(درحقیقت) اقوام متحدہ کے 81 سال اور دنیا کا بے امن سفر - خالد نجیب خان

11 /

اقوام متحدہ کے 81 سال اور دنیا کا بے امن سفر

خالدنجیب خان

پہلی جنگ عظیم ! لیگ آف نیشنز
دوسری جنگ عظیم ! اقوام متحدہ
جنگ عظیم ! ؟؟؟

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس نیویارک میںجاری ہے، جہاں مختلف رکن ممالک کے سربراہان یا اُن کے نمائندگان کو اظہارِ خیال کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ یہاں اُن کی تقاریر پورے پروٹوکول کے ساتھ ڈیلیور کرائی جاتی ہیں، تاہم یہ ضروری نہیں کہ اُن تقاریر کو براہِ راست سننے کے لیے تمام رکن ممالک کے سربراہان یا اُن کے نمائندگان وہاں موجود بھی ہوں۔ اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ کسی ملک کا سربراہ پورے جوش و خروش سے وہاں تقریر کر رہا ہوتا ہے اور ہال کی نشستیں نفوس سے خالی ہوتی ہیں، گویا کرسیوں پر کوئی بشر موجود ہی نہیں۔ حتیٰ کہ بعض اوقات صدرِ مجلس کی نشست پر بھی اُن کا کوئی نمائندہ ہی موجود ہوتا ہے۔ تاہم یہ ایک اچھی بات ضرور ہے کہ وہاں کی گئی تمام تقاریر ریکارڈ پر موجود رہتی ہیں اور اُن پر کارروائی کی رسم بھی پوری کی جاتی ہے۔
اقوام متحدہ کا ادارہ دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر 24 اکتوبر 1945ء کو معرضِ وجود میں آیا تھا۔ اس ادارے کے قیام کے بنیادی مقاصد بین الاقوامی امن و سلامتی،
 انسانی حقوق کا تحفظ، عالمگیر تعاون اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری بتائے گئے تھے۔ واضح رہے کہ پہلی جنگ ِ عظیم کے اختتام کے بعد 1919ء میں لیگ آف نیشنز کا ادارہ بھی اسی مقصد سے بنایا گیا تھا کہ کسی بھی طرح دوسری  جنگ ِعظیم کا راستہ روکا جاسکے۔ بدقسمتی سے لیگ آف نیشنز اپنا کردار نہ نبھا سکی اور دوسری عالمگیر جنگ ہونی تھی،     سو ہو کر رہی، جبکہ اقوام متحدہ کا ادارہ بننا تھا، سو بن کر رہا۔
یہ ادارہ اب گزشتہ 81 سال سے عالمی سطح پر جنگوں کو روکنے، تمام رکن ممالک کے درمیان تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے اور دوسری جنگِ عظیم جیسی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہونے کے لیے کام کرنے پر مامور سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ادارہ دنیا بھر میں بنیادی انسانی حقوق، آزادی اور برابری کا ضامن بھی تصور کیا جاتا ہے۔پھر معاشی، سماجی، ثقافتی اور انسانی فلاح و بہبود کے مسائل پر تمام رکن ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کام کرنے کے مواقع فراہم کرنا بھی اِسی کے ذمہ لگا دیا گیا ہے۔مختلف ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین پرعمل درآمد کو یقینی بنانا بھی اِسی ادارے کی ذِمّہ داری تصور کی جاتی ہے۔
1945ء میں امریکی شہر سان فرانسسکو میں جب اس ادارے کی تشکیل کے لیے چارٹر تیار ہوا تو اس پر   51 ممالک کے نمائندوں نے دستخط کیے اور یہ بھی طے پایا کہ اس ادارے کا مرکزی دفتر امریکہ کے شہر نیویارک میں ہوگا۔ اقوام متحدہ کی موجودہ عمارت کی تعمیر کا کام 14 ستمبر 1948ء کو نیویارک میں شروع ہوا۔ اس کی سیکرٹریٹ بلڈنگ کا 39 منزلہ ٹاور1950ء تک مکمل ہوگیا اور عملے نے فوری طور پر وہاں اپنا کام شروع کردیا۔ تاہم پوری عمارت 1952ء میں پایۂ تکمیل کو پہنچی اور9اکتوبر1952ء کو باضابطہ طور پر اِسے فعال کردیا گیا۔
یہاں ایک دلچسپ بات سامنے آتی ہے کہ 1945ء میں جب یہ ادارہ تشکیل پایا تو رکن ممالک کی تعداد صرف51 تھی، جو81 سال میں بڑھتے بڑھتے تقریباً چارگنا ہوچکی ہے۔ ممالک کی فہرست میں یہ اضافہ نئی دنیائیں دریافت ہونے کی وجہ سے نہیں ہوا، بلکہ پہلے سے موجود ممالک کی باہمی جنگوں، خانہ جنگیوں اور تقسیم در تقسیم کے نتیجے میں ہوا ہے۔ رکن ممالک کی فہرست میں آخری اضافہ، یعنی 193واں ملک، جنوبی سوڈان ہے جوآج سے15 سال پہلے، یعنی14جولائی 2011ءکو اقوام متحدہ کا رکن بنا۔
یہاں ایک بات اور بھی واضح ہوجانی چاہیے کہ دنیا میں صرف 193 آزاد ممالک ہی موجود نہیں ہیں بلکہ بہت سے ایسے خطے اور ریاستیں بھی ہیں جو خود مختار ہونے کا دعویٰ  تو رکھتی ہیں یا عملاً اپنی حکومتیں چلا رہی ہیں،مگراقوام متحدہ کا حصہ نہیں ہیں، کیونکہ اقوام متحدہ کے ارکان میں سے زیادہ ترممالک اُنہیں خود مختارریاستیں تسلیم نہیں کرتے۔ یوں دنیا کی سیاسی حقیقت اقوام متحدہ کی رکنیت کی فہرست سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
یہاں یہ بات بھی بہت تکلیف دہ ہے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ دیکھنے اور سننے میں تو بہت خود مختار ہے، مگر عملی طور پر اس کے فیصلے اور کارروائیاں بڑی طاقتوں کے مفادات سے آزاد نہیں۔ بالخصوص سلامتی کونسل میں ویٹو کا اختیار رکھنے والی پانچ طاقتیں کسی بھی عالمی تنازعے کے حل یا عدمِ حل میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں اقوام متحدہ کے عالمی امن کے دعوے اور دنیا کے  عملی حالات کے درمیان ایک بڑا سوال کھڑا ہوجاتا ہے۔
پاکستان کو اقوام متحدہ کا رکن بنے 79 برس ہوگئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی عمر پاکستان سے صرف دو سال زیادہ ہے۔ مطالعۂ پاکستان اورتاریخ کی دیگر کتابوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے گزشتہ نصف صدی سے ہم بھی ذاتی طور پراخبارات کے قاری ہیں۔ اس دوران شاید ہی کوئی ایسا دن گزراہوجب دومختلف ممالک میں جنگ،جنگ کی دھمکی یا جنگ کے بعد کے حالات کے حوالے سے کوئی خبر شائع نہ ہوئی ہو۔ اس کے علاوہ ایک ہی دن کے اخبار میں دو سے زیادہ جنگوں یا تنازعات کی خبریں بھی شائع ہوتی رہی ہیں اورآج بھی ہورہی ہیں۔
بچپن میں تاریخ کی کتابوں میں جب کسی جنگ ِ عظیم کا تذکرہ پڑھتے تھے توجھرجھری سی آجاتی تھی۔ خصوصاً ہیروشیما اور ناگاساکی کے حالات جان کرتوجسم میں کپکپی طاری ہوجاتی تھی۔ مگر گزشتہ ربع صدی کے دوران ہونے والی جنگوں اوران کی تباہی کا حال جان کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ تباہی تو کچھ بھی نہیں تھی۔اب توہرروز ہی دنیا کے کسی نہ کسی خطے میں جنگ لڑی جارہی ہے۔
اخبارات کی شہ سرخیوں میں عموماً دنیا میں کسی ایک جنگ یا اس سے ہونے والی تباہی کا ہی ذکر ملتا ہے تواِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دنیا میں کسی اور جگہ جنگ نہیں ہو رہی یا جنگ کی تیاری نہیں کی جارہی۔ صرف گزشتہ دو برس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سال کا شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جسے مکمل طور پر’’وار فری‘‘ کہا جا سکے ۔
جنوری 2025ء میں صدرٹرمپ نے روس اور یوکرین کی جاری جنگ کے علاوہ اسرائیل اور غزہ کی جنگ ’بند کرانے‘ کی کوششیں شروع کیں۔اس کے نتیجے میں یہ جنگ باضابطہ طور پر ختم تو نہ ہوئی، مگر میڈیا میں اس حوالے سے خبریں آنا بتدریج کم ہوگئیں اور ساتھ ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگی کشیدگی کی خبریں آنا شروع ہوگئیں۔ یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ ایران پر حملوں کی خبریں میڈیا میں جگہ بنانے لگیں، پھر مشرقی جمہوریہ کانگو کا تنازع سامنے آگیا۔ اسی دوران سوڈانی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری جنگ بھی عالمی منظرنامے پرموجود رہی۔ میانمار کی ملٹری جنتا اور    عوامی دفاعی فورسز کے درمیان جنگ، صومالی لینڈ، لبنان، شام اور یمن کے تنازعات بھی خبروں کا حصّہ بنتے رہے۔
سالِ رواں میں جب اسرائیل اورامریکہ نے مل کرایران پر حملہ کیا توایران نے امریکی اڈوں پرجوابی حملے کیے، جس سے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، قطر سمیت خطے کے کئی دیگرممالک کا امن متاثرہوا۔ اسی دوران کبھی روس یوکرین پرمیزائل داغ رہا تھا تو کبھی یوکرین روس پر حملہ کررہا تھا۔
سوڈان میں جاری جنگ کی مکمل تفصیلات اگر سامنے نہیں آتیں تواس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہاں سب خیر ہے۔ کشمیر آزاد ہو یا مقبوضہ، دونوں اطراف سے اگر ہمیں اصل خبریں نہیں ملتیں تو اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہاں امن قائم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حصولِ امن والی خبروں کا راستہ روک دینے سے امن قائم نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لیے اصل اور قابلِ عمل راستہ اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ان حالات میں جنگوں سے دور بیٹھا کوئی بھی شخص یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوسکتا ہے کہ تیسری عالمی جنگ کسی نہ کسی شکل میں شروع ہوچکی ہے۔
گزشتہ دنوں امریکہ اور اسرائیل نے مل کر جب ایران پر حملہ کیا تو اس جنگ میں ایران کو بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا، مگر دونوں ممالک وہ مقصد حاصل نہ کرسکے جس کے لیے انہوں نے جنگ چھیڑی تھی۔ پھر امریکہ مختلف بہانوں سے اس جنگ سے نکلنے لگا اور مسلسل بڑھکیں لگاتا رہا، مگر دنیا دیکھ رہی تھی کہ امریکہ کی یہ بڑھکیں محض ’’فیس سیونگ‘‘ کے لیے ہیں۔اسی دوران مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ ایک پلیٹ فارم پر آگئے۔ یہ معاہدہ ہونے سے پہلے بھی  سعودی عرب پر یمن کے حوثی حملے کرتے رہے تھے۔ عام لوگ یہی خیال کررہے تھے کہ مکہ معاہدے کے بعد حوثیوں اور ایران سے نبٹا جائے گا، مگر ایران اور امریکہ دونوں نے ان خدشات کی تردید کردی۔ ساتھ ہی یہ خبر بھی سامنے آئی کہ ایران کو بھی مکہ معاہدے میں شامل کیا جائے گا۔
یہ خبریں زیرِ بحث ہی تھیں کہ یمن کے حوثیوں نے باب المندب کو بند کرتے ہوئے سعودی عرب کے بعض شہروں پر حملے کیے، جس سے جانی اور مالی دونوں طرح کے نقصانات ہوئے۔اِس صورتِ حال نے ایک بار پھر یہ سوال اُٹھا دیا کہ اگر ایک مسلم ملک پر حملہ ہو تو دوسرے  مسلم ممالک کا ردِعمل محض مذمت تک محدود رہنا چاہیے یا باہمی دفاع کے معاہدوں کو عملی شکل بھی اختیار کرنی چاہیے؟
