الہدیٰ
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر صبر و شکر
آیت 31 {اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْکَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰہِ لِیُرِیَکُمْ مِّنْ اٰیٰتِہٖ ط} ’’کیا تم دیکھتے نہیں کہ کشتیاں چلتی ہیں سمندر میں اللہ کی نعمتوں کو لے کر تا کہ وہ دکھائے تمہیں اپنی نشانیوں میں سے۔‘‘
یعنی یہ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے کہ دریائوں اور سمندروں میں کشتیاں اور بڑے بڑے جہاز ہزاروں ٹن وزنی سازو سامان اٹھائے رواں دواںہیں۔
{اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ(31)}’’یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہے۔‘‘
صَبَّار‘ فَعَّال کے وزن پر اور شَکُوْر‘ فَعُوْل کے وزن پر مبالغے کے صیغے ہیں‘ یعنی بہت زیادہ صبر کرنے والا اور بہت زیادہ شکر کرنے والا۔
درس حدیث
کسی کی نقل اتارنا
عَنْ عَائِشَۃَ ؓ قَالَتْ: قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : ((مَااُحِبُّ اَنِّیْ حَکَیْتُ اَحَدًا وَّاَنَّ لِیْ کَذَا وَکَذَا)) (رواہ الترمذی)
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں پسند نہ کروں گا کہ کسی کی نقل اتاروں ‘خواہ مجھے اتنا اور اتنا معاوضہ مل جائے۔ ‘‘
زبان سے گالی گفتار‘ لعن طعن اور سخت کلامی یا پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کرنا تو سب سمجھدار لوگ براسمجھتے ہیں اور اس کو چھوڑ دینے کی نصیحت بھی کرتے ہیں اور مانتے ہیں کہ یہ باتیں باہمی میل جول کے لیے زہرِقاتل ہیں۔ اس حدیث میں جس چیز سے منع فرمایا گیا ہے یہ ایذا رسانی ا ور غیبت کی بدترین شکل ہے۔ دوسروں کی نقلیں اتارنا خواہ تفریحِ طبع کے لیے ہو یا تضحیک اور رسوائی کے لیے انتہائی مذموم اور انسانیت سے گری ہوئی بات ہے۔ اس سے نہ صرف دوسرے کی توہین ہوتی ہے بلکہ نقل اتارنے والا خود بھی اپنے آپ کو دوسروں کی نگاہوں میں گرا لیتا ہے۔