(دعوت و تحریک) تکمیل نبوت کے دو مظاہر - ڈاکٹر اسرار احمد

13 /

تکمیل نبوت کے دو مظاہر

ڈاکٹر اسرار احمد ؒ

محمد رسول اللہﷺ پر نبوت کامل ہوئی اور آپﷺ پر رسالت کامل ہوئی‘ ان دونوں باتوں کو اب میں علیحدہ علیحدہ بیان کر رہا ہوں‘ ذرا اس کو سمجھ لیجئے۔ دراصل نبوت عام ہے اور رسالت خاص ہے۔ ہر رسول لازماً نبی بھی ہے ‘مگر ایسا نہیں کہ ہر نبی لازماً رسول بھی ہو۔ نبی اور رسول میں فرق کے بارے میں علماء کی آراء مختلف ہیں کہ اس فرق کی بنیاد کیا ہے‘ یہ میرا اس وقت کا موضوع نہیں ہے‘ لیکن جو شخص نبی بھی ہے اور رسول بھی، اُس کی شخصیت میں جو دونوں چیزیں جمع ہو گئیں ان کی باہمی نسبت کیا ہے؟ دیکھئے نبوت اللہ سے لینے والا پہلو ہے۔ یعنی وحی حاصل کرنا‘ وحی کو وصول کرنا‘ یہ نبوت ہے۔ جبکہ رسالت ہے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دینا‘ عوام تک ابلاغ اور تبلیغ کا حق ادا کر دینا۔ تو ایک پہلو نبوت ہے‘ دوسرا پہلو رسالت ہے۔ نبوت وہ کھڑکی ہے جہاں سے وحی آ رہی ہے اور اس کو اللہ کا نبی (علیہ الصلوٰۃ والسلام) وصول کر رہا ہے ۔اب اس کا کام بحیثیت رسول اس وحی کو لوگوں تک پہنچانا ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا : {یٰٓــاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَـآ اُنْزِلَ اِلَـیْکَ مِنْ رَّبِّکَ} ’’اے رسول! پہنچا دیجیے جو کچھ بھی نازل کیا گیا ہے آپؐ پر آپؐ کے ربّ کی طرف سے‘‘ {وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ ط} (المائدۃ:67) ’’اور اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو پھر آپؐ نے رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔‘‘
نبوت کی تکمیل کے دو مظاہر ہیں اور اس کے لیے میرے نزدیک قرآن مجید کی جو متعلقہ آیت ہے وہ الفاظ قرآن میں تین مرتبہ آئے ہیں‘ سورۃ التوبۃ میں‘ سورۃ الفتح میں اور سورۃ الصف میں : ’’وہی ہے (اللہ) جس نے بھیجا اپنے رسولؐ:کو الہدیٰ (قرآن حکیم) اور دین حق دے کر ‘تاکہ اسے کل جنس ِدین پر غالب کر دے‘‘۔ یہاں قرآن حکیم کے لیے ’’الہدیٰ‘‘ کا لفظ آیا ہے‘اور ’’الہدیٰ‘‘ اور ’’دین الحق‘‘ کے درمیان حرفِ عطف ’’و‘‘ آیا ہے۔ یعنی یہ دو چیزیں الہدیٰ اور دین حق دے کر بھیجا۔ کس لیے بھیجا؟ { لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ} تاکہ وہ غالب کر دے اسے تمام ادیان پر‘ تمام نظاموں پر‘ پورے کے پورے جنس دین پر۔ اس کے بعد دو جگہ{وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ(0)}  کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی ’’خواہ مشرکوں کو کتنا ہی ناپسند ہو‘‘۔ اور ایک جگہ آیا:{ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا(0)} ’’اور اللہ کافی ہے بطورِ گواہ (یا بطورِ مددگار)۔‘‘ 
