جنازے کے موقع پر تذکیر بالقرآن
شوکت اللہ شاکر
جنازے کے موقع پر تذکیر بالقرآن (قرآن پاک کے ذریعے نصیحت اور یاد دہانی) ایک انتہائی اہم اور اثر انگیز عمل ہے۔
موت انسان کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے، اور جناز گاہ اس حقیقت کا سب سے مؤثر مدرسہ۔ میت سامنے ہو، قبر تیار ہو اور سینکڑوں دل غم و عبرت کی کیفیت میں ہوں تو یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کا دل نرم ہوتا ہے اور وہ آخرت کی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ مگر افسوس کہ بعض اوقات اس سنہری موقع کو بھی ہم غیرضروری حکایات، خوابوں، قصوں اور ذاتی کارگزاریوں کی نذر کردیتے ہیں۔
اس موقع پر تذکیر کے لیے چند اہم قرآنی آیات، بنیادی موضوعات اور آداب درج ذیل ہیں:
1۔ تذکیر کے لیے منتخب قرآنی آیات
جنازے کے موقع پر ایسی آیات کا انتخاب کرنا چاہیے جو موت کی حقیقت، آخرت کی تیاری اور اللہ کی طرف رجوع کا درس دیتی ہیں:
موت کی حقیقت:
{کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ طوَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط} (آل عمران: 185) ’’ ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تمہیں قیامت کے دن تمہارے پورے پورے اجر دئیے جائیں گے۔‘‘
دنیا کی بے ثباتی:
{وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَـآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(185)} (آل عمران: 185)’’ اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔‘‘
اللہ کی طرف واپسی:
{قَالُوْٓا اِنَّا لِلہِ وَاِنَّــآ اِلَـیْہِ رٰجِعُوْنَ(156)} (البقرہ) ’’یقیناً ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔‘‘
امتحانِ زندگی:
{الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاط} (الملک: 2)’’جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔‘‘
{فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ (7) وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ (8)}(الزلزال)
’’جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اُسے دیکھ لے گا۔‘‘
رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا مرکزی نقطہ بھی قرآن، توحید، آخرت، تقویٰ، توبہ اور اطاعت تھا۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا یعنی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔ پھر ہماری جناز گاہوں میں وعظ کا بنیادی مزاج بھی انذار و تبشیر اور قرآن و سنت ہی کیوں نہ ہو؟
2۔ تذکیر کے بنیادی موضوعات
بیان کے دوران درج ذیل امور پر مختصر اور جامع روشنی ڈالنی چاہیے:
موت سے کوئی مفر نہیں: یہ بتانا کہ دنیا میں آنے والا ہر شخص، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، جوان ہو یا بوڑھا، ایک دن یہاں سے جائے گا۔
زندگی ایک مہلت ہے: یہ زندگی آخرت کی تیاری کے لیے ایک عارضی امتحان گاہ ہے، اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔
اعمال کا حساب: قبر کا پہلا مرحلہ اور قیامت کے دن اللہ کے سامنے پیشی کا احساس دلانا۔
توبہ کی ترغیب: زندوں کو گناہوں سے توبہ کرنے اور نیکیوں کی طرف راغب ہونے کی تلقین کرنا، کیونکہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔
3۔ جنازے کے موقع پر تذکیر کے آداب
موقع اور محل کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:
مختصر اور جامع گفتگو: بیان کو بہت لمبا نہیں ہونا چاہیے۔ لوگ غم کی حالت میں ہوتے ہیں یا کھڑے ہوتے ہیں، اس لیے 5 سے 10 منٹ کا اجمالی اور پُراثر بیان کافی ہے۔
نرم اور ہمدردانہ لہجہ: گفتگو کا انداز ملامت والا نہیں، بلکہ دلوں کو جھنجھوڑنے والا اور ہمدردانہ ہونا چاہیے۔
بدعات سے اجتناب: تذکیر کا مقصد سنت کے مطابق لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا ہو، نہ کہ کوئی ایسی رسم بنانا جو شریعت سے ثابت نہ ہو۔
٭ قرآن کوتذکیر کا ذریعہ بنایا جائے۔
کم از کم ایک واضح قرآنی آیت، اس کا ترجمہ اور مختصر تشریح ضرور ہو۔
٭ صحیح احادیث کو ترجیح دی جائے۔
غیرمستند حکایات، من گھڑت واقعات اور مشہور مگر بے اصل اقوال سے اجتناب کیا جائے۔
٭ میت سے زندہ لوگوں کی اصلاح کی طرف بات منتقل کی جائے۔
نماز، توبہ، حقوق العباد، حلال کمائی، قرآن سے تعلق اور آخرت کی تیاری جیسے عملی موضوعات زیرِ بحث آئیں۔
٭ نبی اکرم ﷺ اور صحابۂ کرامj کی مستند زندگی سامنے لائی جائے۔خصوصاً ایمان، دعوت، صبر، ایثار اور دین کے لیے ان کی جانی و مالی قربانیوں کا ذکر کیا جائے۔
٭ آخر میں ایک واضح عملی عہد کروایا جائے۔
مثلاً:’’آج سے نماز کی پابندی کروں گا، کسی کا حق دبایا ہے تو ادا کروں گا، گناہ سے توبہ کروں گا اور قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کروں گا۔‘‘
میت ہمارے سامنے ایک خاموش پیغام بن کر پڑی ہوتی ہے:آج اس کی باری تھی، کل ہماری باری ہے۔
اس لیے جناز گاہ کو قصوں کی محفل نہیںبلکہ قرآن و سنت کے ذریعے دلوں کی اصلاح کا مرکز بنائیے۔ لوگوں کو اپنی طرف نہیں، اللہ کی طرف بلائیے۔
میت کے لیے دعا: تذکیر کے اختتام پر جنازے کے شرکاء کو نماز جنازہ میں حاضر میت کے لیے خلوصِ دل سے مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کرنی چاہیے۔