(دعوت و تحریک) تکمیل رسالت کا منطقی نتیجہ(4) - ڈاکٹر اسرار احمد

10 /

تکمیل رسالت کا منطقی نتیجہ(4)

ڈاکٹر اسرار احمد ؒ

(گزشتہ سے پیوستہ)
تکمیل رسالت کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ محمد رسول اللہﷺ سے پہلے جتنے رسول آئے وہ کسی قوم کے لیے‘ کسی علاقے کے لیے یا کسی شہر کے لیے آئے‘ پوری نوعِ انسانی کے لیے کوئی رسول مبعوث نہیں ہوا۔ محمد عربیﷺ اللہ کے واحد رسول ہیںجن کی بعثت پوری نوعِ انسانی کے لیے ہے ۔ قرآن مجید میں حضرت نوح ؑ کے بارے میں ارشاد ہوا :{اِنَّا اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ}  ’’ہم نے نوحؑ کو بھیجا اُس کی قوم کی طرف‘‘۔ حضرت ہود ؑ کے بارے میں صراحت ہے کہ آپؑ قومِ عاد کے لیے بھیجے گئے: {وَاِلٰی عَادٍ اَخَاھُمْ ھُوْدًاط} حضرت صالح ؑ  قومِ ثمود کی طرف بھیجے گئے: {وَاِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاھُمْ صَالِحًاط} اسی طرح حضرت شعیبd قومِ مدین کی طرف بھیجے گئے{وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًاط} ۔
حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں اشکال پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ حضرت عیسٰی ؑ کے ماننے والے اس وقت پوری دنیا میںہیں اور ساری نسلوں کے لوگ ہیں۔ مشرق بعید میں چلے جایئے ‘ عیسائیت موجود ہے۔ تاریک براعظم افریقہ کے گھنے ترین جنگلات میں کانگو کے تاس میں پہنچ جایئے‘ وہاں آپ کو عیسائی مل جائیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عیسائی مشنریزنے تبلیغ کے ضمن میں بہت کارنامے کیے ہیں اور عیسائیت کو جہاں جہاں پہنچایا ہے ‘ عام انسانوں کا وہاں پہنچنا آسان کام نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں جیکب آباد میں عیسائی مشن قائم ہیں۔ وہاں اتنی شدید گرمی ہے کہ ہم بھی وہاں پر جاتے ہوئے گھبراتے ہیں‘ لیکن وہاں انہوں نے اپنے مشن قائم کیے۔ تو اس سے شک ہوتا ہے کہ شاید حضرت مسیح ؑ کی بعثت پوری نوعِ انسانی کی طرف ہو ‘لیکن اِس نکتے کو سمجھ لیجئے کہ عقلی اور منطقی اعتبار سے اور منصوص اور منقول ہونے کے اعتبار سے حضرت عیسیٰ ؑ کی بعثت صرف بنی اسرائیل کے لیے تھی۔ قرآن مجید میں سورئہ آل عمران میں کہا گیا: {وَرَسُوْلًا اِلٰی بَنِیْ اِسْرَائِ یْلَ}’’وہ رسول تھے    بنی اسرائیل کی طرف‘‘۔ قرآن کی اس نص قطعی کے علاوہ خود انجیل میں موجود ہے کہ حضرت مسیح ں فرماتے ہیں : ’’میں صرف اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں آیا ہوں‘‘۔ پھر جب آپﷺ نے اپنے بارہ حواریوں کو بھیجا ہے کہ جائو‘ اب جو چیز تمہیں مجھ سے ملی ہے اسے تقسیم کرو‘ لوگوں میں پہنچائو‘ تبلیغ کرو‘ تو ساتھ ہی فرما دیا کہ تمہیں Gentilesمیں تبلیغ نہیں کرنی ہے۔ یہ Goyems اور Gentilesیہود کی اصطلاحیں ہیں۔ یہودی سمجھتے ہیں کہ دراصل انسان تو صرف ہم یہودی ہیں‘ باقی جو مختلف نسلوں کے انسان ہیں ‘ یہ انسان نما حیوان ہیں۔ ان کی شکلیں انسانوں کی سی ہیں‘ حقیقت میں یہ حیوان ہیں۔ اور ان کے لیے یہودی Goyems اور Gentilesکی اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں۔ انجیل میں موجود ہے کہ Gentiles کو تبلیغ کرنے سے  حضرت مسیح ؑ نے روکا۔ بلکہ انجیل میں جو الفاظ ہیں وہ تو میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح ؑ  کے الفاظ نہیں ہو سکتے‘ اس میں یقینا کسی اور نے نمک مرچ ملا دیا ہے۔ الفاظ یہ ہیں کہ ’’کوئی شخص بھی اپنے بچوں کے حصے کی روٹی کتے کے آگے نہیں ڈالتا۔‘‘