حضورﷺ کو جو دو چیزیں دی گئیں‘ الہدیٰ (قرآن حکیم) اور دین حق‘ابتدا سے چلی آ رہی ہیں۔ حضرت آدم ؑ کو جب زمین پر اترنے کا حکم دیا گیا تو ساتھ ہی فرما دیا گیا : ’’پھر جو بھی تمہارے پاس میری جانب سے کوئی ہدایت آئے تو جو لوگ اس ہدایت کی پیروی  کریں گے، ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہو گا۔‘‘ (البقرۃ:38)تو ہدایت کا سلسلہ حضرت آدم ؑ کے ساتھ شروع ہو گیا‘ لیکن جیسے جیسے بحیثیت مجموعی نوعِ انسانی کے شعور نے ترقی کی‘ ذہنی اور فکری سطح بلند ہوئی، ویسے ہی اس ہدایت کے اندر بھی ارتقا ہوتا چلا گیا۔ ظاہر بات ہے کوئی بچہ اگر پرائمری کا طالب علم ہے اور آپ اس کے لیے پی ایچ ڈی ٹیچر رکھ دیجئے تو کیا وہ اسے پی ایچ ڈی کی تعلیم دے گا؟ یا ایم اے کا نصاب پڑھائے گا؟ نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچہ ابھی عہد طفولیت میں ہے اور اس کے لیے ایک خاص حد سے آگے بات کا سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے۔تو نوعِ انسانی جب تک عہد طفولیت میں تھی ہدایت بلکہ ہدایات آتی رہیں کہ یہ کرو‘ یہ نہ کرو۔ نوٹ کیجئے‘ میں یہاں ’’ہدایت‘‘ کی جگہ ’’ہدایات‘‘ کا لفظ استعمال کر رہا ہوں۔ اس لیے کہ تورات ’’احکامِ عشرہ‘‘پر مشتمل تھی کہ یہ اوامرہیں اور یہ نواہی ہیں‘ یہ تمہیں کرنا ہے اور یہ نہیں کرنا ہے۔ جب تک نوعِ انسانی شعور کے اعتبار سے ‘ اپنے فلسفیانہ فکر کے اعتبار سے‘ اپنے ذہن اور شعور کی ارتقائی منازل کے اعتبار سے پختہ کار نہیں ہو گئی تو اس عبوری دَور کے لیے ہدایات آتی رہیں کہ یہ کرو اور یہ نہ کرو‘ لیکن جب نوعِ انسانی شعور کے اعتبار سے بلوغ کو پہنچ گئی تو اسے ہدایات کے بجائے ہدایتِ کاملہ عطا کر دی گئی۔تاریخ اور فلسفہ کے ماہرین خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ نوعِ انسانی کا فلسفیانہ شعور بارہ  سو سال میں ترقی کی منازل طے کرتا ہوا اپنے بلوغ کی منزل کو پہنچا ہے۔ یہ دَور600قبل مسیح سے شروع ہو کر 600 بعد مسیح پر ختم ہو گیا۔ سارے کے سارے فلسفے انہی بارہ سو سالوں میں پیدا ہوئے۔ سقراط‘ افلاطون اور ارسطو بھی اسی دَور میں پیدا ہوئے اور گوتم بدھ‘ مہاویر‘ کنفیوشس اور تائو نے بھی اسی دَور میں جنم لیا ۔اس بارہ سو سالہ دَور میں انسان کا ذہنی‘ خاص طو رپر فلسفیانہ شعور اپنی ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے پختگی کی آخری حد کو پہنچ چکا تھا۔یادش بخیر پروفیسر یوسف سلیم چشتی ؒ کا ذکر کر رہا ہوں‘ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے‘ جب میں کرشن نگر میں پریکٹس کرتا تھا تو وہ شام کو میرے پاس آ کر بیٹھ جایا کرتے تھے اور واقعہ یہ ہے کہ پھلجھڑیاں ہوتی تھیں جو اُن کے منہ سے نکلتی تھیں‘ جو گویا فلسفیانہ اور تاریخی معلومات اور مذہبی مسائل کا ایک خزانہ تھا۔ ایک مرتبہ انہوں نے کہا عجیب بات ہے600 قبل مسیح سے 600 بعد مسیح تک جتنے مذاہب اور جتنے فلسفے پیدا ہونے تھے ہو چکے‘ اس کے بعد کوئی نیا مذہب یا نیا فلسفہ دنیا میں نہیں آیا۔ یہ تو پرانی شراب ہے جو نئے لیبلوں کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے۔ اس پر میرا ذہن فوراً منتقل ہوااور میںنے کہا : چشتی صاحب! اس کا تو پھر براہِ راست تعلق ختم نبوت کے ساتھ ہے! کہنے لگے: کیوں؟ میں نے کہا : جب انسان جو کچھ از خود سوچ سکتا تھا سوچ چکا تو پھر اسے ہدایت ِکاملہ سے نواز دیا گیا‘ اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ600 عیسوی تک انسان کا فلسفیانہ شعور اپنی پختگی اور بلوغ کو پہنچ گیا تھا تو610 ء میں حضرت محمدﷺ پر وحی کا آغاز ہوا: {اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ (1) خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (2) اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ (3) الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (4) عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ (5)} (العلق) اور شاید سیرت النبیﷺ کا یہ پہلو بہت کم لوگوں کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ 
اس ’’اقرأ‘‘کی وحی کے آنے سے متصلاً قبل (مدت کا ہمارے پاس تعین نہیں ہے کہ کتنے مہینے یا کتنا لمبا عرصہ لگا ہے) حضورﷺ غار ِحرا میں جو مراقبہ کیا کرتے تھے وہ کس چیز پر مشتمل ہوتا تھا؟ حدیث میں الفاظ آتے ہیں : یَتَحَنَّثُ فِیْہِ ’’وہاں آپ عبادت کیا کرتے تھے‘‘۔ لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون سی عبادت؟ آپؐ اگر یہودیوں کے ہاں پیدا ہوتے تو یہودیوں والی عبادت کرتے اور عیسائیوں کے ہاں پیدا ہوتے تو عیسائیوں والی عبادت کرتے‘ لیکن آپؐ:تو عرب کے اندر مکہ میں مشرکانہ ماحول میں پیدا ہوئے اور ظاہر بات ہے کہ مشرکین والی عبادت کرنے کا تو سوال ہی نہیں۔ آپؐ: سلیم الفطرت انسان تھے اور آپؐ نے کبھی کسی بت کو سجدہ نہیں کیا۔ تو آپؐ :کون سی عبادت کرتے تھے؟ شارحین حدیث نے اس کا حل نکالا ہے : کان صفۃ تعبدہ فی غار حراء التفکر والاعتبار ۔ یعنی غارِ حرا میں حضورﷺ کی جو عبادت تھی وہ غور و فکر اور سوچ بچار پر مشتمل تھی۔میرا دعویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہﷺ کو پوری انسانی فلسفیانہ سوچ کے مراحل طے کرائے ہیں اور اس کے بعد وحی ٔنبوت کا آغاز ہوا ہے:{اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ(1)} یہ سارا مرحلہ اسی لیے تھا کہ حضورﷺ اپنی سوچ اورغور وفکر سے‘ اپنی سلامتی ٔ:طبع‘ اپنی سلامتی ٔ:فطرت اور عقل سلیم کی رہنمائی میں غور و فکر کریں‘ تدبر کریں۔ اور اس کے نتیجے میں پھر آپؐ اس مقام پر پہنچے کہ{وَوَجَدَکَ ضَآلاًّ فَھَدٰی (7)}(الضّحٰی) یعنی اے نبیﷺ !ہم نے پایا آپ کو کہ آپ ہدایت کی تلاش میں سرگرداں ہیں‘ تو ہم نے آپؐ:کو ہدایت ِکاملہ سے سرفراز فرما دیا۔ 
یہ ایک بہت اہم حقیقت ہے جو نگاہوں کے سامنے نہ ہو تو اس کی کوئی حیثیت نہیں اور نگاہوں کے سامنے آ جائے تو بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ کیا تورات اللہ کی کتاب نہیں تھی؟ اس میں تحریف کیوں ہو گئی؟ اگر اللہ نے ضمانت لی ہوتی کہ اس میں تحریف نہیں ہو سکتی تو کیا تحریف ہو سکتی تھی؟ کیا انجیل اللہ کی کتاب نہیں تھی؟ یقینا تھی۔ اس میں تحریف کیوں ہو گئی؟ اس لیے کہ اللہ نے اس کی حفاظت کا ذمہ نہیں لیا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ قرآن کی حفاظت کا ذمہ نہ لیتا توکیا ہم اسے تحریف کے بغیر چھوڑ دیتے؟ علامہ اقبال نے کہا تھا   ؎
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!
