ایک دفعہ اسلام کا تجربہ بھی کر کے دیکھیے!
ڈاکٹر ضمیر اختر خان
گزشتہ تقریباً 79 سال سے پاکستان نے مختلف سیاسی و انتظامی ماڈل آزمائے، مگر اسلامی نظام کو ایک مکمل، آئینی، ادارہ جاتی اور قابلِ احتساب نظام کے طور پر عملاً جانچنے کا سوال اب بھی زیرِ بحث ہے۔ پاکستان کے موجودہ آئینی ڈھانچے میں بھی اسلام ریاستی مذہب ہے اور قراردادِ مقاصد آئین کا Substantive حصّہ ہے؛ اسی لیے بحث محض نظری نہیں بلکہ آئینی بھی ہے۔ ذیل میں اسی بنیاد پرارباب حل وعقد کے سامنے ایک جائزہ بعنوان ’’ایک دفعہ اسلام کا تجربہ بھی کرکے دیکھیے‘‘ پیش کیا جاتا ہے:
علامہ اقبالؒ اورقائداعظمؒ پاکستان کواسلام کی ’’تجربہ گاہ‘‘ بنانا چاہتے تھے۔ مگرقیام پاکستان کے بعد سیاست دانوں،سول وملٹری بیوروکریسی نے پاکستان کو اپنی اپنی سوچ کے مطابق بنانے کی کوششیں کیں۔ سیاست دان اسلام کے سیاسی نظام سے نابلدتھے اور افسرشاہی چاہے سول ہویاملٹری وہ بھی انگریزکے زیرسایہ تربیت پائی ہوئی تھی۔ لہٰذا اس کا تعلق بھی اسلام کے ساتھ زبانی کلامی ہی تھا۔ ادھر دینی طبقے کا معاملہ بھی اسلام کے حوالے سے مخدوش تھا۔ ان کی اکثریت نے عقائد، عبادات اوررسوم کوہی کُل اسلام سمجھ لیاتھا۔ ان کے نزدیک معاشرت، معیشت وسیاست وریاست وحکومت دنیوی امورقرار پائے، جن کے ساتھ مذہب کاتعلق ضروری نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اگرانگریزکی غلامی میں نماز، روزے کی اجازت تھی تووہ سمجھتے تھے کہ ہم آزاد ہیں۔ حالانکہ یہ آزادی کا بہت ہی سطحی تصور ہے۔ پاکستان کے تمام طبقات سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ سب مل کر ایک تجربہ اسلامی نظام کا کرکے دیکھیں۔ ان شاء اللہ اسلامی نظام کا تجربہ پاکستان کو ایک مثالی ریاست بنانے میں ویسا کردارادا کرے گا جیسا نبی ﷺ اور خلفائے راشدین کے ادوارمیں اسلامی نظام پر عمل کے نتیجے میں دنیا کے سامنے آچکا ہے۔
پاکستان ایک عجیب تجربہ گاہ ہے۔ قیام سے آج تک اس ملک میں سیاسی نظاموں کے اتنے تجربے ہوئے ہیں کہ شاید ہی کسی ایک ریاست میں اتنے مختلف نسخے آزمائے گئے ہوں۔ کبھی پارلیمانی نظام، کبھی (نام نہاد) صدارتی نظام، کبھی بنیادی جمہوریتیں، کبھی مارشل لا، کبھی مقامی حکومتوں کے نئے نئے ماڈل، کبھی مرکزیت اور کبھی صوبائی خود اختیاری کے تجربات؛ کبھی مذہب کے نام پر سیاست اور کبھی لبرل ازم کے عنوان سے نئی سیاسی ترتیب۔ مگر ایک سوال آج بھی اپنی جگہ کھڑا ہے کہ’’کیا ہم نے کبھی اسلام کو ایک مکمل نظامِ زندگی اور نظامِ حکومت کے طور پر دیانت داری کے ساتھ آزمایا ہے؟‘‘