ان حالات میں ہمارے ہاں بعض حلقوں کی طرف سے یہ سوال اٹھایا جارہاتھا کہ مکہ معاہدے پرعمل درآمد کرتے ہوئے سعودی عرب پر حملے کو پاکستان پر حملہ کیوں تصور نہیں کیا جارہا۔ اس حوالے سے حکومتِ پاکستان نے وضاحت کی ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت، خود مختاری اور سکیورٹی کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ حوثی حملے خطے کے امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، پاکستان سعودی عرب کی شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے  کے تحت اسلام آباد کی جانب سے کسی فوجی کارروائی پر      فی الحال کوئی بات چیت نہیں ہوئی، تاہم وقت آنے پر پاکستان معاہدے کے تحت کارروائی کرے گا۔
ترجمان دفتر ِخارجہ نے یہ بھی بتایا کہ فی الحال مکہ معاہدے کی توسیع زیرِغورنہیں کیونکہ متعلقہ ممالک کو پہلے اپنی تنظیم کو مضبوط بنانا ہوگا، اس کے بعد یہ ان تمام ممالک کے لیے کھلا ہوگا جو اسی طرح کے خیالات، تصورات اور ضروریات رکھتے ہیں۔
یہاں سے معاملہ صرف سعودی عرب، یمن یا ایران تک محدود نہیں رہتا بلکہ اِس کا تعلق مسلم دنیا کے مستقبل اور اس کی اجتماعی سلامتی سے جڑجاتا ہے۔ ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل اپنے گریٹر اسرائیل منصوبے کی تکمیل میں پاکستان کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتی ہے اور اس رکاوٹ کو دور کرنے سے پہلے وہ دیگر چھوٹی چھوٹی رکاوٹوں کو ختم کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ اِس وقت پاکستان سے پہلے بڑی رکاوٹ ایران کو سمجھاجارہاہے، جسے براہِ راست ہٹانے کی کوشش کی گئی مگر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
اب دوسرا راستہ یہ اختیار کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ خود مختار مسلم ریاستوں کو آپس میں لڑوا کر کمزور کیا جائے اور اس دوران دوبارہ توانائی حاصل کرکے براہِ راست مقابلے پر آیا جائے۔ اچھی بات یہ ہے کہ عمان(ابراہیم اکارڈز میں شمولیت کے علاوہ!) ابھی تک امریکہ و اسرائیل کے جھانسے میں نہیں آیا، تاہم اس کے بعد خطے کی دبی ہوئی راکھ کو ہلا جلا کر چند چنگاریاں ضرورحاصل ہوگئی ہیں جن سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
تازہ ترین صورتِ حال میں امریکہ، جو سعودی عرب کے دفاع کا ذمہ دار سمجھا جاتا رہا ہے، نے حوثیوں کے خلاف مدد دینے سے یکسر انکار کردیا ہے۔ اس صورتِ حال سے اس مؤقف کو تقویت ملتی ہے کہ امریکہ کے عقب میں چھپی ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل مسلم ممالک کو آپس میں لڑا کر اپنا فائدہ اُٹھانا چاہتی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ مسلم ممالک اس حقیقت کو سمجھیں کہ ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے والی قوت بالآخر سب کو کمزور کرے گی۔
اس وقت حوثیوں کے ساتھ ساتھ سعودی عرب والوں سے بھی ہماری گزارش ہے کہ وہ کسی طاقت کا     آلۂ کار نہ بنیں اور صحیح معنوں میں  ع
’’ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے‘‘
کا علم لے کر نکلیں۔ مسلم دنیا نے اگراپنے مسائل کا حل باہمی اتحاد، اجتماعی دفاع اور اپنی ترجیحات کے تعین میں تلاش نہ کیا تو اقوام متحدہ کی ناکامی کے بعد کسی نئے عالمی پلیٹ فارم کا قیام بھی بعید از قیاس نہیں۔ فرق یہ ہوگا کہ اس بار شاید دنیا کو جنگیں روکنے کے لیے نہیں بلکہ جنگوں سے بچنے کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم بنانا پڑے۔