(امیر سے ملاقات ) امیرسے ملاقات قسط53 - محمد رفیق چودھری

13 /

صہیونی نیل سے فرات تک قبضے اور گریٹر اسرائیل قائم

کرنے کے منصوبے پر تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں،

یہودیوں کی پرانی روش ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑوا کر

ان کی طاقت ختم کی جائے، جس طرح حرمین شریفین کی حفاظت

ہمارے ایمان کا حصّہ ہے ، اسی طرح مسجد اقصیٰ کی حفاظت بھی

ہم پر لازم ہے، پاکستان کے مسائل کا مستقل اور پائیدار حل یہ ہے کہ

ایک پُر امن انقلابی تحریک کے ذریعے نظام کو مکمل طور پر بدلا

جائے اور اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق نظام قائم کیا جائے،

جس کے لیے پاکستان کو حاصل کیا گیا تھا ۔

خصوصی پروگرام’’ امیر سے ملاقات‘‘ میں

امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ کے رفقائے تنظیم اسلامی و احباب کے سوالوں کے جوابات

میزبان :آصف حمید

مرتب : محمد رفیق چودھری

سوال: سعودی عرب اور یمن کی جنگ کے حوالے سے متضاد خبریں ہیں۔آج کے دور میں کسی خبر کی تصدیق کیسے کی جا سکتی ہے۔قرآن و احادیث میں یہود کی سازشوں  کا بہت ذکر ہے ، ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اس موضوع پر تفصیلی کلام کیا ہے ۔ تازہ صورت حال کیا ہے اور ہم کس سمت بڑھ رہے ہیں ؟
امیر تنظیم اسلامی:  مسلمانوں کے پاس اللہ کا کلام اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات موجود ہیں ۔ اس کی روشنی میں ہم حق اور باطل کی تمیز کر سکتے ہیں ۔ قرآن میں ایک سنہری اصول بیان ہوا ہے :
  ’’ اگر تمہارے پاس کوئی فاسق شخص کوئی بڑی خبر لے کر آئے تو تم تحقیق کر لیا کرو۔مبادا کہ تم جا پڑو کسی قوم پر نادانی میں اور پھر تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔‘‘(الحجرات:6)
آج کےدور میں عالمی میڈیا فسق و فجور، جھوٹ، مکاری اور فریب میں حد سے بڑھا ہوا ہے ۔ ریٹنگ بڑھانے کے لیے اور سنسنی پھیلانے کے لیے کیا کچھ ہوتا ہے ہم سب کو معلوم ہے ۔ ان حالات میں کسی بھی خبر پر بلا تحقیق اعتماد کرلینا ایک مسلمان کا شیوہ نہیں ہے ۔ خاص طور پر اگر معاملہ یہودیوں کے متعلق ہو تو پھر بہت محتاط رہنا چاہیے ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اپنے آخری سالوں میں کراچی میں ایک خطاب ’’دورِ حاضر میں انسانیت کے سب سے بڑے دشمن‘‘ کے عنوان سے کیا تھا ۔ اس میں انہوں نے یہود کی سازشوں کا تفصیلی ذکر کیا ہے ۔ اس کے بعض حصے آج بھی لوگ سوشل میڈیا پر سنتے ہیں۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ کو اللہ نے توفیق عطا فرمائی اور انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں حالات و واقعات کا تجزیہ کیا ۔ قرآن و حدیث کو دوام حاصل ہے ۔ اس لیے آج بھی ان کی باتیں سچ ثابت ہورہی ہیں ۔ یہود کی فطرت میں مکاری شامل ہے ، اگر اُس کو اپنا مفاد کسی غیر یہودی جج سے حاصل ہوتا ہو تو اپنا مقدمہ اُس کے پاس لے کر جائے گا۔ یہودی آپس میں سود خوری کا معاملہ نہ کرے گا لیکن ساری دنیا کو سود پر لگا کر ان کاخون نچوڑ لے گا ۔ غیر یہودیوں کا مال ہڑپ کرنا وہ اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں ۔ قرآن میں ان کی سرشت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے :
{ فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ ج }(آل عمران:75) ’’ ان اُمیین کے معاملے میں ہم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔‘‘ 
