(اظہارِ خیال) دجال کی عالمی حکومت اور نیوورلڈ آرڈر کی حقیقت - محمد رفیق چودھری

11 /

دجال کی عالمی حکومت اور نیوورلڈ آرڈر کی حقیقت(قسط :11)رفیق چودھری

جھوٹے نبیوں اور منحرفین کا فتنہ 
632ء میں بنو حنیفہ کا وفد مدینہ آیا جس میں  مسیلمہ کذاب بھی تھا ۔ واپس جاکر مسیلمہ نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور کہا کہ میں محمدﷺ کی نبوت میں شریک ہوں اور آپ ﷺ کی طرف خط ارسال کیا جس کا متن یہ تھا:
” یہ خط مسیلمہ کی طرف سے اللہ کے رسول محمد کے نام ہے ۔ السلام علیک ! دیکھئے میں رسالت میں آپ کا شریک ہوں ، آدھی زمین ہمارے لیے ہے اور آدھی قریش کے لیے ، مگر قریشی زیادتی کرتے ہیں۔ “(تاریخ ابن خلدون جلد دوم صفحہ 161)
اس کے جواب میں آپﷺ نے یہ خط لکھا :
” یہ خط اللہ کے رسول محمدﷺ کی طرف سے  مسیلمہ کذاب کے نام ہے ۔ ہدایت کی پیروی کرنے والوں پر سلام ہو ،  زمین اللہ کی ہے ، اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنا دے اور حسن انجام پرہیز گاروں    کا ہے ۔ “(5-V2-P161)
مذحج اور نجران کے لوگوں نے اسود عنسی (ذوالحمار ) کو اپنا نبی مان لیا جوکہ ایک جادوگر اور شاعر تھا۔ اس نے حملہ کر کے بحرین اور یمن کے زیادہ تر علاقے پر قبضہ کرلیا ۔ ان دنوں رسول اللہﷺ بستر علالت پر تھے ۔ ایک دن سر پر پٹی باندھے باہر تشریف لائے اور یہ خطبہ دیا : 
”میں نے گزشتہ شب خواب میں دیکھا کہ میری کلائی میں دو کنگن سونے کے ہیں ۔ میں نے ان کو ناپسندیدہ سمجھ کر پھینک دیا ۔ اس خواب کی میں نے یہ تعبیر لی ہے کہ یہ دونوں کنگن دوکذاب (مسیلمہ اور اسود عنسی) ہیں ۔“(بخاری)
 ان دونوں کذابوں کی سرکوبی کے لیے آپ ﷺنے احکامات بھی جاری کیے ۔ لیکن آپ ﷺ کے دنیا سے رحلت فرماتے ہی مزید جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ ان میں ایک جادوگر طلیحہ بن خویلد تھا جس کے فتنے کا شکار ہو کر بنو اسد ، بنو غطفان ، بنوہوازن ، قبیلہ طے اور       بنی اسرائیل کے کچھ فرقے بھی سرکش اور باغی ہوگئے ۔ ایک جادوگرنی سجاح بنت الحارث بھی نبوت کا دعویٰ لے کر اُٹھ کھڑی ہوئی اور کئی گروہ اس کے ساتھ ہوگئے ۔ اس نے مسیلمہ کذاب کے ساتھ شادی اور اتحاد کرکے اسلامی ریاست کے خلاف فتنہ کو مزید بڑھا دیا ۔ اسی طرح منکرین زکوٰۃ بھی اُٹھ کھڑے ہوئے اور اسلامی ریاست کے خلاف بغاوت کردی ۔ یہاں تک کہ قریش اور قبیلہ ثقیف کے علاوہ تمام قبائل منحرف اور مرتد ہوگئے۔
یہ حزب الشیطان کا اللہ کے نظام کے خلاف یکدم ایسا ہی حملہ تھا جیسا اس نے ابرہہ کے لشکر کے ذریعے  حضور ﷺ کی پیدائش سے عین قبل خانہ کعبہ پر کیا تھا ۔ شاید ابلیس کی کوشش تھی کہ اس مقدس مقام کو ہی مٹا دیا جائے جہاں سے اللہ کے نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کا آغاز اللہ کے آخری رسولﷺ کے ذریعے ہوگا۔ اسی طرح آپﷺ کی رحلت کے فوراً بعد یکدم چاروں طرف سے حملہ کرکے اللہ کے نظام کو مٹانے کی کوشش کی گئی تاکہ اس کے مقابلے میں ابلیس کے دجالی نظام کے عالمی غلبے کا آغاز ہو سکے ۔ چنانچہ یہ حملہ مذہبی لحاظ سے بھی تھا جیسا کہ مسیلمہ ، سجاح اور دیگر جھوٹے نبیوں،جادوگروں اور  منحرفین نے نماز ، روزہ اورزکوٰۃ کا انکار کیا اور دینی لحاظ سے بھی تھا جیسا کہ ان سب نے اپنا اپنا سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام نافذ کرنے کی کوشش کی ۔ معلوم ہوا کہ جو بھی اللہ کے نظام کے مقابلے میں اپنا مذہبی اور دینی آرڈر نافذ کرنے کی کوشش کرے، وہی دجال ہے۔ اسی وجہ سے حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میری اُمت میں  تیس دجال پیدا ہوں گے ۔ 
بہرحال ابو بکر صدیق؄ نے خلیفۃ الرسول  ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے نہ صرف ان تمام فتنوں    کی سرکوبی کرکے اللہ کے نظام کو بحال اور مستحکم کیا بلکہ  خاتم النبین ﷺکے روم کے خلاف بھیجے ہوئے لشکراسامہ کو بھی پہلی فرصت میں روانہ کیا جو اس بات کی علامت تھا کہ اللہ کے آخری رسول ﷺ کا مشن اللہ کے دین کو عالمی نظام کے طور پر قائم کرنا تھا۔ 
عبداللہ بن سبا کا فتنہ 
عبداللہ بن سبا ایک یہودی تھا ۔ مورخین نے اس کے عقائد و کردار کے متعلق جوکچھ بیان کیا ہے اس کے مطابق وہ فتنہ پھیلانے کے لیے مسلمانوں میں داخل ہوا تھا۔ اگرچہ ابن سباء کے متعلق مختلف قیاس آرائیاں ہیں لیکن ہم یہاں نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کے مورخین کے نزدیک تسلیم شدہ اور مقبول مورخ ابن خلدون کا حوالہ پیش کریں گے جس نے اپنی مشہور کتاب تاریخ ابن خلدون  میں لکھا ہے کہ:  
”ابن سبا حضرت عثمان ؄کے زمانۂ خلافت میں مدینہ آکر بطمع مال و زر ایمان لایا مگر سچا و پکا دین دار نہ ہوا۔   اہل بیت کی محبت کی آڑ میں لوگوں کو امیر المومنین عثمان اور شیخین کے خلاف اُکساتا اور ان حضرات کے خلاف بہتان تراشتا رہا ۔ اہل بصرہ اس خباثت سے مطلع ہوئے تو انہوں نے ابن سباء کو نکال باہر کیا ، کوفہ پہنچا ،جب وہاں سے بھی شہر بدر کیا گیا تو شام آیا اور شام سے شہر بدر ہوکر مصر پہنچا ۔    امیر المومنین حضرت عثمان؄ پر اکثر طعن و تشنیع کرتا اور  خفیہ طور پر اہل بیت کو دعوت دیتا اور کہتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ پھر واپس آئیں گے جیسا کہ عیسیٰ ابن مریمؑ واپس آئیں گے اور علی ابن ابی طالب؄ وصی رسول اللہ ہیں ۔  عثمان اور ان سے پہلے ابوبکر وعمر نے جبراً غضباً بغیر کسی استحقاق کے خلافت حاصل کی۔ غرض لوگوں کو اسی قسم کی تعلیم دیتا اور امیر المومنین حضرت عثمان؄ اور ان کے اعمال کے خلاف برانگیختہ کرتا ۔ یہاں تک کہ بعض شہروں میں اکثر عوام الناس ان باتوں کی طرف مائل ہوگئے اور اُن کی آپس میں خط و کتابت ہونے لگی۔ 
(تاریخ ابن خلدون جلددوم صفحہ 341)
