اجازت نہیں دی جائے گی!
عامرہ احسان
ایک عوامی تحریک جس نے مشرقِ وسطیٰ میں عرب ممالک کو ہلا ڈالا تھا، ’عرب بہار‘ کے عنوان سے تھی۔ خلافتِ عثمانیہ ٹوٹنے کے بعد، اور پھردوسری جنگ ِعظیم کے بعد مسلم ممالک پر جو استعماریت ایک نئی صورت اختیار کر چکی تھی، اس نے مسلمانوں سے ان کا تشخص ، آزادیٔ اظہار چھین لیا تھا۔ مغربی استعماری طاقتوں کے گماشتے ، بادشاہتیں یا نسل در نسل چلنے والی آمرانہ حکومتیں مسلط تھیں۔ شام میں جس طرح 50 سال اقلیتی غیر نمائندہ (9 فی صد علوائیت) حافظ الاسد اور پھر بیٹے بشار الاسد کی حکومت چلی، اسے جب 2011 ء میں عرب ممالک میں اٹھنے والی آزادی کی تحریک نے اپنی لپیٹ میں لیا ( 81 فی صد سنی آبادی) تو آہنی ہاتھ سے اسے کچلا گیا۔ 2024 ء کی مزاحمتی تحریک تک شام کھنڈر کیا جا چکا تھا بمباریوں، جبری بے دخلیوں، اغوا کاریوں، اجتماعی قبرستانوں سے۔ تمام انسانی حقوق کے اداروں اور بھاری بھر کم جمہوری مغربی ممالک کے عوامی حقوق کے پشت پناہوں کے علی الرغم۔ عین یہی کچھ مصر میں رہا۔ بلڈوزروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے ’بہار‘ کو اہل ایمان نوجوانوں کے خون سے رنگا گیا۔ اخوان اور دیگر مظاہرین سے جیلیں بھریں۔ ایک سال جمہوریت کا ثمر صدر مرسی کی صورت مصر نے پایا۔ اسی دوران غزہ سے تعلقات کی بحالی اور مشفقانہ اخوت بھری پالیسیوں نے امریکہ اور اسرائیل کی نیندیں اڑا دی تھیں۔ پھر چل سو چل! پوری قوت سے جمہوریت پر تیشہ چلا کرالسیسی کی فوجی حکومت نے ملک سنبھالا۔ صدر مرسی مصری روایت کے مطابق نذرِ زنداں ہوئے ( 2013-2019 ء )جیل میں سختیاں ،مشققیں ، ادویہ سے مکمل محرومی، کم خوراکی رہی۔ کورٹ روم میں مقدمے کی سماعت کے دوران دل کے دورے سے ا نتقال کر گئے ، ۔
یہ کہانی مسلم ممالک کا مقدر ٹھہری، انہیں خلافت یا سیاسی اسلام سے محفوظ رکھنا، لازم ہے! یا یوںکہیے کہ عوامی بیداری اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے چنگل سے نکل کر آزادانہ سانس لینے کی اجازت دینے سے تو وہ دہشت زدگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا حکمران ایسے ہوں جو اپنے آقاؤں کے ساتھ انجمنِ ستائش باہمی سجائے رہیں! ’عرب بہار‘ کی یادیوں تازہ ہوئی کہ پے در پے سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال، اور اب بھارت میں مودی پر لرزا طاری کرتی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) کا نوجوان اُدھم مچائے کھڑے ہیں۔ اب اسے ’عرب بہار‘ کے وزن پر ’ایشیائی بہار‘ کہا جا رہا ہے۔ بظاہر مزاحاً ہی بھارتی جج کے نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ کا طعنہ دینا بلا بن کر بھارت پر ٹوٹ پڑا۔ پہلے تو نوجوان طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے تناظر میں احتجاجی تحریک اٹھی اور اتنی بڑھی پھیلی کہ مودی جیسے موذی کو وزیر تعلیم سے (نوجوانوں کے مطالبے پر) استعفیٰ لینا پڑا۔ ایک مہینہ CJP کی دہلی میں اور پھر شہر شہر پھیلتی تحریک نے بی جے پی کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی!
