(اداریہ) عالمی جنگ کے سائے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس - رضا ء الحق

13 /

اداریہ


رضاالحق


عالمی جنگ کے سائے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس


دنیا آج جس خطرناک دور سے گزر رہی ہے، اس میں جنگیں محض ریاستوں کے درمیان مسلح تصادم کا نام نہیں رہیں، بلکہ عالمی طاقتوں کی سیاسی بالادستی، خطے کے وسائل، جغرافیائی اثر و رسوخ اور مستقبل کے عالمی نظام کی تشکیل کی کشمکش بن چکی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی جارحیت، غزہ کی تباہی، لبنان کی بے امنی، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، جوہری پروگرام کے حوالے سے تنازعات اور مذاکراتی عمل کے اُتار چڑھاؤ نے عالمی امن کے دعوؤں کو ایک مرتبہ پھر سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں سالانہ اجلاس میں تقریریں تو ایک سے بڑھ کر ایک کی گئیں۔ اسرائیل (مقبوضہ فلسطین) کے وزیراعظم کا غزہ میں قتلِ عام بلکہ نسل کُشی کے جواز پیش کرنا۔ ایرانی صدر کا بھرپور خطاب جو دھمکیوںسے بھرا ہوا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ فاتح عالم خطاب فرما رہے ہیں۔ امریکی صدر کا اپنے خطاب میں ایران کو صفحۂ ہستی سے ’مٹا دینے‘ کی دھمکی دینا اور ساتھ ہی ایک روز قبل ایرانی وفد کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو ’’very good‘‘ قرار دینا۔ ترکیہ کے صدر کا روایتی ’سیفٹی والو‘ کا کردار ادا کرنا کہ کہیں مسلمانانِ عالم بھڑک نہ اُٹھیں! تضادات سے بھرے بیانات۔ دنیا بھر کے لیڈران کی پھرتیاں۔ ہمارے وزیراعظم صاحب (بقول ٹرمپ ’terrific man‘) کا بھی خطاب ہو چکا ہوگا جب یہ تحریر قارئین کے ہاتھوں میں ہوگی۔ ناجانے وہ کیا کیا فرما جائیں۔ لیکن گزشتہ پون صدی کی تاریخ، خصوصاً نائن الیون کے بعد کے واقعات و سانحات سے یہ واضح ہو چکا کہ اقوامِ متحدہ جو ایک عرصہ تک مغرب کی لونڈی تھی، اب اپنا وقت پورا کر چکی اور اُس کی لاش کو زبردستی کھڑا کرکے ایک ڈراما رچایا جا رہا ہوتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی امتیاز ضروری ہے۔ سفارتی مذاکرات، سائڈ لائنز پر ملاقاتیں اور سیاسی بیانات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان کے حقیقی مقاصد اور نتائج کا تعین محض قیاس آرائی سے نہیں، بلکہ قابلِ تصدیق شواہد، سرکاری اعلانات اور عملی اقدامات سے ہونا چاہیے۔ اسی اصول کے تحت اقوامِ متحدہ میں تقاریر کا بھی اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔ امریکہ ایران جنگ، حوثیوں کے عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب پر حملوں اور ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کی غزہ پر ایک مرتبہ پھر بمباری شروع کر دینے سے مشرقِ وسطیٰ کے پہلے سے غیر مستحکم حالات کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کی کوششیں پاکستان نے شروع کروائیں، پھر قطر بھی شامل ہوگیا ، لیکن اعتماد کا بحران، فوجی دباؤ، پابندیاں، آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات اور سب سے بڑھ کر اسرائیل کا خطے میں امن قائم نہ ہونے دینا اور ہر حال میں ’spoiler‘ کا کردار ادا کرنے پر بضد رہنے سے کسی بھی درجہ میں امن کو ناممکن بنا رکھا ہے۔
22 ستمبر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایران کے نمائندوں کے ساتھ امریکی خصوصی ایلچی (صہیونی) اسٹیو وٹکوف کی تقریباً تین گھنٹے کی ملاقات کا ذکر کیا اور مزید مذاکرات کی امید ظاہر کی۔ اسی دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے امکان کو امریکی دباؤ میں کمی اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تاہم مذاکرات کی موجودگی بذاتِ خود امن کی ضمانت نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا مذاکرات برابری کی بنیاد پر ہوں گے یا ایک فریق فوجی طاقت، اقتصادی پابندیوں اور سیاسی دباؤ کے ذریعے دوسرے فریق سے یک طرفہ رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کرے گا؟