غزہ میں انہوںنے کس طرح بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کیا اور آج بھی جب دنیا کی توجہ غزہ سے ہٹ چکی ہے ، فلسطین میں یہودی آبادکاری کا معاملہ بڑھ گیا ہے ، یہاں تک کہ برطانیہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔  مسجد اقصیٰ میں اسرائیل کا پرچم لہرا دیا گیا ہے، یہودی عبادت گزاروں کو لا کر وہاں ان سے ریاضتیں کروائی جارہی ہیں ۔ ان کا جو منصوبہ ہے کہ نیل سے فرات تک قبضہ کرکے گریٹر اسرائیل قائم کرنا ہے ، اس پر تیزی سے گامزن ہیں۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ نائن الیون کے ڈرامے کے فوراً بعد بش کی زبان پر کروسیڈز کا لفظ آیا اور اس کے بعد ایک تسلسل کے ساتھ افغانستان ، عراق ، لیبیا ، شام سمیت کئی مسلم ممالک کو تباہ کر دیا گیا ۔ پھر برما ، کشمیر اور بھارت کےکئی علاقوں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت وہی ہتھکنڈے آزما رہا ہے جو اسرائیل فلسطین میں آزما رہا ہے ۔ تیسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم ممالک کو آپس میں لڑوا کر ان کی طاقت ختم کی جارہی ہے۔ماضی قریب میں ایران اور عراق کے درمیان جنگ کروا کر اپنے مقاصد حاصل کیے ۔ دونوں کو اسلحہ فروخت کرکے معاشی فوائد بھی حاصل کیے۔ آج بھی یہی سازشیں ہمیں نظر آرہی ہیں ۔ مکہ مکرمہ اور طائف پر حوثیوں کے حملوں کی خبریں عالمی میڈیا پر آئیں جبکہ حوثیوں نے اس کی تردید کی ہے ۔ یہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی سازش ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مکہ اور مدینہ حرمین شریفین ہیں مگر ہم یہ نہ بھول جائیں کہ مسجد اقصیٰ بھی ہمارے لیے حرم ہے۔ جس طرح حرمین شریفین کی حفاظت ہمارے ایمان کا حصّہ ہے ، اسی طرح مسجد اقصیٰ کی حفاظت بھی ہم پرلازم ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے قسم اُٹھا کر فرمایا کہ ایک مسلمان کی جان اللہ کے نزدیک کعبہ سے زیادہ قیمتی ہے۔آج مسلمانوں کی لاشیں کس طرح گرائی جارہی ہیں ۔ مسلمانوں کی جان ، مال اور عزت کا تحفظ بھی ضروری ہے ۔ پاکستان ، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ ہوا تو ہم نے خراج تحسین پیش کیا لیکن اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ باقی مسلم ممالک کو بھی اس معاہدہ میں شامل کیا جانا چاہیے ۔ بصورت دیگر انہیں آپس میں لڑایا جائے گا ، جیسا کہ مکہ معاہدہ کے بعد پاکستان کے لیے مشکل کھڑی ہوگئی کہ ایران اور حوثیوں کے خلاف کیسے کھڑا ہو ۔ اس کا مطلب ہے کہ مسلم اُمہ میں اگر کہیں طاقت ہے تو اس کو بھی آپس کی جنگ میں جھونک دیا جائے ۔  ڈاکٹر صاحبؒ اقبال کے شعر کا مصرع سنایا کرتے تھے :
فرنگ کی رگِ جاں پنجہ یہود میں ہے
  آج امریکہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے، سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف مدد مانگی تو اسے صاف انکار کر دیا گیا ۔ دوسری طرف مسلم ممالک ابھی بھی امریکی کمبل سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ ہنری کسنجر کے الفاظ تھے کہ امریکہ کے دشمن کو امریکہ سے اتنا خطرہ نہیں ہوتا جتنا اس کے دوست کو ہوتاہے ۔ عرب حکمرانوں کے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کا اقتدار کسی طرح بچ جائے۔ان سے کہا جاتاہے کہ ابراہم اکارڈز میں آجاؤ تو ہم تمہاری مدد کریں گے ۔ حالانکہ وقت آنے پر وہ کبھی ان کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ سعودی عرب کو ٹرمپ نے صاف انکار کر دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مسلمانوں پر یہ پہلے ہی واضح کر دیا تھا : 
{وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَــتَّبِعَ مِلَّـتَہُمْ ط}(البقرۃ:120)’’اور(اے نبیﷺ! آپ کسی مغالطے میں نہ رہیے) ہرگز راضی نہ ہوں گے آپؐ سے یہودی اور نہ نصرانی جب تک کہ آپؐ پیروی نہ کریں ان کی ملت کی۔‘‘آج یہ بات ثابت ہورہی ہے ۔ 
سوال:آج پاکستان سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ کے نزدیک اس کا حل اسلامی انقلاب تھا۔ تنظیم اسلامی اس کے لیے سیاست میں حصّہ کیوں  نہیں لے رہی؟آخر کب اس کی تحریک شروع ہوگی؟ امیر تنظیم اسلامی ایکشن کیوں نہیں لے رہے؟(بھٹی جونیئر)
امیر تنظیم اسلامی:جہاں تک سیاست کا تعلق ہے تو ہر باشعور انسان سیاسی بصیرت ضرورت رکھتا ہے۔ سیاست کا لفظ حدیث مبارک میں بھی ہمیں ملتا ہے۔    نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : 
((كَانَتْ بَنُوْ إِسْرَائِيْلَ تَسُوْسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ))(بخاری)’’بنی اسرائیل کی سیاست اور رہنمائی انبیاء کرام ؑ کرتے تھے۔‘‘
      یہاں عربی لفظ میں سیاست کا لفظ موجود ہے۔بنی اسرائیل 
کے انبیاءؑ خود نظام ِریاست سنبھالتے تھے اور بادشاہ تھے ۔ سیاست کے لفظی معنی ہیں انتظام کرنا ۔ شاہ ولی اللہ ؒ کی معروف کتاب ’ حجۃ اللہ البالغہ‘‘میں سیاست ِ مدن کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی شہر کا نظام چلانا ۔ جب ہم تنظیم اسلامی کے پلیٹ فارم سے دین کے جامع تصور کو بیان کرتے ہیں تو اس میں جہاں انفرادی زندگی کے تین گوشوں  (عقائد ، عبادات اور رسومات ) کو بیان کرتے ہیں وہاں  اجتماعی زندگی کے تین گوشوں ( سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام )  کی بھی بات کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر سیاست دو طرح کی ہے : نظری سیاست اور عملی سیاست ۔ عملی سیاست بھی دو طرح کی ہے : ایک انقلابی سیاست اور دوسری انتخابی سیاست ۔ تنظیم اسلامی کے لٹریچر میں ایک جملہ موجود ہے : ہم معروف معنوں میں سیاسی جماعت نہیں ہیں ،یعنی ہم انتخابی سیاست میں حصّہ نہیں لیتے لیکن ہم نظری سیاست میں ضرور حصّہ لیتے ہیں اور انقلابی سیاست   (یعنی نظام کی تبدیلی کے لیے پُر امن انقلابی جدوجہد) کے قائل ہیں ۔نظری سیاست سے مراد یہ ہے ہم ملکی اور قومی مسائل پر گفتگو کریں ، نظامِ حکومت اور مروجہ سیاست کی خرابیوں کو اُجاگر کریں ۔ اگر کوئی حکومت اچھا کام کرتی ہے تو اس کو سراہنا اور اگر حکومتی سطح پر غلط کام ہو رہے ہیں تو ان کی مخالفت کرنا اور اصلاح کی کوشش کرنا ، حکمرانوں کو اچھا مشورہ دینا وغیرہ ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ کھل کر حکمرانوں پر تنقید بھی کرتے تھے اور مشورے بھی دیتے تھے ۔ یہ نظری سیاست ہے ۔ آج بھی تنظیم اسلامی کے پلیٹ فارم سے حالاتِ حاضرہ پر پریس ریلیز بھی جاری ہوتی ہےا ور خطبات جمعہ میں بھی کلام کیا جاتا ہے ۔ یہ امر بالمعروف  نہی عن المنکر کے ذیل میں دینی تقاضا بھی ہے۔ عملی سیاست میں سے ہم انتخابی سیاست کے قائل نہیں ہیں ، ہم   دیانت داری کے ساتھ یہ تجزیہ بیان کرتے ہیں کہ انتخابات کے ذریعے چلتا ہوا نظام تو چلایا جا سکتاہے لیکن نظام کو بدلا نہیں جا سکتا ۔ نظام کو صرف انقلابی سیاست سے ہی بدلا جا سکتا ہے ۔ ڈاکٹر اسرا راحمدؒ نے منہج انقلاب نبوی ﷺ کی روشنی میں انقلابی جدوجہد کا جو طریقہ کار طے کیا ہے ، ہم اس کے مطابق انقلابی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ کی کتاب’’ رسول ِانقلاب ﷺ کا طریق ِ انقلاب‘‘ کے عنوان سے موجود ہے ۔ اس کا مطالعہ قارئین کے لیے مفید ہوگا ۔ ڈاکٹر صاحبؒ  فرمایا کرتے تھے کہ جب تک اسلامی انقلاب نہیں آجاتا تب تک مارشل لاء کے مقابلے میں جمہوریت بہتر ہےکیونکہ اس طرح عوام کا اعتماد ریاست پر رہے گا ، تعصبات اور بغاوتیں سر نہیں اُٹھائیں گی اور نہ ہی دشمن فائدہ اُٹھا سکے گا لیکن یہ نظام کو چلانے کے لیے عارضی حل ہے ۔ مستقل اور پائیدار حل یہ ہے کہ انقلابی تحریک کے ذریعے نظام کو مکمل طور پر بدلا جائے اور اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق عدل و قسط پر مبنی نظام قائم کیا جائے ۔ 