یہ سوال کسی جماعت، کسی فرد یا کسی مخصوص مذہبی گروہ کے حق یا مخالفت میں نہیں۔ یہ پاکستان کے تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط سیاسی تجربے کا ایک بنیادی سوال ہے۔ سائنسی تجربہ گاہ میں اگر ایک دوا ناکام ہو جائے تو سائنس دان یہ نہیں کہتے کہ چونکہ ایک مخصوص تجربہ ناکام ہوگیا، اس لیے سائنس ہی غلط ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ تجربہ کن شرائط میں کیا گیا، کیا طریقۂ کار درست تھا، کیا مطلوبہ اصولوں پر مکمل عمل ہوا، کہاں خرابی پیدا ہوئی اور کیا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے سیاسی سفر کو بھی اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
کیا اسلام صرف نعرہ تھا؟نہیں ایسا نہیں تھا۔ اس لیے کہ پاکستان کی آئینی تاریخ میں اسلام کو محض ایک نجی عقیدہ قرار نہیں دیا گیا۔ 1949ء کی قراردادِ مقاصد میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت، جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور سماجی انصاف جیسے اصولوں کا ذکر کیا گیا، اور بعد ازاں قراردادِ مقاصد کو آئین کے آرٹیکل 2Aکے ذریعے آئینی حیثیت حاصل ہوئی۔ موجودہ آئین پاکستان کو ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ قرار دیتا ہے اور اسلام کو ریاستی مذہب تسلیم کرتا ہے۔ تو پھر اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کا اسلام سے کوئی آئینی تعلق ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ’’کیا پاکستان نے کبھی ان اصولوں کو ایک مربوط، مؤثر، شفاف اور قابلِ احتساب حکمرانی کے نظام میں تبدیل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی؟ یہاں سے اصل بحث شروع ہوتی ہے۔
قرآن وسنت کے مطابق اسلام صرف نماز روزے کا نام نہیں ہے(یہ ارکان اسلام ہیں اور ان کی اپنی بنیادی اہمیت ہے)۔ برصغیر میں ایک طویل عرصے تک دین کو زیادہ تر شخصی عبادات، مذہبی رسومات اور چند اخلاقی تعلیمات تک محدود سمجھنے کا رجحان رہا۔ نماز پڑھ لیجیے، روزہ رکھ لیجیے، حج کر لیجیے، زکوٰۃ ادا کر دیجیے اور سمجھ لیجیے کہ دینی ذمہ داری پوری ہوگئی۔ لیکن قرآن مجید و سنت رسول ﷺ
کا پیغام فرد کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اجتماعی عدل، امانت، شوریٰ، حقوق العباد، معاشی انصاف، قانون کی بالادستی، کمزوروں کے تحفظ اور حکمرانوں کی جواب دہی کو بھی موضوع بناتا ہے۔ اسی لیے اقبال نے غلامی کی اس ذہنیت پر ضرب لگائی تھی:
مُلا کو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
اقبال کے اس شعر کو محض مذہبی آزادی کے مسئلے تک محدود کرنا درست نہیں ہوگا۔ اس میں اس تصور پر تنقید بھی موجود ہے کہ اگر کسی مسلمان کو چند شخصی عبادات کی اجازت مل جائے تو اسے حقیقی آزادی سمجھ لیا جائے، جبکہ اجتماعی زندگی پر کسی اور نظام کی حاکمیت برقرار رہے۔
