(زمانہ گواہ ہے) غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے تین سال - محمد رفیق چودھری

10 /

جب تک مسلم ممالک متحد ہو کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل نہیں بناتے ،

اسرائیل ایک ایک کرکے مسلم ممالک کا شکار کرتا رہے گا :رضاء الحق

فلسطینی اگر اتنی مار کھا کر بھی حوصلہ نہیں ہارے اور آزاد فلسطینی

ریاست کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو باقی 57 مسلم ممالککو بھی حوصلہ

پکڑنا چاہیے اور فلسطینیوں کی مدد کرنی چاہیے : پروفیسر خرم عزیز

پاکستان اہل غزہ کے لیے کچھ نہیں کرسکتا کیونکہ بیرونی قرضوں کی وجہ

سے اس کی خود مختاری گروی رکھ دی گئی ہے :ڈاکٹر محمد عارف صدیقی

’’غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے تین سال ‘‘

پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا اظہار خیال

میز بان : وسیم احمد

مرتب : محمد رفیق چودھری

غزہ پر حالیہ اسرائیلی جارحیت کے 3 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ ان 3 سالوں میں زندہ بچ جانے والے فلسطینی مرد، عورتیں اور بچے صہیونی مظالم کے علاوہ موت، ملبے     اور بھوک سے زندہ رہنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس عرصے میں اقوامِ متحدہ میں کئی قرار دادیںپیش ہوئیں ،        عالمی عدالتوں میںمقدمات بھی پیش ہوئے، جنگ بندی کی اپیلیں ہوئیں، امداد کے دعوے بھی ہوئے اور دنیا بھر میں عوامی مظاہرے بھی۔ لیکن بقول شاعر:
ہم باغ تمنا میں دن اپنے گزار آئے
آئے نہ بہار آخر، شاید نہ بہار آئے
کے مصداق دور دور تک یاارضِ فلسطین پر بہار آنے کے امکانات نظر نہیں آ رہے۔ ہم آج کے پروگرام میں اپنے تجزیہ نگاروں سے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ گزشتہ  3 سالہ صہیونی جارحیت کی وجہ سے شکست کس کو ہوئی ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کو، اسرائیل کو یا عالمی ضمیر کو۔ اس دلخراش اور خوفناک موضوع پر گفتگو کرنے کے لیے میرے ساتھ تشریف فرما ہیں ترجمان تنظیم اسلامی محترم رضاء الحق صاحب،     بین الاقوامی قانون کے ماہر محترم پروفیسر خرم عزیز صاحب اور معروف دانشور اور مصنف محترم ڈاکٹر محمدعارف صدیقی۔ 
سوال:یہ جنگ کب ختم ہوگی اور فلسطینی مسلمانوں کو آزادی ،امن اورسکون کب تک ملنے کی توقع ہے؟
پروفیسرخرم عزیز:اسرائیل کا قیام ایک ناجائز طریقے سے عمل میں آیا تھا ۔ برطانیہ اور امریکہ اس کے پشت پناہ تھے ، 1917ء میں برطانیہ نے بالفورڈیکلریشن پاس کیا ، ہولو کاسٹ کا بہانہ بنا کر کے صہیونیوں نے کہا کہ ہمیں  فلسطین میں اپنی ریاست چاہیے ۔عربوں کے ساتھ جتنی بھی جنگیں اسرائیل کی ہوئیں وہ اس نے امریکہ اور برطانیہ کی پشت پناہی میں جیت لیں ۔جبکہ دوسری طرف مسلمان تقسیم کا شکار ہیں ،اس سے اس کو مزید شہہ مل گئی ۔ اسرائیل مغربی کنارے اور غزہ پر مسلسل قبضہ کرتا چلا جارہا ہے ۔ گویا وہ اس تاک میں تھا کہ 7 اکتوبر 2023ء جیسا کوئی واقعہ ہو اور اس کو جواز بنا کر وہ باقی ماندہ فلسطین پر بھی قبضہ کرلے ۔ غزہ میں اب کوئی عمارت کھڑی نہیں رہ گئی ، 75 ہزار شہادتوں کا کہا جاتاہے لیکن اندازہ یہ ہے کہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ مسلمان شہید ہوئے ۔ جومسلمان باقی بچے ہیں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ جب تک  مسلم دنیا متحد نہیں ہوتی، امریکہ ، اقوام متحدہ اور دیگر   عالمی طاقتوں کے ساتھ بیٹھ کر ڈپلومیٹک طریقے سے مسئلے کا حل تلاش نہیں کرتی یا مسلمان متحد ہو کر اسرائیل کو معاشی طور پر ضرب نہیں لگاتے تب تک فلسطین کے مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل سکتا ۔ فلسطینی اتنی مار کھا کر بھی حوصلہ نہیں ہارے اور اپنی آزاد فلسطینی ریاست کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، باقی 57 مسلم ممالک کو بھی حوصلہ پکڑنا چاہیے اور فلسطینیوں کی مدد کرنی چاہیے ۔ 
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی: اس جنگ میں اگر کسی کو شکست ہوئی ہے تو یہ شکست پوری دنیا کے مسلمانوں کو ہوئی ہے، اہل ِغزہ کو شکست نہیں ہوئی۔ اہل غزہ کے ذمے جو کچھ تھا انہوں نے وہ کیا، جس استقامت کا اور بہادری کا مظاہرہ وہ کر سکتے تھے انہوں نے اس سے بڑھ کر کیا۔ لیکن پوری دنیا کے مسلمانوں نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی ۔ وہ اس میں بری طرح فیل ہوئے۔اس کے بعد اس جنگ میں عالمی ضمیر کوبھی شکست ہوئی، مغرب کے، طاغوت کے بیانیے کو شکست ہوئی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مادی لحاظ سے غزہ کا بہت نقصان ہوا ، ان کا پورا انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا ، جانی اور مالی نقصان ہوا لیکن اخلاقی لحاظ سے اہل ِغزہ کی فتح ہوئی ہے ۔ اس میدان میں اسرائیل اور اس کے حواری بُری طرح بے نقاب ہوگئے، انہوں نے اپنا بیانیہ کھو دیا، اپنی اخلاقی گراؤنڈ کھو دی۔ عالمی عدالت انصاف بھی ان کے خلاف فیصلے دے رہی ہے، اقوام متحدہ میں کئی ممالک نے اس کے خلاف بیان دیئے، اس کا پرائم منسٹر آتا ہے اور لوگ اٹھ کر بائیکاٹ کر کے چلے جاتے ہیں، یعنی انہوں نے اسے جوتے کی نوک پر رکھا۔ عسکری لحاظ سے دیکھیں تو اسرائیل جو خود کو دنیا کی چوتھی بڑی عسکری طاقت کہتا تھا، خود کو AI کا ناخدا کہتا تھا، پوری دنیا کی ٹیکنالوجی اس کے ساتھ تھی، اس کے باوجود وہ اپنے ڈکلیرڈ ٹارگٹس کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ۔ لہٰذا اخلاقی اور عسکری لحاظ سے اسرائیل کو شکست ہوئی ۔ 
سوال:جو حالات اس وقت چل رہے ہیں، چاہے عالمی عدالت انصاف ہو ، اقوام متحدہ ہو یا انسانی حقوق کے ادارے ہوں وہ فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم کو روک نہیں پارہے ۔ کیا یہ ادارے اس کی صلاحیت نہیں رکھتے ؟