سوال: 1951 میں تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے 31 جید علماء کرام نے مل کر مشترکہ 22 نکات پیش کیےجو درحقیقت حکومت چلانے کے لیے عملی نوعیت کے چند ضابطے ہیں ،جو اس بات پر تو روشنی ڈالتے ہیں کہ نظام حکومت کو کیسے چلایا جائے لیکن خود حکومت کی اصل نوعیت یا شکل و ساخت پر خاموش ہیں۔ ان نکات میں ایک صدر کے وجود کا ذکر ملتا ہے نہ کہ کسی خلیفہ یا امیر کا، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اگر ان اصولوں کو ملک میں نافذ بھی کر دیا جائے تو بھی مروجہ جمہوری طرز حکومت کا یہ ڈھانچا بالکل ویسے ہی کام کرتا رہ سکتا ہے بشرطیکہ صدر مملکت اس کے اعلی ترین عہدے پر فائز ہوں۔ اگر صورتحال واقعی یہی ہے تو پھر کیا موجودہ دور کا مروجہ جمہوری نظام ہی اس مقصد کے لیے کافی ہے اور کیا اس کے بعد اسلام میں خلافت یا امارت کے الگ نظام کا قیام اب محض ایک غیر ضروری شے بن کر نہیں رہ جاتا ہے؟(محمد عبید یار خان، سعودی عرب)
امیر تنظیم اسلامی:1949ء میں جب قرارداد مقاصد پاس ہوگئی تو اس کے بعد سوال اُٹھا کہ پاکستان میں کس مکتب فکر کا اسلام نافذ ہو گا ؟ اس کے جواب میں تمام مکاتب ِ فکر کے 31 جید علماء نے 22 نکات پر اتفاق کرلیا کہ ان کے تحت ملک میں اسلام کو نافذ کیا جائے۔ جہاں تک نظام کی ساخت کا تعلق ہے تو دیکھئے دین میں بعض چیزیں ایسی ہیں جنہیں بدلا نہیں جا سکتا ۔ مثلاً نمازیں 5 ہیں تو قیامت تک 5 ہی رہیں گی۔نکاح مرد اور عورت کا ہی ہوگا ، اس کو بدلا نہیں جا سکتا ۔ مگر دنیا کے نظم و نسق کے معاملات میں انسان کو کچھ اختیار بھی دیا ہے ۔ کیونکہ  ہر دور کے مسائل مختلف ہو سکتے ہیں ۔ جوں جوں انسانی شعور آگے بڑھ رہا ہے ، نئے نئے مسائل پیدا ہورہے ہیں تو ان مسائل کو وقت کے لحاظ سے دین کے دائرہ کے اندر رہ کر حل کرنا ہے ۔ مثلاً کسی زمانے میں ہم دینار استعمال کرتے تھے ، آج کرنسی آگئی ، آئندہ لین دین کی کوئی اور شکل بھی سامنے آسکتی ہے ۔ ایسے معاملات میں انسان کو کچھ اختیار دیا جاتاہے کہ وہ وقت کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرے۔ قرآن و حدیث میں انفرادی سطح کے معاملات پر بہت زیادہ ہدایات ہیں لیکن اجتماعی سطح پر دنیوی معاملات کے لیے بنیادی اصول فراہم کر دئیے گئے ہیں۔ مثلاً خلیفہ کے قیام معاملہ ایک اجتماعی معاملہ ہے ۔ پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے تقرر کے لیے خود حضور اکرم ﷺ نے اشارہ دیا تھا ۔ دوسرے خلیفہ کو پہلے خلیفہ نے نامزد کیا ۔ تیسرے خلیفہ کا انتخاب کرنے کے لیے 6 افراد پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی ۔ یعنی پہلے تینوں خلفاء راشدین ؓ کے تقرر کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے گئے ۔ سبق یہ حاصل ہوتاہے کہ اجتماعی سیاسی معاملات کو وقت کی نزاکت کے مطابق طے کیا جائے گا ۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ فرماتے تھےکہ قرآن مجید نے اس حوالے سے ایک اصول ہمیں دیا ہے : 
{لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ} (الحجرات:1) ’’ مت آگے بڑھو اللہ اور اُس کے رسول (ﷺ)سے ۔‘‘