نبی اکرم ﷺ کی ریاست ایک تاریخی تجربہ تھاجس نے امت کے لیے اجتماعی زندگی کابہترین نمونہ چھوڑا تھا۔ اگر ’’اسلامی نظام‘‘ کی بات کی جائے تو اس کا پہلا عملی نمونہ کسی نظریاتی کتاب میں نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں سامنے آتا ہے۔ مدینہ میں ایک ایسی اجتماعی ریاست وجود میں آئی جس میں عبادت اور اخلاق کے ساتھ قانون، معیشت، معاشرت، عدل، دفاع، معاہدات اور بین الجماعتی تعلقات بھی نظم کا حصّہ تھے۔ میثاقِ مدینہ کے ذریعے مختلف مذہبی و قبائلی گروہوں کے باہمی حقوق و ذمہ داریاں متعین ہوئیں۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلامی سیاسی فکر کو محض مسلمانوں کے باہمی مذہبی معاملات تک محدود کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔پھر خلفائے راشدین ؓکا دور سامنے آتا ہے۔ یہاں حکمران کو مقدس یا ناقابلِ سوال شخصیت نہیں بنایا گیا۔ خلیفہ سے سوال ہوا، احتساب ہوا، اختلاف ہوا، مشاورت ہوئی، بیت المال کو امانت سمجھا گیا اور رعایا کے حقوق کو حکمران کی ذِمّہ داری قرار دیا گیا۔ یہی وہ تاریخی نمونہ ہے جسے اسلامی سیاسی فکر میں خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کہا جاتا ہے۔
یہاں ایک اہم بات تسلیم کرنا ہوگی۔ ساتویں صدی کی ریاست کو اکیسویں صدی کی پیچیدہ قومی ریاست پر بعینہٖ منطبق نہیں کیا جا سکتا۔ آج قومی ریاستیں ہیں، تحریری آئین ہیں، پارلیمان ہیں، سیاسی جماعتیں ہیں، عدلیہ ہے، جدید معیشت ہے، عالمی قانون ہے، جدید عسکری ادارے ہیں، بین الاقوامی معاہدات ہیں اور شہریوں کے حقوق کے بارے میں وسیع قانونی تصورات موجود ہیں۔ لہٰذا اگر اسلامی نظام کو آج کے زمانے میں زیرِ بحث لایا جائے تو سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کیا ہم ساتویں صدی کا سیاسی ڈھانچہ واپس لا سکتے ہیں؟بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ ’’قرآن و سنت کے قطعی اصولوں کو اکیسویں صدی کی ریاست میں کس آئینی، جمہوری، ادارہ جاتی اور قابلِ عمل صورت میں نافذ کیا جا سکتا ہے؟‘‘ یہی اصل علمی اور سیاسی چیلنج ہے۔
اسلامی نظام کا مطلب کیا ہوگا؟:
اگر پاکستان میں اس تصور کو عملی طور پر زیرِ تجربہ لانا ہو تو سب سے پہلے ’’اسلامی نظام‘‘ کی واضح تعریف ضروری ہوگی۔ کیا اس سے مراد صرف چند حدود کا نفاذ ہے؟ کیا اس کا مطلب صرف سود کے خاتمے کا اعلان ہے؟ کیا اس کا مطلب صرف نصاب میں دینی تعلیم کا اضافہ ہے؟ کیا اس کا مطلب صرف مذہبی شعائر کی پابندی ہے؟(اگرچہ یہ سب بھی ضروری ہیں۔) یا پھر اسلامی نظام ایک ایسا جامع تصور ہے جس میں عدل حکمرانی کی بنیاد ہو،امانت اقتدار کی روح ہو،شوریٰ فیصلہ سازی کا اصول ہو،قانون سب کے لیے یکساں ہو،کمزور ریاست کی خصوصی ذمہ داری ہو،معیشت استحصال سے پاک کرنے کی سمت میں ہو،حکمران جواب دہ ہوں، اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہوں،اور شہری کی عزت و جان و مال ریاست کی ذِمّہ داری ہو؟ اگر اسلامی نظام کا مفہوم یہ جامع تصور ہے تو پھر اس پر سنجیدہ علمی بحث کی گنجائش ضرور ہونی چاہیے۔
تجربہ افراد کا نہیں، اصولوں کا ہونا چاہیے:
پاکستان کے ماضی کے تجربات کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ ہم اکثر نظاموں کو اداروں اور اصولوں کے بجائے شخصیات کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ ایک شخص آیا تو اس کے نام سے نظام مشہور ہوگیا۔ دوسرا آیا تو پہلا نظام ختم ہوگیا۔ پھر تیسرا آیا تو نئی اصطلاح سامنے آگئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست کے مستقل ادارے مضبوط ہونے کے بجائے سیاسی کشمکش کا میدان بنتے رہے۔ اسلامی نظام کا کوئی سنجیدہ تجربہ بھی اگر کبھی زیرِ غور آئے تو اسے کسی ایک فرد، جماعت، پیر، مولوی، فوجی یا سیاسی رہنما کے ساتھ وابستہ کرنے کے بجائے اصول، آئین، اداروں، قانون اور عوامی رضامندی کے ذریعے سمجھنا ہوگا۔ ورنہ ’’اسلامی نظام‘‘ بھی ایک اور شخصی تجربہ بن جائے گا۔
سب سے بڑا امتحان: عدل:
اسلامی نظام کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنی مذہبی اصطلاحات سرکاری دستاویزات میں شامل ہوئیں۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ’’کیا غریب کو بھی وہی انصاف ملتا ہے جو طاقتور کو ملتا ہے؟۔‘‘ کیا حکمران بھی قانون کے سامنے جواب دہ ہے؟ کیا سرکاری منصب ذاتی مفاد کا ذریعہ نہیں رہتا؟ کیا رشوت، سفارش، بدعنوانی اور اقرباپروری کے خلاف ریاست واقعی مؤثر ہوتی ہے؟ کیا یتیم، بیوہ، مزدور، کسان، طالب علم اور عام شہری خود کو ریاست میں محفوظ محسوس کرتے ہیں؟ اگر ان سوالات کا جواب ’’ہاں‘‘ میں ملنے لگے تو شاید ہم اسلامی حکمرانی کی روح کو سمجھنے کے قریب پہنچیں گے۔ اور اگر صرف نام تبدیل ہوں، قوانین کی کتابیں تبدیل ہوں، مگر ظلم، کرپشن، ناانصافی اور طبقاتی امتیاز اپنی جگہ موجود رہیں تو محض ’’اسلامی‘‘ کا سابقہ لگا دینے سے نظام اسلامی نہیں ہوجائے گا۔
تمام طبقات سے ایک سوال:
اس لیے پاکستان کے سیاست دانوں، اہلِ دانش، علماء، وکلاء، معیشت دانوں، سول و ملٹری ماہرین، صحافیوں، نوجوانوں اور عام شہریوں کے سامنے ایک سنجیدہ سوال رکھا جا سکتا ہے کہ ’’کیا ہم اسلامی نظام کے تصور کو نعروں اور خوف دونوں سے آزاد کرکے علمی اور آئینی سطح پر جانچنے کے لیے تیار ہیں؟ اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں، تحقیق سے دینا ہوگا۔ علماء کو بتانا ہوگا کہ اسلام کا سیاسی و معاشی نظام جدید ریاست کے اداروں کے ساتھ کیسے مربوط ہوگا۔ ماہرین ِ قانون کو بتانا ہوگا کہ اسلامی اصولوں اور بنیادی حقوق کے درمیان آئینی تعلق کیسے قائم ہوگا۔ معیشت دانوں کو بتانا ہوگا کہ اسلامی معاشی اصول جدید مالیاتی نظام میں کس عملی صورت میں نافذ ہوسکتے ہیں۔ سیاست دانوں کو بتانا ہوگا کہ شوریٰ، عوامی نمائندگی، سیاسی جماعتوں اور اسلامی اصولوں کے درمیان عملی ربط کیا ہوگا۔ اور ریاستی اداروں کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ ان کا اصل کام کسی ایک سیاسی تصور کی حفاظت نہیں بلکہ آئین، قانون اور ریاستی استحکام کی حفاظت ہے۔
ایک کھلا، شفاف اور قابلِ احتساب تجربہ:
اگر ’’اسلامی نظام‘‘ پر باقاعدہ قومی تجربے کی بحث شروع ہوتی ہے تو وہ کسی خفیہ منصوبے، غیر آئینی اقدام یا طاقت کے ذریعے نہیں ہونی چاہیے۔ اس کی بنیاد ہونی چاہیے یعنی واضح آئینی اصول،عوامی نمائندگی،قانون کی بالادستی، آزاد عدلیہ،شفاف انتخابات، اقلیتوں کے حقوق، آزادیِ اظہار کی قانونی حدود،آزاد علمی تحقیق،معاشی قابلِ عمل منصوبہ،اور حکمرانوں کا مسلسل احتساب۔یعنی اسلام کے نام پر بھی وہی چیز قابلِ قبول ہونی چاہیے جو عدل، امانت اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کے ساتھ قابلِ وضاحت اور قابلِ احتساب ہو۔ یہی فرق ایک سنجیدہ ’’نظام‘‘ اور محض ایک ’’نعرے‘‘ کے درمیان ہے۔
شاید اصل تجربہ ابھی باقی ہے:
پاکستان نے بہت کچھ آزمایا ہے۔ افراد آزمائے گئے۔ جماعتیں آزمائی گئیں۔ نظام بدلے گئے۔ آئین بدلے گئے۔ اختیارات کے مراکز تبدیل ہوئے۔ صدارتی اور پارلیمانی تصورات زیرِ عمل آئے۔ مرکزیت بھی دیکھی اور اختیارات کی تقسیم بھی۔ لیکن اگر اسلامی نظام سے مراد قرآن و سنت کے بنیادی اصولوں پر مبنی عدل، امانت، شوریٰ، قانون کی بالادستی، معاشی انصاف اور انسانی حرمت کا ایک جدید، آئینی اور قابلِ احتساب ریاستی تصور ہے تو اس سوال پر ایک مکمل اور منظم قومی سطح کی علمی آزمائش کا تصور آج بھی بحث طلب ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو اپنے مستقبل کی بحث نئے سرے سے شروع کرنی چاہیے۔ نہ اندھی تقلید۔ نہ اندھی مخالفت۔ نہ مذہب کے نام پر جذباتی نعرے۔ نہ سیکولر یا مغربی ماڈل کی محض نقل۔ بلکہ سوال، تحقیق، اجتہاد، آئینی تدبر اور عملی نتائج۔
آخر ایک تجربہ اور بھی تو کیا جا سکتا ہے! وہ تجربہ جس میں اقتدار کا مقصد اقتدار نہ ہو بلکہ امانت ہو۔ جہاں قانون کمزور اور طاقتور کے لیے الگ الگ نہ ہو۔ جہاں ریاست کا پہلا سوال یہ ہو کہ شہری کتنا محفوظ ہے۔ جہاں معیشت کا مقصد صرف دولت پیدا کرنا نہیں بلکہ معاشرے میں عدل اور مواقع پیدا کرنا ہو۔ جہاں حکمران عوام کے مالک نہیں، ان کے خادم اور جواب دہ ہوں۔ اور جہاں دین صرف مسجد کی چار دیواری میں نہیں بلکہ انسان کے کردار، بازار کی دیانت، عدالت کے انصاف، حکمران کی امانت اور ریاست کی ذِمّہ داری میں بھی نظر آئے۔ یہی وہ تصور ہے جس کا عملی نمونہ رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین کے ادوار میں تاریخ کے سامنے آیا۔
تو پھر سوال یہ نہیں کہ پاکستان نے کتنے تجربے کیے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے کبھی اسلام کے اصولِ عدل و امانت و شوریٰ کو جدید ریاست کے تقاضوں کے ساتھ جوڑ کر، مکمل دیانت داری، آئینی طریقے اور قابلِ پیمائش نتائج کے ساتھ آزمایا ہے؟ شاید پاکستان کی سیاسی بحث کا اگلا باب اسی سوال سے شروع ہونا چاہیے۔ اور شاید ہمیں پہلی بار یہ طے کرنا چاہیے کہ تجربہ کسی شخص کا نہیںاصول کا ہونا چاہیے؛ اقتدار کا نہیںعدل کا ہونا چاہیے؛ اور نعرے کا نہیںعمل کا ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ توفیق عطافرمائے۔