رضاء الحق:اسرائیل کا قیام جس صہیونی منصوبے کے تحت عمل میں آیاتھا اس میں یہ ساری چیزیں شامل تھیں ۔ عالمی صہیونی تنظیم نے جب 1898ء میں اپنا اجلاس منعقد کیا تھا تو وہاں صہیونی تنظیم کے بانی تھیوڈو ر ہرتزل نے گریٹر اسرائیل کا منصوبہ پیش کیا اور بعد میں1902ء میں اپنی کتاب Altnewlandمیں گریٹر اسرائیل کا نقشہ بھی پیش کیا۔ اسی اجلاس میں انہوں نے کچھ پروٹوکولز بھی    طے کیے تھے ۔ اسی منصوبے کے مطابق پہلی اور دوسری جنگ عظیم ہوئی ،بالفور ڈکلیریشن پاس کیا گیا ، خلافت ختم کر کے عالم ِاسلام کو تقسیم کردیا گیا ۔ طاقت کا مرکز برطانیہ کی بجائے امریکہ شفٹ ہو گیا ،لیکن جیسا کہ اقبال نے کہا تھا :  ع
فرنگ کی رگِ جاں پنجہ یہود میں ہے
برطانیہ کی طرح امریکہ بھی یہود کے شکنجے میں رہا اور   اقوام متحدہ ، ورلڈ بینک ، IMFسمیت تمام بین الاقوامی ادارے جو بنائے گئے وہ صرف صہیونیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ۔ عالمی عدالتیں جو بنائی گئیں وہ بھی صہیونی لابی کے سامنے بے بس رہیں۔ اکتوبر 2023ء کے بعد عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف کیس فائل کیا ، اسرائیل کے خلاف فیصلہ بھی آگیا پھر عالمی فوجداری عدالت نے نتن یاہو سمیت ، بعض اسرائیلی عہدیداروں کے خلاف وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے لیکن عمل درآمد کچھ نہیں ہوا ۔ یہ سارے معاملات ایک منصوبے کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں اور بدقسمتی سے  مسلم ممالک تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں ۔ جب تک مسلم ممالک اِس پوری صورتحال کو سمجھتے ہوئے متحد ہو کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل نہیں بناتے اُس وقت تک کچھ نہیں ہوسکتا ۔ اسرائیل ایک ایک کرکے مسلم ممالک کو ٹارگٹ کرتا رہے گا۔ عالمی اداروں  سے کسی قسم کی اُمید نہ رکھیں ۔ ان اداروں کی عمر ویسے بھی پوری ہو چکی ہے ، اب کوئی نیا نظام بنتا ہوا دکھائی دے رہا ہے جس کے اپنے ادارے ہو سکتے ہیں ۔ یا پھر مختلف بلاکس بن سکتے ہیں ۔ 
سوال: جو بورڈ آف پیس بنایا گیا تھا ، 8 ماہ گزرنے کے باوجود اس کی کوئی کارکردگی سامنے نہیں آئی ۔ کیا یہ غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ تھایا ایک بڑے ہی آرگنائزڈ انداز میں غزہ پہ قبضہ کرنے کا نیا سیاسی فارمولاتھا ؟
پروفیسرخرم عزیز:اہل ِغزہ پر ڈھائے جانے والے مظالم کی وجہ سے پوری دنیا میں اسرائیل کے خلاف ایک ردعمل سامنے آگیا تھا ۔ بورڈ آف پیس بنا کر وقتی طور پر اس ردعمل کو ٹالا گیا اور کچھ وقت حاصل کیا گیا تاکہ اس کی آڑ میں اسرائیل غزہ پرقبضہ کر سکے ۔گویا یہ غزہ پر اسرائیل کے ناجائز اور غیر اخلاقی قبضہ کو جواز فراہم کرنے اور اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی جو خلاف ورزیاں کی ہیں ، اُن پر پردہ ڈالنے کا ایک منصوبہ ہے ۔  اس بورڈ میں فلسطینیوں کی کوئی نمائندگی نہیں تھی حالانکہ فلسطینی اصل فریق ہیں ۔ ان کی نمائندگی کے بغیر کوئی بھی کیموفلاج ادارہ بنے گا تو وہ اسرائیلی مفادات کا ہی تحفظ کرے گا ۔ ٹرمپ نے واضح کہا تھا کہ وہ غزہ میں ٹورسٹ ریزورٹ اور پورٹ وغیرہ بنانا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ ایک رئیل اسٹیٹ ایجنٹ ہے اور اس نے اسی نظر سے غزہ کو دیکھا تاکہ غزہ بورڈ آف پیس کے تحت غزہ کی تعمیر نو کے نام پر انوسٹرز کو دعوت دی جائے ۔ 