  یعنی جس کام سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے منع کردیا ہے ، اس کے نزدیک بھی نہ جاؤ ۔ یہاں عبادت کے اصول کے علاوہ ایک اصول دنیوی معاملات کے لیے بھی نکلتا ہے کہ سب کچھ حلال ہے سوائے اس کے جو حرام ثابت کر دیا جائے۔ ڈاکٹر صاحب ؒ  فرمایا کرتے تھے کہ پاکستان کے آئین میں جو چور دروازے ہیں ان کو اگر بند کردیا جائے تو یہ اسلامی آئین بن جائے گا ۔ مثلاً آئین کی وہ شقیں جن میں یہ لکھا ہے کہ حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ کی ہوگی اور کتاب و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنے گا۔ یہ شقیں صرف پرنسپلز آف پالیسیز میںنہ رہیں بلکہ باقاعدہ ان کو باقی تمام شقوں پر بالا دست قراردیا جائے تو پورا آئین اسلامی بن سکتا ہے ۔ کیونکہ اس کے بعد جو بھی شق کتاب وسنت کے خلاف ہوگی وہ خود بخود کالعدم ہو جائے گی ۔ اس کے بعد اس آئین کے تحت چاہے صدارتی نظام قائم ہو ، چاہے پارلیمانی نظام قائم ہو ، وہ اسلامی نظام ہی قرار پائے گا ۔ ایک اور بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے جو قرآن نے بیان کیا : 
{وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ ص}(الشوریٰ:38) ’’اور ان کا کام آپس میں مشورے سے ہوتا ہے۔‘‘
مشورہ سو میں بھی ہوگا، ہزار میں بھی ہو سکتا ہے، کبھی ریفرنڈم کرا لیںتو 25 کروڑ سے بھی مشورہ ہو جائے گا۔ البتہ دیکھا جائے گا کہ مشورے کی نوعیت کیا ہے ۔ اگر یہ کچھ اصولی باتیں طے ہو جائیں تو جس ساخت کا بھی سیاسی نظام قائم ہو گا وہ دین کے مزاج سے ہم آہنگ ہوگا۔ اب یہ علماء کا کام ہے کہ وہ نظر رکھیں کہ کوئی قانون یا پالیسی کتاب و سنت کے خلاف نہ بنے ۔ 31 علماء نے جو 22 نکات پیش کیے ان کے مطابق بقول جنرل حمید گل ایک سافٹ ریولیوشن آ سکتا تھا کہ جو قانون کتاب و سنت کے خلاف ثابت ہو جائے ، پارلیمنٹ اس کو بدل دے تو نظام چلتا رہے گا ۔ وہ سافٹ ریولیوشن نہیں آ سکا تب ہی ہم انقلاب ، تحریک اور جدوجہد کی بات کرتے ہیں۔
سوال: کیا اسلام میں قرآن و حدیث کی روشنی میں کہیں امارت اور خلافت کے بارے میں واضح احکامات ملتے ہیں کہ اس کی شکل کیسی ہونی چاہیے، امیر یا خلیفہ کیسا ہونا چاہیے اور اس کے لیے مشاورت کرنے والی شوریٰ کے اوصاف کیا ہونے چاہئیں؟
امیر تنظیم اسلامی:اس حوالےسے ڈاکٹر اسراراحمدؒ کے خطبات ِ خلافت کے عنوان سے تفصیلی خطابات موجود ہیں جو اب کتاب کی شکل میں بھی موجود ہیں ۔ ان خطابات میں ڈاکٹر صاحب ؒ نے اسلام کے سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام کے خدوخال بیان کیے ہیں ۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب ؒ کا ایک کتابچہ ’’عہد حاضر کی اسلامی فلاحی ریاست کے خدو خال‘‘ کے عنوان سے بھی ہے ۔ اس میں بھی خاصی تفصیلات ہیں ۔ اسلامی نظام کی اصل روح شوریٰ ہے ، آپ دینی دائرے کے اندر رہتے ہوئے مشاورت سے صدر کی مدت 4سال کرلیں ، چھ سال کرلیں ۔ شریعت کے اصولوں کو سامنے رکھ کر ہم   بہت سارے معاملات طے کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب   ؒ نے یہاں تک بھی کہا کہ اگر قانون شریعت کے مطابق ہو ، فیصلے شریعت کے مطابق ہوں تو آپ ٹوپارٹی سسٹم بھی لے کر آجائیں تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ ممبران اسمبلی کے انتخاب کے لیے بھی ایک معیار ہونا چاہیے کہ انہیں دنیوی علم کے ساتھ ساتھ دینی علم بھی ہو ، آمین اور صادق ہوں ۔ ایسے لوگ اوپر آئیں گے تو وہ کم ازکم قرآن وسنت کے مطابق فیصلے کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں گے ۔ 
