(زمانہ گواہ ہے) ’’مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کا ممکنہ حل‘‘ - محمد رفیق چودھری

13 /

المیہ یہ ہے کہ ایک طرف پورا عالم کفر متحد ہو کر عالم اسلام کے خلاف لڑ

رہا ہے اور دوسری طرف مسلمان ممالک آپس میں لڑ رہے ہیں :رضاء الحق

پاک چین دوستی اسرائیلی استعمار کو روک سکتی ہے ،لہٰذا پاکستان اور چین کو

مل کر خطے میں قیام امن کی کوشش کرنی چاہیے : پروفیسر عرفان یوسف

مکہ دفاعی معاہدہ سے قبل OICبنی ، GCCبنی ، اسلامک ملٹری الائنس بنا

مگر نتیجہ کچھ بھی برآمد نہیں ہوا :مصطفیٰ کمال پاشا

’’مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کا ممکنہ حل‘‘

پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا اظہار خیال

میز بان : وسیم احمد

مرتب : محمد رفیق چودھری

سوال: جرمنی میں امریکہ، اسرائیل اور سات عرب ممالک کے عسکری حکام کا ایک خفیہ اجلاس ہوا ہے۔ اس اجلاس کو خفیہ رکھنے کی کیا وجہ تھی؟ اور اس کا ایجنڈا کیا تھا؟ 
مصطفیٰ کمال پاشا: یہ اجلاس اس لحاظ سے تو خفیہ نہیں ہے کہ 15 ستمبر کو اجلاس ہوا ، 16کو خبر لیک کی گئی اور17 کو مغربی میڈیا نے اس کی تفصیلات بھی شیئر کر دیں ۔ یہ اجلاس سینٹ کام نے منعقد کروایا تھا ، اس میں سات عرب ریاستوں(سعودی عرب ، قطر ، عمان ، مصر ، کویت ، UAEاوربحرین) کی افواج کے سربراہان کے علاوہ اسرائیل اور امریکہ کے حکام بھی شامل تھے ۔ اجلاس کا بنیادی مقصد خطے کی سکیورٹی کو یقینی بنانا بتایا گیا ۔ اجلاس میں شریک سات عرب ریاستوں میںسے پانچ نے ابھی تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ۔ خطے میں جنگ اسرائیل نے شروع کی تھی، امریکہ نے اس کی پشت پناہی کی اور پھر اسرائیل نے ہی امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں گھسیٹا ۔ اس کو سبز باغ دکھائے کہ ایرانی عوام مہنگائی کی وجہ سے تنگ ہے ، اگر امریکہ ایران پر حملہ کردے تو ایرانی عوام اُٹھ کھڑے ہوں گے۔ یہ معلومات خاصی حد تک درست تھیں۔ پاسداران آیت اللہ علی خامنائی کے ساتھ ہاتھ ملا کر عوام کی نمائندہ حکومت کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے تھے،خطے میں لڑائی جھگڑوں کو پروموٹ کر رہے تھے ، دوسری طرف معاشی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی معیشت دگرگوں تھی اور عوام تنگ تھے ، پاسداران لوگوں  کو جو سخت سزائیں دے رہے تھے، ان کی وجہ سے بھی    بے چینی تھی ۔ لیکن جب امریکہ نے حملہ کیا تو ایرانی عوام متحد ہوگئے اور آٹھ ماہ سے جاری اس جنگ نے خطے میں کشیدگی پیدا کردی ہے کیونکہ ایران کے حمایتی حوثی بھی سعودی عرب کے خلاف جنگ شروع کر چکے ہیں ۔ اگرچہ جو اجلاس سینٹ کام نے بلوایا ہے اُس کا مقصد یہی بتایا گیا کہ خطے میں امن کیسے قائم کیا جائے۔ لیکن اطلاعات یہ بھی ہیں کہ امریکی ڈیپ سٹیٹ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ایران پر ایٹمی حملہ کرکے اس قصے کو پاک کر دیا جائے ۔ دوسری جانب اس اجلاس کا مقصد عرب ممالک کو اعتماد میں لے کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھانا بھی ہے ۔ 
سوال: ایک طرف یہ اجلاس ہوا جس میں مبینہ طور پر ایران پر جوہری حملہ کرنے کا فیصلہ ہوا اور دوسری طرف اطلاعات یہ بھی ہیں کہ امریکہ نے مسقط میں حوثیوں کے ساتھ بھی میٹنگ کی ہے ۔ اس میٹنگ کا ایجنڈا کیا تھا ؟
پروفیسر یوسف عرفان: حوثیوں کو ایرانی پراکسیز سمجھا جاتاہے لیکن پراکسیز صرف حوثی نہیں ہیں ۔ جب صہیونیوں نے برٹش ایمپیریل ازم کی بنیاد رکھی تو اس ایمپیریل ازم کے تحت ہر خطے میں اس کی پراکسیز قائم کی گئیں ۔ یہ پراکسیز سوڈان میں بھی ہیں ، صومالی لینڈ میں بھی ہیں ، لیبیامیں جو کچھ کرنل قذافی کے ساتھ ہوا وہ بھی ان پراکسیز کے ذریعے کیا گیا ۔ مصر میں الاخوان اور ڈاکٹر مرسی (مرحوم)کی حکومت کا تختہ اُلٹا گیا اور پھر ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی ہمارے سامنے ہے ۔ قطر میں امریکہ کا سب سے بڑا اڈا بنا ہوا ہے جو اس خطے کے تمام فوجی ،معاشی، تجارتی، سماجی اور مذہبی معاملات پر اثرا نداز ہوتاہے۔ دیگر عرب ممالک میں بھی امریکہ کے اڈے ہیں ۔ سعودی حکومت کی اس لحاظ سے اہمیت ہے کہ انہیں حرمین شریفین کے محافظین ہونے کا اعزاز حاصل ہے لیکن وہ بھی امریکہ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں ۔ابراہم اکارڈز کو بعض عرب ریاستوں نے سائن کرلیا ہے اور اس کے ذریعے اسرائیل کے ناجائز قبضہ کو تسلیم کیا ہے ۔ جب اسرائیل کو تسلیم کیا جائے گا تویہ تمام پراکسیزاسرائیل کے لیے استعمال ہوں گی ۔ پاکستان کا معاملہ ذرا مختلف ہے ۔ یہ کوئی اللہ کی خاص کرم نوازی ہے کہ پاکستان کو اللہ نے ایٹمی قوت بنایا ہے اور اس کی وجہ سے عرب ممالک کو بھی حوصلہ ملتا ہے ۔ خاص طور پر سعودی عرب ابھی تک ابراہم اکارڈز میں  نہیں گیا تو اس کی ایک وجہ پاکستان بھی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری بھی پاکستان کو دے دی ۔ اسی وجہ سے پاکستان بھی اسرائیل اور امریکہ کا ہدف ہے ۔ دوسرا خوف اسرائیل اور امریکہ کو عرب عوام کا ہے کہ ان کی جانب سے ردعمل ہو سکتاہے اور عرب بادشاہتوں کو خطرہ ہو سکتاہے ۔ جرمنی میں ہونے والے اجلاس کا ایک مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عرب حکمرانوں کو دلاسا دیا جائے ۔بنیادی بات یہ ہے کہ    عالم اسلام متحد ہو ۔ بقول اقبال ؎
 ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
 نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
جب تک مسلم ممالک امریکہ پر بھروسا کرتے رہیں گے اور سینٹ کام کی طرف دیکھتے رہیں گے تو یہ متحد نہیں ہو سکیں گے اور نہ امن قائم ہو گا کیونکہ ان کے ایجنڈے بہت خطرناک ہیں ۔
سوال: کیاایسا تو نہیں ہے کہ ان دونوں اجلاسوں کا  پس پردہ ایجنڈا یمن کے خلاف کوئی مشترکہ کارروائی کرنا ہو ؟ اور اگر ایسا ہوا تو اس کے کیا نتائج ہوں گے؟
رضاء الحق:قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
{وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَــتَّبِعَ مِلَّـتَہُمْ ط}(البقرۃ: 120) 
یعنی یہود اور انصاریٰ تو خوش ہی اُس وقت ہوں گے جب مسلمان اُن کی ملت، مذہب، دین اُن کی تہذیب کی پیروی کریں۔