قرآن کے ترجموں میں بھی تحریفیں ہوئی ہیں اور تفسیروں میں بھی ہوئی ہیں‘ ہاں ایک متن قرآن ہے جس میں تحریف نہیں ہو سکتی ‘اس لیے کہ اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہے: {اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ(9)}(الحجر) ’’ہم نے ہی اس ’’الذکر‘‘ کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں‘‘۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ‘‘ کے الفاظ کا مصداق تورات بھی ٹھہرتی ہے‘ انجیل بھی اور زبور بھی۔ اللہ ہی نے سابقہ آسمانی کتب بھی نازل کی تھیں۔ خاص طور پر سورۃ المائدۃ کے ساتویں رکوع کے الفاظ ملاحظہ ہوں :{اِنَّــآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىۃَ فِیْھَا ھُدًی وَّنُوْرٌج }  ’’ہم نے اتاری تھی تورات‘ اس میں ہدایت بھی تھی‘ نور بھی تھا‘‘۔ پھر انجیل کے بارے میں بھی فرمایا:{فِیْہِ ھُدًی وَّنُوْرٌ}  ’’اس میں ہدایت بھی تھی‘ نور بھی تھا‘‘۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اللہ نے ان کی حفاظت کا ذمہ نہیں لیا اور قرآن کی حفاظت کا ذمہ لے لیا؟سابقہ کتب سماویہ کے نزول کے وقت ابھی ہدایت اپنے ارتقائی مراحل طے کر رہی تھی‘ ابھی اسے اپنے نقطہ ٔ:عروج اور نقطہ ٔ:کمال تک پہنچنا تھا۔ چنانچہ اس درمیانی عرصے کے لیے ‘عبوری دَور کے لیے جو ہدایات آ رہی تھیں ان کو مستقل طو رپر محفوظ کر دینے کی چنداں حاجت نہ تھی۔ جب وہ کامل اور مکمل ہدایت آ گئی اور ہدایت کی تکمیل ہو گئی تو اب یہ ہدایت ’’ھُدًی‘‘ نہیں رہی ’’الہُدٰی‘‘ ہو گئی۔ اب اس کی حفاظت کا ذمہ لیا گیا۔ 
ختم نبوت کے خلاف غلام احمد قادیانی کی دلیل کی تردید
ایک قادیانی سے جب اس معاملے پر بحث کی تو سورۃ البقرۃ میں وارد شدہ الفاظ {فَبُھِتَ الَّذِیْ کَفَرَ} کے مصداق وہ میری دلیل کے آگے بالکل مبہوت ہو کر رہ گیاغلام احمد قادیانی ایک بہت اچھا مناظر تھا۔ اس نے آریہ سماجیوں اور عیسائیوں سے مناظرے کیے ‘جن میں فتح حاصل کی اور نتیجتاً مسلمانوں کی آنکھوں کا تارا بن گیا‘ محبوب ہو گیا۔ اس کے بعد اس نے ایک شوشہ چھوڑا کہ نبوت اور وحی تو رحمت ہیں‘ رحمت بند کیسے ہو سکتی ہے؟ وحی تو انسانوں کی ہدایت کے لیے ہے‘ انسان ختم نہیں ہوئے تو وحی کیسے ختم ہو گئی! دیکھئے بظاہر یہاں بات جی کو لگتی ہے۔یہیں سے آپ کو اس بات کا جواب مل جائے گا کہ بڑے بڑے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اس فتنے کا شکار کیونکر ہو گئے۔ دنیا میں ایک ہی مسلمان نام کا سائنس دان ٹاپ پر آیا ہے‘ اور وہ قادیانی ہے۔ ایک ہی مسلمانوں کا نام رکھنے والا انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس ہیگ کا جج بنا ہے‘ وہ بھی قادیانی ہے۔ بڑے بڑے ڈاکٹرز اور انجینئرز قادیانی ہیں      آخر کیوں؟ یہ بات ایسی تھی جو بظاہر دل کو اپیل کرتی ہے کہ انسانوں کی ہدایت کے لیے وحی کا راستہ کھولا گیا تھا‘ ابھی انسان ختم نہیں ہوئے ‘ وحی کا دروازہ کیسے بند ہوجائے گا؟ پہلے اجرائِ وحی کا شوشہ چھوڑا۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ اگر وحی جاری ہے تو نبوت بھی جاری ہے۔ لہٰذا پھر اُس نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ اس نے عوام الناس کی نفسیات کو متاثر کرنے کے لیے ایک اور شوشہ چھوڑا کہ دیکھو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمارے نبی حضرت محمد:ﷺ فوت بھی ہو گئے اور زیر ِزمین دفن ہیں جبکہ حضرت عیسیٰ بن مریم d زندہ آسمان پر اٹھا لیے گئے اور وہ آسمان پر ہیں! اس سے تو گویا ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم حضرت محمدﷺ سے افضل ہو گئے! حالانکہ افضلیت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اصحابِ کہف اگر 300 برس تک سوتے رہے تو اس میں کون سی افضلیت کی بات ہے! اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر d کو 100 برس تک مردہ رکھ کر دوبارہ زندہ کر دیا تو اس میں افضلیت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔خدا کی قدرت ہے‘ اللہ ایسا کر سکتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے عام آدمی کو گمراہ کرنے کے لیے ایسے شوشے چھوڑے اور کہا کہ نہیں نہیں‘ غلط ہے‘ یہ مولویوں کے ڈھکوسلے ہیں‘   رفع مسیح  ؑقرآن مجید میں صراحت کے ساتھ مذکور نہیں ہے‘ حدیثوں کے اندر ہے ‘ اور حدیثوں کے بارے میں ہم اطمینان نہیں کر سکتے کہ حضرت مسیحd سولی نہیں چڑھائے گئے۔ مرزا کے بقول وہ سولی چڑھائے گئے ‘ لیکن فوت نہیں ہوئے‘ البتہ زخمی ہونے کے بعد صلیب سے اتار لیے گئے تھے‘ پھر اُن کا علاج معالجہ ہوا‘ پھر وہ علاقہ چھوڑ کر کشمیر میں آ گئے‘ یہاں آ کر ان کا انتقال ہو گیا اور یہاں دفن ہوئے‘ یہاں کشمیر میں اُن کی قبر بھی موجود ہے۔ یہ دوایشو ہیں جو اس شخص نے خصوصی طور پر اٹھائے اور اس طرح عوام الناس کو متاثر کیا۔ 
