مطالعہ کے رجحان میں کمی،چند وجوہات اور تجاویز
ڈاکٹر امتیاز احمدنائب ناظم ا علیٰ شمالی پاکستان
ٍ گزشتہ چند سالوں سے ،بالخصوص جب سے سوشل میڈیا کا غلغلہ ہوا ہے ،مطالعہ کے رجحان میں تدریجاً نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنی مطالعاتی ضرورت سوشل میڈیا کے ذریعے پورا کرتی ہے اور اسی پر مطمئن بھی ہے ۔ ایک طرف کتاب کی اہمیت اور فوائد مسلم ہیں جب کہ دوسری جانب سوشل میڈیا کا اپنا ایک فسوں ہے جس میں بچے ،جوان اور بوڑھے سبھی جکڑے نظر آتے ہیں ۔ ذیل میں صورت حال کا ایک جائزہ پیش کیا گیا ہے اور اس کی روشنی میں چندحقائق کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔مزید براں بہتری کے لیے چند تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں ۔
(1) مطالعہ کی اہمیت اور فوائد:
اسلام نے علم حاصل کرنے اور غور وفکر کی بہت ترغیب دی ہے ۔قرآن کریم کی پہلی وحی ہی اِقْرَاْ (پڑھو) سے شروع ہوئی جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں علم اور مطالعہ کی کتنی بڑی اہمیت ہے ۔ قرآن میں اہل جہنم کی زبان سے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں ۔{ لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِیْٓ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ(10)}(الملک ) ’’کاش ہم نے سنا ہوتا اور عقل سے کام لیا ہوتا تو ہم اہل جہنم میں سے نہ ہوتے۔‘‘
جو قومیں مطالعے کو اپنا معمول بناتی ہیں ۔ وہی علم تحقیق اور ترقی میں آگے بڑھتی ہیں ۔مطالعہ انسان کی شخصیت کو نکھارتا ،علم میں اضافہ کرتا اور سوچ کو وسعت دیتا ہے ۔باقاعدگی سے مطالعہ کرنے والے شخص کے علم ،فہم اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ مطالعہ انسان کو دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیتا ہے اور وقت کا بہتر ین استعمال بھی ہے ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا قول ہے :’’جو شخص علم کے بغیر عمل کرے ،وہ جتنی اصلاح کرتا ہے اس سے زیادہ فساد کرتا ہے۔‘‘
(2) مطالعہ کی عادت کیسے پیدا کی جائے :
مطالعے کی عادت ایک دو دن میں پیدا نہیں ہوتی بلکہ چھوٹے چھوٹے مستقل اقدامات سے پیدا ہوتی ہے۔ چند آزمودہ طریقے درج ذیل ہیں :۔
(i):۔روزانہ صرف 10۔15 منٹ سے آغاز کریں ۔ پھر بتدریج مطالعے کے دورانیہ کو بڑھائیں
(ii):۔مطالعہ کا ایک مقررہ وقت طے کریں تاکہ عادت مضبوط ہو ۔
(iii):۔دلچسپی کی کتابوں سے آغاز کریں ۔اگر ابتداہی مشکل کتابوں سے کریں گے تو جلد اکتا جائیں گے ۔
(iv):۔دوران مطالعہ نوٹس بنائیں ۔اہم باتیں لکھنے یا نشان لگانے سے یا داشت بہتر ہوتی ہے ۔
(v) :۔جو پڑھیں کسی دوست یا گھر والوں سے اس کا خلاصہ بیان کریں ۔
(vi):۔مطالعہ کے شوقین لوگوں کی صحبت اختیا ر کریں ۔ عادتیں صحبت سے منتقل ہوتی ہیں ۔
(vii):۔علم نافع اور مطالعہ کی توفیق بھی اللہ کی نعمت ہے ۔ یہ نعمت دعائوں میں اللہ سے مانگتے رہیں ۔
(3) سوشل میڈیا /ٹی وی کے نقصانات:
مضمون کے آغاز میں یہ بات آئی تھی کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنی مطالعاتی ضرورت سوشل میڈیا کے ذریعے پورا کرتی ہے اور اسی پر مطمئن ہے ۔اس میں شک نہیں کہ تمام الیکٹرانک مصنوعات کے بہت سے فوائد ہیں ۔ لیکن ان میں سے بعض کے نقصانات کی فہرست ان کے فوائد سے کہیں زیادہ ہے ۔PTAاور اسپا ک( انٹر نیٹ سروس پرووائیڈرزایسوسی ایشن آف پاکستان) کے تعاون پر مبنی حالیہ ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں اس وقت مجموعی طور پر براڈ بینڈ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 16 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ۔جن میں سے بیشتر لوگوں کا پسندیدہ مشغلہ جنسی پیغامات اور فخش ویب سائٹس دیکھنا ہے ۔
ٹی وی اور کمپیوٹر کے چند مزید طبی نقصانات درج ذیل ہیں :
(i)موٹا پا:امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپے کی ایک وجہ ٹی وی دیکھنا ہے ۔