پوری تاریخ میں ان کی کوشش یہی رہی ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جائے ۔ یہ معاملہ صرف یمن تک محدود نہیں ہے ، وہ ہر جگہ مسلمانوں کے خلاف یہی ایجنڈا رکھتے ہیں ۔ صہیونی تحریک نے 1898ء میں  سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل میں جو اجلاس منعقد کیا تھا اُسی میں انہوں نے آئندہ کے لیے اپنا پورا ایجنڈا اور پروٹوکولز طے کردیئے تھے ۔ تھیوڈورہرتنرل نے اپنی ایک کتاب میں 1904ء میں گریٹر اسرائیل کا نقشہ بھی دے دیا تھا ۔ اس سارے پس منظر کو آپ احادیث مبارکہ میں آخری زمانے کے متعلق آنے والی خبروں سے جوڑ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ دور فتن ہے اور دجال کے خروج کا وقت بہت قریب ہے ۔ احادیث کے مطابق یہ دجل ، فریب اور دھوکہ دہی کا دور ہے ۔ کسی کو علم نہیں ہو سکے گا کہ حق بات کیا ہے اورجھوٹ کیا ہے ، مسلمان مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہوگا ، نہ قتل کرنے والے کو پتا ہوگا کہ میں نے کیوں قتل کیا اور نہ ہی قتل ہونے والے کو پتا ہوگا کہ وہ کیوں قتل ہوا ۔ دہشت گردی بھی اس کا ایک تسلسل ہے ۔ ایران و عرب ، یمن اور سعودی عرب ، UAEاور سعودی عرب ، پاکستان اور افغانستان آپس میں لڑ رہے ہیں ۔ دوسری طرف پورا عالم کفر متحد ہو کر مسلمانوں کے خلاف لڑ رہا ہے ، اسرائیل غزہ میں  مسلم عورتوں اور بچوں کا  قتل عام کر رہا ہے مگر دو ارب مسلمان کچھ نہیں کر پارہے ۔ حدیث میں اس کو وہن کی بیماری قرار دیا گیا : 
(( حب الدنیا و کراہیۃ الموت ))  دنیا کی محبت اور موت کا خوف۔ یہ نیوم سٹی ، اور اونچی اونچی عمارتیں بنانا ، کفار سے دوستیاں ، دوبئی میں جو کچھ ہورہا ہے ، یہ سب دنیا کی محبت کا اظہار ہے۔ فی الوقت یمن میں جو کچھ ہو رہا ہےوہ ایک مربوط منصوبے کا حصّہ دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اُمید ہے کہ اسی شر سے خیر برآمد ہوگی ان شاء اللہ کیونکہ احادیث میں شام اور یمن کے لیےبرکت کی دعا آئی ہے۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جو الفاظ استعمال کیے ہیں ان سے بظاہر ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا اظہار ہوتاہے ۔ ہو سکتا ہے جلد یا بدیر مسلمانوں کو سمجھ آجائے کہ امریکہ اور اسرائیل صرف انہیں آپس میں لڑانا چاہتے ہیں ۔
سوال: قطر کی سفارتی سرگرمیاں حوثیوں اور سعودی عرب کے مابین صلح کروانے کے لیے ہیں یا سعودیہ کے دفاع کے لیے؟
مصطفیٰ کمال پاشا:جنگ شروع کرنا کسی ملک کے اختیار میں ہوتا ہے لیکن اسے ختم کرنا آسان نہیں رہتا۔ٹرمپ نے جو سوچ کر جنگ شروع کی تھی وہ سارے اندازے گڈ مڈ ہو گئے ہیں اور جنگ طویل ہونے کی وجہ سے امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں ۔ اس بات نے جنگ کو امریکی عوام کے لیے ناقابل قبول بنا دیا ہے ۔ امریکہ اب طویل جنگ کو افورڈ نہیں کر سکتا ہے حالانکہ اسرائیل چاہتا ہے کہ جنگ طول پکڑے کیونکہ اس میں بربادی مسلمانوں کی ہوگی۔ اس لیے حوثیوں اور سعودی عرب کی جنگ کو بڑھاوا دیا جارہا ہے ۔ 2015ء میں حوثیوں کی تعداد 30 ہزار تھی لیکن اب بڑھ کر پونے چار لاکھ کے قریب ہو گئی ہے ۔  حوثیوں کے پاس ایسے ڈرونز اور میزائل آگئے ہیں جو کسی عام گروہ کے پاس نہیں ہوسکتے ۔ اس کا مطلب ہے کہ عالمی قوتیں اس جنگ کو بڑھا رہی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب نے مدد کی درخواست کی لیکن امریکہ نے انکار کر دیا ۔ دوسری طرف حوثیوں کےساتھ امریکہ کے اجلاس بھی ہورہے ہیں اور حوثیوں کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ اسرائیلی جہازوں کو نہیں روکا جائے گا۔قطر کےپاس     اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ اس جنگ کو رکواسکے اور  سعودی عرب کا دفاع کرسکے ۔ پھر امریکہ نے جو بساط بچھائی ہوئی ہے ، قطر اس میں مہرے کے طور پر بھی استعمال ہوتاہے ۔ 
سوال:سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف امریکہ سے مدد مانگی لیکن امریکہ نے انکار کردیا ، آپ کے خیال میں اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟
پروفیسر یوسف عرفان:اسرائیل اپنے استعمار کی پالیسی پر گامزن ہے ۔ چونکہ سعودی عرب خطے کی سب سے بڑی طاقت ہے ، وہ عالم اسلام کا مرکز ہے ، عالم عرب کا نمائندہ ہے ، وسائل بھی بہت زیادہ ہیں ۔ اس لیے اسرائیل سعودی عرب کو کمزور کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ خود خطے کی سب سے بڑی ریاست بن جائے۔ اسرائیل اور امریکہ کے افریقہ میں بھی اڈے ہیں ، عرب ممالک میں بھی اڈے ہیں وہاں سے وہ میزائل بھی چلاتے ہیں ، ڈرونز بھی چلاتے ہیں اور عربوں کو آپس میں لڑاتے ہیں ۔ پاکستان ، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان جو دفاعی معاہدہ ہوا ہے ، اس کی وجہ سے بھی یہ سازش ہو سکتی ہے کہ ان ممالک کو جنگ میں اُلجھا دیاجائے اور جنگ پھیلے جس کا فائدہ اسرائیل کو ہی ہوگا ۔ دوسری بات یہ ہے کہ چین کے اقتصادی منصوبے پاک چین دوستی کی علامت بھی ہیں اور خطے میں طاقت کے توازن اور استحکام کی ضمانت بھی ۔ اگر یہ منصوبے کامیاب ہوں گے تو پاکستان کوبھی فائدہ ہوگا اور پاکستان مضبوط ہوگا تو سعودی عرب کو بھی حوصلہ ملے گا۔ یہ پاک چین دوستی اسرائیلی استعمار کو روک سکتی ہے ، امریکی عزائم کو بھی ناکام بنا سکتی ہے ، ایران اور عرب کشیدگی بھی ختم ہو سکتی۔ اس لیے اسرائیل اور امریکہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو بھی جنگ میں ملوث کیا جائے تاکہ پاک چین دوستی اور پاک چین اقتصادی منصوبے بھی متاثر ہوں اور پاکستان کمزور ہوگا تو عرب ممالک بھی حوصلہ ہار جائیں  گے اور اسرائیلی استعمار کامیاب ہو جائے گا ۔ 
سوال:مشرق وسطیٰ میںجاری جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے اور دنیا بھر کو تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہورہی ہے ۔ یہ سب  صرف سعودی عرب کو ٹارگٹ کرنے کے لیے ہے یا عالمی تجارت کو ٹارگٹ کرنے کے لیے ؟
رضاء الحق:امریکہ اور اسرائیل کسی صورت نہیں چاہتے کہ عالمی تجارت کا بہاؤ جاری رہے کیونکہ ان کو نظر آرہا ہے کہ مستقبل کی معاشی طاقت چین ہے اور چین  عالمی استعمار میں رکاوٹ بن سکتاہے ۔ جبکہ اسرائیل اپنے عزائم پر سمجھوتہ کرنے کے لیے کسی صورت تیار نہیں ہے اور امریکہ کے لیے اسرائیلی مفاد امریکی عوام سے بھی بڑھ کر رہے ۔ مسلم ممالک تو آپس میں لڑ رہے ہیں ، ایران عرب ممالک پر حملے کر رہا ہے ، حوثیوں نے بھی سعودی عرب سے جنگ چھیڑ دی ہے ، عراقی ملیشیا نے بھی ایک اہم پائپ لائن پر حملے کیے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہےکہ مسلمان بکھرے ہوئے ہیں ، ان کا اپنا مشن کلیئر نہیں ہے ۔ جبکہ صہیونی اپنا مشن ہرگز نہیں بھولتے ، وہ گریٹر اسرائیل کو اپنا تاریخی اورروحانی مشن قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ان کو پتا ہے کہ آگے کیا کرنا ہے ۔ خطے میں تجارت بند ہوگی تو چین اور پاکستان کے لیے مشکلات بڑھیں گی ۔ امریکہ کے پاس تودہائیوں کے لیے تیل کے ذخائر موجود ہیں ۔ چین  کی پوری انڈسٹری کا دارومدار تیل پر ہے۔ پھر تجارت رُکنے پر سعودی عرب کو بھی نقصان ہوگا ۔ پاکستان ، ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدہ کے باوجود پاکستان اور ترکیہ نہیں چاہتے کہ جنگ میں الجھ جائیں۔ لیکن اسرائیل اور امریکہ چاہتے ہیں کہ جنگ پھیلے ۔ کیونکہ جنگ پھیلے گی تو دنیا کی تجارت متاثر ہوگی اور اسرائیل اپنے عزائم میں آگے بڑھ سکے گا ، اس کی اجارہ داری قائم ہوگی ۔ 
سوال: پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات کرائے۔ کیا پاکستان  سعودی عرب اور یمنی حوثیوں کے درمیان بھی ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے ؟
مصطفیٰ کمال پاشا: سعودی عرب کے ساتھ  ہمارے اچھے تعلقات ہیں اور سعودی عرب چاہتا بھی ہے کہ جنگ رُکے ۔ حوثیوں کے نزدیک بھی ابھی تک پاکستان ایک جارح ملک نہیں ہے کیونکہ 2015ء میں جب  سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف پاکستان سے مدد مانگی تھی تو پاکستان کی پارلیمنٹ میں مشاورت کے بعد پاکستان نے حوثیوں کے خلاف فوج بھیجنے سے انکار کر دیا تھا ۔ یہ ایک ایسا فیکٹر ہے جوحوثیوں کے نزدیک پاکستان کی ثالثی کو قابل قبول بناتاہے ۔ پھر یہ کہ پاکستان ایران کے ذریعے بھی حوثیوں سے مذاکرات کر سکتاہے ۔ مگر یہ صرف سعودی عرب کے چاہنے سے نہیں ہو گا۔بات   معنی خیز ہے مگر یہ اس وقت ہوگا جب امریکہ چاہے گا کہ پاکستان اس جنگ کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
سوال:سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے مابین جو دفاعی معاہدہ ہوا ہے ، اس کے عملی تقاضے کیا ہیں ؟ اور کیا یہ عملی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے؟
پروفیسر یوسف عرفان:اس کے عملی اقدامات  تو وقت کے ساتھ ساتھ ڈویلپ ہوںگے ۔ مگر جو چیز اظہرمن الشمس ہے وہ یہ ہے کہ سعودیہ، ترکیہ اور پاکستان ایک  قوت کے طور پر خطے میں موجود ہیں۔جہاں تک حوثیوں کی بات ہے تو وہ آسانی سے مذاکرات کی میز پر نہیں آئیں گے کیونکہ اُن کے پیچھے عالمی طاقتوں کا ہاتھ ہے ۔ ان کا حل یہی ہے جو پاکستان TTP، بی ایل اے اور دیگر عالمی طاقتوں کی پراکسیز کے ساتھ کر رہا ہے کہ ساتھ ساتھ ان کی پٹائی بھی ہورہی ہے اور ساتھ ساتھ مذاکرات کی دعوت بھی دی جارہی ہے ۔پاکستان کی مہارت اس ضمن میں  سعودی عرب کے کام آسکتی ہے ۔ جنگ کو رکوانے میں پاکستان کا بھی فائدہ ہے کیونکہ اگر جنگ بڑھی تو پاکستان اور چین کو بھی نقصان پہنچے گا اور بھارت کو خطے میں بالادستی حاصل ہوگی ۔ اسرائیل کی اصل طاقت اس کے پڑوس  میں کمزور عرب ریاستیں ہیں جو اپنا دفاع نہیں کر سکتیں ۔  سعودی عرب واحد ملک ہے جو اپنا دفاع کر پارہا ہے ۔ اسرائیلی کی کوشش ہے کہ سعودی عرب بھی کمزور ہو ۔ اسی طرح  پاکستان کو بھی چاروں طرف سے گھیر کر کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستان اورسعودیہ کمزور ہوئے تو چین کے مفادات کو بھی نقصان پہنچے گا ۔ لہٰذا پاکستان اور چین کو مل کر اس جنگ کو رکوانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ 
مصطفیٰ کمال پاشا:مکہ معاہدہ میں شامل تین ممالک میں سے ایک ترکیہ نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے ، سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ بیٹھ کر جرمنی میں  مذاکرات کر رہا ہے ۔ لہٰذا مکہ معاہدے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کس کے خلاف ہے اور اس کا مستقبل کیا ہوگا ۔ اس سے قبل OICبنی ، GCCبنی ، اسلامک ملٹری الائنس بنا مگر نتیجہ کچھ بھی برآمد نہیں ہوا ۔ حالت یہ ہے کہ سعودی عرب اربوں ڈالرز امریکہ کو دیتا ہے لیکن پاکستان امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے کے باوجود ایک ارب ڈالر IMFسے قرض لینے کے لیے بھیک مانگ رہا ہے ۔ لہٰذا پاکستان کی ثالثی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ پاکستان کی معیشت حالت ِنزا ع میں  ہے ۔ اسی طرح مکہ معاہدہ کا حال بھی OICاور GCC جیسا ہوگا ۔ 
رضاء الحق: مذاکرات یا معاہدہ کسی بھی نوعیت کا ہو ، اصولی طور پر کوئی بری بات نہیں ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے۔ ہم کہتے ہیںکہ مکہ معاہدہ امت مسلمہ کی حفاظت کے لیے ہوگا، یہ خواہش تو اچھی ہے مگر اصل میں یہ معاہدہ کن مقاصد کے لیےا ستعمال ہوگا۔ اس کے بارے میں ہم ابھی نہیں جا نتے ۔ 2006 ءمیںامریکی آرمڈ سروسز جرنل میں کرنل رالف پیٹرز کا ایکمقالہ  "Blood Borders:How a Better Middle East Would Look"کے عنوان سے شائع ہوا تھا ۔ اس میں مشرق وسطیٰ میں ہونے والی تقسیم کا اُس نے نقشہ کھینچا تھا ۔ اسی کے مطابق اس وقت مشرق وسطیٰ میں سارے واقعات ہورہے ہیں ۔ مکہ معاہدہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک کچھ اہم مسلم ممالک اس میں شامل نہیں ہوتے۔خاص طور پر ایران اور مصر کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن میرے خیال میں وہ شامل نہیں ہوں گے ۔  پھر مکہ معاہدہ میں جس دشمن کا تذکرہ کیا گیا ہے اس کے بارے میں بھی واضح نہیں کیا گیا کہ وہ کون ہے ۔ اس سے قبل غزہ کے حوالے سے بھی بورڈ آف پیس بنا ہے لیکن اس کے باوجود اسرائیل غزہ پر حملے کر رہا ہے ، لیکن کچھ نہیں ہورہا ۔ ایسے معاملات حل نہیں ہوں گے جب تک مسلم ممالک اس بات کو نہیں سمجھتے کہ دشمن تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی پر گامزن ہے ۔ اس سازش سے باہر نکالنے کا طریقہ قرآن میں بتادیا گیا ہے :{اِنْ تَنْصُرُوا اللہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْG} (سورۃ محمد) ’’ اگر تم اللہ(کے دین) کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور وہ تمہارے قدموں کو جما دے گا۔‘‘
اگر ہم  اللہ کے دین کے نفاذ کے لیے جدوجہد کریں گے تو ہی اللہ کی مدد آئے گی۔ اگر مسلم ممالک اللہ کے دین کے غلبے کو اپنا مشترکہ مقصد بنائیں تو اللہ کی مدد آئے گی ۔ لیکن ہمارے حکمران امریکہ ، روس ، چین سے تو امیدیں  لگائے بیٹھے ہیں لیکن اللہ پر ان کا توکل اور یقین نہیں ہے ۔ حالانکہ اللہ کی مدد کے بغیر کہیں سے بھی مدد نہیں آسکتی ۔