سوال:مسئلہ فلسطین کے اصل فریق فلسطینی ہیں ۔ فلسطینی مسلمانوں کو اعتماد میں لیے بغیر غزہ بورڈ آف پیس یا کسی قسم کا اتحاد بنانا کیا معنی رکھتاہے ؟
رضاء الحق:اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی ہمیں اس حوالے سے بڑی کلیئر رہنمائی دے دی تھی ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
(ترجمہ ) : یہودو نصاریٰ کبھی تم سے راضی نہ ہوں گے جب تک کہ تم ان کی ملت کی پیروی نہ کرو ۔ (البقرہ :120)
گویا ان کی تہذیب و ثقافت کو جب تک نہ اپنا لیں وہ کبھی خوش نہیں ہوں گے ۔ بدقسمتی سے یہ دورِفتن ہے ۔  ایک معروف حدیث میں اس دور کے مسلمانوں میں ’وہن‘ کی بیماری کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کی وضاحت بھی آئی ہےکہ وہن دنیا سے محبت اور موت سے نفرت ہے ۔ آج مسلمانوں میں اس مرض کے آثار واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں ۔ مسلم اشرافیہ اور حکمران دنیا کی محبت میں  غرق ہیں ، حکمران چاہتے ہیں کہ کسی طرح ان کا اقتدار بچ جائے، وہ امریکہ کو خوش کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔     ہر خطہ کے مسلمانوں نے اپنی چھوٹی چھوٹی ریاستیں بناکر  اپنی اپنی تہذیب اور ثقافت کو ترجیح دینا شروع کردی ۔ جیسے ایرانیوں نے قدیم ایرانی تہذیب کو اجاگر کرنا شروع کردیا ۔ کہیں دنیوی شان و شوکت اور مال و دولت کو ترجیح  دی گئی ، پہلے بیروت ، پھر دوبئی اور اب نیوم سٹی جیسے منصوبے مغربی کلچر اور تہذیب سے متاثر ہو کر شروع کیے گئے ۔ گویا دجال کے آنے سے پہلے دجالی نظام ، دجالی تہذیب اور کلچر کا غلبہ واضح دکھائی دے رہا ہے ۔ ان حالات میں جو حق کے لیے کھڑا ہوا اس کی زندگی کو باطل قوتوں نے مشکل بنا دیا۔ اہل غزہ کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ اسی طرح کشمیر ، میانمار ، بھارت کے مسلمان بھی بڑے امتحان سے گزر رہے ہیں ۔ جب غزہ پر بمباری ہورہی تھی ، عورتوں اور بچوں کو شہید کیا جارہا تھا تو مسلم حکمران خاموش تھے لیکن جیسے ہی ٹرمپ کے یہودی داماد کشنرنے اعلان کیا کہ غزہ میں عالی شان ہوٹل اور ریزورٹ بنیں گے ، انوسٹمنٹ ہوگی تو مسلم حکمران فوراً اُچھل پڑے کہ یہ تو بڑا زبردست موقع ہے اور غزہ بورڈ آف پیس کا حصّہ بننے کے لیے تیار ہوگئے ۔ حالانکہ غزہ کے اصل فریق فلسطینی مسلمان ہیں ، ان کی نمائندہ حماس ہے اُن سے کسی نے پوچھا تک نہیں ۔ دراصل غزہ بورڈ آف پیس ایک ایسا تختۂ مشق ہے جس پر اہل غزہ کو پیسا جائے گا ۔ اگر امن اس کا ہدف ہوتا تو اس کے بعد بھی اسرائیل اب تک غزہ پر بمباری کر رہا ہےتو بورڈ آف پیس کہاں ہے ؟ دراصل اسرائیل کے خلاف پوری دنیا میں جو احتجاج ہو رہا تھا ،ا س کو روکنے کے لیے یہ بورڈ بنایا گیا۔ اس کے ذریعے اسرائیل اپنے اہداف کی جانب مزید بڑھا ہے ۔ 
آپ بورڈ آف پیس کی طرف سے جاری 7 اکتوبر 2026ء کی پریس ریلز جو اُس کے آفیشلxاکائونٹ پر موجود ہے کو پڑھ لیں۔ سب سمجھ میں آ جائے گا!
سوال: غزہ گزشتہ تین سال سے جل رہا ہے اورملبے کا ڈھیربن چکا ہے ۔ اتنی زیادہ شہادتیں ہو چکی ہیں اور جو باقی بچے ہیں وہ بھی بھوک ، پیاس اور موت سے لڑ رہے ہیں اور اسرائیلی مظالم کو برداشت کر رہے ہیں ۔ عالم اسلام نے اس دوران اہل ِغزہ کی کیا مدد کی ہے اور اگر کی ہے تو اس کے نتائج کیا ہیں ؟
پروفیسرخرم عزیز: مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم OICہے ۔ 1969ء میں جب مسجد اقصیٰ میں آگ لگنے کا واقعہ ہوا تھا تو اس کے ردعمل میں یہ تنظیم بنائی گئی عالم اسلام کو اس سے بڑی توقعات تھیں کہ ایک پورا اسلامک بلاک بنے گا جو اسرائیل کو کاؤنٹر کرے گا اور عالم اسلام کے مفادات کا تحفظ کرے گا ۔ بدقسمتی سے ایسا کچھ نہیں ہوا۔حالانکہ دنیا کی آبادی کا 20 فیصد مسلمان ہیں ، تیل کے ذخائر کا ایک تہائی حصّہ مسلم ممالک کے پا س ہے ، پوری دنیا کے وسائل کا 40 فیصد عالم اسلام کے پاس ہے ۔  1973 ء میں جب سعودی عرب نے تیل کی سپلائی بند کر دی تھی تو پوری دنیا پر بڑ ا پریشر آگیا تھا ۔ اسرائیل کی اکانومی گرگئی تھی ۔ مسلم ممالک متحد ہو کر اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان میں تقسیم پیدا کردی گئی ، جیسے عرب اور ایران کی تقسیم نے دشمن کو فائدہ پہنچایا۔OICنے اس تقسیم کو ختم کرنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا ، اس کے اجلا س نشستند و گفتند و برخاستندسے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتے ۔ جبکہ مغربی ممالک نے اسی طرز پر یورپی یونین بنا کر مشترکہ کرنسی جاری کی ،ویزوں  میں نرمی پیدا کی گئی ۔ وہ متحد ہو رہے ہیں لیکن مسلم ممالک کے مابین تقسیم ختم نہیں ہورہی ۔ اگر گھر میں تفرقہ ہوگا تو  محلے والے بھی آپ کی بات نہیں سنیں گے ۔ اگر صرف سعودی عرب ، ایران اور متحدہ عرب امارات آپس میں متحد ہو جائیں تو دنیا بھر میں آئل کی سپلائی کو کنٹرول کر سکتے ہیں ۔ لیکن اگر مسلم ممالک آپس میں متحد نہ ہوئے اور حالات ایسے ہی رہے تو اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے پر بھی قبضہ کرلے گا اور فلسطین کا دوریاستی حل بھی ممکن نہیں رہے گا ۔ اس وقت کرنے کاکام یہ ہے کہ جیسے مکہ معاہدہ ہوا ہے    اسی طرح حوثیوں کے ساتھ بھی معاملہ طے کیا جائے ،   آئل سپلائی کو کنٹرول کیا جائے اور امریکہ کو باور کروایا جائےکہ مسلم ممالک بحری راستوں کا دفاع خود کر سکتے ہیں ۔  
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی: اگر مکہ معاہدہ ہو سکتاہے تو غزہ معاہدہ کیوں نہیں ہو سکتا ؟ سعودی عرب کو فوجی تعاون مل سکتا ہے تو اہل ِغزہ کی مدد کیوں نہیں ہو سکتی ۔ OIC، عرب لیگ اور اس طرح کی تمام تنظیموں کے جو اجلاس ہوتے ہیں وہ صرف مسلمانوں کے غصّے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ہوتے ہیں ۔ ان اجلاسوں میں جو      شہ خرچیاں ہوتی رہیں ، شاہانہ ہوٹلوں میں اجلاس ہوئے ، اس کا اہل ِغزہ کو کیا فائدہ ہوا؟ ایسی تنظیموں کی بنیاد نظریات کے اوپر نہیں بلکہ مفادات کے اوپر رکھی گئی ہے ۔ مثال کے طور پر 1973ء میں تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا اور پوری دنیا کو پتہ لگا کہ مسلمانوں کے پاس کوئی ایسا ہتھیار ہے جو دنیا کو جام کر سکتا ہے۔لیکن اس کے بعد کیمپ ڈیوڈ معاہدہ میں ہمارے اپنوں نے ہی ہماری  پشت میں خنجر گھونپا۔ مگر آج تک OIC نے مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے کیا کیا؟ پھر دیکھیں چند سال پہلےمعاہدہ ابراہیمی ہوا ، اس میں یہ شامل تھا کہ جب تک فلسطین کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا، فلسطینیوں کو جینے کا حق نہیں دیا جائے گا، اس وقت تک اسرائیل سے کسی بھی قسم کے سیاسی، سفارتی یا تجارتی تعلقات قائم نہیں کیے جائیں گے مگر انہی عرب ممالک میں سے کچھ نے ان شقوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسرائیل سے سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کرلیے ۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہ واحد اسلامی ایٹمی قوت ہے ، فضاؤں پر ہماری برتری پوری دنیا مانتی ہے، میزائل ٹیکنالوجی ہمارے پاس ایسی کہ دنیا خوفزدہ ہے مگر یہ ناقابلِ تسخیر فضائی صلاحیت، میزائل ٹیکنالوجی، ایٹمی اثاثے، پیشہ ورانہ فوج غزہ کے لیے نہیں ہے۔حالانکہ اس سے قبل عرب اسرائیل جنگوں میں پاکستان نے طیارے اور پائلٹ بھیجے، ساز و سامان بھیجااور بڑی مدد کی ۔ لیکن اب پاکستان کی خودمختاری سودی قرضوں کی وجہ سے گروی رکھ دی گئی ہے ۔ اب ہم اپنے فیصلے خود کرنے کے قابل نہیں رہے۔ چند سال پہلے کوالالمپور سمٹ میں پلان کیا گیا ، مسلم ورلڈ کی ایک کرنسی ہوگی ، ایک ویزہ ہوگا وغیرہ ۔ لیکن پاکستان اس سمٹ میں نہیں جا سکا کیونکہ  معاشی بیڑیاں پاؤں میں تھیں اوراطلاعات کے مطابق       سعودی عرب نے جانے سے روک دیا ۔ 
سوال:کچھ مسلم ممالک کی جانب سے حوثیوں کے خلاف فوج بھیجنے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ کیا حوثیوں کے خلاف لشکر کشی سے مسئلہ حل ہو جائے گا ؟
پروفیسرخرم عزیز:نہیں ! اس طرح مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔ امن کے قیام کے لیے ایران کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا ، مذاکرات کرنے پڑیں گے ، کچھ باتیں ان کی بھی ماننی پڑیں گی۔ پاکستان اس ضمن میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ پاکستان اس پوزیشن میں ہے ۔ گزشہ سال انڈیا کو شکست دینے کے بعد پاکستان کی عزت بڑھی ہے ، پھر افغانستان، روس اور چین کی وجہ سے امریکہ کے کچھ مفادات بھی پاکستان کےساتھ ٹائی ہیں ۔ پاکستان اپنی اس پوزیشن کو اُمت کے مفادات کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے گھر میں بھی نظم اور اتحاد قائم کرنا پڑے گا ۔ اس کے بعد پاکستان اس پوزیشن میں ہوگا کہ مسئلہ فلسطین پر بھی اثر انداز ہو سکے ۔ یروشلم تینوں ابراہیمی مذاہب کے لیے مقدس ہے ، اسے     بین الاقوامی شہر قرار دے کر مشترکہ کنٹرول میں دیا جا سکتا ہے اور اس کے ساتھ دو ریاستی حل کے بارے میں بھی سوچا جا سکتاہے ۔ تاکہ فلسطینیوں کو زندہ رہنے کا حق مل سکے ۔ 
سوال: مسئلہ فلسطین کےدوریاستی حل کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے ؟ گزشتہ تین سال میں اسرائیلی مظالم کے خلاف پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں؟
رضاء الحق:پاکستان اور تنظیم اسلامی کا اصولی موقف یہی ہے کہ اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ ناجائز ہے لہٰذا اسرائیلی ریاست کا کوئی جواز نہ تو اخلاقی لحاظ سے بنتا ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں ۔ اگر دینی لحاظ سے دیکھا جائے تو قبلہ اوّ ل پر سوائے مسلمانوں کے کسی اور حق بنتا ہی نہیں ہے ۔ دو ریاستی حل بھی ناممکن ہے کیونکہ اسرائیل کسی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ وہ اس پورے خطے پر قبضہ کرکے  گریٹر اسرائیل بنانے کے خواب دیکھ رہا ہے ۔ اس کے تحت وہ باقی عرب ممالک پر بھی قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔ صہیونی مدینہ منورہ پر بھی قبضے کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔(معاذ اللہ) پاکستان اسرائیل کی نظروں میں کھٹکتا ہے ۔ بن گوریان نے کہا تھا کہ عرب ممالک سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے ، ہمیں اصل خطرہ پاکستان سے ہے ۔ نیتن یاہو نے بھی یہی کہا کہ اسرائیل کو دو مسلم ممالک سے خطرہ ہے ، ایک ایٹمی قوت ہے اور دوسرا ایٹمی قوت حاصل کر سکتاہے ۔ ایران کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کے لیے اس نے جنگ مسلط کی ہوئی ہے ۔ دوسری طرف سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جنگ چھیڑ دی گئی ہے ، اسرائیل کی کوشش ہے کہ کسی طرح پاکستان بھی اس جنگ میں کود پڑے ۔ پاکستان نے وار فیئر میں جو مہارت حاصل کی ہے اس کا مظاہرہ وہ انڈیا کے ساتھ معرکہ میں دیکھ چکے ہیں حالانکہ انڈیا کے پاس اسرائیل کی ڈرون ٹیکنالوجی بھی تھی ۔ اب ٹرمپ نے اے آئی کمانڈ بنانے کا اعلان کیا ہے اور اسرائیل نے AI کے ذریعے غزہ میں بہت زیادہ ٹارگٹ کلنگ کی ہے ۔ یہ ان کا ایک اور مکروہ چہرہ کھل کر سامنے آ رہا ہے ۔ جہاں تک غزہ کے حوالے سے پاکستان کے کردار کا سوال ہے تو پاکستان کو عملی کردار ادا کرنا ہو گا محض بیانات کافی نہیں۔ بورڈ آف پیس سے فوری طور پر نکلے۔ پاکستان ایک معجزے کے طور پر معرض وجود میں آیا تھا اور اس کا ایٹمی قوت بننابھی ایک معجزہ ہے ۔ شاید اللہ پاکستان    سے کچھ کام لینا چاہتاہے ، احادیث میں مشرق سے لوگوں کا حضرت مہدی کی نصرت کے لیے نکلنے کا تذکرہ ہے۔  خراسان سے اسلامی لشکروں کے نکلنے ، دجال کی فوج کے خلاف لڑنے کا ذکر ہے اور تاریخی خراسان میں پاکستان  کا کچھ حصہ بھی شامل ہے ۔ مستقبل کے اس منظر نامے        کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں تیاری کرنی چاہیے اور   اُمت مسلمہ کی لیڈرشپ کا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اگر      غیر مسلم مل کر نیٹو بنا سکتے ہیں تو مسلم ممالک ایک مشترکہ عسکری اتحاد کیوں نہیں بنا سکتے ۔