سوال: تنظیم اسلامی کا تربیتی دور کب ختم ہوگا؟ کب جہاد اور منکر کے خلاف اجتماعی جدوجہد شروع ہوگی؟ کیا انفرادی سیرتوں کو سنوارتے رہنے اور محدود دائرے میں دعوت پھیلاتے رہنے سے باطل پرستوں کی مدد نہیں ہو رہی؟ اس فسادِ زمانہ کو روکنے کے لیے اقدام کا وقت کب آئے گا؟
امیر تنظیم اسلامی: جہاں تک تربیت کی بات ہے تو انسان کو آخری وقت تک تربیت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ میں محتاج ہوں کہ میرا خاتمہ ایمان پر ہو ۔ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا ہے کہ انسان کو مزید تربیت کی ضرورت نہ ہو۔ اللہ کے رسول ﷺ جب دنیا سے تشریف لے جارہے تھے تو نماز کی آخری رکعت میں بھی یہ دعا فرما رہے تھے : 
 {اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ0} ’’(اے ربّ ہمارے!) ہمیںہدایت بخش سیدھی راہ کی ۔‘‘
اس میں اُمت کے لیے بڑا سبق ہے ۔ جہاں تک اقدام کی بات ہے تو اس کا ایک مناسب وقت ہوتاہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ کرامj سے بڑھ کر اُمت میں کسی کے پاس غیرت اور جذبہ نہیں ہوسکتا ، مگر 13 سال مکہ میں انہوں نے ہاتھ نہیں اُٹھایا ، کسی بت کو نہیں توڑا ۔ حالانکہ دو تہائی قرآن مکہ میں نازل ہوا ، اس میں شرک کی نفی بھی آرہی تھی ، باطل کی نفی بھی ہورہی تھی ۔ سیرت سے سبق یہ حاصل ہوتا ہے کہ ان 13 سالوں میں ایمان لانے والوں کی قرآن کے ذریعے تعلیم و تربیت کی گئی ہے ، انہیں آزمائشوں سے گزار کر کندن بنایا گیا ہے ۔ لوگوں کو دعوت بھی دی گئی ہے ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے’’ رسول انقلاب ﷺ کا طریق ِانقلاب‘‘ کتابچے میں اس مسئلے کو تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ اسی طریقے پر تنظیم اسلامی لوگوں کو دعوت پیش کرے گی ، قرآن کے ذریعے تعلیم و تربیت جاری رکھے گی ،  منکر کے خلاف بات بھی ہوگی ۔ باطل نظام کے خلاف بات بھی ہوگی ۔ حدیث میں ہے کہ تم میں سے جو کوئی ہاتھ سے برائی کو روک سکتا ہے ہاتھ سے روکے ، ہاتھ سے نہیں روک سکتا تو زبان سے روکے ، زبان سے بھی نہیں روک سکتا تو دل میں برا جانے ۔ ہمارے پاس ہاتھ سے روکنے کا اختیار نہیں ہے لہٰذا ہم تحریر و تقریر کے ذریعے منکر کے خلاف آواز اٹھائیں گے ۔ جب انقلاب آجائے گا تو ہاتھ سے روکنے کی طاقت بھی ہوگی ۔ یہ اللہ کے رسولﷺ کے منہج سے ہی پتہ چل رہا ہے ۔جہاں تک جہاد کا تعلق ہے تو اس کا سبق بھی ہمیں سیرت سے ملے گا ۔ قرآن کریم میں فرمایا: 
{وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَاط} ( العنکبوت: 69)’’اور جو لوگ ہماری راہ میں جدّوجُہد کریں گے ہم لازماً اُن کی راہنمائی کریں گے اپنے راستوں کی طرف۔‘‘
جہاد اور قتال دو الگ چیزیں ہیں ۔ جہاد جہد مسلسل کا نام ہے ۔ جہاد مکہ کے 13 برس میں بھی ہوا ہے ۔ اللہ کی راہ میں جو بھی قربانیاں دی گئیں ، مشقتیں اُٹھائی گئیں ، دعوت دی گئی ، یہ سب جہاد تھا ۔ پھر جب قتال کا حکم آگیا تو  اللہ کی راہ میں جنگیں ہوئیں ، شہادتیں ہوئیں ، قتال کیا گیا وہ بھی جہاد تھا ۔ جب تک ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں ہے تب تک تربیت چلے گی ، دعوت چلے گی ، تزکیہ اورتعلیم کا سلسلہ چلتا رہے گا ، منکر اور باطل کی مذمت زبانی طور پر ہوگی ،خاموش اکثریت کو متحرک کرنے کی کوشش جاری رہے گی ۔ جب اتنی اکثریت حاصل ہو جائے گی کہ وہ باطل نظام کے ساتھ ٹکرا سکے تو پھر اقدام ہوگا ، تصادم ہوگا ، پھر جان دینے کی باری بھی آئے گی ۔ ڈاکٹر صاحبؒ کے کتابچے میں یہ ساری تفصیل موجود ہے ۔ تب تک میں جس قدر دین پر عمل کر سکتا ہوں ، میں اس کا مکلف ہوں ، اس پرعمل کروں گا ۔ اسی طرح نفاذِ دین کے لیے جس قدر کوشش میں کرسکتا ہوں وہ کرتا رہوں گا ۔ روزِ محشر مجھ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ دین قائم کیوں نہیں کیا ۔ البتہ یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ اقامت ِدین کے لیے کتنی جدوجہد کی ۔ اس کا آغاز اپنی ذات سے ہو گا ۔ سب سے پہلے اپنی ذات پر اسلام کو نافذ کرنا ہے ۔ اگر اپنے پانچ چھ فٹ کے جسد پر اسلام غالب نہیں کر سکتا تو 25 کروڑ کے ملک میں اسلام لانے کی بات کیسے کرسکتا ہوں ۔ اپنی بساط کے مطابق میں غلبۂ دین کی جدوجہد کرتار ہوں ، غالب کرنا اللہ کے اختیار میں ہے ، کوشش کرنا میرا کام ہے ۔ اگر میں اسے فرض سمجھ کر اپنا تن من دھن لگا دوں تو امید ہے آخرت میں کامیا ب ہو جاؤں گا ۔ 
سوال: تنظیم اسلامی میں الحمدللہ کسی چیز کی کمی نہیں ہےلیکن میری رائے میں تنظیم کے قابل نوجوانوں کی سوشل میڈیا پر انفرادی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تنظیم کا ایک آفیشل چینل یقیناً موجود ہے لیکن میرے نزدیک وقت کا تقاضا ہے کہ جو باصلاحیت نوجوان تنظیم میں موجود ہیں انہیں بھی سوشل میڈیا پر اپنے علم اور اخلاق کے ذریعے اقامت ِ دین کی دعوت لوگوں تک پہنچانی چاہیے ۔( سید محمد کامل)
امیر تنظیم اسلامی: یقیناً سوشل میڈیا ایک میڈیم ہے اور ہم اس کو استعمال بھی کرتے ہیں ۔  ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اس وقت ٹیلی ویژن کا استعمال کیا جب دینی حلقے اس کو استعمال نہیں کرتے تھے ۔ اس کے فوائد آج لوگوں کے سامنے ہیں۔تنظیم میں جو لوگ اس قابل ہیں کہ وہ لوگوں کودعوت پیش کرسکیں اُن کو باقاعدہ تربیت دے کر اس کام کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور وہ پورے پاکستان میں دعوت اور دروس کا کام کررہے ہیں۔ ہم اس بات کے قائل ہیں کہ فزیکل دعوت کا کوئی نعم البدل نہیں ہوسکتا ۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں ہماری قرآن اکیڈمیز موجود ہیں جن میں تنظیم اسلامی کے تحت ہمارے ساتھیوں کے پروگرام ہوتے ہیں۔ تنظیم کی مختلف سطحوں سے لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے ۔ سوشل میڈیا کا استعمال بھی ضروری ہے لیکن احتیاط بھی ضروری ہے ۔ کیونکہ اگر ہم سوشل میڈیا کے ہو کر رہ گئے تو پھر تربیت بھی شاید سوشل میڈیا تک ہی رہ جائے گی اور شاید انقلاب بھی سوشل میڈیا تک ہی رہ جائے گا ۔سوشل میڈیا کا استعمال بھی ہم کرتے ہیں لیکن ان پروٹوکولز کے ساتھ جو تنظیم اسلامی نے مقرر کیے ہیں ۔ ہم اپنے ساتھیوں کے پروگرامز بھی نشر کرتے رہے ہیں اور کرنے کی کوشش کریں گے۔
میزبان: سوشل میڈیا کے منفی اثرات بھی بہت زیادہ ہیں ۔ ہو نہیں سکتا کہ کوئی شخص سوشل میڈیا پر کام کرے اور ان اثرات سے محفوظ رہ سکے ۔ سوائے اس کے جس پر اللہ کا خاص کرم ہو ۔ دعوت کے لیے صرف علم ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ صبر و تحمل اور آخرت پر یقین کا پختہ ہونا بھی ضروری ہے ۔ ورنہ انسان لائکس کے چکروں میں پڑکر ، شہرت کی لالچ میں اپنا نقصان کر بیٹھتا ہے ۔ انسان زعم اور گھمنڈ میں مبتلا ہو سکتاہے ۔  کسی نے بڑی اچھی بات کہی تھی کہ 20 لاکھ فالوورز تھے کسی کے لیکن جنازے پر صرف 20 لوگ تھے۔ 
سوال: قرآن کے احکام کو نافذ کرنے کی ذمہ داری تو علماء کی ہے جبکہ آپ عوام کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ آپ اپنی حکمت عملی بتائیں کہ کیا ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے اسلام کے سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام کی تفصیلات بیان نہیں کیں ؟ ( این ڈی ثاقب)
