(الہدیٰ) پانچ چیزیں جن کا حتمی اور یقینی علم صرف اللہ کے پاس ہے - ادارہ

10 /
پانچ چیزیں جن کا حتمی اور یقینی علم صرف اللہ کے پاس ہے
 
آیت 34 {اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِج}’’یقینا اللہ ہی ہے جس کے پاس ہے قیامت کا علم۔‘‘
اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ گھڑی کب آئے گی۔ 
{وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ ج} ’’اور وہی بارش برساتا ہے ۔ ‘‘
{وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ ط} ’’اور وہ جانتا ہے، جو کچھ رحموں میں ہے۔‘‘
{وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًاط} ’’اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل وہ کیا کمائی کرے گی۔‘‘
{وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ م بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ط} ’’اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں اُس کی موت واقع ہو گی۔‘‘
اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک آدمی ساری عمر ایک جگہ مقیم رہا‘ مگر کبھی اچانک وہ کسی دوسرے ملک گیا اور وہاں اُس کی موت واقع   ہو گئی‘ جبکہ اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اُسے موت اس دیارِ غیر میں آئے گی۔
{اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(34)} ’’یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا‘ ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔‘‘ 
جن پانچ چیزوں کا ذکر اِس آیت میں ہو اہے اُن میں سے پہلی اور آخری دو یعنی ُکل تین چیزیں ایسی ہیں جن کے ذکر میں ’’حصر‘‘ کا اسلوب ہے ان چیزوں کا علم صرف اللہ کو ہے‘ اُس کے سوا کوئی دوسرا اُن کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ یہ تین چیزیں ہیں: (۱)  عِلمُ السَّاعۃ‘ (۲)اس چیز کا علم کہ کل کوئی کیا کرے گا ‘ اور(۳)کسی کو اپنی موت کی جگہ کا علم ہونا۔جبکہ باقی دو چیزوں (دوسری اور تیسری) کے ذکر میں ’’حصر‘‘ کا اسلوب نہیں ہے۔ اللہ بارش برساتا ہے ۔ دوسرے فرمان (وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ) میں بھی اللہ کے علم کا ذکر ہے کہ وہ جانتا ہے جو کچھ رحموں کے اندر ہے‘چنانچہ قرآن کے اِن الفاظ میں نہ تو کوئی اشکال ہے اور نہ ہی کسی اعتراض کی کوئی گنجائش موجود ہے۔
 
 
دنیا میں گناہوں کی سزا
عَنْ اَنَسٍ ؓ  قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ : ((اِذَا اَرَادَ اللّٰہُ بِعَبْدِہِ الْخَیْرَ عَجَّلَ لَہُ الْعُقُوْبَۃَ فِی الدُّنْیَا، وَاِذَا اَرَادَ اللّٰہُ بِعَبْدِہِ الشَرَّ اَمْسَکَ عَنْہُ بِذَنْبِہٖ حَتّٰی یُوَافِیَ بِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) (رواہ الترمذی)
حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کےلیے بھلائی کا ارادہ فرما لیتے ہیں تو دنیا میں اُسے (اُس کے گناہوں کی) سزا دے دیتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کسی شخص کے لیے برائی کا ارادہ فرما لیتے ہیں تو اُس کے گناہوں کی سزا کو قیامت تک کے لیے روک لیتے ہیں۔‘‘