ابن خلدون کی اس گواہی سے سبائی فتنہ کےجو ابتدائی خدوخال اُبھر کرسامنے آتے ہیں ان پر ذرا گہرائی میں جا کر ہم تحقیق کریں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہودی عبداللہ بن سبا کا تعلق اُسی گروہ سے تھا جس نے اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر قبالہ (دجالی مذہب)کو اپنا دین بنالیا تھا اور اس وجہ سے divine unity ، پُنرجنم اور تناسخ جیسے باطل عقائدو تصورات ان کے مذہب کا حصہ تھے جن کے مطابق وہ خالقِ کائنات کی بجائے مخلوق میں خدائی کے قائل تھے۔ جیسا کہ فری میسنری سمیت تمام دجالی گروہوں کے بنیادی عقائد ہیں۔ اگر ہم اُس زمانے (ساتویں صدی عیسوی) کے یمن اور خاص طور پرحمیر (جہاں ابن سبا پیدا ہوا)کے علاقے کے مذہبی تصورات کا جائزہ لیں تو بآسانی اس حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں ۔
حمیر اور دیگر جنوبی عرب قبائل قدیم ”سبائی“ اور ”قَتبانی“ معبودوں (چاند، سورج، زہرہ وغیرہ) کی پرستش کرتے تھے۔ان کے اہم معبودالمَقَہ (چاند دیوتا)، عشتار (زہرہ )  اور ذو سماوی تھے ۔ ہم جانتے ہیں کہ سورج ، چاند، ستاروں کی پرستش کا آغاز نمرود کے مذہب میں ہی ہوا تھا ۔ چوتھی صدی عیسوی کے بعدحمیر میں سیاسی اور مذہبی تبدیلی آئی۔ کئی حکمرانوں نے یہودیت قبول کی لیکن سبائی اور قتبانی فرقے کے باطنی تصورات و عقائد ان میں موجود رہے ۔ یمن کےحمیری حکمران تبع اسعد ابو کرب (چوتھی وپانچویں صدی عیسوی) کے دور میں بڑی تعداد میں لوگ یہودیت اختیار کر چکے تھےمگر ان میں غالب اکثریت ان یہودیوں کی تھی جو قدیم سبائی اور قتبانی باطنی تصورات اور بابل اور فلسطین کے تلمودی اور قبالی ربیوں کے زیر اثر تھے اور تورات کی بجائے تلمودِ بابلی اور مدراش کے باطنی تصورات پر اعتقاد رکھتے تھے ۔ ان کے کچھ بنیادی عقائد درج ذیل تھے :
1۔ Techiyat HaMetim
اس باطنی عقیدہ کے مطابق ان کا خیال تھا کہ آخرالزمان میں نیک یہود دوبارہ زندہ ہوں گے۔یہ عقیدہ بابل اور فلسطین کے ربّیوں کے ذریعے یمن تک آیا تھااور بابلیوں اور مصریوں کے دجالی عقیدہ تناسخ ، پُنرجنم اور آواگون کا تسلسل تھا۔ جیسا کہ مصری اپنے مُردوں کو دوبارہ جی اُٹھنے کے خیال سے حنوط کرتے تھے ۔یہی عقائد ان یہودیوں کے تلمودی ، باطنی اور قبالی مذہب کا حصہ تھے ۔ جیسا کہ مدراش میں ہے :
” منتظر مسیحا(دجال ) اُس وقت تک نہیں آئے گا جب تک guf میں موجود تمام ارواح اپنے جنم مکمل      نہ کرلیں ۔“(مدراش ربّاہ 98:9)
یہودی باطنی اور قبالی صوفیانہ روایت کے مطابق:”Guf ‘‘ ایک آسمانی روحانی ہیکل (Heavenly Temple) ہے جہاں سے روحوں کو کئی بار گزرنا پڑتاہے ، بعض روحیں دنیا میں اپنا ”مشن“پورا نہیں کرتیں، تو دوبارہ جسم میں ڈالی جاتی ہیں۔ اس طرح بار بار جنم لینے کے بعد جب تمام ارواح اپنا روحانی مشن پورا کرلیں گی تب منتظر مسیحا(دجال ) ظاہر ہو گا ۔ “
2۔نجات دہندہ کا تصور 
جیساکہ ہم نے پڑھا کہ تلمودی اور قبالی فکر ایک نجات دہندہ کا منتظر ہے جواُن کے مطابق آکر بنی اسرائیل کو نجات دلائے گا اور یروشلم میں خدا کی بادشاہت قائم کرے گا ۔ یہ تصور یمن کے ان قبالی یہودیوں میں بھی موجود تھا جس کے مطابق ایک مشیح بن یوسف آئے گا جو جنگ کرے گا اورقربان ہو جائے گا ، اس کے بعد مشیح بن داؤد آئے گا جو یہود کو نجات دلائے گا ۔ 
