مسئلہ کشمیرکاقابلِ عمل حل چاہیے !
ڈاکٹرضمیر اختر خان
قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیرکوپاکستان کی’’شہ رگ‘‘کہا تھا۔ آج اس شہ رگ کابڑاحصہ بھارت کے قبضے میں ہے اور جل رہا ہے ۔ ہم اب بھی تقریریں کر رہے ہیں! ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی طاقت کشمیریوں پرمظالم ڈھا رہی ہے ،بلکہ نسل کشی کررہی ہے اوران کی سیاسی آواز دبانے میں مصروف ہے، دوسری طرف آزاد کشمیر میں عوام بجلی، آٹے، روزگار، نمائندگی، حکمرانی اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہیں۔ ادھر اسلام آباد میں کشمیر کمیٹیاں، قراردادیں، بیانات اور کانفرنسیں اپنی جگہ موجود ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کشمیر کے عوام کہاں ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جو محترم کشمیری صحافی شیخ محمد امین کی کتاب ’’کشمیر فریب زدہ‘‘ پڑھتے ہوئے بار بار ذہن میں آتا ہے۔ کتاب کے بعض نکات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، بعض شخصیات کے بارے میں مصنف کا لہجہ سخت بھی ہے، لیکن ان کی بنیادی شکایت کو نظرانداز کرنا آسان نہیں۔ کشمیری عوام نے قربانیاں دیں، نسلیں گزریں، مگر پاکستان کی کشمیر پالیسی میں تسلسل، وضاحت اور نتیجہ خیزی کا فقدان رہا۔ شیخ محمد امین نے پاکستانی حکمران اشرافیہ کی مختلف پالیسیوں کو ’’تاجرانہ ڈاکٹرائن‘‘ اور ’’باجوہ ڈاکٹرائن‘‘ جیسے عنوانات کے ذریعے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کوئی ان کے تجزیے سے سو فیصد اتفاق کرے یا نہ کرے، لیکن ایک سوال بہرحال جواب طلب ہے:
کیا ہم نے کشمیر کو کبھی واقعی ایک قومی وملی مسئلہ سمجھ کر مستقل، غیر متزلزل اور قابلِ عمل پالیسی بنائی؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر آج کشمیر کہاں کھڑا ہے؟
5 اگست 2019ء کو بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت ہی تبدیل کر دی۔ جس مسئلے پر پاکستان اور بھارت کئی جنگیں لڑ چکے ہیں، جس کے لیے کشمیریوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، اسے محض چند سفارتی بیانات سے نہیں نمٹایا جا سکتا۔ اور یہیں سے اصل مسئلہ شروع ہوتا ہے۔
کشمیر کواب تقاریر نہیں ایک جامع حکمت ِعملی چاہیے۔ ہم نے کشمیر کے لیے بہت کچھ کیا ہےیہاں تک کہ جنگیں لڑیں، سفارتی محاذ پر آواز اٹھائی، اقوام متحدہ گئے، یومِ یکجہتی منائے، پارلیمانی قراردادیں منظور کیں، دنیا کو بھارتی مظالم سے آگاہ کیا۔ لیکن اب وقت ہے کہ ہم اپنے آپ سے ایک بے رحم سوال کریں کہ’’کیا یہ سب کچھ کافی ہے؟‘‘ اگر نہیں اوریقیناً نہیں ! تو پھر نیا راستہ کیا ہے؟ میری نظر میں پہلا قدم یہ ہے کہ کشمیر کو حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کی وقتی ترجیحات سے نکال کر پاکستان کی مستقل قومی وملی پالیسی بنایا جائے۔ وزیراعظم بدلے، حکومت بدلے، پارلیمان بدلے، عسکری قیادت بدلے، خارجہ پالیسی کے انداز بدلیں، مگر کشمیر پر پاکستان کا بنیادی مؤقف تبدیل نہ ہو۔ کشمیر کسی ایک حکومت کی ملکیت نہیں۔ کشمیر پاکستان کا قومی و ملی مسئلہ ہے اور کشمیری عوام اس مسئلے کے بنیادی فریق ہیں۔
سب سے پہلے آزاد کشمیر!