بہرحال یہ بات قرآن سے بھی ثابت ہے اور انجیل سے بھی کہ حضرت عیسیٰ ؑ صرف بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیے گئے تھے۔ یہ تو اصل میں سینٹ پال تھا‘ جس نے حضرت مسیح ؑ  ـکے دین کو ختم کر دیا اور مسیحیت کے نام پر اپنا خود ساختہ مذہب دنیا میں پھیلا دیا‘جیسے ہمارے ہاں عبد اللہ بن سبا یہودی‘ اسلام کا شدید دشمن ‘ایک موقع پر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر آ گیا اور اس نے مسلمانوں کے اندر رخنہ پیدا کیا‘ بنو اُمیہ اور بنو ہاشم کی پرانی چپقلش کو زندہ کیا اور کہا کہ اللہ کے رسول ؐ کے وصی تو علی ہیں‘ خلافت اُن کا حق ہے‘ یہ عثمان جو بیٹھا ہے یہ غاصب ہے‘ اور اس سے پہلے ابوبکر اور عمر بھی غاصب تھے (رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین‘ نقل کفر‘ کفر نباشد) بہرحال اسی کے پھیلائے ہوئے فتنے کے نتیجے میں حضرت عثمان صکی شہادت ہوئی۔ پھر ساڑھے چاربرس تک مسلمان آپس میں لڑتے رہے اور حضرت علی صکے عہد خلافت کے دوران ساڑھے چار سال میں ایک لاکھ مسلمان ایک دوسرے کی تلواروں اور نیزوں سے ختم ہوئے۔ تو وہ جو اسلامی فتوحات کا سیلاب پوری طرح دنیا پر چھا رہا تھا‘جس کے بارے میں علامہ اقبال کہتے ہیں  ع
تھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا!
وہ سیل رواں تھم گیا۔ اسلام کی جو پیش قدمی دائیں اور بائیں دونوں طرف ہو رہی تھی وہ رک گئی۔ ورنہ اُسی وقت پوری دنیا میں اللہ کے دین کا بول بالا ہو چکا ہوتا۔ 
اسی طرح نام نہاد سینٹ پال کا معاملہ تھا۔ جب تک حضرت مسیحd  دنیا میں موجود رہے وہ آپؑ کا شدید ترین مخالف رہا۔جب حضرت مسیح ؑ کو اللہ نے اُٹھا لیا تو اب وہ منافقت کا لبادہ اوڑھ کر آ گیا کہ مجھے مکاشفہ ہوا ہے‘ مسیحؑ سے ملاقات ہوئی ہے اور اب میں مسیحؑ پر ایمان لے آیا ہوں اور مسیح  ؑنے مجھے یہ حکم دیا ہے‘ یہ مقام عطا کیا ہے۔ پھر وہ متبعین مسیحؑ کا سب سے بڑا لیڈر بن گیا اور اس نے مسیحیت میں وہ تبدیلیاں کیں کہ حضرت مسیحؑ کے دین کو یکسر ختم کر دیا۔ عبد اللہ بن سبا بھی ہمارے دین کو ختم کر دینا چاہتا تھا‘ لیکن یہ آخری دین تھا‘ اللہ نے اِس کی حفاظت فرمائی ہے‘ جبکہ سینٹ پال نے تو فی الواقع حضرت مسیحؑ کے دین کو ختم کر دیا۔ سب سے بڑا کام یہ کیا کہ توحید کو تثلیث سے بدل دیا۔ حضرت مسیحؑ کے کسی قول کے اندر تثلیث موجود نہیں ہے۔آپ چاروں اناجیل پڑھ جایئے‘ اگرچہ یہ تحریف شدہ اناجیل ہیں پھر بھی کہیں بھی آپ کو تثلیث کا جملہ نہیں ملے گا۔ یہ سینٹ پال کی ایجاد ہے۔ دوسرے یہ کہ شریعت کو ساقط کر دیا۔ حضرت مسیح ؑ یہ کہہ کر گئے تھے کہ جو موسٰی کی شریعت ہے وہ تم پر بھی نافذ رہے گی‘ لیکن اُس نے شریعت موسوی کو ساقط کر دیا۔ تیسرے یہ کہ مسیحیت کی تبلیغ کا دائرہ Gentilesیعنی غیر اسرائیلوںکے اندر وسیع کر دیا‘ورنہ از روئے قرآن اور ازروئے انجیل‘ حضرت مسیح ؑ کے اپنے قول کے مطابق آنجنابؑ کی بعثت صرف بنی اسرائیل کے لیے تھی۔
حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پہلے اور آخری رسول ہیں جن کی بعثت پوری نوعِ انسانی کے لیے ہوئی ہے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں پانچ مرتبہ‘ مختلف الفاظ میں‘ آیا ہے۔ سب سے واضح انداز میں سورئہ سبا میں یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں :{وَمَـآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّاکَـآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا} (آیت ۲۸) ’’(اے محمدﷺ!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجامگر تمام انسانوں کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر‘‘۔ سورۃ الانبیاء میں ارشاد ہوا:{وَمَـآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ(107)}’’ہم نے آپؐ:کو( :کسی ایک قوم یا کسی ایک علاقے کے لیے نہیں بلکہ) تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘۔  نبوت و رسالت ہمیشہ سے رحمت ہے‘ مگر آپؐ پر آ کر یہ رحمت ’’رحمۃ للّعالمین‘‘ بن گئی ہے‘ یہ تکمیل رسالت کا ایک مظہر ہے۔ اور سورۃ الاعراف کی آیت158 میں خود نبی کریمﷺ کی زبانِ مبارک سے یہ کہلوایا گیا:{قُلْ یٰٓــاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَـیْکُمْ جَمِیْعًا} ’’(اے محمدﷺ! ڈنکے کی چوٹ) کہہ دو: اے لوگو! (اے بنی نوعِ آدم!) میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔‘‘
تکمیل رسالت کا تشنہ ٔ:تکمیل مظہر
اب دیکھئے‘ مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات! ختم رسالت کا یہ پہلو اور یہ مظہر تاحال تشنہ ٔ:تکمیل ہے۔  آپ میری بات سمجھ رہے ہوں گے۔ اللہ نے بھیجا حضرت محمدﷺ کو غلبہ دین کے لیے{لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ}  تاکہ دین حق کو غالب کر دیں تمام ادیان پر۔ اور بھیجا پوری نوعِ انسانی کے لیے۔ ان دونوں باتوں کو جوڑیے‘ صغریٰ کبریٰ ملا دیجئے تو بعثت محمدیؐ کا مقصد یعنی تکمیل رسالت کا آخری مرحلہ وہ ہو گاکہ جب کل نوعِ انسانی پر اللہ کا دین غالب آ جائے۔ علامہ اقبال نے ’’جوابِ شکوہ‘‘ میں بڑی پیاری بات کہی ہے :    ؎
وقت فرصت ہے کہاں‘ کام ابھی باقی ہے!
نورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے!!
یہ کام ابھی نہیں ہوا۔ پوری نوعِ انسانی تک تو یہ دین نہیں پہنچا۔ پوری نوع انسانیت پر اللہ کے دین کا غلبہ نہیں ہوا۔ لیکن نوٹ کر لیجیے کہ یہ ہو کر رہنا ہے۔’’نوید ِ خلافت‘‘ نامی کتابچے میں وہ احادیث درج ہیں جن میں حضورﷺ نے یہ خبریں دی ہیں۔ ایک حدیث میں آپﷺ نے اپنے زمانے سے لے کر تاقیامِ قیامت پانچ ادوار گنوا دئیے ہیں: (1)دورِ نبوت (2) خلافت علیٰ منہاج النبوۃ‘ یعنی خلافت راشدہ (3)ظالمانہ ملوکیت (4) غلامی والی ملوکیت (5) پھر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ۔اس وقت نوعِ انسانی اس پانچویں دَور کی دہلیز تک پہنچی ہوئی ہے‘ گویایہ دَور آیا چاہتا ہے‘ زیادہ دُور نہیں ہے۔ ’’نوید خلافت‘‘ نامی کتابچہ ہم نے لاکھوں کی تعداد میں تقسیم کیا ہے۔ موجودہ ماحول میں اسلام اور مسلمانوں کے جو حالات ہیں‘ ان سے بڑی مایوسی ہوتی ہے اور کیفیت یہ ہو جاتی ہے کہ   ؎
سنبھلنے دے مجھے اے ناامیدی کیا قیامت ہے
کہ دامانِ خیالِ یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے!
اس نااُمیدی کے چکر سے نکلنے اور ’’دامانِ خیال یار‘‘ کو مضبوطی سے تھامنے کے لیے ان احادیث کو حرزِ جان بنائیں‘ انہیں پڑھیں‘ یاد کریں‘ انہیں لوگوں تک پہنچائیں۔ اپنے طور پراس کتابچے کو چھاپیں اور تقسیم کریں۔
حضرت ثوبان ص روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
((اِنَّ اللّٰہَ زَوٰی لِیَ الْاَرْضَ فَرَاَیْتُ مَشَارِقَھَا وَمَغَارِبَھَا ‘ وَاِنَّ اُمَّتِیْ سَیَبْلُغُ مُلْکُھَا مَا زُوِیَ لِیْ مِنْھَا)) (صحیح مسلم)
’’اللہ تعالیٰ نے میرے لیے کل زمین کو لپیٹ دیا (یا سکیڑ دیا) تو میں نے اس کے تمام مشرق اور تمام مغرب دیکھ لیے۔ اور سن رکھو! میری اُمّت کی حکومت ان تمام علاقوں پر قائم ہو کر رہے گی جو زمین کو سکیڑ کر اور لپیٹ کر مجھے دکھا دی گئی ہے۔‘‘
کوئی شک ہے؟ کیسے ہو سکتا ہے کہ دنیا ختم ہو جائے اور حضرت محمد رسول اللہﷺ پر تکمیل ِرسالت کا یہ مظہر پورا نہ ہوکہ کل روئے ارضی پر حضرت محمدﷺ کا لایا ہوا دین‘ دین الحق اسی طرح غالب ہو جائے جیسے آپؐ کے دست مبارک سے جزیرہ نمائے عرب میں{جَائَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ} کی شان سے غالب ہوا تھا۔ اس کے لیے آپؐ نے تکلیفیں جھیلیں‘ مصیبتیں برداشت کیں‘ قربانیاں دیں‘ سینکڑوں صحابہ ؓ نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ ایک ایک صحابیؓ کی جان ہم جیسے لاکھوں کی جانوں سے بڑھ کر قیمتی ہے۔ حضرت حمزہصکی جان کی قیمت کا ہم کیا اندازہ لگائیں گے! یہ جانیں دی گئیں تب دین غالب ہوا۔ اور اسے پوری دنیا پر غالب ہونا ہے‘ ورنہ حضرت   محمد رسول اللہﷺ پر تکمیل رسالت کا تقاضا پورا نہیں ہو گا۔ کیسے ممکن ہے کہ دنیا ختم ہو جائے اور حضورﷺ پر تکمیل ِرسالت کا یہ تقاضا کہ کل روئے ارضی پر آپؐ:کا لایا ہوا دین نافذ ہونا ہے‘ پورا نہ ہو!
ایک اور حدیث جو حضرت مقداد بن اسودصسے مروی ہے‘ اس میں حضورﷺ کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں:
((لَا یَبْقٰی عَلٰی ظَھْرِ الْاَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ اِلاَّ اَدْخَلَہُ اللّٰہُ کَلِمَۃَ الْاِسْلَامِ …)) (مسند احمد)
’’اس روئے ارضی پر نہ کوئی اینٹ گارے کا بنا ہوا گھر باقی رہے گا نہ ہی کمبلوں کا بنا ہوا کوئی خیمہ بچے گا جس میں اللہ کلمۂ   اسلام کو داخل نہ کر دے۔‘‘
یہ ہو کر رہے گا۔ اور اسی وقت واقعتا ًحضورﷺ کی ختم نبوت اور ختم رسالت بمعنی تکمیل نبوت و تکمیل رسالت کا بتمام و کمال ظہور ہو گا۔ علامہ اقبال نے نبی اکرمﷺ کی احادیث کے مضامین کو بھی اپنے اشعار میں پیش کیا ہے‘ جیسے کہ اپنے بے شمار اشعار کے اندر قرآن مجید سے استشہاد کیا ہے۔ چنانچہ اس آنے والے دَور کے بارے میں کہتے ہیں   ؎
آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی
پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغامِ سجود
پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہو جائے گی
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی!
شب گریزاں ہو گی آخر جلوئہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہو گا نغمہ توحید سے!!