3۔ Divine Unity
بابلیوں اور مصریوں کی طرح اس یہودی فرقے میں بھی خدائی اتحاد (divine unity) کا تصور موجود تھا جس کے مطابق وہ اپنے بادشاہوں کوdivine صفات کے ساتھ جوڑتے تھے اور انہیں ”ابناء الآلہة“(خدا کے بیٹے ) قرار دیتے تھے ۔ حمیر کے بادشاہ اپنے آپ کو ”ظلّ الإله“ (خدا کا سایہ) بھی قرار دیتے تھے۔بادشاہ کا حکم الٰہی ارادے کی نمائندگی سمجھا جاتا تھا۔حمیر کے کچھ مقامی قبائل میں آباء و اجداد کی پرستش بھی ہوتی تھی ۔ مرے ہوئے آباء و اجداد کو دیوتا کے قریب مانا جاتا تھا۔جنگی سردار یا شاہی شخصیات کے لیے ”معبود نما“ احترام تھا۔ انہی باطل تصورات کی وجہ سے وہ آنے والے مسیحا (دجال ) کو بھی Divine  اور Supernatural قرار دیتے تھے اور اپنے لیے نجات دہندہ تصور کرتے تھے ۔ 
پانچویں اورچھٹی صدی عیسوی میں یمن پراس یہودی فرقے کا بڑا زور اور غلبہ تھا ، یہاں تک کہ اللہ کو واحد معبود حقیقی ماننے والے عیسائیوں کو زبردستی اپنے باطنی یہودی فرقہ میں داخل کر رہے تھے ۔ اسی دجالی کوشش کے نتیجہ میں اصحاب الاُخدود کا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر قرآن میں بھی ہے :
’’ہلاک ہو گئے وہ کھائیوں والے۔وہ آگ جو بڑی ایندھن والی تھی۔جبکہ وہ اس (کے کناروں) پر بیٹھے ہوئے تھےاور مومنین کے ساتھ وہ جو کچھ کر رہے تھے خود اس کا نظارہ بھی کر رہے تھے‘اور وہ نہیں انتقام لے رہے تھے ان سے مگر اس لیے کہ وہ ایمان لے آئے تھے اللہ پر جو زبردست ہے اور اپنی ذات میں خود ستودہ صفات ہے۔‘‘(البروج:4تا8)
اپنے باطل عقائد (پُنرجنم، تناسخ ، دعویٰ خدائی وغیرہ)کی وجہ سے دجالی مذہب کے ماننے والوں کو چونکہ آخرت کی جوابدہی کا کوئی احساس نہیں ہوتا ، اس لیے پوری انسانی تاریخ میں یہ لوگ ہمیشہ ظلم میں حد سے بڑھے رہے۔ حمیر کے یہودی بادشاہ ذو نواس کا تعلق بھی اسی یہودی باطنی فرقے سے تھا ۔ اس نے بڑی بڑی خندقیں کھود کر ان میں آگ بھڑکائی اور اپنے لشکر کے ہمراہ اُن کے قریب بیٹھ کر نجران کے عیسائیوں کو حکم دیا کہ یا تو باطنی فرقہ(دجالی مذہب)  اختیار کرلو یا پھر آگ میں جلنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ تفیسر ابن کثیر کے مطابق 20ہزار کے قریب عیسائی بچوں، عورتوں اور مردوں کو اُس نے آگ کی اُن خندقوں (اخدود) میں ڈال کر جلا ڈالا ۔ نجران کے یہ عیسائی حبشہ (ایتھوپیا ) کے بادشاہ کے زیر اثر تھے اور ہم جانتے ہیں کہ حبشہ کے عیسائی اُس وقت تک توحید پرقائم تھے ، جیسا کہ ہجرت حبشہ کے واقعہ میں حبشہ کے نجاشی بادشاہ نے اسلام کی تصدیق کی اور بعدازاں وہ حضورﷺ پر ایمان بھی لے آیا تھا ۔ اصحاب الاخدود کے واقعہ کے بعد حبشہ کے بادشاہ نے یمن پر چڑھائی کرکے ذونواس اور اس کے باطنی فرقے کو سخت سزا دی ۔لیکن چھٹی صدی عیسوی کے آخر تک ان یہودیوں نے فارس کی ساسانی حکومت سے گٹھ جوڑ کرکے عیسائی حکومت کا خاتمہ کردیا اور اس کے بعد یمن پر مجوسیوں کی حکومت قائم ہوگئی اور لوگوں کو مجوسی مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جس کی وجہ سے کافی لوگ مجوسی عقائد کے پیروکار بھی ہوگئے تھے جبکہ اس وقت تک مجوسیت میں بھی تناسخ اور divine unity جیسے تصورات کا غلبہ تھا ۔ 