(ii) ذیابیطس (diabetes):پوری دنیا میں ذیابیطس کا مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ایک میڈیکل تحقیق کی رپورٹ کے مطابق ذیا بیطس کی بڑھتی ہوئی شرح کی ایک اہم وجہ بڑھتا ہوا وزن او ر اس کی وجہ ہر وقت ٹی وی اور کمپیوٹر سکرین کے سامنے بیٹھے رہنا ہے ۔
(iii) نیند کی خرابیاں :/TVموبائل زیادہ دیکھنے سے بے خوابی اور نیند کے اوقات میں بے ترتیبی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔
(iv) کمر در د: بچے جتنا زیادہ ٹی وی دیکھتے ہیں ،ان کا نچلی کمر کے درد کا خطرہ اتنا زیادہ ہوتا ہے ۔
علم مشق سے حاصل ہوتا ہے ،ٹی وی یا کمپیوٹر سے نہیں :
علم کی یہ خاصیت ہے کہ یہ انسان سے حاصل ہوتا ہے ۔ یہ کام مشینیں کرنے سے قاصر ہیں ۔مشینوں سے معلومات حاصل ہوتی ہیں ،علم نہیں ۔امام مالک ؒ نے فرمایا تھا :
(لَیْسَ الْعِلْمُ کَثْرَتُ الرِّوَایَاتِ وَلٰکِنَّ الْعِلْمَ نُوْرٌقَذَفَہُ اللہُ فِیْ قَلْبِ الْمُوْمَنِ)’’علم صرف معلومات کی کثرت نہیں بلکہ علم ایک نور ہے جو اللہ تعالیٰ مومن کے دل میں ڈالتا ہے ۔‘‘
(4) مطالعہ کی اہمیت کے حوالے سے چند مشاہیر کے اقوال واحوال
(i):۔امام غزالی ؒ کو کتابوں سے اتنی محبت تھی کہ موت کے وقت صحیح بخاری ان کے سینے پر رکھی ہوئی تھی ۔
(ii):۔اس طرح عصر عاضر کے محدث شیخ ناصر الدین البانی کے مطالعہ کے کمرے میں چاروں طرف کتب احادیث بکھری پڑی ہوتیں ۔
(iii):۔امام نوویؒ کا بچپن میں یہ حال تھا کہ ایک مرتبہ ان کے ہم عمر بچے انہیں اپنے ساتھ کھیل کے لیے زبردستی بلا رہے تھے اور امام صاحب ہاتھ میں کتاب پکڑ ے ان بچوں سے جان چھڑانے کے لیے بار بار کہہ رہے تھے :
(مَاخُلِقْتُ لِھٰذَا)’’مجھے اللہ نے اس کام (کھیل کود) کے لیے پیدا نہیں کیا ۔‘‘
(iv):۔حدیث کے امام مسلم ؒ ایک مرتبہ اپنی کتابیں پڑھنے میں اتنے غرق تھے کہ انہوں نے کھجور وں کا پورا ٹوکرہ کھا لیا جس سے ان کی موت واقع ہو گئی ۔
(v):۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے فرمایا:’’ میں کتابو ں کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ۔اگر میرا بس چلے تو میں اپنی قبر میں بھی اینٹوں کی جگہ کتابیں چنوا دوں۔
(vi):۔عصر حاضر کے محقق ڈاکٹر حمید اللہ کے گھر میں یہ عالم تھا کہ فرانس میں ان کی قیام گاہ میں نہ صرف ڈرائنگ روم اور بیڈ روم بلکہ کچن میں بھی ہر طرف کتابیں کھلی پڑھی ہوتی تھیں۔
(vii):۔امریکی محقق خاتون میری ون (Marie Winn) کہتی ہیں :’’مطالعہ انسان پر حاوی ہو جاتا ہے لیکن اسے ہپناٹائز نہیں کرتا یا انسانی ذمہ داریوں سے دور نہیں بھگاتا ۔کتابیں انسان کے کنٹرول میں ہوتی ہیں ۔ جبکہ TV یا کمپیوٹر انسان کو کنٹرول کرتا ہے ۔
(viii)ایک مغربی ماہر تعلیم نے والدین کو درج ذیل نصیحت کی :
’’ مستقبل کے کتابیں پڑھنے والے بچوں کو ان کے ماں باپ تیار کرتے ہیں جوان بچوں کو ان کے ایام طفولیت میں کتابیںپڑھ کر سناتے ہیں دن کے خاموش اوقات میں اور رات کو بچوں کے بستر کے سرہانے بیٹھ کر ۔تب ہی کتاب بچوں کی زندگی کا حصہ بنتی ہے ۔
(5)حاصل کلام یہ ہے کہ ٹی وی اور سوشل میڈیا کا استعمال بتدریج کم اور مطالعہ کتب کے رجحان میں اضافہ کا طرز عمل شعوری طور پر اختیار کیا جائے یہ بات اصول کے طور پر پلے باندھ لینی چاہیے کہ بالخصوص قرآن کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنایا جائے ہمارے مسائل کا حل قرآن میں موجود ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ مِنْ شَیْ ئٍ } (الانعام:38)
’’ہم نے اس کتاب میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔‘‘
بالخصوص نوجوانوں کو اپنے دوستوں کے انتخاب میں حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے ۔نبی اکرمﷺ نے ہمیں تنبیہہ فرمائی ہے ۔((الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ ))(ترمذی ،ابوداود)
’’انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ۔لہٰذا ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کیسے شخص کو دوست بنا رہا ہے ۔‘‘
درج بالا اصولوں اور تجاویز کی روشنی میں اگرمطالعہ کی عادت مضبوط ہوگئی تو آپ دیکھیں گے کہ بہت سی انفرادی واجتماعی ذمہ داریاں جن کا تعلق مطالعہ سے ہے ، پوری کرنا آپ کے لیے کس قدر آسان ہو گیا ہے ۔ژ