہ البالغہ ‘‘میں حضرت ابراہم ؈کے اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حکمت تلاش کرنے کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ اسی طرح مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے اپنی کتاب '’’اسلامی احکام عقل کی روشنی میں‘‘میں شریعت کے احکامات کی حکمتوں کو بیان کیا۔ مثلاً وضو کے لیے ہاتھ ، منہ ، پیر دھوئے جاتے ہیں تو اس میں کیا حکمتیں پوشیدہ ہیں ۔تیمم میں پیروں پر مسح کیوں نہیں کیا جاتاوغیرہ ۔ 
وحی کی تعلیم اور شریعت کے احکام کے لیے لفظ نقل استعمال ہوتاہے ۔ بعض اوقات شرعی احکام عقل کی بنیاد پر سمجھ میں نہیں آتے۔ مثلاً موزے پہن کر جب آپ چلتے ہیں تو وہ نیچے سے گندے ہو سکتے ہیں لیکن فقہی مسئلہ ہے کہ جب آپ مسح کریں تو موزے کے اوپر سے کریں ۔ جبکہ عقل کہتی ہے کہ مسح نیچے سے ہونا چاہیے ۔ معلوم ہوا کہ دین میں نقل کے مقابلے میں عقل نیچے رہے گی ۔ یعنی عقل نقل کے تابع رہے گی ۔ انسانی عقل محدود ہے ۔ آج دنیا میں اتنی ریسرچ اور ٹیکنالوجی عقل کی بنیاد پر ہے مگر آج کی نسبت 100 سال پہلے انسانی زندگیاں زیادہ محفوظ ، زیادہ آسان اور زیادہ پُرسکون تھیں ۔ جتنا شریعت کو فراموش کیا اتنا ہی انسانی زندگیوں میں اور معاشروں میں بگاڑ آگیا ۔ معلوم ہوا کہ انسانی نقل (شریعت ، احکامِ وحی، اسوئہ رسولؐ )  میں جو حکمتیں ، مقاصد اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں وہ انسانی عقل میں نہیں ہیں ۔ آج بعض لوگوں کا خیال ہے:
"We are grown up people today, we don't need any religion." 
وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بڑے سمجھدار ہوگئے ہیں ، انہیں مذہب کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ حالت یہ ہےکہ دنیا کے سب سے بڑے غنڈے ، ظالم اور بدمعاش ترقی یافتہ ممالک میں ملیں گے ، دنیا کے سب سے بڑے فراڈ ترقی یافتہ ممالک میں ملیں گے ۔ گزشتہ 100 سالوں میں کروڑوں  انسانوں کے قاتل ترقی یافتہ ممالک میں ملیں گے جو اپنے آپ کو سمجھدار کہتے ہیں ۔ یہ کونسی سمجھداری ہے ؟
مقاصد شریعت 
احکام شریعت میں جس طرح حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں ، اسی طرح ان کے کچھ مقاصد بھی ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے خود اس کے لیے اصول عطا کیے،کبھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{یُرِیْدُ اللہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَز}(البقرۃ:185) ’’اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ سختی نہیں چاہتا۔‘‘ 
رمضان میں جب یہ آیت بیان ہوتی ہے تواس کا مقصد یہ ہوتا ہےکہ اگر سفر میں ہو ، بیمار ہو یا جان کو خطرہ ہے تو روزہ چھوڑ دو ۔ یہ خود ایک مصلحت ہے کہ اللہ تعالیٰ آسانی عطا فرمانا چاہتا ہے۔ ایک خاتون حاملہ ہے، بچہ پرورش پا رہا ہے، اگر روزہ رکھے گی تو بچے کی صحت اور جان کو بھی خطرہ لاحق ہو گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتاہے : 
{وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ ط} (الحج:78) ’’اور دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔‘‘ 
      اللہ نے آسان دین عطا کیا ہے ۔ یہ قابل عمل ہے ۔ فرمایا :
{لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاط} (البقرۃ:286) ’’اللہ تعالیٰ نہیںذِمّہ دار ٹھہرائے گا کسی جان کو مگر اس کی وسعت کے مطابق۔‘‘ 
معذور ہیں، کھڑے ہو کر نماز نہیں ادا کر سکتے تو بیٹھ کر ادا کر لیں۔ روزہ فرض ہے،لیکن بندہ بیمار یا ایسا بوڑھا ہوگیا کہ اب کھائے پیئے  بغیر اس کا گزارا ہی نہیں ہے، وہ فدیہ دے گا، اس کے لیے معافی ہے۔ لیکن اصولی طور پراللہ نے جو احکام دئیےہیں ان پر انسان عمل کر سکتاہے ۔ ہم لوگ ناشکری میں کہہ جاتے ہیں کہ پانچ وقت کی نماز تو بڑی مشکل ہے، یہ پردے کا حکم تو بڑا مشکل ہے،سود کے بغیر تو گزارا نہیں ہوتا ، معاذاللہ ۔یہ اللہ کے حکم کے انکار کی طرف ہم جا رہے ہوتے ہیں۔یہ حماقت کی باتیں ہیں۔ ہاں ! البتہ انسان کمزوری کا اعتراف کرے تو اللہ تعالیٰ  معاف فرمانے والا ہے ۔ 
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے خود حکمتیں بیان فرمائیں۔ مثال کے طور پر سورۃ طٰہٰ میں فرمایا :
{ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ(14)} ’’ اور نماز قائم رکھو میری یاد کے لیے۔‘‘
یہاں اللہ حکمت بتا رہا ہے۔انسان دنیا کے کاموں میں لگ کر اللہ کے ذکر سے غافل ہو جاتاہے ، دماغ میں خناس بھرنے لگتاہے ، خدائی کا دعوے دار بن جاتاہے ، میرا جسم میری مرضی کے سلوگن اسی وجہ سے ظاہر ہوتے ہیں ۔ نماز پڑھ کر اللہ کا حکم تو انسان بجالاتا ہے لیکن ساتھ اس کا مقصد بھی ہے کہ نماز بندے کو اللہ کے ذکر کی طرف کھینچ لاتی ہے ، غفلت سے باہر نکالتی ہے اور بندہ نماز میں کہتا ہے : {اِیَّاکَ نَعْبُدُ} ’’ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔‘‘
یہاں یاد دہانی ہوتی ہے کہ ہماری اوقات کیا ہے، ہم بندے ہیں، خدا نہ بنیں کہ جو چاہے سو کریں۔ یہ خدا کا اختیار ہے کہ جو چاہے سو کرے:
 {فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ(16)}(البروج) ’’وہ جو ارادہ کر لے ‘ کر گزرنے والا ہے۔‘‘
بندوں کا کام ہے بندے بن کر رہنا، اللہ کے حکم کے سامنے اپنے آپ کو جھکانا اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی مرضی کے تابع اپنے آپ کو رکھنا۔ ہر چند گھنٹوں بعد نماز ہمیں یہ  حکمت بتاتی ہے ۔ روزے کے بارے میں معروف ہے :
  { لَـعَلَّـکُمْ تَتَّقُوْنَ(183)}(البقرۃ)’’ تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے۔‘‘
یہاں روزے کی حکمت اور مقصد کا بیان ہے ۔ روزہ گناہوں کو ، حرام کو چھوڑنے کی تربیت ہے تاکہ تم ہر قسم کی برائی سے بچو اور اپنے باطن کو پاک کرو ۔ اسی طرح قرآنِ کریم میں قصاص کا حکم ہے۔
{وَلَـکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَـتَّقُوْنَ(183)}(البقرہ ) ’’اور اے ہوشمندو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے‘ تاکہ تم بچ سکو۔‘‘ 
آج کراچی سمیت ملک بھر میں لوٹ مار اور قتل و غارت گری ہے ، ایک موبائل کے لیے راہ گیروں کو قتل کر دیا جاتاہے ۔ وجہ یہ ہے کہ مجرموں کو سزائیں نہیں مل رہیں ، 6000 کو پکڑا لیکن ایک کو بھی پھانسی پر نہیں لٹکایا ، مجرموں کو کھلی چھوٹ مل گئی ۔ جبکہ اللہ کہتا ہے کہ قصاص میں زندگی ہے تاکہ تم بچ سکو ۔ اگر ایک کو لٹکا دیا جائے تو باقی والے عبرت پکڑیں گے ۔ 
قرآن و حدیث میں بیان ہونے والی ان حکمتوں کو مدنظر رکھ کر اسلاف نے بھی حکمتیں تلاش کیں اور پھر ان کو مرتب بھی کیا ۔ امام غزالی  ؒ نے پانچ باتیں بیان کیں : 
نمبر1: دین یعنی عقیدے کی حفاظت
نمبر 2: جان کی حفاظت
 نمبر 3: عقل کی حفاظت
نمبر 4: نسل کی حفاظت(نکاح ہو تو انسانی قافلہ، نسل کا قافلہ آگے بڑھے گا)
 نمبر 5: مال کی حفاظت۔ 
عام طور پر ان کو 'مقاصد الشریعہ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے شریعت کے جو احکامات عطا فرمائے ہیں ان پر عمل کرنے میں یہ حکمتیں پوشیدہ ہیں ۔ کبھی کسی حکم میں ایک سے زیادہ حکمتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح ابن تیمیہؒ اور امام ابن القیم ؒنے بھی جب مقاصدِ شریعت کو بیان کیا تو بڑی پیاری باتیں لکھیں۔ مثلاً انہوں نے لکھا کہ شریعت کے احکام پر عمل کرنے سے عدل و انصاف قائم ہوتاہے ، اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے ۔’’ عدل‘‘ اسلام کا کیچ ورڈ ہے ۔ اسی طرح امام ابن عاشورؒ نے بھی شریعت کے مقاصد کو بیان کیا ہے ۔ ماضی قریب کے جید علماء نے پانچ بڑے مقاصد شریعہ کے علاوہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق کچھ نئی حکمتیں اور مقاصد بھی تلاش کیے ۔مثلاً ریاست ، قانون ، معیشت ، عالمی تعلقات ، سائنس و ٹیکنالوجی ، انسانی حقوق ، اقلیتوں کے معاملات ، نئے معاشرتی مسائل ،  کلوننگ وغیرہ میں احکام شریعہ کی تشریح کیا ہوگی اور ان پر عمل کرنے میں کیا حکمتیں پوشیدہ ہوں گی ۔ اسی طرح مالیات کا معاملہ ہے، مانیٹری ایشوزہیں ، ہمارے ماضی ِ قریب کے علماء نے اس پر بھی کلام کیا۔ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ      تنظیم اسلامی کے بہت معزز رفیق تھے ، اللہ اُن کی مغفرت کرے ۔ اُن کے خطابات کی ایک بہت عمدہ سیریز محاضراتِ شریعت کے عنوان سے ہے ۔ اس میں ان معاملات پر انہوں نے بڑی تفصیل سے بات کی ہے ۔ 
ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ہماری عقل سے مصلحت طے نہیں ہوگی، کتاب اور سنت کے واضح دلائل سے مصلحت کا پتا چل جائے گا ۔ کتاب و سنت کے احکام پر غوروفکر کرکے دیگر معاملات کی مصلحتیں بھی تلاش کی جا سکتی ہیں ۔ مثلاً ترکیہ میں بعض لوگوں نے کہا کہ ظہر کی نماز اوقات کار کے درمیان آتی ہے اس کو نکال دیا جائے تو وقت ، پانی اور  دیگر وسائل کی بچت ہو جائے گی ۔ علماء نے کہا مصلحت کتاب و سنت کے تابع رہ کر تلاش کی جائے گی ۔ شریعت سے بغاوت کرکے مصلحتیں اور حکمتیں تلاش نہیں کی جا سکتیں ۔ ورنہ معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو گا ۔ جیسا کہ آج پردہ ، حجاب، حیاء ، نکاح کی سنت کو چھوڑا تو ہزار طرح کے مسائل اور برائیوں نے جنم لے لیا ۔سود کی لعنت کو اختیار کیا تو معیشت کا بیڑا غر ق ہوگیا ۔ مصلحت اور حکمت وہ ہے جو شریعت کے احکام پر عمل سے حاصل ہوتی ہے ۔ مثلا نماز پڑھیں گے تو اللہ کا ذکر بھی ہوگا ، غفلت سے بندہ نکلے گا ، باجماعت نماز پڑھنے سے معاشرے کے لوگوں سے  میل جول بھی ہوگا ، بھائی چارہ بڑھے گا ۔ ایک دوسرے کے دکھ دردمیں شریک ہونے کا موقع ملے گا ۔ روزہ رکھیں گے تو تقویٰ پیدا ہوگا ، روح بیدار ہوگی ، دوسرے کی بھوک کا بھی احساس ہوگا اور معاشرے کے غریبوں اور محتاجوں کی مدد کا جذبہ پیدا ہوگا ۔ زکوٰۃ دیں گے تو مال کی محبت کم ہو گی ، آخرت کی رغبت بڑھے گی ، مال بھی پاک ہو گا ،معاشرے کے غریبوں اور محتاجوں کی مدد بھی ہوجائے گی ۔ نتیجہ میں چوری ، ڈاکے سمیت کئی برائیوں سے معاشرہ پاک ہو جائے گا ۔ حج کے دوران مساوات بھی ہے، اتحاد بھی ہے، تاریخ کا شعور بھی ہےکہ حضرت ابراہیم ؑ نے اللہ کی راہ میں اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا عزم کیا ، بیٹے نے بھی فرمانبرداری کی مثال قائم کی، بی بی ہاجرہؓ نے سعی کے دوران دوڑ لگائی ،اللہ کی خاطر گھر بار کو چھوڑا ۔ 
اللہ تعالیٰ نے نکاح کا حکم دیا تو اس میں کتنی مصلحتیں اور حکمتیں پوشیدہ تھیں ۔ آج نکاح کو چھوڑا تو معاشرے میں کتنا بگاڑ آگیا ؟ جاپان ، فرانس ، جرمنی سمیت کئی ترقی یافتہ ممالک آج پریشان ہیں کہ اپنی نسلوں کو کیسے بچائیں ۔ گھر کا تصور ختم ہو گیا ، عزتیں پامال ہوگئیں ، زنا اور زیادتی کے کیسز بڑھ گئے ۔ بوڑھے بزرگ اولڈ ہاؤسزمیں سڑنے کے لیے رہ گئے ۔ انسانیت تباہ و برباد ہوکر رہ گئی ۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح کا حکم دیا تاکہ زوجین کے درمیان محبت ہو ، وہ اپنا گھر بسائیں ، صحت مند نسلیں پیدا ہوں ، خاندان بنیں ،نسب کی حفاظت ہو اور پھر وراثت کی تقسیم آگے بڑھے ، دولت کی منصفانہ تقسیم ہو اور بچوں ، عورتوں ، کمزوروں ، ضعیفوں ، غریبوں اور محتاجوں کی کفالت کا سلسلہ بھی چلتا رہے ۔ نکاح چھوڑا تو آج جھوٹی محبتوں کا اظہار صرف سوشل میڈیا تک رہ گیا ، محبت صرف ہوس پرستی اور نفس پرستی کا نام رہ گیا ۔ ہوس پوری ہوئی تو تعلق ختم ،پھر خودکشیاں ہوتی ہیں ، قتل ہوتے ہیں ، زندگیاں برباد ہوتی ہیں ۔ 
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام قراردیا ۔آج اسی سودی معیشت کی وجہ سے ہم نسل در نسل مقروض ہوگئے ، بجٹ کا 43 فیصد صرف سود کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے ۔ اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو 2040ء تک ہمارے بجٹ کا  90 فیصد سود کی مد میں خرچ ہوگا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نےجوا ،  سٹہ اورذخیرہ اندوزی ، چوری ، لوٹ مار اور دیگر حرام ذرائع سے دولت کمانے سے منع کیا تاکہ دولت چند لوگوں تک مقید ہوکر نہ رہ جائے ۔ اسی طرح صدقات و خیرات کی بھی حکمتیں ہیں ۔ 
شریعت کے احکام کو چھوڑا تو آج یہ حالت ہے کہ اشرافیہ کو تمام ٹیکس معاف ہیں ، انہیں پٹرول ، بجلی ، گیس ، پانی وغیرہ سمیت سب کچھ مفت میسر ہے جبکہ غریب آدمی پر طرح طرح کے ٹیکس لگائے جارہے ہیں ، ججز کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کروڑوں روپے کی سہولیات قومی خزانے سے ملتی ہیں لیکن عام آدمی کو زندگی میں کوئی ریلیف نہیں مل رہا ۔ اس کے برعکس اللہ کا دین اگر نافذ ہوتا تو یہاں عدل و انصاف ہوتا ، ہر آدمی کے حقوق کا تحفظ ہوتا ۔  یاد رکھیے اللہ کا دین نعمت کے طور پر ہمیں عطا ہوا وہ زحمت نہیں ہے۔ اللہ کے دین کے نفاذ میں حکمتیں پوشیدہ ہیں اور اس میں انسانوں کو ہی فائدہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین!