توکل کی حقیقت
حسیب آصف شیخ ( مرکزی شعبہ نشرو اشاعت)
رات کی تاریکی گاؤں پر سائے کی طرح پھیل چکی تھی اور بستی کے واحد پرانے کنویں کے پاس جلتا ہوا چراغ تیز ہوا کے تھپیڑوں سے بجھنے کے قریب تھا۔ ہاشم نے اپنے وزنی اوزاروں کا تھیلا زمین پر رکھا اور کنویں کی گہرائی میں جھانک کر دیکھا جہاں صرف گہرا اندھیرا اور ایک پراسرار خاموشی تھی۔ پچھلے تین مہینوں سے گاؤں کے تمام کنویں خشک ہو چکے تھے، فصلیں سوکھ رہی تھیں اور لوگ ہجرت کرنے پر مجبور تھے، لیکن صرف یہی ایک کنواں تھا جس کی تہہ سے رات کے آخری پہر پانی کی مدہم آواز سنائی دیتی تھی۔ ہاشم اس گاؤں کا سب سے ماہر اور محنتی انجینئر تھا جو دن رات اس پانی کو اوپر لانے کی تدبیریں سوچتا رہتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ پانی کسی بندش یا چٹان کی وجہ سے رکا ہوا ہے اور اگر جدید ٹیکنالوجی اور صحیح تدبیر استعمال کی جائے تو پورا گاؤں دوبارہ شاداب ہو سکتا ہے۔ لیکن دوسری طرف گاؤں کا بااثر اور بوڑھا رہنما زمان تھا جو لوگوں کو کام کرنے سے روکتا تھا۔ زمان کا دعویٰ تھا کہ یہ خشک سالی غیب کی طرف سے ایک امتحان ہے اور انسان کو خود کچھ کرنے کے بجائے بس ہاتھ پر ہاتھ دھرے معجزے کا انتظار کرنا چاہیے۔ وہ لوگوں کو ہاشم کی کوششوں سے ڈراتا اور کہتا کہ اگر انسان نے اپنی عقل اور تدبیر سے اس معاملے میں دخل دیا تو غیب کا قہر نازل ہوگا۔ لوگ زمان کی باتوں سے خوفزدہ تھے اور اسی خوف نے انہیں مکمل طور پر مفلوج کر دیا تھا۔
ہاشم نے اس رات تنہا کنویں کے اندر اترنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر اگلی صبح تک پانی کا انتظام نہ ہوا تو گاؤں کے آخری دس خاندان بھی بستی چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ اُس نے لوہے کی مضبوط رسی کو ایک پرانے درخت سے باندھا اور نیچے اترنا شروع کیا۔ جیسے جیسے وہ نیچے جا رہا تھا، ہوا نایاب ہوتی جا رہی تھی اور دیواروں کی نمی بڑھ رہی تھی۔ تقریباً سو فٹ کی گہرائی میں پہنچ کر اس کے پاؤں ایک سخت اور ہموار سطح پر ٹکے۔ اُس نے اپنی ٹارچ جلا کر دیکھا تو حیران رہ گیا؛ وہاں کوئی خشک مٹی نہیں تھی بلکہ ایک بہت بڑی اور قدیم لوہے کی پلیٹ تھی جس نے نیچے سے آنے والے پانی کا راستہ مکمل طور پر روک رکھا تھا۔ اس پلیٹ پر ایک زنگ آلود اور بھاری بھرکم تالا لگا ہوا تھا اور اس تالے پر کوئی عجیب و غریب تحریر کندہ تھی۔ ہاشم کو فوراً اندازہ ہو گیا کہ یہ خشک سالی فطری نہیں تھی بلکہ کسی نے جان بوجھ کر اس پانی کے راستے کو بند کیا تھا تاکہ پوری بستی کو پیاسا مارا جا سکے۔ اُس نے اپنے تھیلے سے چھینی اور ہتھوڑا نکالا اور اس تالے کو توڑنے کی کوشش کی، لیکن دھات اتنی سخت تھی کہ اوزاروں کے ٹکرانے سے صرف چنگاریاں نکلتی تھیں اور تالے پر ایک خراش بھی نہیں آتی تھی۔
اسی اثنا میں اوپر سے ایک وزنی پتھر نیچے آ گرا جو ہاشم کے بالکل قریب سے گزرتا ہوا چٹان سے ٹکرا کر ٹوٹ گیا۔ ہاشم نے چونک کر اوپر دیکھا تو اُسے کنویں کے دہانے پر ایک پراسرار سایا نظر آیا۔ وہ سایا کسی اور کا نہیں بلکہ زمان کا تھا جو ہاتھ میں لکڑی کی ایک بھاری لاٹھی لیے نیچے جھانک رہا تھا۔ زمان نے نیچے کی طرف چلاتے ہوئے کہا کہ ہاشم کو فوراً باہر آ جانا چاہیے کیونکہ وہ اللہ کے نظام میں مداخلت کر رہا ہے اور اس کا انجام بہت برا ہوگا۔ لیکن ہاشم نے نیچے لگی اس جھیل کی آواز سن لی تھی جو اس لوہے کی پلیٹ کے بالکل نیچے قید تھی۔ اس نے زمان کی باتوں پر دھیان دینے کے بجائے اس تالے کی ساخت کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کیا۔ اس نے دیکھا کہ تالے کے سائیڈ پر ایک چھوٹا سا روٹیٹینگ مکینزم بنا ہوا تھا جس پر کچھ اعداد لکھے تھے۔ یہ کوئی عام تالا نہیں تھا بلکہ ایک پیچیدہ ہندوستانی ساختہ تالا تھا جو صرف ایک مخصوص کوڈ یا چابی سے کھل سکتا تھا۔ ہاشم کو اب سمجھ آنے لگا تھا کہ زمان کیوں لوگوں کو اس کنویں کے قریب آنے سے روکتا تھا اور کیوں وہ ہر وقت توکل کے غلط مفہوم کا ڈھونگ رچا کر لوگوں کو محنت اور تحقیق سے دور رکھتا تھا۔
زمان نے اوپر سے رسی کو کاٹنا شروع کر دیا تاکہ ہاشم ہمیشہ کے لیے اس اندھیرے کنویں میں دفن ہو جائے اور اس کا راز کبھی باہر نہ آ سکے۔ ہاشم نے رسی کو تیزی سے ہلتے اور اوپر سے ریشے ٹوٹتے ہوئے دیکھے تو اس کے پاس وقت بہت کم رہ گیا تھا۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا لیکن اس نے اپنے حواس قائم رکھے۔ اس نے سوچا کہ اگر اس نے ہمت ہار دی یا صرف غیبی مدد کا انتظار کرتا رہا تو نہ صرف وہ خود مارا جائے گا بلکہ پورا گاؤں بھی پیاس سے ختم ہو جائے گا۔ توکل کا اصل مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ ہاتھ باندھ کر بیٹھ جاتا، بلکہ یہ تھا کہ وہ اپنی پوری عقل اور طاقت لگا کر اس تالے کو کھولنے کی آخری کوشش کرے اور پھر نتیجے کو اللہ پر چھوڑ دے۔ اس نے دل ہی دل میں اللہ سے مدد کی دعا کی اور اپنے دائیں ہاتھ کی چھینی کو تالے کے میکانزم کے باریک پن میں پھنسایا اور اپنی پوری طاقت سے اسے ایک مخصوص زاویے پر گھمایا۔ اس نے اپنی زندگی میں پڑھے ہوئےمکینیکل قوانین کو یاد کیا اور اندرونی نٹ بولٹ کی ترتیب کو ذہن میں لاتے ہوئے ایک کے بعد ایک ہندسے کو سیٹ کرنا شروع کیا۔
رسی کا اخری دھاگا ٹوٹنے ہی والا تھا کہ ایک زوردار کلک کی آواز آئی اور وہ بھاری تالا کھل کر نیچے گر گیا۔ ہاشم نے بغیر ایک سیکنڈ ضائع کیے اس لوہے کی پلیٹ کو اٹھانے کے لیے اپنا تمام تر زور لگا دیا۔ جیسے ہی وہ وزنی پلیٹ سائیڈ پر ہوئی، نیچے قید پانی کا شدید دباؤ ایک فوارے کی صورت میں اوپر کی طرف لپکا۔ پانی کا بہاؤ اتنا تیز اور شدید تھا کہ اس نے ہاشم کو دھکیل کر اوپر کی طرف پھینک دیا۔ اسی لمحے اوپر سے کٹی ہوئی رسی نیچے آ گری لیکن پانی کے اتنے بڑے سیلاب کی وجہ سے ہاشم کنویں کی سطح کے ساتھ ساتھ تیزی سے اوپر آنے لگا۔
گاؤں کے لوگ جو رات کے اس پہر شور اور پانی کی گرج سن کر جمع ہو چکے تھے، انہوں نے دیکھا کہ کنویں سے شفا بخش اور شفاف پانی کا ایک عظیم فوارہ باہر نکل رہا ہے اور اس پانی کے ساتھ ہاشم بھی صحیح سلامت باہر آ گیا ہے۔ سب نے مل کر سبحان اللہ کہا۔ زمان جو ہاتھ میں کٹی ہوئی رسی اور چھری لیے کنویں کے پاس کھڑا تھا، اس کا سارا جھوٹ اور فریب بستی والوں کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ کس طرح ہاشم کی تدبیر، عقل، محنت اور سچے توکل نے ان کی نسلوں کو پیاس سے بچا لیا تھا، جبکہ زمان کا نام نہاد توکل صرف ایک دھوکہ تھا جو انہیں تباہی کی طرف لے جا رہا تھا۔ اس رات پورے گاؤں نے سیکھا کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا توکل نہیں بلکہ کاہلی ہے، اور حقیقی توکل اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے بعد اللہ کے کرم پر یقین رکھنا ہے۔