اب نیا مسئلہ انتخابات کے ضمن میں اُٹھ گیا۔ الیکشن چیف نے لاکھوں نام ووٹر لسٹوں سے نکال ڈالے۔(بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے) اب دوبارہ CJP کے نوجوان الیکشن چیف کے استعفیٰ کا مطالبہ لے کر شہروں شہروں نکل پڑے ہیں۔ بالخصوص ممبئی جو بھارت کا معاشی مرکز ہے۔ مودی کو دہلانے کو یہی کافی تھا۔ دہلی میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ گویا CJP بتدریج ہر محاذ پر متحرک ہونے چلی ہے۔ نوجوان قیادت ، بشر طیکہ وہ واقعی جوان ہو (ماضی میں جوان نہ رہی ہو) ، باصلاحیت، مقصدیت، امانت و دیانت، صدق و صفا سے لیس ہو تو قوم کے لیے اللہ کا انعام ہوا کرتی ہے۔ فرسودہ کرپشن زدہ ، بد عنوان، لوٹ کھسوٹ کی موروثی یا جبر کی حکمرانی کا حقیقی نعم البدل ثابت ہو سکے۔ ورنہ صرف چہرے بدلیں ، نظام وہی فرسودگی، انتشار ہر سطح پر ، کھو کھلے سیکولر فریب کار نعرے لیے آپہنچے تو عوام کے لیے اس کی حیثیت: ’ما را چہ ازیں قصہ کہ گاؤ آمد و خررفت! (ہمیں اس قصے سے کیا لینا دینا ، کہ گائے آئی اور گدھا چلا گیا؟)
عوام کے مسائل بڑھتے پھیلتے حقیقی ہیں۔ زندگی کا ہر دائرہ بے ضمیری، بد عنوانی، بے رحمی کی جونکوں کی نذر ہے۔ حکومتیں پچھلی اور حالیہ سبھی برابر کی حصہ دار ہیں۔ آٹا ، چاول، دالیں ، سبزی ، دودھ، رہائش، آمد و رفت سبھی عام آدمی تو کیا مڈل کلاس کی دسترس سے بھی نکلتی جارہی ہیں۔ بجلی کاٹ کھانے کو لپکتی ہے۔ سردی شروع ہونے سے پہلے گیس سسکیاں بھرنے لگی ہے۔ البتہ بل…؟ اتنا بھاری مگر:
یہ شریعت کا نہیں گیس کابل ہے بیگم
بلبلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اور رہا اب پاکستان میں سکہ رائج الوقت، تو حکم یہ بن چکا کہ خواہ آزاد کشمیر تڑپے ، کے پی میں زندگی اجیرن ہو یا پاکستان، مسائلستان بن جائے، ہمہ وقت کنٹینرستان بنار ہے مگر!
پھر تو تم سر پہ اٹھا لو گے زمانے بھر کو
سراٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے
آپ کے باپ کی جاگیر نہیں فکرِوطن
سرکھپانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
یہ اشعار اپنی کتاب میں عنایت علی خان مرحوم یوں لکھ کر اگلے جہان بحکمِ ربی چلے گئے کہ اس صفحے پر ایک کرخت وردی پوش تھانیدار تنبیہی انگلی اٹھائے کھڑا ہے ! اور کیا کیجیے کہ ہم دم بخود قید و بند ، حسب ِسابق گولیوں کی دھمکیاں سن پڑھ چکے ہیں۔ اللہ پاکستان پر رحم کرے ۔ (آمین) یہ ملک حکمرانوں کے پاس 22 کروڑ کی امانت ہے جس کی جواب دہی موت کی پہلی ہچکی کے ساتھ ہر ذِمّہ دار فرد سے شروع ہو جانا لازم ہے۔ جس نے خلفائے راشدینj تک کو ہر لمحہ لرزائے رکھا۔ قبرستان بڑے بڑے ناموروں سے بھرے پڑے ہیں۔ سیاسی لیڈر ، حکمران ، افواج، عدلیہ، نوکر شاہی سب جانتے ہیں۔ نظریں نہ چرائیں۔ سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارہ… رہے نام اللہ کا۔
عالمی سیاست الگ چھکے چھڑا رہی ہے۔ بیٹھے بٹھائے یک مشت 174 اسرائیلی یہودی مسافروں سے بھرا اماراتی طیارے ’فلائی دوبئی‘ کی کہانی چل پڑی۔ تل ابیب جاتے ہوئے اچانک ڈگمگا کر دھڑام 17 ہزار فٹ نیچے کو یوں گیا کہ گرا چاہتا ہے۔ پھر سنبھلا۔ پیش کردہ کہانی کا لب لباب یہ تھا کہ پائلٹ ہندو اور ساتھی پائلٹ عمان کا تھا۔ عمانی ، پائلٹ پر حملہ آور ہوا کاک پٹ میں رکھے (بوقت ضرورت والے) کلہاڑے سے اسے زخمی کر دیا۔ پائلٹ نے لپک کر دروازہ کھول دیا۔ جہاز میں بیٹھے آف ڈیوٹی پائلٹ لپک جھپک اندر آئے طیارہ سنبھالا۔ ایک یہودی ’پلمبر‘ نے اپنی مہارت استعمال کر کےعمانی کو قابو کیا اور پائلٹ کو بچایا۔ جہاز محفوظ سعودی عرب اتار لیا گیا۔ پوری دنیا میں سنسنی پھیل گئی۔آخر عمانی پائلٹ کیا کرنا چاہتا تھا اور کیوں کر؟تحقیقات جاری ہیں۔ انتظار فرمائیے!
نتین یاہو کو مشکل انتخابات کا سامنا ہے۔ یا ہو نے اس ہوتے ہوتے رہ گئے حادثے کو ’نائین الیون‘ جیسا قرار دیا۔ شک کرنے والوں نے اسے انتخابات کے لیے نتین یاہو کا ڈراما بھی قرار دیا۔ عمان پائلٹ اتنی حساس فضائی پرواز پر کیونکر تعینات تھا جبکہ اسرائیل ایسے کسی ملک کا پائلٹ قبول نہیں کرتا جس کے باضابطہ اسرائیل سے تعلقات نہ ہوں۔ (جو عمان کے نہیں ہیں۔) اور یہ عمانی پائلٹ توعمان میں بھی اپنے جہادی خیالات کی بنا پر نوکری سے نکالا جا چکا تھا۔ اب سنا ہے کہ عمانی کو شاید ’اتنی قیمتی‘ (نسل کشی کی ماہر) جانیں لینے کے ارادے پر سزائے موت دے دی جائے۔ ’رموزِ مصلحتِ ملک خسرواں دانند‘ (یعنی حکومت و ریاست کے پیچیدہ راز، معاملات (عام لوگ نہیں) حکمران ہی بہتر طور پر جان، سمجھ سکتے ہیں۔ عالمی سیاست چونکہ اب دجال کے قرب میںجاپہنچی ہے تو حکومتیں ، میڈیا مشق کر رہی ہیں جھوٹ ، فریب، دجل کی۔ عوام دال روٹی کے مارے اتنا کچھ کیسے سمجھیں! (حافظ شیرازی کا اگلا (فارسی )مصرعہ ہے:’گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخروش‘ (ترجمہ) اے حافظ! تو ایک گوشہ نشین فقیر ہے ، بے وجہ شور نہ مچا۔
7 اکتوبر 2023 ء سے اب تک پلوں کے نیچے سے بے پناہ مظلوم فلسطینیوں کا خون بہہ چکا۔ اس غم نے ہر ضمیر کا امتحان لیا۔ (صرف مسلمان سوئے کھوئے رہے!)یو این کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائر یکٹر بینجمن ڈیوس کو 26 سالہ نوکری سے اس جرم پر ادارے کے سربراہ نے نکال دیا کہ وہ غزہ میں بھوک اور فاقہ کشی کے خلاف ہر ہفتے سٹاف کے خاموش احتجاج کا اہتمام کرتے تھے۔ 62 سالہ سپینی امریکن ماہر معاشیات نے مئی کی رپورٹ میں انسانی حقوق کا بین الاقوامی قانون اور غزہ میں شدید قلتِ خوراک کا حوالہ بھی دیا تھا۔ انتظامیہ نے اسے یہ حوالہ نکالنے کو کہا اور یہ بھی کہ FAO میں ’انسانی حقوق‘ کا کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی!(نسل کشی کا کھیل کھیلنے کی دجالیوں کو کھلی چھٹی ہے!)