یہ عجیب المیہ ہے کہ ہم مقبوضہ کشمیر کے عوام کو آزادی، جمہوریت، انسانی حقوق اور بہتر مستقبل کی امید دلاتے ہیں، مگر آزاد کشمیر کے عوام جب اپنے بنیادی مسائل کی بات کرتے ہیں تو ہم انہیں شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ آزاد کشمیر کو محض پاکستان کے زیر انتظام ایک خطہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کی عملی سفارت کاری کا سب سے طاقتور نمونہ بنانا ہوگا۔ ہمیں دنیا کو دکھانا ہوگا کہ آزاد کشمیر میں شفاف حکومت ہے۔ مقامی حکومتیں بااختیار ہیں۔ عوام کو وسائل پر جائز حق حاصل ہے۔ بجلی پیدا کرنے والے خطے کے عوام کو بجلی کی قیمت میں ریلیف حاصل ہے۔ تعلیم اور صحت کی سہولتیں عام ہیں۔ حکمرانوں کی مراعات محدود ہیں۔ کرپشن پر سخت گرفت ہے۔ نوجوانوں کو روزگار اور کاروبار کے مواقع حاصل ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ریاست اپنے شہری کو بوجھ نہیں بلکہ عزت کا حامل انسان سمجھتی ہے۔ اگر آزاد کشمیر ایک مثالی ریاستِ بن جائے تو یہ پاکستان کے لیے صرف انتظامی کامیابی نہیں ہوگی؛ یہ کشمیر کے مقدمے کی سب سے مؤثر عالمی دلیل ہوگی۔
عوام دشمن حکمرانی اور کشمیر دوست سیاست اب نہیں چلے گی۔ آزاد کشمیر کا موجودہ بحران ہمیں یہی بنیادی سبق دے رہا ہے۔ عوام کو ہمیشہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ’’کشمیر کا مسئلہ بڑا ہے، اپنے مسائل بھول جاؤ۔‘‘نہیں!
جس شخص کے گھر میں بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں، جس نوجوان کے پاس روزگار نہیں، جس مریض کو مناسب علاج نہیں مل رہا، جس شہری کو اپنے نمائندے تک رسائی نہیں، اس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف نعروں سے مطمئن ہو جائے گا۔ وطن سے محبت کا مطلب عوام کے مسائل سے بے اعتنائی ہرگز نہیں ہوناچاہیے بلکہ حقیقی حب الوطنی یہ ہے کہ ریاست اپنے شہری کو عزت، انصاف اور بنیادی سہولت فراہم کرے۔
آزاد کشمیر میں عوامی اضطراب کو دشمن کی سازش کہہ کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی دشمن انتشار پیدا کرنا چاہتا ہے تو ریاست کو اس کا مقابلہ کرنا چاہیے؛ لیکن عوام کے جائز مطالبات کو دشمن کا ایجنڈا قرار دینا مسئلے کو مزید گہرا کرے گا۔ ریاست کی رِٹ کے لیے یہ بھی ضروری ہے اور عوام کا اعتماد بھی۔ طاقت ریاست کو وقتی خاموشی دے سکتی ہےجبکہ اعتماد مستقل استحکام دیتا ہے۔
اب وقت آگیا ہےکشمیر کے اصل فریق کو فیصلہ سازی میں لائیے۔ پاکستان کو اب کشمیر پر ایک نیا ادارہ جاتی ڈھانچہ بنانا چاہیے۔ ایک مستقل قومی کشمیر کونسل تشکیل دی جائے جس میں پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں، آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت، کشمیری دانشور، قانونی ماہرین، نوجوان، بیرون ملک کشمیری اور مقبوضہ کشمیر کی مختلف سیاسی آوازوں کے نمائندے شامل ہوں۔ اس کونسل کا کام حکومت چلانا نہیں بلکہ کشمیر کے مسئلے پر قومی اتفاقِ رائے اور طویل المدت حکمت ِعملی تشکیل دینا ہو۔ اس کے ذریعے دنیا کو واضح پیغام دیا جائے کہ پاکستان کشمیر کو کسی ایک حکومت یا ایک جماعت کا مسئلہ نہیں سمجھتا۔ بھارت سے بات چیت ہو، مگر سر جھکا کر نہیں۔ ایک اور حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ جنگ مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ پاکستان کو بھارت کے ساتھ مذاکرات سے اصولی طور پر گریز نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ کشمیر کو مذاکرات کی میز سے اٹھا کر باہر رکھ دیا جائے۔ مذاکرات کا ایجنڈا واضح ہونا چاہیے۔مثلاًکشمیرمیں انسانی حقوق، سیاسی حقوق، کشمیری قیادت،قیدیوں اور سیاسی کارکنوں کے مسائل، لائن آف کنٹرول پُر امن،خاندانوں کے باہمی رابطے، تجارت، آمدورفت،اور بالآخر ایک ایسا سیاسی تصفیہ جس میں کشمیری عوام کی حقیقی مرضی بنیادی حیثیت رکھتی ہو۔
لائن آف کنٹرول کو تقسیم کی لکیربنانے کی بجائے رابطے کا راستہ بنایا جائے۔ اگر فوری طور پر حتمی تصفیہ ممکن نہیں تو عبوری طور پریہ بڑا قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد بنانے کے بجائے ، اسے امن اور رابطے کی لکیر میں تبدیل کیا جائے۔ دونوں اطراف کے کشمیری خاندان ایک دوسرے سے مل سکیں۔تجارت ہو۔ طلبہ ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں۔ مریضوں کے لیے آمدورفت آسان ہو۔ مذہبی و ثقافتی روابط بحال ہوں۔ مشترکہ ماحولیاتی منصوبے بنیں۔ یوں وہ لکیر جو آج کشمیریوں کو تقسیم کرتی ہے، کل کشمیریوں کو ملانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
کشمیر کی تحریک کو عالمی اخلاقی مقدمہ بنایاجائے اور پاکستان کو کشمیر کے مقدمے کی سفارت کاری کا بھی ازسرنو جائزہ لینا چاہیے۔ ہمیں دنیا کے سامنے صرف یہ نہیں کہنا کہ’’کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔‘‘ ہمیں دنیا سے یہ سوال بھی پوچھنا چاہیےکہ کیا کسی قوم کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ اس کے عوام کی مرضی کے بغیر کیا جا سکتا ہے؟کیا انسانی حقوق جغرافیہ دیکھ کر تبدیل ہو جاتے ہیں؟ کیا طاقت کسی قوم کی سیاسی خواہش کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتی ہے؟ کیا 21ویں صدی میں کسی خطے کے عوام کو صرف اس لیے نظرانداز کیا جا سکتا ہے کہ بڑی طاقتیں اپنے معاشی اور تزویراتی مفادات رکھتی ہیں؟ کشمیر کا مقدمہ انسانی حقوق، انصاف، سیاسی آزادی اور حقِ خود ارادیت کی عالمی زبان میں پیش کرنا ہوگااور اس کے لیے جذباتی تقریروں سے زیادہ ضرورت ہے، مستند اعداد و شمار، دستاویزات، قانونی تحقیق، عالمی میڈیا، پارلیمانی سفارت کاری اور نوجوان کشمیری سفارت کاروں کی ایک نئی نسل کی۔
اور آخر میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ اسی طرح چلتا رہے گا؟ کیا ایک نسل قربانی دے گی، دوسری نسل احتجاج کرے گی، تیسری نسل ہجرت کرے گی اور چوتھی نسل پھر وہی تقریریں سنے گی؟نہیں!کسی نہ کسی مرحلے پر تاریخ ہم سے فیصلہ مانگے گی۔ اس لیے پاکستان کو اب ایک دس نکاتی قومی کشمیر لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے:
1۔ کشمیر پر مستقل قومی پالیسی۔2۔ تمام سیاسی جماعتوں کا کشمیر پر قومی اتفاقِ رائے۔3۔ آزاد کشمیر میں اچھی حکمرانی اور حقیقی مقامی خود اختیاری۔4۔ آزاد کشمیر کے عوام کو بجلی، پانی، معدنیات اور دیگر مقامی وسائل میں منصفانہ حصہ۔5۔ کشمیری قیادت کو کشمیر پالیسی کی تشکیل میں حقیقی شریک کرنا۔6۔ بھارت کے ساتھ اصولی مگر مسلسل مذاکرات۔7۔ لائن آف کنٹرول کو انسانی، تجارتی اور سفارتی رابطے کا راستہ بنانا۔8۔ عالمی سطح پر کشمیر کے انسانی و سیاسی حقوق کا مستقل مقدمہ۔9۔ کشمیری نوجوانوں کے لیے عالمی سفارت کاری، میڈیا اور قانون کے میدان میں خصوصی تربیت۔10۔ حتمی سیاسی تصفیے کے لیے ایسا قابلِ قبول فریم ورک تیار کرنا ،جس میں کشمیری عوام کی آزادانہ سیاسی رائے بنیادی حیثیت رکھتی ہو۔
یہی وہ راستہ ہے جو کشمیر کو محض ایک ’’تنازع‘‘ سے نکال کر ایک قابلِ عمل سیاسی مسئلے میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اور ہاں ! فریب کا دور ختم ہونا چاہیے ! شیخ محمد امین کی کتاب کا عنوان چاہے کتنا ہی تلخ کیوں نہ ہو، ہمیں اس تلخی سے بھاگنے کے بجائے، اس میں چھپے سوالات کا سامنا کرنا چاہیے۔ کشمیریوں سے اب صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ’’ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘انہیں بتانا ہوگا،ہم آپ کی آواز سن رہے ہیں، ہم آزاد کشمیر کو بہتر بنائیں گے، ہم اپنی کشمیر پالیسی کو مستقل بنائیں گے۔ ہم دنیا کے سامنے آپ کا مقدمہ دلیل سے لڑیں گے۔ ہم بھارت سے بات بھی کریں گے اور اپنے اصول بھی نہیں چھوڑیں گے۔اور سب سے بڑھ کر’’ہم آپ کے مستقبل کا فیصلہ آپ کی مرضی کے بغیر نہیں کریں گے۔‘‘
کشمیر کی آزادی کا خواب زندہ ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ کوئی کتاب، کوئی حکومت اور کوئی تجزیہ نگار نہیں کر سکتا۔فیصلہ تاریخ کرے گی۔ لیکن تاریخ کا ایک اصول بہت واضح ہے:
جو قومیں اپنے بحرانوں سے سبق نہیں سیکھتیں، تاریخ انہیں دوبارہ وہی امتحان دیتی ہےمگر اگلی بار سوال زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ آج سوال ہمارے سامنے ہے۔ کیا ہم کشمیر کو ایک اور نسل کے انتظار میں چھوڑ دیں گے، یا اب واقعی کوئی قابلِ عمل حل تلاش کریں گے؟ کشمیر کو اب نعروں کی نہیں، دیانت دار سیاست، مثالی حکمرانی، مستقل سفارت کاری اور کشمیری عوام کو حقیقی فریق بنانے کی ضرورت ہے۔ اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ’’کشمیر ہمارے بیانات کا موضوع نہیں رہے گا؛ کشمیر ہماری قومی حکمتِ عملی کا مرکز ہوگا۔‘‘ فریب بہت ہو چکا۔ اب کشمیر کے لیے ایک قابلِ عمل حل چاہیے۔
ہمارے نزدیک نہ صرف یہ کہ عالم ِاسلام بلکہ عالم ِانسانیت کے مسائل کا حل اسلام کے عادلانہ ومنصفانہ نظام کو اختیار کرنے میں ہے۔ عالم ِاسلام بالخصوص اہل پاکستان کو توجلدازجلداس وعدے کی تکمیل کی طرف پیش قدمی کرنی چاہیے جس کے مطابق پاکستان کو اسلام کے اصول مساوات وعدل وحریت کواپنا کر پوری دنیاکو اسلامی نظام کاقابل تقلیدنمونہ پیش کرنا چاہیے۔