الہدیٰ
مصیبت اور آسانی دونوں میں صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع
آیت 32 {وَاِذَا غَشِیَہُمْ مَّوْجٌ کَالظُّلَلِ} ’’اور جب کبھی (سمندر میں) موج اُنہیں ڈھانپ لیتی ہے سائبانوںکی طرح‘‘
بحری سفر کے دوران جب کبھی یہ لوگ طوفان میں پھنس جاتے ہیں اور سائبانوں کی طرح پھیلی ہوئی موجیں انہیں اپنی طرف ایسے بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں جیسے کہ وہ ان کے اوپر سے گزر جائیں گی۔
{دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ج} ’’تو وہ پکارنے لگتے ہیں اللہ کو‘ اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔‘‘
{فَلَمَّانَجّٰىھُمْ اِلَی الْبَرِّ فَمِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌ ط}’’پھر جب وہ انہیں نجات دے کر خشکی پر لے آتا ہے تو اُن میں کچھ ہی ہیں جو میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔‘‘
یعنی ان میں سے اکثر و بیشتر توحید ِخالص سے برگشتہ ہو کر پھر شرک کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔
{وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَآ اِلَّا کُلُّ خَتَّارٍ کَفُوْرٍ(32)} ’’اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہی لوگ جو قول کے جھوٹے اور نا شکرے ہیں۔‘‘
درس حدیث
کسی کی تعریف میں مبالغہ آرائی سے پرہیز کریں
عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ؓ قَالَ: ((سَمِعَ النَّبِیُّ ﷺ رَجُلًا یُثْنِیْ عَلٰی رَجُلٍ وَیُطْرِیْہِ فِی الْمَدْحِ فَقَالَ اَھْلَکْتُمْ اَوْقَطَعْتُمْ ظَھْرَ الرَّجُلِ )) (متفق علیہ)
’’حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ایک شخص کو دوسرے شخص کے منہ پر بہت مبالغہ کے ساتھ اس کی تعریف کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: ’’تم نے تواس شخص کو ہلاک کر ڈالا‘ (یا فرمایاکہ)’ تم نے تو اس کی کمر توڑ ڈالی۔‘‘
تشریح :حدیث کے الفاظ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ممانعت کسی کی تعریف و توصیف کرنے سے نہیں بلکہ اس میں مبالغہ آرائی کرنے سے ہے۔چونکہ مبالغہ حقیقت کے خلاف ہوتا ہے، لہٰذا اسلامی اخلاق میں مبالغے کی گنجائش نہیں۔ مبالغہ کرنے والا شخص غلط تعریف کرتا ہے اور جس کی تعریف کی جاتی ہے اُسے غلط فہمی میں مبتلا کر کے گناہ کا کام کرتا ہے۔یا اندیشہ ہوتا ہے کہ ممدوح اپنی تعریف سن کر گھمنڈ یا تکبر میں مبتلا ہو جائے۔