ابھی میں نے جس قادیانی کا ذکر کیا اس سے میں نے کہا کہ مجھے یہ بتائو :کیا تم یہ مانتے ہو کہ اللہ کی ہدایت قرآن میں کامل ہو گئی؟ اس نے کہا : ہاں ‘ہم مانتے ہیں کہ ہدایت کامل ہو گئی۔ میں نے کہا:کیا تم یہ مانتے ہو کہ قرآن محفوظ ہے‘ اس میں تحریف نہیں ہوئی؟ اُس نے کہا: ہاں‘ ہم مانتے ہیں کہ قرآن محفوظ ہے‘ اس میں تحریف نہیں ہوئی۔ پھر میں نے کہا : مجھے منطقی وجہ بتائو کہ پھر اس وحی کی کھڑکی کو کھلے رکھنے کا فائدہ کیا ہے؟ وہاں سے جو آنا تھا وہ مکمل ہو گیا‘ یعنی قرآن۔ ہاں‘ قرآن میں اگر تحریف ہو جاتی‘ اس کی حفاظت کا ذمہ نہ لیا گیا ہوتا تو کسی نبی کی ضرورت تھی کہ جو آ کر اس کی تصحیح کرتا کہ یہ بات یوں نہیں‘ یوں تھی۔ منطقی اعتبار سے ایک جواز پیدا ہوتا ہے وحی اور نبوت کے جاری رہنے کا‘ بشرطیکہ ان دو باتوں میںسے کسی ایک کو مانا جائے یا تو یہ کہو کہ قرآن میں ہدایت مکمل نہیں ہوئی اور یا کہو کہ ہو توگئی تھی لیکن قرآن گم ہو گیا یا قرآن کے اندر تحریف ہو گئی ‘ یہ وہ اصل قرآن نہیں ہے۔ یہ دونوں باتیں نہیںمانتے تو عقلی اور منطقی اعتبار سے اس کھڑکی کو کھلے رکھنے کا کہاں کوئی جواز پیدا ہوتا ہے؟ اس پر وہ قادیانی بالکل مبہوت ہو گیا کہ واقعتا آپ کی دلیل بہت مضبوط ہے۔ تو تکمیل نبوت کا پہلا مظہر یہ ہے کہ وہ ہدایت‘ فلسفیانہ ہدایت‘ ایمان کی ہدایت‘ فکری اور نظری ہدایت جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو دینی تھی‘ وہ قرآن میں مکمل ہو گئی۔
تکمیل نبوت کا دوسرا مظہر یہ ہے کہ دین حق کی  بھی تکمیل ہوئی ہے حضرت محمدﷺ پر۔ جیسا کہ    سورۃ المائدۃ کی آیت3 میں آیا: ’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا‘‘۔ لیکن تکمیل دین کا پس منظر بھی سمجھ لیجئے ۔جیسے انسان کے ذہنی ارتقاء کے مراحل آئے ہیں‘ فلسفیانہ شعور میں ترقی ہوئی ہے اور ہوتے ہوتے وہ اپنے بلوغ اور پختگی کو پہنچا ہے‘ ایسے ہی انسان کے اندر تمدنی طور پر ارتقاء ہوا ہے۔ ایک دَور وہ تھا جب ہمارے آباء و اجداد غاروں میں رہتے تھے۔ کہیں کوئی سٹریٹ لائٹ کا سوال نہیں‘ کہیں کوئی سڑکوں کو صاف کرنے کا سوال نہیں‘ کہیں کسی کارپوریشن اور میونسپلٹی کا سوال نہیں۔ انفرادیت ہی انفرادیت تھی۔ میں اپنی غار کا مالک ہوں‘ جو چاہوں کروں‘ میرے اوپر کوئی قانون نہیں‘ کوئی قدغن نہیں۔ یہ نظام تھا۔ اجتماعیت تھی ہی نہیں‘ انفرادیت ہی انفرادیت تھی۔ پھر قبائلی نظام قائم ہوا کہ قبیلے کا ایک سردار ہے‘ اس کا حکم ماننا ہو گا۔ تم فلاں قبیلے سے ہو‘ اس قبیلے کی یہ روایات ہیں‘ تمہیں ان پر عمل کرنا ہو گا۔ اب جیسے جیسے اجتماعیت آنی شروع ہوئی انفرادیت کے اوپر قدغنیں لگنی شروع ہوئیں۔ یہ نہیں کہ جو چاہو کرو۔ تمہارا تعلق اس قبیلے کے ساتھ ہے ‘اس کی یہ رسم ہے‘ یہ ریت ہے‘ اس کا یہ رواج ہے‘ تمہیںاس کو پورا کرنا ہو گا‘ اور تمہارا جوشیخِ قبیلہ ہے‘ سردارہے‘ اس کا حکم ماننا ہو گا۔