معلوم ہوا کہ عبداللہ بن سبا کے زمانے میں توحید پسند عیسائیوں کے سوا یمن کے باقی سب فرقے پُنرجنم ، تناسخ اور divine unityجیسے عقائد کے قائل تھے جو کہ دجالی مذہب کے بنیادی عقائد ہیں ۔ عبداللہ بن سبا کے نظریات میں انہی باطل عقائد کی جھلک تھی۔ جیسا کہ وہ  کہتا تھا کہ حضرت محمدﷺ دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے ، جس طرح حضرت عیسیٰ ؑلائیں گے ۔ اسی طرح وہ کہتا تھا کہ حضرت علیؓ دنیا سے نہیں گئے بلکہ ”واپس آئیں گے“ اور مہدی یا ایک طرح کے ”ربانی نجات دہندہ“ کے طور پر دنیا پر حکومت کریں گے۔اس نے اپنے پیروکاروں کو یہ تصور دیا کہ حضرت علیؓ غیبت میں ہیں اور دوبارہ دنیا کو عدل سے بھر دیں گے۔اسی طرح اُس نے حضرت علی ؓ کی الوہیت کا دعویٰ بھی کیا ۔یہ بالکل اسی طرح کا تصور تھا جیسا کہ فری میسنری کے تیسرے درجے کی رسم میں حیرام ابیف کو اُٹھانے کی ریہرسل کی جاتی ہے ، جس کے بعد اُمیدوار یعنی ماسٹر میسن کو divine یعنی خدائی میں شریک سمجھا جاتا ہے ۔ نمرودوں اور فرعونوں کے مذہب میں بھی اسی لیے مردوں کو حنوط کیا جاتا تھا کیونکہ اُن کے مطابق وہ دوبارہ جنم لے کر خدائی صفات کے حامل بن جائیں گے ۔ جیساکہ تموز اور ہورس کے بارے میں دجالیت کے تصورات ہیں۔ اسی طرح دجالیت میں دجال کو بھی dying and rising deity کے طور پر خدا مانا جاتاہے ۔ 
عبداللہ بن سبا پہلا شخص تھا جس کے ذریعے اسلام میں دجالی نظریات کی پیوندکاری کا عمل شروع ہوا ۔ ابن سبا نے سب سے پہلے بصرہ کا انتخاب کیا ، جب وہاں سے اس کے باطل خیالات کی وجہ سے اسے نکالا گیا تو اس کے بعد اس نے کوفہ کو اپنا ٹھکانا بنایا ، وہاں سے دھتکارا گیا تو شام میں جاکر فتنہ پھیلایا اور وہاں سے نکالے جانے کے بعد مصر میں جاکر اپنا مرکز قائم کیا اور وہاں سے کوفہ اور بصرہ کے گمراہ لوگوں سے خط و کتابت جاری رکھی ۔ کوفہ میں موجود اس کے گروہ نے یزید بن قیس کی قیادت میں پہلی بار حضرت عثمان ؄کے خلاف بغاوت کی جسے قعقاع تمیمی نے دبادیا لیکن یہ گروہ بڑھتا گیا اور شر پھیلتا گیا یہاں تک کہ حضرت عثمان؄ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا ۔ اس کے بعد یہ فتنہ بڑھتا گیا یہاں تک کہ صحابہ ؓ کی آپس میں جنگیں ہوئیں اور حضرت علی ، حضرت حسن اور حضرت حسین سمیت کئی صحابہ کرامj کی شہادتیں ہوئیں ۔ اس فتنہ کے پیداکردہ  انتشار نے جس طرح اُمت کی فکری اور نظریاتی وحدت کو پارا پارا کیا ، اسی طرح خلافت کے نظام کو کمزور کرکے اُمت کو بھی تقسیم و تفریق کا شکار بنا دیا اور آج تک اُمت مسلمہ اس فتنہ کی وجہ سے تفریق و تقسیم کا شکار ہے اور دشمنان اسلام اُمت کو مغلوب کرنے کے لیے اس تفرقے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جس کا سب سے بڑا فائدہ صہیونی اسرائیل کو پہنچ رہا ہے ۔ (جاری ہے)