پاکستان اپنا عالمی کردار برقرار رکھے !
ڈاکٹر ضمیر اختر خان
دنیا کی سیاست میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جب کسی ملک کے لیے تاریخ اچانک ایک دروازہ کھول دیتی ہے۔ ایسے لمحے ہمیشہ طویل عرصے تک کھلے نہیں رہتے؛ جو قومیں انہیں پہچان لیتی ہیں وہ اپنی حیثیت بدل لیتی ہیں اور جو قومیں داخلی الجھنوں، وقتی مصلحتوں یا باہمی اختلافات میں الجھ کر انہیں گنوا دیتی ہیں، تاریخ انہیں دوبارہ وہی موقع دینے کی پابند نہیں ہوتی۔ پاکستان اس وقت ایسے ہی ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ حالیہ مہینوں میں مغربی ایشیا کے بحران کے دوران پاکستان نے جس فعال سفارتی کردار کا مظاہرہ کیا، اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام آباد محض کسی بڑے عالمی بحران کا تماشائی نہیں، بلکہ بعض حالات میں فریقین کے درمیان رابطے، مفاہمت اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے والا اہم مرکز بھی بن سکتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی سرگرمی نے اسے عالمی توجہ کا مرکز بنایا۔
سوال اب یہ نہیں کہ پاکستان یہ کردار ادا کرسکتا ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس حاصل شدہ سفارتی وزن کو مستقل عالمی کردار میں تبدیل کرسکے گا؟ اور اس سوال کے پیچھے اس سے بھی بڑا سوال موجود ہے: پاکستان آخر بنا ہی کیوں تھا؟ پاکستان مسلم دنیا کا محض ایک اور ملک نہیں۔ یہ دنیا کی واحد ریاست ہے جو اپنی تخلیق کے بنیادی سیاسی جواز کے طور پر برعظیم کے مسلمانوں کے جداگانہ دینی، تہذیبی اور سیاسی تشخص کے تصور کے ساتھ وجود میں آئی۔ اس لیے پاکستان کا عالمِ اسلام سے تعلق محض خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں؛ اس کے وجود کے فکری پس منظر میں ہی مسلم دنیا کے ساتھ ایک وسیع تر تعلق کا تصور موجود ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے 12 اپریل 1948ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں کہا تھا کہ یہ ایسا ملک ہوگا جوپورے عالمِ اسلام کی تقدیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔ یہ محض ایک تاریخی جملہ نہیں؛ یہ پاکستان کے عالمی کردار کے لیے ایک سمت نما اصول ہے۔
پاکستان نے ایک موقع پیدا کیا ہے اور حالیہ سفارتی پیش رفت کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں سہولت کاری کی، رابطوں کے لیے اپنی سفارتی استعداد استعمال کی اور ایک ایسے ماحول کی تشکیل میں کردار ادا کیا جس میں براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات ممکن ہوسکیں۔ جون 2026ء میں برجن اسٹاک کے مذاکراتی عمل میں بھی پاکستان نے Facilitator کا کردار جاری رکھا۔ یہاں اصل اہمیت کسی ایک معاہدے یا کسی ایک مذاکراتی دور کی نہیں۔ اصل اہمیت اس اعتماد کی ہے جو پاکستان نے حاصل کیا۔ ایک ایسا ملک جو بیک وقت چین، امریکا، ایران، سعودی عرب، ترکیہ، خلیجی ممالک اور وسطی ایشیا سے تعلقات رکھتا ہے، اگر اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن، فعال اور اصولی انداز میں آگے بڑھائے تو وہ صرف اپنے قومی مفادات کا محافظ نہیں رہتا؛ وہ مختلف متحارب قوتوں کے درمیان پل بھی بن سکتا ہے۔ یہی وہ کردار ہے جسے پاکستان کو اب ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔
سفارت کاری کا یہ دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے: پاکستان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سفارتی اثر و رسوخ ایک بار حاصل ہوجانے کے بعد خود بخود مستقل نہیں رہتا۔ اگر پاکستان نے ایک بحران میں امریکا اور ایران کے درمیان رابطے کا کردار ادا کیا ہے تو اسے مستقبل میں بھی تنازعات کے حل کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔ اگر پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ ایک نئے دفاعی و تزویراتی تعاون میں آگے بڑھا ہے تو اس تعاون کو وسیع تر علاقائی امن اور مسلم دنیا کے باہمی تعاون کی طرف لے جانے کے امکانات پر بھی غور ہونا چاہیے۔ اگر دنیا پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھنے لگی ہے جو مختلف متحارب فریقوں سے بات کرسکتا ہے تو اس سفارتی سرمائے کو ناصرف محفوظ رکھنا ہوگا بلکہ بڑھانا بھی ہوگا۔ ہمیں ہر بحران میں فریق بننے سے زیادہ، پل بننے کی صلاحیت پیدا کرنا ہو گی۔
یہاں ایک بنیادی بات واضح رہنی چاہیے کہ مسلم دنیا کی قیادت کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان دوسرے مسلم ممالک پر اپنی سیاسی بالادستی قائم کرے یا ان کے قومی مفادات کو اپنے تابع بنانے کی کوشش کرے۔ آج کے دور میں قیادت کا زیادہ مؤثر مفہوم خدمت، سہولت کاری، اعتماد سازی اور ادارہ سازی ہے۔ پاکستان کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ’’ہم مسلم دنیا کے قائد ہیں۔‘‘بلکہ اسے عملی طور پر یہ ثابت کرنا چاہیے کہ ’’ہم مسلم دنیا کے اختلافات میں پل بننے، مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانے اور امت کے اجتماعی مسائل کے حل کے لیے اپنی صلاحیتیں پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘ یہی طرزِ قیادت زیادہ قابلِ قبول بھی ہوگا اور زیادہ پائیدار بھی۔ ان شاء اللہ
آج مسلم دنیا تقریباً 57 ممالک پر مشتمل ہے۔ ان کے سیاسی نظام مختلف ہیں، معاشی ترجیحات مختلف ہیں، جغرافیائی مفادات مختلف ہیں اور بعض اوقات ایک دوسرے سے شدید اختلافات بھی موجود ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان ایک وسیع مشترکہ دائرہ موجود ہے یعنی دین،تاریخ،تہذیب،ثقافت، معاشی مفادات۔ اور سب سے بڑھ کر مشترکہ امن و سلامتی کی ضرورت۔ اس لیے مسلم دنیا کو کسی ایک مرکزی سیاسی ریاست میں تبدیل کرنے کی بحث سے پہلے مشترکہ مفادات کے ایک عملی نظام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ’’میثاقِ امت‘‘کا تصور معنی خیز ہوسکتا ہے۔ میثاقِ امت کا مطلب کوئی نئی ریاست یا سپر نیچرل حکومت نہیں، بلکہ مسلم ممالک کے درمیان ایسے Institutional mechanisms کی تشکیل ہوسکتی ہے جن کے ذریعے وہ تنازعات کی روک تھام اور حل؛مشترکہ سفارتی اقدامات؛ معاشی و تجارتی تعاون؛ دفاعی و سلامتی کے معاملات میں مشاورت؛ تعلیم و تحقیق؛ سائنس و ٹیکنالوجی؛صحت اور انسانی امداداور خوراک جیسے شعبوں میں عملی تعاون بڑھا سکیں۔
اگر پاکستان واقعی اپنا عالمی کردار برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے محض عالمی بحرانوں کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ از خود آگے بڑھتے ہوئے سب سے پہلے مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ، سابق سفارت کاروں، دفاعی ماہرین، معاشی ماہرین اور دانش وروں پر مشتمل ایک مستقل فورم قائم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد مسلم ممالک کے درمیان Conflict Prevention and Mediation Mechanism تشکیل دینے کی تجویز پیش کی جاسکتی ہے، تاکہ کسی بحران کے پھٹ پڑنے کے بعد بیرونی طاقتوں کی طرف دیکھنے کے بجائے مسلم ممالک کے پاس اپنا ابتدائی Mediation Mechanism موجود ہو۔ اسی طرح تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، بندرگاہوں، ریل، سڑکوں، ڈیجیٹل connectivity اور food security کے مشترکہ منصوبوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ اور پھر نوجوان نسل کے لیے ایک Muslim World Knowledge Network تشکیل دیا جاسکتا ہے، جس میں یونیورسٹیز ریسرچ سینٹرز اسکالر شپس مصنوعی ذہانت جیسےشعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کیے جائیں۔ اس طرح ’’امت‘‘کا تصور صرف تقریروں میں نہیں بلکہ اداروں، معیشت، علم، سفارت کاری اور انسانی تعاون میں نظر آنا شروع ہوگا۔ ان شاء اللہ
یہاں 7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک اہم پس منظر فراہم کرتا ہے۔ اسے صرف تین ممالک کے دفاعی تعاون تک محدود دیکھنے کے بجائے اس سوال کے تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ کیا مسلم ممالک اپنے باہمی اختلافات کے باوجود مشترکہ مفادات کے محدود مگر قابلِ عمل دائروں میں تعاون کا آغاز کرسکتے ہیں؟ اگر تین ممالک دفاع، امن اور تزویراتی مشاورت کے کسی فریم ورک پر آگے بڑھ سکتے ہیں تو مستقبل میں اسی طرز کے تعاون کو دوسرے شعبوں تک پھیلانے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے ایک اصول بنیادی ہوگا کہ ’’توسیع تدریجی ہو، ادارہ جاتی ہو اور رضاکارانہ ہو۔‘‘ مسلم دنیا کو ایک ہی دن میں متحد کرنے کی کوشش شاید عملی نہ ہو، لیکن مشترکہ مفادات کے ذریعے بتدریج قریب لانے کا عمل شروع کیا جاسکتا ہے۔ یہی میثاقِ مکہ سے میثاقِ امت تک سفر ہوسکتا ہے۔
ایک ملک جو اپنے سیاسی اختلافات، معاشی مشکلات، حکمرانی کے مسائل، ادارہ جاتی عدم تسلسل اور داخلی انتشار پر قابو نہ پاسکے، وہ طویل مدت تک عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا نہیں کرسکتا۔ اس لیے پاکستان کی خارجی طاقت کا پہلا سرچشمہ اس کی داخلی مضبوطی ہے۔ مضبوط معیشت، مستحکم ادارے، قانون کی بالادستی، سیاسی تسلسل، معیاری تعلیم اور قومی یکجہتی یہ سب پاکستان کی سفارتی طاقت کے اجزا ہیں۔ پاکستان کو دنیا سے یہ کہنا ہوگا کہ ہم امن کے داعی ہیں، لیکن اس کے لیے ہمیں اپنے گھر کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔ ہمارے نزدیک تمام مسائل کاحل صرف اور صرف اسلام کے عادلانہ نظام کو اختیار کرنے میں ہے ۔ مگرہمارے ’’ارباب حل وعقد‘‘ فی الحال ہماری بات نہیں مان رہے ہیں۔ اس لیے ہم بھی فی الحال دنیوی حل ہی پیش کر رہے ہیں۔
پاکستان کا جغرافیہ اسے ایک منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔ ایک طرف چین اور وسطی ایشیا، دوسری طرف ایران اور خلیج، ایک جانب جنوبی ایشیا اور دوسری طرف مغربی ایشیا۔ پاکستان ان تمام خطوں کے درمیان ایک قدرتی رابطہ ہے۔ لہٰذا ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی تصور Alignment سے زیادہ Connectivity ہونا چاہیے۔ ہمیں دنیا کو تقسیم کرنے والی صفوں میں اپنی جگہ تلاش کرنے کے بجائے مختلف صفوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ چین سے دوستی ہو، امریکا سے تعلق ہو، ایران سے ہمسائیگی ہو، سعودی عرب سے برادرانہ رشتہ ہو، ترکیہ سے تاریخی قربت ہو یا وسطی ایشیا سے معاشی امکانات پاکستان کے لیے کسی ایک تعلق کو دوسرے تعلق کی قیمت پر دیکھنا ضروری نہیں۔ پاکستان کی اصل سفارتی طاقت شاید یہی ہے کہ وہ مختلف دنیائوں کے درمیان پل بن سکتا ہے۔
حالیہ سفارت کاری سے پاکستان نے یہ ثابت کیا ہے کہ جب سیاسی قیادت، ریاستی ادارے اور سفارتی مشینری ایک واضح مقصد کے ساتھ متحرک ہوں تو پاکستان عالمی سطح پر اپنا وزن محسوس کرا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تجربے کو شخصیات یا وقتی حالات کے ساتھ وابستہ رکھنے کے بجائے ریاستی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ایک مستقل قومی سفارتی حکمت عملی ہو۔ ایک مستقل مسلم ورلڈ انگیجمنٹ پالیسی ہو۔ ایک ادارہ جاتی مصالحتی نظام ہو۔ اور مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کو محض دو طرفہ سفارت کاری کے بجائے مسلم ممالک کا اجتماعی تعاون کے وسیع تر تصور سے جوڑا جائے۔ پاکستان کو اپنے عالمی کردار کا تعین دوسروں کی طرف سے دی گئی جگہ کے مطابق نہیں، بلکہ اپنی تاریخی، جغرافیائی اور تہذیبی صلاحیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے خود کرنا ہوگا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ’’میثاقِ مکہ سے میثاقِ امت‘‘کا تصور اپنی حقیقی معنویت اختیار کرتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں تین مسلم ممالک کے درمیان تعاون سے آغاز ہو سکتا ہے۔ اسلام آباد اس تعاون کو فکری اور سفارتی سطح پر آگے بڑھانے کی کوشش کرسکتا ہے۔ پھر ریاض، انقرہ، تہران، دوحہ، جکارتہ، کوالالمپور، قاہرہ اور دیگر مسلم دارالحکومتوں کے دروازے کھٹکھٹائے جاسکتے ہیں۔ ایک کانفرنس، پھر ایک مکالماتی فورم، پھر مشترکہ ورکنگ گروپس، پھر مخصوص شعبوں میں معاہدے، پھر مشترکہ ادارے اور بالآخر ایک ایسا میثاقِ امت جس میں مسلم دنیا ایک دوسرے پر غلبے کے لیے نہیں بلکہ امن، عدل، تعاون اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہو۔ اسی سے ’’ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے ‘‘ علامہ اقبال کی آرزو پوری ہو گی ۔ ان شاء اللہ۔ یہ سفر آج سے شروع ہوسکتا ہے۔ مکہ سے اسلام آباد تک اور پھر اسلام آباد سے عالمِ اسلام تک اور بالآخر اسلام آباد سے میثاقِ امت تک۔ یہ کسی خواب کو محض نعرہ بنانے کا نام نہیں؛ یہ ایک تدریجی سفارتی، سیاسی، معاشی اور فکری منصوبہ ہوسکتا ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی کامیابی کو ایک مستقل عالمی کردار میں تبدیل کرے، اپنی تاریخی ذمہ داری کو جدید سفارت کاری کی زبان دے اور مسلم دنیا کے درمیان ایسی پل سازی کا آغاز کرے جس کی منزل ایک متحد سیاسی ریاست نہیں بلکہ ایک باہمی تعاون پر مبنی، پُرامن، باوقار اور مؤثر امت ہو۔ مکہ نے ہمیں میثاق کا تصور دیا تھا؛اب اسلام آباد کو اسے میثاقِ امت کی طرف لے جانے کی سفارتی تدبیر سوچنی ہے۔ یہی پاکستان کا عالمی کردار بھی ہو سکتا ہے اور شاید اس کے قیام کے تاریخی وعدے کی ایک نئی تعبیر بھی۔ ان شاء اللہ!