آگے چلیے! شہری ریاستیں وجود میں آئیں۔ دو‘ تین‘ چار قبیلے ایک شہر میں آ کر آباد ہو گئے۔ ہر قبیلہ تو اپنی جگہ پر ایک اجتماعی یونٹ ہے‘ اس کا سردار ہے‘ اس کا کہنا سب مانتے ہیں‘ لیکن اب ان قبیلوں کے آپس کے معاملات کیسے طے ہوں گے؟ یہاں سے دستور سازی کا آغاز ہوا۔ چنانچہ کچھ اصول طے کیے جاتے تھے کہ ہمارے بین القبائلی معاملات ان اصولوں کے تحت ہوں گے۔ اب میں یہاں ایک مثال دیتا چلوں‘ حضورﷺ کی بعثت کے وقت مکہ مکرمہ ایک قبیلے کاشہر تھا جہاں صرف قریش رہتے تھے‘ اور کوئی وہاں نہیں رہ سکتا تھا۔ یہ بات طے تھی کہ یہاں یا قریشی رہے گا یا قریشی کا غلام رہے گا‘ وہ کوئی بھی ہو‘ یا قریشی کا حلیف رہے گا‘ یعنی باہر سے کوئی آئے گا تو کسی مکہ والے کا حلیف بن کر ٹھہر سکتا ہے‘ ورنہ نہیں ۔ لیکن مدینہ منورہ سماجی ارتقاء کے ایک بلند تر درجے پر تھا۔ وہاں پانچ قبیلے آباد تھے۔ دو تو اصل عرب قبیلے تھے: اَوس اور خزرج۔ تین یہودی قبائل تھے جو وہاں    آ کر آباد ہو گئے تھے: بنو قریظہ‘ بنو قینقاع اور بنونضیر۔ ان پانچوں قبیلوں کے آپس میں معاہدات تھے۔اَوس کا قبیلہ چھوٹا تھا‘ خزرج کا بڑا تھا۔ ( حضورﷺ نے بھی جب ان میں بارہ نقیب مقرر کیے تھے تو نو خزرج میں سے تھے اور تین اوس میں سے ۔) اَوس اور خزرج کے درمیان یہ طے تھا کہ اگر کوئی خزرجی کسی اَوسی کو قتل کر دے گا تو دیت ایک تہائی ہو گی‘ جبکہ اگر کوئی اَوسی کسی خزرجی کو قتل کر دے گا تو تین گنا دیت دینا ہو گی۔ یقینا اَوسی نوجوان کا خون کھولتا ہو گا کہ کیا میرے خون اور میری جان کی قیمت اس خزرجی نوجوان کے مقابلے میں ایک بٹا تین ہے! لیکن اگر مدینے میں رہنا ہے تو اس اصول کو ماننا پڑے گا‘یہ اصول یہاں طے ہو چکا ہے‘ اب تمہیں اس کی پابندی کرنی ہے۔
اس سے اگلا قدم کیا تھا ! جزیرہ نمائے عرب کے اوپر جو بہت بڑا پگڑ ہے یہ شامِ عرب اور عراقِ عرب ہے ۔ یہ بھی عرب ممالک ہیں۔ اس جزیرہ نماکے اوپر دو عظیم مملکتیں قائم تھیں‘ قیصر کی سلطنت ِروما اور کسریٰ کی سلطنت ِایران۔ یہ تمدن کی آخری سٹیج تھی جبکہ حکومتیں بن گئیں‘ بادشاہتیںقائم ہو گئیں‘ محلات بن گئے‘مستقل افواج وجود میں آ گئیں۔ لاکھوں کی تعداد میں فوجیں ہیں‘ ٹیکس لگ رہے ہیں‘ دہقان محنت کر رہا ہے اور اس سے ٹیکس لیا جا رہا ہے‘ جاگیردار اپنا حصہ رکھ کر باقی بادشاہ کو پہنچاتا ہے۔ کرگے پر بیٹھا ہواکوئی شخص کپڑا بن رہا ہے تو اس سے بھی ٹیکس لیا جا رہا ہے۔ عوام کو ظلم و ستم کی چکی میں پیسا جا رہا ہے اور بادشاہ عیش کر رہے ہیں‘ اونچے اونچے محلات بنا رہے ہیں۔ یہ زمانہ تھا جبکہ انسانیت پر ایسی پابندیاں لگیں کہ انسان مجبور و مقہور ہو کر رہ گیا۔ اس دَور میں محمد رسول اللہﷺ پیدا ہوئے۔ اُس وقت تمدنی ارتقاء اس انتہا کو پہنچ گیا تھا کہ اجتماعیت کا دَور دورہ تھا‘ انفرادیت پس گئی تھی‘ اس کی آزادیاں ختم ہو گئی تھیں۔ اب بادشاہ تھا اور بادشاہ کا نظام تھا۔ عوام میں کہیں ذرا سی بھی بغاوت ہوتی تو سلطنت روما کے غرقِ آہن فوجی اسے بری طرح کچل دیتے تھے۔ اسی طرح ایرانی فوجی کسی کو سر اٹھانے کا موقع نہیں دیتے تھے‘ا س وقت محمد رسول اللہﷺ آئے اور آپؐ :کونوعِ انسانی کے لیے دین حق کی صورت میں ایک مکمل نظامِ حیات عطا کر دیا گیاکہ سماجی سطح پر یہ ہدایات ہیں ‘ معاشی سطح پر یہ ہدایات ہیں اور سیاسی سطح پر یہ ہدایات ہیں۔ الغرض ایک مکمل پولیٹکو سوشیو اکنامک سسٹم کی حیثیت سے دین کو کامل کر کے حضرت محمدﷺ کو عطا کر دیا گیا۔ حالانکہ دین ہمیشہ سے ایک تھا‘ موسٰی کا دین بھی یہی تھا‘ عیسٰی ؑکا دین بھی یہی تھا‘ ابراہیم ؑ کا بھی یہی تھا‘ نوحؑ کا بھی یہی تھا  سورۃ الشوریٰ (آیت13)  میں فرمایا:
’’(اے مسلمانو!) اللہ نے تمہارے لیے دین میں وہی کچھ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اس نے نوح ؑ کو کی تھی اور جس کی وحی ہم نے(اے محمد ﷺ) آپ کی طرف کی ہے اور جس کی وصیت ہم نے کی تھی ابراہیم ؑ اور موسیٰ  ؑ کو اور عیسیٰ  ؑ کو کہ قائم کرو دین کو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو…‘‘
سب کا دین ایک تھا‘ لیکن ابھی دین مکمل نہیں ہوا تھا۔ ابھی اجتماعیت محدود تھی‘ ابھی انفرادیت کا بول بالا تھا۔ ابھی ایک نظام کا تصور نہیں تھا۔ ابھی کوئی پولٹیکل سسٹم وجود میں نہیں آیا تھا۔ ابھی وہ مستقل افواج کے دَور نہیں آئے تھے۔ وہ دَور جب آگیا تو عدل و قسط پر مبنی ایک  پولیٹکوسوشیو آکنامک سسٹم اسلام کی شکل میں‘ دین حق کی تکمیل کر کے محمد رسول اللہﷺ کو عطا کیا گیا۔ {اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَـکُمْ دِیْنَکُمْ} 
یہ تکمیل نبوت کے دو مظاہر ہیں۔ ایک یہ کہ ہدایت ’’ھُدًی‘‘ سے بڑھ کر ’’الہُدیٰ‘‘ بن گئی۔ یعنی قرآن کی صورت میں کامل اور مکمل ہدایت عطا کر دی گئی۔ دوسرے یہ کہ دین کامل ہو گیا۔ یہ دونوں چیزیں حضورﷺ پر اپنے عروج اور نقطہ ٔکمال کو پہنچ گئیں۔ چنانچہ اللہ سے لینے والا حصّہ جو ہے‘ یعنی وحی اور دین‘ دونوں کی تکمیل ہو گئی محمد رسول اللہﷺ پر۔