دوسری طرف ستمبر کے وسط میں جرمنی میں امریکہ، اسرائیل اور متعدد عرب ممالک کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی ایک غیر اعلانیہ (خفیہ) ملاقات کی خبر سامنے آئی۔ رپورٹوں کے مطابق اس اجلاس کا اہتمام امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کیا تھا، جبکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، اردن اور مصر کے فوجی حکام بھی شریک ہوئے اور اسرائیلی فوجی و انٹیلی جنس کے عہدیدار بھی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ملاقات کی میزبانی اور علاقائی سلامتی پر گفتگو کی تصدیق کی، اگرچہ اس کے تمام جزئیات کی مکمل تفاصیل عام نہیں کی گئیں۔ البتہ اس ملاقات کو محض معمول کی عسکری کانفرنس سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ اور بحری راستوں کے تحفظ کے تناظر میں اسرائیل اور بعض عرب ریاستوں کے مابین سکیورٹی رابطے بڑھ رہے ہیں جو کسی المیہ سے کم نہیں۔ تاہم اس اجلاس کو عرب حکومتوں کی جانب سے اسرائیلی جنگی عزائم کی مکمل تائید کا قطعی ثبوت قرار دینا بھی کم از کم قبل از وقت ہوگا۔
اس معاملے میں تین پہلو قابلِ توجہ ہیں۔ اولاً، علاقائی سلامتی کے نام پر قائم ہونے والے سکیورٹی ڈھانچے میں اسرائیل کا کردار بڑھتا جا رہا ہے۔ ثانیاً، خلیجی ریاستیں ایران کی فوجی صلاحیتوں، میزائلوں، ڈرونز، حوثیوں (پراکسی) اور بحری راستوں کو درپیش خطرات کے باعث امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعاون کرکے اپنی تباہی کو خود دعوت دے رہی ہیں۔ ثالثاً ، اس تعاون کے نتیجے میں فلسطین اور غزہ کا مسئلہ ترجیحات میں مزید پس منظر میں جارہا ہے۔اگر چند مسلم ریاستیں اپنے دفاع کے لیے بیرونی طاقتوں سے تعاون کرتی ہیں تو باقی مسلم دنیا کے لیے اصل سوال یہ ہوگا کہ کیا یہ تعاون فلسطینیوں کے حقوق، اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور خطے میں حقیقی امن کے مطالبے کے ساتھ مشروط ہے یا نہیں؟
ستمبر کے وسط ہی میں عمان کے دارالحکومت مسقط میں امریکی حکام اور حوثی نمائندوں کے درمیان ایک غیر اعلانیہ (خفیہ) ملاقات کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ رائٹرز کے مطابق عمانی حکومت نے رابطے کے انعقاد میں مدد دی، جبکہ گفتگو میں بحیرۂ احمر کی کشیدگی، امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنانے اور 2025ء کی جنگ بندی سے متعلق یقین دہانیوں پر بات ہوئی۔ ان مذاکرات کے پس منظر میں امریکی مفاد واضح ہے کہ امریکہ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کے تحفظ کا خواہاں ہے، پھر یہ کہ اطلاعات کے مطابق حوثیوں نے بھی یہ یقین دہانی کروا دی ہے کہ امریکی اور اسرائیلی جہازوں پر حملے نہیں کریں گے! کون کس طرف کھڑا ہے؟ دردناک حقیقت یہ ہے کہ مسلم دنیا ایک دوسرے کے گلے کاٹنے میں مصروف ہے اور شاید یہ بھول بھی چکی ہے کہ اگست 2025ء میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک انٹرویو میں گریٹر اسرائیل کے تصور سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’تاریخی‘ اور ’روحانی‘ مشن قرار دیا تھا۔ ہمارے نزدیک اصل خطرہ یہی ہے۔ مسلم ممالک جتنی جلد اِس اصل خطرے کا ادراک کرکے ایک ’کم از کم ایجنڈے‘ پر اتفاق کر لیں اُن کے لیے بہتر ہے۔ ایک دوسرے پر حملے کرنے کی بجائے اپنے اصل دشمن کے خلاف کسی نوعیت کا مشترکہ محاذ قائم کریں۔ مکہ معاہدہ میں توسیع کر دی جائے اور ایران و دیگر اہم مسلم ممالک کو اِس میں شامل کرنے پر راضی کیا جائے تو بہتری کا آغاز ہو سکتا ہے۔
فی الوقت ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ مکہ معاہدہ اپنے آغاز سے قبل ہی اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔

ملکی حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف حکومت اپوزیشن کو پِیس کر رکھ دینے پر تُلی ہوئی ہے تو دوسری طرف اپوزیشن ’حق و باطل‘ کے معرکہ کے لیے خیبرپختونحوا پولیس کو اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے تیار کر رہی ہے۔ پُرامن احتجاج یقیناً ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے اور حکومت کو بھی بہرحال آئین ہی یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ امن و امان کو قائم رکھے، لیکن کیا معاملات کو خانہ جنگی کی طرف لے جانا بھی ملک کی خدمت ہوگی؟ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، حکومت، اپوزیشن اور ’بڑوں‘ سب کے لیے۔ اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے ۔ آمین!