(اداریہ) اللہ تعالیٰ نورِ بصیرت عطا فرمائے! - رضا ء الحق

11 /

اداریہ


رضاء الحق


اللہ تعالیٰ نورِ بصیرت عطا فرمائے!


بظاہر ایران، امریکہ، اسرائیل جنگ کی خبریں اب پیچھے جا چکی ہیں کیونکہ سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں خاص طور پر مکہ مکرمہ اور پھر طائف پر حوثیوں کے مبینہ ڈرون حملوں نے مسلم دنیا کو پریشان کر دیا ہے اور اِس مخدوش صورتِ حال میں مکہ معاہدہ جس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ فریق ہیں، پہلی مرتبہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ وہ دفاعی معاہدے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم فوری طور پر کسی فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یہ پیش رفت ایک طرف پاکستان کی ذمہ داریوں کو ظاہر کرتی ہے، دوسری طرف اس امر کی یاد دہانی بھی کراتی ہے کہ مسلم ممالک کے باہمی دفاعی معاہدے صرف کاغذی دستاویزات نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ان کے پیچھے واضح حکمتِ عملی، مشترکہ سیاسی بصیرت اور حقیقی اجتماعی قوت موجود ہونی چاہیے۔یمن میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان جاری تنازع نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ مسلم دنیا کی داخلی تقسیم کس قدر تباہ کن نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ حوثی قوتوں کی جانب سے سعودی تنصیبات اور اہم بحری راستوں کو نشانہ بنانا، جبکہ سعودی عرب کی جانب سے امریکی حمایت کی تلاش، اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق باب المندب اور بحیرہ احمر کے بعض اہم علاقوں میں حوثی اثر و رسوخ بڑھا ہے، جس سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کو بھی خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ یہ صورتِ حال مسلم دنیا کے لیے ایک بڑا سبق ہے۔ اگر مسلمان ممالک باہمی اختلافات کو دشمن طاقتوں کے ہاتھ میں کھیلنے کا ذریعہ بننے دیں گے تو کوئی بھی دفاعی معاہدہ دیرپا سلامتی فراہم نہیں کر سکے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر تاریخ کے نہایت نازک اور فیصلہ کن دور سے گزر رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سفارتی کشیدگی، مذاکراتی عمل کی غیر یقینی صورتِ حال، اسرائیل کی مسلسل جارحانہ پیش قدمی، غزہ کی تباہی، لبنان کی بے بسی، مغربی کنارے میں صہیونی توسیع پسندی اور مسجد اقصیٰ کو درپیش خطرات، — یہ سب واقعات الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی عالمی منصوبہ بندی کے مختلف پہلو ہیں۔ مسلمان ان واقعات کو اگر محض وقتی سیاسی بحران سمجھ کر نظرانداز کریں گے تو اس عظیم تاریخی تبدیلی کو سمجھنے سے محروم رہ جائیں گے جو پوری اُمَّتِ مُسلمہ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والی ہے۔لیکن ایمان کا تقاضا محض جذباتی تسلی نہیں بلکہ حقیقت ِحال کا ادراک، دشمن کی سازشوں کو سمجھنا، اپنی کمزوریوں کا اعتراف اور اصلاح و جدوجہد کی عملی منصوبہ بندی بھی ہے۔ آج مسلم دنیا کو اسی شعور کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ بحران نے یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر واضح کر دی ہے کہ عالمی طاقتوں کی سیاست اصولوں اور اخلاقیات سے زیادہ مفادات، طاقت اور جغرافیائی حکمت ِعملی کے تابع ہوتی ہے۔ امریکہ نے ایران کے خلاف جنگی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور عسکری محاصرے کو اپنی پالیسی کا بنیادی ذریعہ بنایا، جبکہ ایران نے اپنے میزائل و ڈرون پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور مزاحمتی قوت کے ذریعے اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا مذاکرات واقعی امن کے لیے ہو رہے تھے یا جنگ کے ذریعے مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہ ہونے کے بعد طاقت کا دوسرا ذریعہ اختیار کیا گیا ہے؟تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ مذاکرات کو اکثر اپنی تزویراتی حکمت ِعملی کا حصّہ بناتا ہے۔ جہاں عسکری قوت سے مطلوبہ نتائج فوری طور پر حاصل نہ ہوں، وہاں اقتصادی دباؤ، سفارتی تنہائی، داخلی انتشار اور مذاکراتی وعدوں کے ذریعے مخالف قوت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایران کے معاملے میں بھی یہی معاملہ کُھل کرسامنے آیا ہے۔
امریکہ ایک طرف ایران کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو سیاسی، عسکری اور سفارتی حمایت فراہم کرتا ہے۔ اس تضاد سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن کی ترجیح خطے میں حقیقی امن نہیں بلکہ اپنے اتحادی اسرائیل کی اسٹریٹیجک برتری برقرار رکھنا ہے۔اگر مستقبل کے مذاکرات (جو فی الحال تو مردہ دکھائی دیتے ہیں، مکہ دفاعی معاہدہ کی طرح) میں اسرائیل کی جارحیت کے خاتمے، فلسطینیوں کے بنیادی حقوق، غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے، لبنان کی خودمختاری اور مغربی کنارے میں صہیونی آبادکاری کے خاتمے کو شامل نہیں کیا جاتا تو یہ پورا عمل امن کے قیام کی کوشش نہیں بلکہ طاقت کے موجودہ عدم توازن کو قانونی جواز دینے کی کوشش ہوں گے۔ایران کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ اسے الگ تھلگ کر کے کمزور کیا جائے، اس کے بعد عرب ممالک کو اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے پر آمادہ کیا جائے اور پورے خطے میں مزاحمت کی تمام قوتوں کو غیر مؤثر بنا دیا جائے۔ یہ منصوبہ صرف ایران کے خلاف نہیں بلکہ پوری اُمَّتِ مُسلمہ کے خلاف ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران کو سمجھنے کے لیے اسرائیل کے بنیادی عزائم کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ اسرائیل کی ریاستی پالیسی محض اپنے موجودہ جغرافیائی حدود کے تحفظ تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ وسیع تر علاقائی توسیع کا خواہاں ہے۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو متعدد مواقع پر اسرائیل کے ’تاریخی‘ اور ’روحانی‘ مشن کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ ان کے سیاسی بیانات اور صہیونی نظریاتی حلقوں کے عزائم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل کی موجودہ قیادت خطے میں ایک ایسے سیاسی اور جغرافیائی نظام کی تشکیل چاہتی ہے جس میں اسرائیل کو مرکزی اور بالادست قوت حاصل ہو۔ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا تصور اسی توسیع پسندانہ ذہنیت کی ہی نمائندگی کرتا ہے۔ اسرائیل کے لیے ایران کا وجود ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ایران خطے کی واحد بڑی ریاست ہے جو کھلے طور پر اسرائیلی بالادستی کو چیلنج کرتی ہے۔ اسی لیے ایران کے خلاف جنگ کو محض جوہری پروگرام یا علاقائی سلامتی کا مسئلہ قرار دینا حقیقت کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ اگلا نشانہ عرب ممالک، ترکیہ اور پاکستان دکھائی دیتے ہیں۔ اللہ خیر کرے! یہ بھی یاد رہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف غزہ کا مسئلہ نہیں ہے۔ مغربی کنارے میں صہیونی آبادکاری، فلسطینی زمینوں پر قبضہ، گھروں کی مسماری اور مقامی آبادی کو بے دخل کرنے کی کارروائیاں ایک منظم منصوبے کا حصّہ ہیں۔ اسرائیلی آبادکاری کے ذریعے فلسطینی ریاست کے کسی بھی ممکنہ جغرافیائی تسلسل کو ختم کیا جا رہا ہے۔اسی طرح مسجد اقصیٰ کو درپیش خطرات پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہو چکے ہیں۔ مسجد اقصیٰ صرف فلسطینی مسلمانوں کا مقدس مقام نہیں بلکہ پوری اُمَّتِ مُسلمہ کی ایمانی اور تاریخی شناخت کا حصّہ ہے۔صہیونی مذہبی انتہا پسند عناصر کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں یہودی عبادت کی اجازت اور اس کے مذہبی و انتظامی تشخص کو تبدیل کرنے کی کوششیں انتہائی خطرناک پیش رفت ہیں۔ اس مقصد کے پیچھے صہیونیوں کا تیسرے ہیکل (Third Temple) کی تعمیر کا نظریہ بھی موجود ہے، جس کے لیے مسجد اقصیٰ کے موجودہ تشخص اور اسلامی حیثیت کو ختم کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں مسلمان حکمرانوں کی خاموشی، بے حسی اور بے حمیتی ناقابلِ فہم حد تک خطرناک ہو جاتی ہے۔ اگر مسجد اقصیٰ کے خلاف کوئی فیصلہ کن قدم اُٹھایا گیا تو اس کے اثرات پورے عالمِ اسلام پر مرتب ہوں گے۔ عرب دنیا کے حکمرانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسرائیل کی توسیع پسندی صرف فلسطینیوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ ایسے مشرقِ وسطیٰ کی تشکیل ہے جہاں مسلم ممالک سیاسی طور پر تقسیم، عسکری طور پر کمزور، اقتصادی طور پر غیر اہم اور باہمی اختلافات میں مبتلا رہیں۔
دوسری طرف پاکستان کو موجودہ بحران میں انتہائی محتاط، متوازن اور اصولی خارجہ پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان محض ایک تماشائی نہیں بلکہ مسلم دنیا کی ایک اہم ریاست ہے، جو اپنی جغرافیائی، عسکری اور سیاسی حیثیت کے باعث خطے کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔پاکستان کو سب سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت اُس کے دوست کبھی نہیں ہوسکتے۔ بھارت کی اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی عسکری، دفاعی اور انٹیلی جنس شراکت داری پاکستان کے لیے خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔اسرائیل اور بھارت دونوں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ فلسطینی علاقوں میں آبادی پر کنٹرول، نگرانی کے نظام، جدید جنگی ٹیکنالوجی اور عسکری حکمتِ عملی کے میدان میں دونوں ممالک کے تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پاکستان کو یہ دیکھنا ہوگا کہ اگر مشرقی سرحد پر بھارت اور مغربی و جنوبی ایشیا میں امریکہ و اسرائیل کے مفادات باہم مربوط ہو جائیں تو پاکستان کی سلامتی کے لیے نئے چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اقتصادی انحصار اکثر سیاسی دباؤ کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ جس قوم کی معیشت کمزور ہو، اس کی خارجہ پالیسی بھی مسلسل دباؤ کا شکار رہتی ہے۔ لہٰذا پاکستان کی اصل ضرورت صرف عسکری طاقت نہیں بلکہ خود انحصاری، سیاسی استحکام، اقتصادی اصلاحات اور قومی وحدت ہے۔ ہمارے نزدیک اِن سب سے بھی ضروری پاکستان میں نظریۂ اسلام کو عملی جامہ پہنا کر اُسے صحیح معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے۔ یہی پاکستان کے قیام اور بقا کی وجۂ جواز ہے۔
سعودی عرب، ایران، ترکیہ، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ باہمی اختلافات سے بلند ہو کر اپنی اجتماعی سلامتی اور مستقبل کے بارے میں سنجیدہ فیصلے کریں۔مشرقِ وسطیٰ میں آج جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف ایک خطے کی جنگ نہیں؛ یہ پوری اُمَّتِ مُسلمہ کے لیے ایک آئینہ ہے۔ اس آئینے میں ہمیں اپنی کمزوری، اپنی غفلت، اپنی تقسیم اور اپنی سیاسی بے بصیرتی صاف دکھائی دیتی ہے۔اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اس صورتِ حال کے محض تماشائی بنے رہیں گے یا قرآن و سنت کی رہنمائی میں اپنی اجتماعی ذِمّہ داری کو پہچان کر اصلاح، اتحاد اور اقامت ِدین کی جدوجہد کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں گے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان سمیت اُمَّتِ مُسلمہ کی سیاسی و عسکری قیادتوں کو نورِ بصیرت عطا فرمائے۔ آمین!