دیکھئے یہ کام پہلے جب ہوا تھا‘ محمد رسول اللہﷺ کے دست مبارک سے جزیرہ نمائے عرب میں دین کا غلبہ ہو گیا۔ پھر آپؐ کے بعد اس کی توسیع ہوئی ۔ اسلامی افواج مشرق و مغرب میں نکل کھڑی ہوئیں۔ مشرق میں عراق سے ہو کر ایران پہنچیں اور پھر یہ پورا ملک جو اُس زمانے کا خراسان تھا‘ فتح ہوا اور پھر چین تک بات پہنچ گئی۔ مغرب میں اسلامی افواج شام اور جزیرہ نمائے سیناکو فتح کرتے ہوئے مصر اور لیبیا جا پہنچیں اور ہوتے ہوتے بحر اوقیانوس تک بات پہنچ گئی۔از کجا تا بہ کجا! کہاں سے کہاں تک! وہ تو جیسا کہ میں نے عرض کیا سبائی فتنے نے اندرونی خلفشار پیدا کیا اور مسلمانوں کو آپس میں لڑا دیا جس سے ان کی قوت ٹوٹ گئی ۔جیسے کسی اونچائی پر ٹرک چڑھ رہا ہو اور کہیں موشن ٹوٹ جائے تو اس کے بعد مزید چڑھائی چڑھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ یہ صورت کہ ع
     ’’ تھمتا نہ تھا کسی سے سیل ِرواں ہمارا!‘‘
یکسر تبدیل ہو گئی‘ہمارا وہ سیل رواں تھم گیا اور reversal شروع ہو گیا۔ اب بھی یہی ہو گا کہ کسی ایک خطے میں اللہ کا وہ نظامِ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہوگا۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ایسا ہونا ہے‘ یہ یقینی ہے‘ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہے ہی نہیں۔ کب ہو گا؟ یہ ہم نہیں کہہ سکتے۔ کتنی قربانیاں دے کر ہو گا‘ یہ ہم نہیں کہہ سکتے۔ ابھی کتنے نشیب و فراز آئیں گے‘ ہم نہیں کہہ سکتے۔حالاتِ حاضرہ پر بانی ٔ تنظیم اسلامی    ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کا تبصرہ اُس دور (23 جون، 2002ء) سے متعلق ہے، جس دور میں اُنہوں نے یہ تقریر کی اور اُن کی تقریر کو اُسی دور میں صفحہ ٔ قرطاس پر منتقل کیا گیا۔ میرے مشاہدے میں کچھ اشارات ہیں کہ اب غلبہ ٔاسلام کا آغاز پاکستان اور اس سے ملحق سرزمین افغانستان سے ہو گا۔ اگرچہ موجودہ حالات بڑے تباہ کن ہیں‘ افسوس ناک ہیں‘ افغانستان میں طالبان کی قائم کردہ اسلامی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے‘ جہادِ کشمیر پر ریورس گیئر لگ چکا ہے۔ اللہ نہ کرے‘ لیکن بش صاحب نے اپنی سیکرٹ ایجنسیوں کو ایسی تیاریاں مکمل کرنے کا حکم دے دیا ہے کہ اگر ذرا سا بھی اندیشہ ہوکہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیتوں تک بنیاد پرستوں کی رسائی ہو سکتی ہے‘ تواُن پر فوراً قبضہ کر لیا جائے۔ سود کے خاتمے کے بارے میں ہمارے یہاں جو پیش رفت ہوئی تھی‘ اب اس پر بھی ریورس گیئر لگ گیا ہے اور اس ضمن میں ربع صدی کی مساعی پر خط تنسیخ پھیر دیا گیا ہے۔ تو حالات بڑے نامساعد اور ناموافق ہیں۔ لیکن   ؎
اور بھی دَور فلک ہیں ابھی آنے والے
ناز اتنا نہ کریں ہم کو ستانے والے!
اور  ع جو تھا‘ نہیں ہے‘ جو ہے‘ نہ ہو گا یہی ہے اک حرفِ محرمانہ!
ظاہر بات ہے کہ کوئی بھی حالات ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتے۔ لیکن میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ان شاء اللہ العزیز اسی خطہ ٔارضی سے غلبہ ٔاسلام کا آغاز ہو گا‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے چار پانچ سو سال سے اس کی تمہید کی ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت میں پاکستان سے کوئی بڑا کام لینا مقصود ہے۔ (جاری ہے)