(اداریہ) بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی حالت ِزار - رضا ء الحق

10 /

اداریہ

رضاالحق

بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی حالت ِزار


بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، مگر گزشتہ ایک دہائی کے دوران بالخصوص 2014ء کے بعد وہاں جس تیزی سے ہندوتوا کی نظریاتی سیاست، مذہبی شدت پسندی بلکہ دہشت گردی اور مسلم دشمنی نے ریاستی و سماجی زندگی میں جگہ بنائی ہے، یہ بنیادی سوال پیدا ہوگیا ہے کہ کیا بھارت کا موجودہ نظام واقعی اپنے کروڑوں مسلمانوں کو برابر کے شہری سمجھتا ہے؟ مسئلہ محض چند متعصب افراد یا انتہا پسند تنظیموں کی کارروائیوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ قانون سازی، انتظامی اقدامات، سیاسی بیانیے، نفرت انگیز تقاریر، مذہبی مقامات کی شہادت اور ریاستی پالیسیوں کا ایک ایسا مجموعہ سامنے آچکا ہے جس میں بھارتی مسلمان بتدریج اپنے ہی وطن میں سیاسی، معاشی، سماجی اور تہذیبی اعتبار سے حاشیے پر دھکیلے جاتے محسوس ہوتے ہیں۔ 6دسمبر 1992ء کو ایودھیا میں صدیوں پرانی بابری مسجد ہندو انتہا پسند ہجوم کے ہاتھوں شہید کر دی گئی۔ بعد ازاں 2020ء میں خصوصی سی بی آئی عدالت نے ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور دیگر سمیت تمام 32ملزمان کو مجرمانہ سازش کے الزام میں ’ثبوت کی کمی‘ کی بنیاد پر بری کر دیا۔ یوں ایک ایسی مسجد جس کی شہادت نے ہندوستانی مسلمانوں کے اجتماعی شعور پر گہرا زخم لگایا تھا، بالآخر وہاں رام مندر کی تعمیر کا راستہ کھل گیا۔
مودی حکومت کے دور میں پہلے سے موجود مسلم دشمن رجحان مزید نمایاں ہوا ہے۔ شہریت ترمیمی قانون یعنی CAA نے پہلی مرتبہ بھارتی شہریت کے قانونی ڈھانچے میں مذہب کو اس انداز سے داخل کیا جس پر انسانی حقوق کے اداروں نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ USCIRF نے CAA کے ساتھ یکساں سول کوڈ، ریاستی سطح پر انسدادِ تبدیلیٔ مذہب اور گاؤکشی کے قوانین کو مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور سیاسی شرکت کو متاثر کرنے والے قانونی اقدامات کے طور پر نشان زد کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ حجاب، گائے کے گوشت، مبینہ ’’لو جہاد‘‘، ’’لینڈجہاد‘‘ اور ’’پاپولیشن جہاد‘‘ جیسے نعروں کو مسلم شہریوں کے خلاف سماجی و سیاسی مہمات میں استعمال کیا گیا۔ 2025ء کے دوران India Hate Lab نے 1,318 مسلم اور عیسائی مخالف نفرت انگیز تقاریر کے واقعات ریکارڈ کیے، جن میں 1,289 واقعات مسلمانوں کو براہِ راست نشانہ بناتے تھے؛ VHP اور بجرنگ دل کو 289 ایسے واقعات سے منسلک کیا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 2022ء کے واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے پانچ ریاستوں میں 128 املاک کے انہدام کا تفصیلی مطالعہ کیا، جن سے کم ازکم 617 مسلمان متاثر ہوئے۔ اسی ’’بلڈوزر جسٹس‘‘ کے وسیع تر رجحان کے بارے میں 2026ء کی ایک تحقیق نے 2020ء سے 2026ء تک کم از کم 2,166 رپورٹ شدہ واقعات، عمارات یا مجموعی اعداد کی نشاندہی کی ہے جن میں مساجد، مزارات، مدارس اور دیگر مسلم مذہبی و اجتماعی املاک کو شہید کیے جانے کے واقعات شامل ہیں۔
وقف ترمیمی قانون 2025ء نے اس تشویش کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ وقف املاک مسلمانوں کے مذہبی و فلاحی اداروں کی ایک اہم بنیاد ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ نے ستمبر 2025ء میں پورے قانون کو معطل کرنے سے انکار کیا، اگرچہ بعض متنازع دفعات کے نفاذ کے بارے میں عبوری
حفاظتی احکامات جاری کیے، جن میں بعض وقف املاک کو حتمی فیصلے تک بے دخل نہ کرنے اور بعض انتظامی اداروں میں غیر مسلم ارکان کی تعداد سے متعلق حدود شامل تھیں۔ اس پس منظر میں مسلمانوں کی یہ تشویش بالکل بجا ہے کہ اگر مذہبی املاک کے قانونی تحفظات کمزور ہوں اور دوسری جانب ریاستی مشینری کے ذریعے مساجد اور مذہب سے جُڑی دیگر عمارتوں کی شہادت کے واقعات جاری رہیں تو مستقبل میں تاریخی مساجد، مزارات اور دیگر مقدس مقامات کی قانونی و انتظامی حیثیت مزید غیرمحفوظ بلکہ مکمل طور پر مٹ جائے گی۔ اس سارے عمل کے پیچھے RSS، VHP، بجرنگ دل اور دیگر ہندوتوا تنظیموں کے نظریاتی اثرات واضح ہیں۔ ’’ہندو راشٹر‘‘ اور ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کا تصور اگر ہندوستانی مسلمانوں کی مساوی شہریت اور مذہبی آزادی کے اصولوں سے متصادم سیاسی منصوبے میں تبدیل ہوجائے تو یہ صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ دیگر اقلیتوں کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت درحقیقت انتہا پسند ہندتوا نظریات کی ہی محافظ ہے۔
5 اگست 2019ء کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنا اسی وسیع تر پالیسی کا ایک نہایت اہم باب ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد ڈومیسائل قوانین اور زمین سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں کی گئیں۔ فروری 2021ء میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے واضح طور پر تشویش ظاہر کی کہ ان تبدیلیوں سے کشمیری مسلمانوں سمیت مقامی اقلیتوں کی سیاسی شرکت، روزگار اور زمین کی ملکیت کے حقوق متاثر ہوں گے۔ رپورٹس میں یہاں تک کہا گیا کہ نسل کُشی کی سیڑھی کے دس (10) زینوں میں سے مودی حکومت نو (9) طے کر چکی ہے! اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے بالخصوص 2020ء کے ڈومیسائل قواعد اور بعد کی زمین سے متعلق تبدیلیوں کو مقامی آبادی کے تحفظات کے تناظر میں تشویش ناک قرار دیا۔ یہیں سے ’’آبادیاتی تبدیلی‘‘ کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر کسی مسلم اکثریتی خطے میں مقامی باشندوں کے زمین، ملازمت اور سیاسی حقوق کے قانونی تحفظات کم کیے جائیں، جبکہ باہر سے آنے والوں کے لیے آبادکاری اور ملکیت کے مواقع وسیع ہوں، تو طویل مدت میں آبادی کے تناسب اور سیاسی وزن پر اس کے اثرات مرتب ہونا یقینی ہے۔ اسرائیل کے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں میں آبادیاتی انجینئرنگ کے تجربے کا رنگ کشمیر کے حوالے سے بھارتی پالیسیوں میں ظاہر و باہر ہے۔ بھارت کے اندر مسلمانوں کو درپیش مسائل اور مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال کو الگ الگ خانوں میں دیکھنے کے بجائے ایک ایسے وسیع تر سیاسی رجحان کے تناظر میں دیکھنا چاہیے جس میں ہندو انتہا پسندی قومی شناخت پر غالب آتی جا رہی ہے۔ اس صورتِ حال میں عالمِ اسلام، خصوصاً پاکستان کے لیے محض مذمت کرنا کافی نہیں۔
قصۂ کوتاہ، بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی قانون سازی، نفرت انگیز تقاریر، ہجومی تشدد، مذہبی مقامات کی شہادت، گرفتاریوں، املاک کی ضبطی اور کشمیر میں آبادیاتی و قانونی تبدیلیوں نے بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ پاکستان اس مسئلے کو محض دو طرفہ پاک بھارت تنازع نہ بنائے بلکہ انسانی حقوق، مذہبی آزادی، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مسئلے کے طور پر عالمی فورمز پر اُٹھائے۔ اقوامِ متحدہ، OIC، انسانی حقوق کونسل اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں باقاعدہ دستاویزی ثبوت پیش کیے جائیں اور بھارت سے مذہبی آزادی، مساوی شہریت اور اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت کا مطالبہ کیا جائے۔ اہم ضرورت اُمَّتِ مُسلمہ کے اندر اتحاد اور باہمی تعاون کی ہے۔ ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے مسلم ممالک اگر بھارتی مسلمانوں کے مسئلے پر مشترکہ سفارتی حکمتِ عملی مرتب کریں، تو اس کی قوت محض بیانات سے کہیں زیادہ ہوگی۔ مسلم ممالک کو بھارت کے ساتھ اپنے معاشی اور تجارتی تعلقات میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کو جوڑنا ہوگا۔ لیکن سب سے بڑھ کر ضرورت اپنے اندر اصلاح اور بیداری کی ہے۔ قرآن مجید نے اُمّت کو محض ایک منتشر گروہ نہیں بلکہ ’’خیرِ امت‘‘ کی ذِمّہ داری عطا کی ہے۔ اگر مسلمان خود علم، عدل، تقویٰ، اتحاد اور اجتماعی شعور سے محروم رہیں تو بیرونی دشمن کی سازشیں کامیاب ہونے کے لیے کسی غیر معمولی قوت کی محتاج نہیں ہوتیں۔ کشمیر ہو یا فلسطین، بھارت کے مسلمان ہوں یا دنیا کے کسی اور خطے کے مظلوم مسلمان، ہماری پہلی ذِمّہ داری یہ ہے کہ ہم اپنی کمزوری کے اسباب کو پہچانیں اور اُمّت کو قرآن و سنت کی بنیاد پر حقیقی معنوں میں متحد کرنے کی جدوجہد کریں۔ اِس ناکامی نے عالمی ضمیر، خصوصاً مسلم ممالک کو تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا کیا ہوا ہے۔
آج سوال صرف یہ نہیں کہ بھارت مسلمانوں کے ساتھ کیا کر رہا ہے؛ سوال یہ بھی ہے کہ دنیا اس سب کے باوجود خاموش کیوں ہے؟ اگر مذہبی شناخت کی بنیاد پر مسلمانوں کے خلاف مسلسل نفرت، امتیازی قانون سازی، املاک کی تباہی، مذہبی مقامات کو خطرات، سیاسی محرومی اور آبادیاتی تبدیلی کے اقدامات جاری ہیں اور عالمی برادری صرف اس وقت بیدار ہو جب خون کے دریا بہہ چکے ہوں، تو یہ انسانی حقوق کے پورے عالمی نظام کی ناکامی ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ وقت غفلت کا نہیں، بیداری کا ہے؛ جذباتی نعروں کا نہیں، حکمت، علم اور منظم جدوجہد کا ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان سمیت عالمِ اسلام کے تمام حکمرانوں اور مقتدر حلقوں کو اپنی حقیقی ذِمّہ داری پہچان کر کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ بقول اقبالؔ:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئےنیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر