وقت ِ فجر اور نمازِ فجر کی اہمیت
(قرآن و احادیث کی روشنی میں )
مسجد جامع القرآن ، قرآن اکیڈمی، لاہور میں امیر ِتنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے2اکتوبر2026ء کے خطابِ جمعہ کی تلخیص
مرتب: ابو ابراہیم
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
آج ہم ان شاء اللہ سورۃ بنی اسرائیل کی آیت 78 اورسورۃ الفجر کی پہلی آیت کا مطالعہ کریں گے۔ سورۃ بنی اسرائیل کی آیت 78 میں پنج وقتہ نمازوں ، خصوصاً فجر کی نماز اور اس میں قرآن کی تلاوت کی اہمیت کا ذکر ہے ۔ سورۃ الفجر کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے دیگر قسمیں اُٹھانے کے ساتھ ساتھ فجر کے وقت کی قسم بھی اُٹھائی ہے۔ آج اسی تناظر میں ہم اس بات کا مطالعہ کریں گے کہ فجر کی نماز اور تلات کے کیا کیا فوائد و برکات ہیں اور ان سے محروم ہونے کے کیا کیا نقصانات ہیں ۔ آج بحیثیت مجموعی ہم ان فوائد اور برکات سے محروم دکھائی دیتے ہیں ، ہماری اکثریت اوّل تو نماز سے غافل ہے اور اکثر چار نمازیں ادا کرنےو الے بھی فجر میں غافل دکھائی دیتے ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بے برکتی اور نحوست آج ہمارے ہاں عام ہے ۔ سورۃبنی اسرائیل کی آیت 78 میں فرمایا :
{اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِط اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِکَانَ مَشْہُوْدًا(78)} ’’نماز قائم رکھیے سورج کے ڈھلنے سے لے کر رات کے تاریک ہونے تک ‘اور قرآن کا پڑھا جانا فجر کے وقت۔ یقیناً فجر کے وقت قرآن کا پڑھا جانا مشہود ہے۔‘‘
ہم اُردو میں نماز پڑھنا کہتے ہیں، جبکہ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نماز قائم کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ نماز کو قائم کرنے میں اس کے ظاہری اور باطنی آداب بھی شامل ہوتے ہیں ، نماز کی تیاری اور وضو کے آداب بھی شامل ہوتے ہیں ، نماز کے دوران اور نماز کے بعد کے آداب بھی شامل ہوتے ہیں ، اسی طرح باجماعت نماز ادا کرنے کے آداب ، مرد و خواتین کی شمولیت کے آداب سمیت ایک پورا نظم ہے جو افراد سے لے کر ریاست تک ذِمّہ داریوں کا متقاضی ہے ۔ اگر مسلمانوں کی ریاست ہے اور ریاست کو چلانے والے بھی مسلمان ہیں تو اُس ریاست کا پہلا کام کیا ہونا چاہیے ۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا :
{اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ}(الحج:41) ’’وہ لوگ کہ اگر انہیں ہم زمین میں تمکّن عطا کر دیں تو‘وہ نماز قائم کریں گے۔‘‘
مسلم ریاست کے حکمران اگر مسلمان ہوں تو اسلام اُن سے نماز ادا کرنے کا صرف اتنا تقاضا نہیں کرتا جتنا ایک عام مسلمان سے کرتاہے کہ پانچ وقت کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرلی بلکہ پورے ملک میں اذان کا انتظام ، مساجد کی تعمیر ، شہریوں کے لیے وضو کا انتظام ، موذنوں اور ائمہ مساجد و خطباء کا انتظام ، جمعہ اور عیدین کی نمازوں کا انتظام اور جمعہ اور عیدین کے خطبے ، اقامت صلوٰۃ کا یہ پورا نظام قائم کرنا مسلم حکمران کی ذِمّہ داری ہے ۔ ایک دور تھا جب خلیفہ وقت پنجگانہ نمازکا امام بھی ہوا کرتا تھا!
زیر ِمطالعہ آیت میں دوسری بات یہ بیان ہوئی کہ سورج کے ڈھلنے سے لے کر رات کے تاریک ہونے تک نماز قائم رکھئے ۔ یہاں نماز ظہر سے لے کر عشاء تک نمازوں کے اوقات کی طرف اشارہ ہے ۔ اس کی تفصیل احادیث میں آتی ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے حاضر ہو کر حضورﷺ کے سامنے پانچ نمازوں کے اوّل وقت کی وضاحت کی ، پھر دوسری مرتبہ آخری وقت کی بھی وضاحت کی ۔ اس میں نکتہ یہ بھی ہے کہ قرآن حکیم کے احکامات پر عمل کا عملی نمونہ رسول اللہ ﷺ کی ذات میں ملے گا ۔ نمازوں کے اوقات ، رکعات ، رکوع و سجود کی تفصیل اور نماز قائم کرنے کا پورا طریقہ احادیث میں ہے ۔ زیر مطالعہ آیت میں آگے فرمایا کہ یقیناً فجر کے وقت قرآن کا پڑھا جانا مشہود ہے۔ یعنی فجر کی نماز میں قرآن کی جو تلاوت کی جاتی ہے ، وہ اللہ کے ہاں بڑی مقبول ہے ۔ اس کی وضاحت بھی احادیث میں موجود ہے ۔ رسول اللہ ﷺ دیگر نمازوں کی بنسبت فجر کی نماز میں قرآن کی طویل تلاوت فرماتے تھے ۔ معروف روایات کے مطابق رسول اللہ ﷺ سورۃ الحجرات سے لے کر سورۃ البروج کے درمیان کی سورتیں فجر کی نماز میں تلاوت فرماتے تھے۔ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں آپ ﷺ پہلی رکعت میں سورۃ السجدہ تلاوت فرماتے تھے ، دوسری رکعت میں سورۃ الدھر تلاوت فرماتے تھے ۔
فجر کا وقت اپنی جگہ بھی بہت برکتوں اور سعادتوں والا وقت ہوتا ہے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفجر کی پہلی آیت میں فجرکی قسم اُٹھائی :
{وَالْفَجْرِ(۱) } ’’اورقسم ہے فجر کی۔‘‘(الفجر:1)
جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کی قسم اُٹھاتا ہے تو اُس میں کوئی ایسی حقیقت چھپی ہوتی ہے جس کا انکار ممکن نہیں ہوتا ۔ فجر کے وقت کی کیا اہمیت ہے اور فجر کی نماز میں تلاوت کی کتنی اہمیت ہے اس کی تفصیل ہمیں احادیث مبارکہ میں ملتی ہے۔ پہلی حدیث مبارکہ صحیح مسلم میں ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : جس نے فجر کی نماز ادا کی وہ اللہ تعالیٰ کے ذمے میں آگیا۔یعنی اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آگیا۔ آج ہم سب سکیورٹی کے حوالے سے پریشان ہیں ، نہ جان محفوظ ہے ، نہ مال محفوظ ہےا ور نہ عزت محفوظ ہے ۔ اگر اللہ نے مقدر میں کوئی نقصان لکھ دیا ہے تو وہ الگ بات ہے لیکن عموماً بندے کو نقصان پہنچتا ہے وہ اس کے اپنے اعمال کے سبب پہنچتاہے ۔ اگر بندہ فجر کی نماز ادا کرے اور مسنون اذکار کا اہتمام کرے تو بہت سی بلاؤں سے انسان محفوظ ہو جاتاہے ۔ فجر کے بعد کے مسنون اذکار میں یہ دعا بھی شامل ہے:
((اَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ )) ’’اے اللہ جو تو دینا چاہے اُسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جو تو روک لے، ا س کو کوئی دلا نہیں سکتا اور کسی صاحبِ حیثیت یا مالدار کو اس کی مالداری (یا شان و شوکت) تیرے مقابلے میں کوئی نفع نہیں پہنچا سکتی (یعنی تیرے عذاب یا فیصلے سے نہیں بچا سکتی)۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ کے اختیار کے مقابلے میں کسی کا اختیار چلنے والا نہیں ۔ نفع یا نقصان اللہ کے اختیار میں ہے ۔ یہ خالص توحید کا بیان ہے ۔ مگر آج توحید کا تصور اور عقیدہ صرف زبانی کلامی بحثوں ، مناظروں اور دوسروں پر شرک کے فتوے لگانے کی حد تک رہ گیا ہے ، جبکہ ہمارے عمل و کردار میں توحید کے اثرات دکھائی نہیں دیتے ۔ جامع ترمذی کی روایت میں ہے کہ : مومن وہ ہے جسے دیکھ کر اللہ یاد آئے۔ کیا آج ہمیں دیکھ کر کسی کو اللہ یاد آتاہے ؟ اس کے برعکس ہماری حالت یہ ہےکہ بقول ڈاکٹر اسراراحمدؒ منافق کی جو نشانیاں (جھوٹ ، وعدہ خلافی ،امانت میں خیانت اور گالم گلوچ) احادیث میں بیان ہوئی ہیں وہ ساری آج ہمارے قومی مزاج کا حصہ بن چکی ہیں ۔کیا ان رویوں کو دیکھ کر کسی کو اللہ یاد آئے گا ؟لوگوں کے دلوں میں اللہ کی محبت پیدا ہوگئی ؟ اللہ کے سامنے جھکنے اور اللہ کا حکم ماننے کا شوق دل میں پیدا ہوگا ؟ یہ سوالیہ نشان ہے ۔
فجر کی دو رکعت تو فرض ہیںلیکن اس سے قبل دو رکعت سنت ہیں ۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : فجر کی دو رکعت (سنت ) دنیا و مافیہا سے بہتر ہے ۔ اگر فجر کی دورکعت سنت کی اتنی اہمیت ہے تو فرائض کی کتنی اہمیت ہوگی ؟ یہ بات صرف وہی سمجھ سکتاہے جس کے دل کو اللہ نے ایمان کے نور سے منور کیا ہو ۔ اس کے برعکس آج دنیا میں جن کے اختیار ات ہیں ، جن کے پاس وسائل ہیں ، محلات ہیں ، پروٹوکول ہے یا اس دنیوی شان و شوکت کو دیکھ کر جن کی رالیں ٹپکتی ہیں ، دل میں محرومی اور مایوسی کا احساس پیدا ہوتا ہے ، اُن کے لیے سمجھنا مشکل ہے کہ فجر کی دو رکعت دنیا و مافیہا سے کیونکر بہتر ہیں ۔ یہ اپنے اپنے ویژن کی بات ہے ۔ آج زمین سے دو فٹ اوپر ہیں تو ویژن کچھ اور ہے ، جب دوفٹ زمین کے نیچے جائیں تو ویژن کچھ اور ہوگا ۔ یہاں ہمیں یہ درس بھی ملتا ہے کہ مومن کا ویژن کیا ہونا چاہیے ۔ سورۃ زلزال میں ہم پڑھتے ہیں:
{وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَہَا(2)} (الزلزال)
’’اور زمین اپنے سارے بوجھ نکال کر باہرپھینک دے گی۔‘‘
صحیح مسلم کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:روز محشر سونے کے ڈھیر ہوں گے، بندہ دیکھے گا اور افسوس کرے گا کہ اس مال کے پیچھے میں دنیا میں بھاگتا رہا، اس کی وجہ سے میں نے دنیا میں قتل و غارت گری کی ، رشتے ناطے توڑے ، چوری کی مگر آج یہ مال کسی کام کا نہیں ہے ۔ جیسے فرعون جب تک زندہ تھا، اکڑ دکھا رہا تھا، خدائی کے دعوے کر رہا تھا، جب موت سامنے آکھڑی ہوئی تو کہا میں ایمان لاتا ہوں ۔ دنیا و آخرت کےد رمیان ایک پردہ ہے ، جب موت کی وجہ سے یہ پردہ ہٹ جاتاہے تو انسان کا ویژن یکسر بدل جاتاہے ۔ لیکن اس وقت بدلنے کا فائدہ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ پردے میں رہتے ہوئے ایمان کا تقاضا کرتاہے ۔ یہی انسان کا امتحان ہے ۔ جو انسان یہ ویژن رکھتا ہے اُس کے نزدیک دنیا کی شان و شوکت اور مال و دولت سے بہتر فجر کی دو رکعت(سنت) نماز ہے ۔
تیسری حدیث سنن ابی داؤد میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اندھیروں میں مسجدوں کی طرف پیدل چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی خوشخبری دے دو۔ فجر اور عشاء کی نماز کے لیے جانے والوں کی بات ہورہی ہے ۔ آج بہرحال سٹریٹ لائٹس ہیں ، انسان گاڑی میں بھی جاسکتا ہے ، لیکن بہرحال فجر کے وقت اُٹھنا ، نیند کو خیرآباد کہنا اور مسجد جانا بھی ایک مشقت والا کام ہے ، جس کا ایمان کامل ہوگا وہی یہ مشقت اُٹھائے گا اور روزِقیامت ایسے لوگوں کےلیے کامل نور کی خوشخبری ہے ۔ چوتھی حدیث مسلم شریف میں ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : وہ شخص ہرگز جہنم میں نہیں جائے گا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے نماز ادا کی۔یہاں فجر اور عصر کی نماز وں کی بات ہورہی ہے ۔پانچوں نمازیں فرض ہیں۔ سب کی اہمیت ہے لیکن ہر نماز کی اپنی خصوصیت بھی ہے ۔ بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : منافقین پر فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ بھاری کوئی نماز نہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ کے دور میں جو منافقین تھے ، ان پر فجر اور عشاء کی نمازیں بھاری تو تھیں لیکن اس کے باوجود وہ نماز ادا کرنے مسجد میں آیا کرتے تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اگر نمازِ باجماعت ادا نہیں کریں گے تو ہم بے نقاب ہو جائیں گے کیونکہ اُس وقت نماز ادا نہ کرنے والے کو کافر سمجھا جاتا تھا ۔محدثین نے لکھا ہے کہ صحابہ کرامj کی متفقہ رائے تھی کہ بے نمازی کافر ہوتا ہے ۔ لہٰذا منافقین اپنے جھوٹے اسلام کے اظہار کے لیے نماز میں آتے تھے۔ آج کے دورمیں پانچوں نمازیں ضائع کرکے بھی ہم مطمئن ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔باقی تین نمازوں کے دوران تو پھر بھی ایک دو صفیں ہوجاتی ہیں لیکن فجر اور عشاء کی نماز میں مساجد خالی ہوتی ہیں ۔ آخر کیوں ؟ جو باقی تین نمازوں کا رب ہے وہ فجر اور عشاء کا رب نہیں ہے؟ جس نے باقی تین کا حکم دیا اُسی نے فجر اور عشاء کا بھی حکم دیا ۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ جس نے دو ٹھنڈے وقتوں کی نماز ادا کی وہ جنت میں داخل ہو گیا ۔ یہاں مراد فجر اور عصر کی نماز ہے ۔ اگلی حدیث بھی مسلم شریف میں ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :”جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی تو گویا اس نے آدھی رات کا قیام کیا، اور جس نے فجر کی نماز (بھی) جماعت کے ساتھ پڑھی تو گویا اس نے ساری رات نماز (قیام) پڑھی۔“ رات کا قیام اپنی جگہ اہم ہے ، نماز تہجد کی بھی بہت زیادہ اہمیت بیان ہوئی ہے لیکن فجر اور عشاء کی باجماعت ادائیگی اس سے زیادہ اہم ہے۔ یہاں تک کہ فجر اور عشاء کی نمازِ باجماعت ادا کرنے سے پوری رات کے قیام کا ثواب مل جاتاہے ۔ ایک اور روایت بخاری شریف میں ہے جس کے مطابق اللہ کے رسول ﷺ نے سنت نمازوں میں سے کسی پر اتنی سختی اور پابندی نہیں فرمائی جتنی فجر کی دو رکعتوں پر فرمائی ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر کی حالت میں اللہ کے رسول ﷺ اکثر سنت نماز چھوڑ دیا کرتے تھے لیکن فجر کی دو رکعت سنت کو حضورﷺ نے سفر کے دوران بھی نہیں چھوڑا ۔
زیر ِمطالعہ آیت میں جو فرمایا گیا کہ فجر کی نماز میں تلاوت اللہ کے ہاں بہت مقبول ہے ۔ اس کی تفصیل حدیث میں آئی ہے ۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس رات اور دن کے فرشتے باری باری آتے ہیں اور وہ فجر اور عصر کی نماز کے وقت اکٹھے ہوتے ہیں(یعنی فجر اور عصر کے وقت ان کی ڈیوٹیاں بدلتی ہیں )۔جب یہ فرشتے واپس آسمان کی طرف جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ (سب کچھ جاننے کے باوجود) ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں:جب ہم ان کے پاس گئے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم وہاں سے آئے تب بھی وہ نماز ہی پڑھ رہے تھے۔ یہ فرشتوں کی گواہی اللہ کے ہاں بندے کی مقبولیت کا باعث بنتی ہے ۔ ایک اور حدیث مسلم شریف میں ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : فرشتے مختلف لوگوں کی مجالس میں جاتے ہیں اور ان کی کارگزاری اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے تم نے میرے بندوں کو کس حال میں پایا ؟(حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے) فرشتے بتاتے ہیں کہ وہ تیری تسبیح، حمد اور بزرگی بیان کر رہے تھے اور تجھ سے تیری جنت کا سوال اور جہنم سے پناہ مانگ رہے تھے۔اللہ پوچھتا ہے کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے ؟ فرشتے بتاتے ہیں نہیں دیکھی ۔ اللہ پوچھتا ہے : اگر دیکھ لیتے تو کیا ہوتا ۔ فرشتے کہتے ہیں : اگر دیکھ لیتے تو جنت کے اور زیادہ حریص ہوتے ۔ اللہ فرماتا ہے جاؤ میں نے ان کو جنت عطا کردی ۔ پھر اللہ پوچھتا ہے : کیاانہوں نے جہنم کو دیکھا ہے۔ فرشتے کہتے ہیں : نہیں ۔ اللہ پوچھتا ہے : اگر دیکھ لیتے تو کیا ہوتا ۔ فرشتے کہتے ہیں ؛ اگر دیکھ لیتے تو اس سے بچنے کے لیے اور زیادہ کوشش کرتے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ جاؤ میں نے ان کو جہنم سے آزاد کردیا ۔
یہ غیب میںرہ کر ماننے کا فائدہ ہے ۔ جو بِنا دیکھے رب کو مانتے ہیں اور اس کے احکام پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ مقبول بندے ہیں ۔ کیا آج ہمارا ایمان غیب پر ہے ، جنت کو حاصل کرنے اور جہنم سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں ؟ آج ہمیں دنیا کی کامیابیوں کی فکر ہے ، ناکامیوں پر آنسو بھی بہا لیتے ہیں مگر اللہ کی یاد میں آنسو بہانا ، غیب میں رہتے ہوئے اس کی رضا کے حصول کی جدوجہد کرنا مانوس ہوگیا ہے ۔ ان احادیث کے ذریعے بندوں کو ترغیب دلانا مقصود ہے ۔ دوسرا مقصد آخرت کے خسارے سے ڈرانا بھی ہے ۔ صحیح بخاری شریف کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :جب تم میں سے کوئی سوتا ہے تو شیطان اس کی گردن کے پیچھے تین گرہیں لگا دیتا ہے۔اگر وہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، وضو کرے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، نماز ادا کرلے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے ۔ آج ہم جاگتے ہی سب سے پہلے سمارٹ فون کی طرف لپکتے ہیں ۔ حالانکہ اللہ کے رسول ﷺ نے سکھایا جب نیند سے بیدار ہو تو یہ دعا پڑھو :
الحمدللہ الذی احیانا بعدمااماتنا والیہ النشور
یا کلمہ شہادت کو دہرا لو :
اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھدان محمدا عبدہ ورسولہ
شیطان اللہ سے دور کرنے کے لیے جو تین گرہیں لگاتا ہے ، بیدار ہو کر ذکر کرتے ہی پہلی گرہ کھل جاتی ہے ، وضو کرنے سے دوسری اور نماز ادا کرنے سے تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہےا ور اس طرح بندہ ایمان اور شعور کے ساتھ صبح کرتاہے ورنہ مایوس ، بد دل اور سست ہو کر صبح کرتا ہے ۔ احادیث میں اور بھی تفاصیل ہیں کہ شیطان اس کے منہ اور کانوں میں ناپاکی ڈالتا ہے ۔ پھر نحوست اور بے برکتی آتی ہے ۔ آج ہمارے ہاں مال ، اوقات اور ہر کام میں برکت نہیں رہی ۔ وجہ ظاہر ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اس اُمت کے لیے ان الفاظ میں دعا فرمائی تھی : یہ سنن ابی داؤد میں جامع ترمذی میں ہے:
((اللہم بارک لی امتی فی بکورھا))’’اے اللہ میری امت کے لیے صبح کے اوقات میں برکت عطا فرما دے ۔‘‘(سنن ابی داؤد ، جامع ترمذی )
نبی اکرم ﷺ کےد ور میں تجارتی قافلے اکثر فجر کے وقت نکلتے تھے ۔ آج ہمارے ہاں مارکیٹیں دن کے بارہ ایک بجے تک کھلتی ہیں ۔ نتیجہ میں اللہ کے پیغمبرﷺ کی دعا سے بھی محروم ہو گئے ۔ اس کے برعکس گورے لوگ آج بھی صبح صادق کے وقت اپنا سفر یا کاروبار شروع کرتے ہیں ۔ ایک اور روایت بی بی فاطمۃ الزہرا ؓ سے روایت ہے ۔ فرمایا : میں صبح کے وقت(گویا فجر کے بعد) سوئی تھی تو آپﷺ نے مجھے پاؤں سے ہلاکر فرمایا : ’’بیٹی اُٹھو ! اللہ کے ہاں اپنے رزق کی شاہد ( گواہ ) بنو اور غافلوں میں سے نہ ہو جاؤ ۔ ‘‘(اگرچہ حدیث ضعیف ہے)
اللہ کے رسول ﷺ کا معمول تھا کہ فجر کی نماز کے بعد اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے تھے ، اللہ سے دعائیں مانگا کرتے تھے ۔ اسی طرح عصر کی نماز کے بعد بھی ذکر اذکار کرتے اور دعائیں مانگا کرتے تھے ۔ آج ہمارا حال یہ ہے کہ ساری رات مارکیٹیں کھلی رہتی ہیں ، شغل میلہ لگا رہتا ہے ، شادی بیاہ کے مواقع پر ساری رات ہلہ گلا چلے گا لیکن فجر کے وقت سور ہے ہوں گے ۔ یہ تو دنیا دار لوگوں کا حال ہے ، دینی حلقوں کا بھی یہ عالم ہے (الا ماشاء اللہ) کہ ساری رات دینی بحثیں ہورہی ہیں ، پوڈ کاسٹ ہو رہے ہیں ، مناظرے ہو رہے ہیں ،مسلکی بحثیں ہورہی ہیں ، دو ، تین ، چار بجے تک رات گزر جاتی ہے اور اس کے بعد ’مجاہدین‘ سو جاتے ہیں ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ بھی اس طرف توجہ دلایا کرتے تھے کہ انقلاب کا نعرہ لگانا بہت آسان ہے مگر انقلاب لانے کے لیے وہ کردار اور عمل اپنے اندر پیدا کرنا بہت مشکل ہے ۔ اگر ہمارا ایمان فجر کے وقت ہمیں اُٹھا کر مصلے پر کھڑا نہیں کررہا ، اپنے چھ فٹ کے قد پر اسلام نافذ نہیں ہورہا ہے تو 25 کروڑ عوام میں انقلاب کیسے لائے گا ؟پھر جوایمان ہمیں اُٹھا کر مصلے پر کھڑا نہیں کر رہا تو وہ ہمیں جنت میں کیسے لے جائے گا ۔ یہ اپنے آپ کو دھوکہ دینے والی بات ہے ۔ دین کے ہر حکم کو اس کی جگہ پر رکھنا ہے۔ دنیا دار طبقے کی تو بات ہی الگ ہے ۔ وہاں تو ساری رات سوشل میڈیا چلتا ہے ، نیٹ فلیکس بھی چلتا ہے ، مونیٹائزیشن بھی چل رہی ہے، کمائی بھی چل رہی ہے اور دنیا جہاں کاوبال چل رہا ہے ۔ فجر کے وقت سو جاتے ہیں اور ظہر کے بعد اُٹھتے ہیں ۔ ادھر دین کے نام پر راتوں کوجاگ رہے ہیں اور فجر میں اگر ہم سو رہے ہیں تو یہ کون سے اسلامی انقلاب کی تیاری کر رہے ہیں، کون سا اسلامی انقلاب برپا کرنے کی بات کر رہے ہیں ،ساری رات دینی بحثوں میں لگے رہنا اور فجر کے وقت سوتے رہنا کونسا دینی کام ہے ۔ پھر اس کے اثرات جسم اور صحت پر بھی پڑتے ہیں ، میڈیکل سائنس کا پورا موضوع ہے ۔ دن کے وقت کام میں سستی اوردیگر منفی اثرات الگ سے ظاہر ہوتے ہیں ۔پھر نبی اکرم ﷺ کی دعاؤں سے بھی محروم ہورہے ہیں جو انہوں نے فجر کے وقت بیدار ہونے اور نماز ادا کرنے والوں کی حق میں فرمائی ہیں ۔آج ہم دنیا کے حصول کے لیے اتنی جدوجہد کرتے ہیں ، اگر صبح کی فلائیٹ ہو تو آدھی رات کو اُٹھ کر تیاری کرتے ہیں ، بچے کو سکول بھیجنا ہو تو الارم لگا کر رکھتے ہیں اور وقت پر اُٹھ کر تیاری کرتے ہیں ،اگر ہم دنیا کے لیے اتنی جدوجہد کرتے ہیں تو اللہ کے حکم کے سامنے جھکنے کے لیے اور آخرت کی دائمی زندگی کے لیے کس قدر متفکر ہونا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں فجر کے وقت بیدار ہونے والا ، رب کے حضور سجدہ ادا کرنے والا اور فجر کے وقت کی برکات اور سعادتوں کا حقدار بنادے ۔ آمین یا رب العالمین!