امیر تنظیم اسلامی:صرف علماء ذمہ دارنہیں ہیں بلکہ ہر اُمتی ذمہ دارہے کہ جو بھی قرآن کے احکام ہیں ، ان پر جس قدر ممکن ہو پہلے خود عمل کرے اور پھر دوسروں کو دعوت دے اور پھر معاشرے پر نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کرے ۔ لہٰذا سب سے پہلے ہر مسلمان کو خود کو مورد الزام ٹھہرانا چاہیے ۔ اس کے بعد شریعت کے جو احکام جس کے متعلق ہیں ، چاہے وہ حکمران ہوں ، ججز ہو ، جرنیل ہوں ،علماء ہوں ، سیاستدان ہوں وہ اگر ان پر عمل نہیں کرتے تو وہ جوابدہ ہوں گے ۔ قرآن میں سورۃ المائدہ میں اللہ تعالیٰ نے تین فتوے ایک جگہ صادر فرما دئیے ہیں : 
{وَمَنْ لَّــمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ(44)} ’’اور جو اللہ کی اُتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں۔‘‘ 
{وَمَنْ لَّـمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ(45)}’’ اور جو فیصلے نہیں کرتے اللہ کی اُتاری ہوئی شریعت کے مطابق وہی تو ظالم ہیں۔‘‘
{وَمَنْ لَّـمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ  الْفٰسِقُوْنَ(47)}(المائدہ)’’اور جو لوگ نہیں فیصلے کرتے اللہ کے اُتارے ہوئے احکامات و قوانین کے مطابق‘ وہی تو فاسق ہیں۔‘‘
جو حکم میرے لیے ہے اگر میں اس پر عمل نہیں کر رہا تو مجھے ڈرنا چاہیے کہ یہ فتوے میرے لیے نہ ہوں ۔ اسی طرح کوئی شخص ادارے کا سربراہ ہے ، گھر کا سربراہ ہے ، ریاست کا سربراہ ہے اُس کو ڈرنا چاہیے کہ شریعت کے جن احکامات پر اپنے دائرکار میں وہ عمل کر سکتا ہے ، نہیں کر رہا تو اسی قدر مجرم ہے ۔ ایک داعی کا کام محض تنقید برائے تنقید نہیں ہوتا۔داعی کا طرزِ عمل تو وہ ہو نا چاہیے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ بھاگ بھاگ کر جہنم کی آگ کی طرف جارہے ہو اور میں تمہیں کھینچ کھینچ کر اس سے بچانے کی کوشش کررہاہوں ۔ اسی ہمدری اور خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ ایک داعی کو لوگوں کو  جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ بانی  تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسراراحمدؒ کے خطبات ِ خلافت کے عنوان سے جو خطابات ہیں ان میں انہوں نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ اگر آج خلافت کا نظام قائم ہوگا تو اس کی سیاسی ، معاشی اور معاشرتی خدوخال کیا ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی اور میں نے ان خطبات کو ذرا آسان الفاظ میں لوگوں کے سامنے پیش کیا ۔ ماہنامہ میثاق میں میرے وہ خطبات 9 اقساط میں شائع بھی ہوئے ۔ اسی طرح   ڈاکٹر اسراراحمدؒ کا ایک کتابچہ’’ اسلام کا انقلابی منشور‘‘ کے عنوان سے بھی ہے ۔ اس میں انہوں نے اکیڈیمک انداز میں لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اسلام کا سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام کیا ہوگا ۔ یہ سب باتیں ہم اپنے خطبات جمعہ میں بھی ، دعوتی اور تربیتی اجتماعات میں بھی ، ہفت روزہ ندائے خلافت میں بھی ، ماہنامہ میثاق میں بھی اور پروگرام زمانہ گواہ ہے میں بھی دہراتے رہتے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل تنظیم کی شوریٰ نے مشاورت کے بعد ایک دستاویز تیار کی ہے اور اس کو مدارس اور یونیورسٹیز میں بھی بھیجا ہے تاکہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق اسلام کے سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام کے متعلق مختلف آراء سامنے آسکیں ۔ جب یہ آراء موصول ہوں گی تو نفاذ اسلام کے طریقہ ٔکار اور نظام میں کچھ ویلیو ایڈیشن بھی ہوگی اور میرا ارادہ ہے کہ آئندہ کچھ ماہ سے اپنے خطبات جمعہ میں ان تفصیلات کو بیان کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ!