(اظہارِ خیال) دجال کی عالمی حکومت اور نیوورلڈ آرڈر کی حقیقت - محمد رفیق چودھری

10 /

دجال کی عالمی حکومت اور نیوورلڈ آرڈر کی حقیقت

(قسط :12)

رفیق چودھری

دین میں تبدیلی اور یونانی فلسفہ بطور مذہب
عبداللہ بن سبا کا پھیلایا ہوا باطنی فتنہ گویاکافی نہ تھا کہ عباسی دورخلافت میں خلیفہ مامون الرشید نے یونانی اور سریانی فلسفہ کے ترجمہ کے لیے عیسائی اور مجوسی علماء کی خدمات حاصل کیں اور دین اسلام میں فلسفہ کی پیوندکاری کے لیے بیت الحکمہ (صوفیہ) کے نام سے باقاعدہ ایک ادارہ قائم کرلیا۔ اس سے قبل اگرچہ ابن ِسبا اور دیگر یہودی ذرائع سےنظریاتی و عملی قبالہ ، علم رمل اور علم نجوم سمیت  باطنی علوم مسلمانوں میں داخل ہو چکے تھےلیکن بیت الحکمہ نے
 جلتی پر تیل کا کام کیا۔ نتیجہ میں تناسخ اور divine unity جیسےدجالی تصورات اُمّت ِمسلمہ میں مزید راسخ ہونا شروع ہوئے اور بہت جلد بغداد بھی انہی مباحث کا مرکز بن گیا جنہوں نے چوتھی صدی عیسوی میں عیسائی مذہب کو بدل ڈالا تھا۔ خاص طور پر یونانی Theosophia نے اسلامی تصوف کی شکل اختیار کی ۔خود خلیفہ مامون الرشید (813ء تا 833ء ) کی فکری ، فلسفیانہ اور مذہبی روش میں esotericism(باطنیت)اور ”روشن خیالی “کے اثرات نمایاں تھے ۔ اس نے معتزلہ مکتب فکر کو سرکاری مذہب قرار دیا جو یونانی فلسفے کا چربہ تھا۔ اسی وجہ سے ”قرآن مخلوق ہے یا قدیم “ جیسی بحثیں شروع ہوئیں کیونکہ اس کی جڑیں یونانی فلسفے میں موجود تھیں۔ افلاطون ازم  میں یہ بحث موجود تھی کہ ”مثالی حقائق“ (divine forms) ازلی اور غیر مادی ہوتے ہیں لہٰذا خدا کی اصل صفات اور علم بھی ازلی ہونے چاہئیں۔اس فکر نے مسلم مفکرین کو متاثر کیا کہ اگر اللہ کا کلام” صفتِ علم“ سے وابستہ ہے، تو وہ بھی ازلی ہونا چاہیے۔جبکہ ارسطو کے فلسفہ میں حرکت کا پہلا محرّک (Unmoved Mover) اور علت و معلول کا قانون موجود تھا جس نے مسلم صوفیوں (خاص طور پر مامون الرشید اور معتزلہ ) کو تحریک دی کہ اگر قرآن کلام ہے، اور کلام صوت و الفاظ سے مرکب ہوتا ہے، تو یہ تغیر رکھتا ہے اور تغیر ”حدوث“(تخلیق) کی دلیل ہے۔ لہٰذا معتزلہ کا اصرار تھا کہ قرآن مخلوق ہے۔ خلیفہ مامون الرشید نے اس عقیدے کو سرکاری مذہب کا حصہ قرار دیا اور ”مِحنہ“ (Inquisition) کےبدنام زمانہ قانون کے ذریعے مخالفین کو سخت سزائیں دیں۔ اکثر علماء اس ڈر اور خوف کی فضا میں یونانی فلسفہ کے حامی ہوگئے مگرامام احمد بن حنبلؒ حق پر ڈٹے رہے اور سخت سزاؤں  کا سامنا کیا ۔ 
دوسری طرف یونانی فلسفہ کے ذریعے divine unity اور Reincarnationجیسے باطل دجالی عقائد و تصورات کی اسلام میں پیوندکاری کی وجہ سے مسلمانوں کا توحید سے تعلق کمزور ہوا ،سابقہ اُمّت کے قبالی ربیوں کی طرح گمراہ صوفیوں نے قدیم Mystery Cults کی طرز پر باطنی و قبالی رسومات کو Divinization (خدائی رُتبہ حاصل کرنے)کاذریعہ سمجھا اور ان باطل تصورات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کی،جس کے نتیجے میں مسلم دنیا میں بھی جادوگری ، قبالہ، باطنی رسومات اور گمراہی کا دور اپنے عروج کی طرف بڑھا۔ لیکن دوسری طرف اصولِ دین سے اتنی ہی دور ی بھی پیدا ہوتی گئی ، جہاد کی بجائے کرامات کا شور وغوغا ہوا لیکن عملی طور پر اُمّت ِمسلمہ جہالت اور توہمات کے اندھیروں میں ڈوبتی چلی گئی ۔فرقہ واریت نے ان کی اجتماعی طاقت کو سلب کر لیا۔ یہاں تک کہ صرف چار صدیوں بعد ہی اُمّت کا شیرازہ اِس قدر منتشر ہوگیا کہ یہودو نصاریٰ نے آگے بڑھ کر فلسطین اور لبنان سمیت شام کے کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا اور قبلہ اوّل سمیت یروشلم بھی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا ۔
صلیبی جنگیں اور قبلہ اوّل پر صلیبی قبضہ 
ابن سباء یہودی اور بعد ازاں یونانی فلسفہ کے ذریعے اُمّت میں قبالی تصورِ اُلوہیت (Divine Unity) کے پھیلنے کی وجہ سے ایک طرف اُمّت ِمسلمہ منتشر ہو کر اپنی طاقت کھورہی تھی اور دوسری طرف یورپ میں پوشیدہ قوتیں یہ افواہ پھیلا رہی تھیں کہ حضرت عیسیٰ ؈ کا دنیا میں دوبارہ ظہور ہونے والا ہے لیکن یہ ظہور اُس وقت ہوگا جب یروشلم کو مسلمانوں سے چھین کر عیسائی حکومت بنائی جائے گی۔دراصل یہ سب افواہیں پھیلانے والے اور یورپ کے عیسائیوں کو صلیبی جنگوں کے لیے اُکسانے والے وہ یہودی خاندان تھے جو قبالہ ، بعل اور اشتر کے  اسرار سے سینہ بہ سینہ باطنی تعلق قائم رکھے ہوئے تھے ۔ بقول کرسٹوفر نائٹ یہ سٹار فیملیز ( ستارہ زہرہ یعنی اشتر سے نسبت ) کتاب مکاشفہ کی اس پیشین گوئی سے واقف تھیں:
 ”پھر میں نے ایک فرشتہ کو آسمان سے اُترتے دیکھا جِس کے ہاتھ میں اتھاہ گڑھے کی کُنجی اور ایک بڑی زنجیر تھی۔اُس نے اُس اژدہا یعنی پُرانے سانپ کو جو اِبلِیس اور شیطان ہے کو پکڑ کر ہزار برس کے لیے باندھا۔اور اُسے اتھاہ گڑھے میں ڈال کر بند کر دیا اور اُس پر مُہر کر دی تاکہ وہ ہزار برس کے پُورے ہونے تک قَوموں کو پھر گمراہ نہ کرے۔ اِس کے بعد شاید تھوڑے عرصہ کے لیےکھولا جائے۔“ (مکاشفہ20:1-4)
کرسٹوفر نائٹ کے بقول اس پیشین گوئی کے تناظر میں یہ یہودی ستارہ خاندان جانتے تھے کہ70ء میں ٹائٹس کے ہاتھوں یروشلم کی تباہی کے بعد 1070ء میں ایک ہزار سال پورے ہو جائیں گے اور تب اس مخصوص شیطان  کو تھوڑے عرصہ کے لیے کھولا جائے گااور ان کے مقدس شہر (یروشلم)پر ایک ہزار سال بعد دوبارہ شیطان کی فوج حملہ آور ہوگی۔ (4-ch7)
وہ کونسا شیطان تھا جس کوایک ہزار سال کے لیے بند کیا گیا اور اس کے بعد عارضی طور پر کھولا گیا ۔ Testament of Solomon نامی کتاب (جو پہلی سے پانچویں صدی عیسوی کے دوران یونانی زبان میں لکھی گئی )میں لکھا ہے :
” بعل شیاطین کاشہزادہ  تھا جس کا کہنا ہے کہ وہ پہلے آسمانی فرشتہ تھااور وہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جابر حکمرانوں کے ذریعے تباہی مچاتا ہے، شیاطین کو دیوتا بنا کر انسانوں سے ان کی پرستش کرواتاہے ، پادریوں میں شہوت پیدا کرتا ہے، شہروں میں حسد اور قتل و غارت گری کو اُبھارتا ہے، اور جنگ پیدا کرتا ہے۔“
اگر ہم حالات و واقعات کا جائزہ لیں تو وہ شیطان یقینی طورپر بعل ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے بعد جو کچھ ہوا ،وہ اس سے عین مطابقت رکھتا ہے جو اس حوالہ میں بیان ہوا۔ صلیبی جنگوں کے دوران جابر حکمرانوں کے ذریعے تباہی مچائی گئی ، بے گناہ انسانوں کا بے دریغ خون بہایا گیا، بعل کی پرستش نائٹس ٹیمپلرکے ہاں بافومیٹ کے نام سے شروع ہوئی ،بت پرستی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ، شہوت ،   ہم جنس پرستی ، فحاشی اور اخلاقی زوال کا ازسر نو آغاز ہوا (جیسا کہ بعل کے قدیم مندروں میں تھا)، شہروں میں مال و دولت اور کرسی و اقتدار کی نئی کشمکش شروع ہوئی اور    قتل وغارت گری اور جنگوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔
بقول کرسٹوفر نائٹ چونکہ یہودی ستارہ خاندانوں کو مکاشفہ کی پیشین گوئی کے تناظر میں آنے والے حالات کا اندازہ تھا لہٰذا انہوں نے پہلے سے تیاری کر رکھی تھی۔ یورپ کے عیسائیوں کو صلیبی جنگوں کے لیے اُکسانے کے لیے کلیسا اور پوپ بنیادی کردار ادا کر سکتا تھا اور بقول کرسٹوفرستارہ خاندانوں کا ایک ہدف پاپائے روم کی اتھارٹی کو استعمال کرتے ہوئے پورے عالم عیسائیت کو ایک عظیم جنگ میں شامل کرنا تھا تاکہ یروشلم کو دوبارہ فتح کیا جا سکے۔اس مقصد کے لیے پہلے سے ستارہ خاندانوں نے اپنے لوگوں کو پادریوں کے بھیس میں کلیسا میں داخل کر دیا تھا ۔ ان میں سے ایک اوڈو آف لاگری تھا جو فرانس کے علاقے شیمپئن (جو یہودی ستارہ خاندانوں کا گڑھ تھا )کے یہودی ستارہ خاندان سے تعلق رکھتا تھا ، ایک طویلی سازشی جدوجہد(جس میں کئی پادریوں کے خفیہ قتل ، خفیہ لابنگ اور آخر میں جعلی وصیت بھی شامل تھی) کے بعد بالآخر 12 مارچ 1088ءکو پاپائے روم بننے میں کامیاب ہو گیا اور پوپ اربن ثانی کہلایا (4-ch7)۔ اس کے بعد اب باری تھی کہ عیسائی دنیا کو صلیبی جنگوں کے لیے کیسے اُبھارا جائے۔ چنانچہ فضا ہموار ہوتے ہی پوپ اربن ثانی نے 1095ء میں کلرمونٹ کی کونسل بلائی اوریورپ بھر کے پادریوں اور بشپوں کے سامنے صلیبی جنگ کا منصوبہ پیش کیا اور انہیں حکم دیا کہ پورے یورپ میں پھیل جاؤ اور عیسائیوں کو ایک بڑی جنگ کے لیے تیار کرو تاکہ حضرت عیسیٰ ؑ کی جلد آمد ممکن ہو سکے ۔ اس مہم کو مزیدتیز اور موثر بنانےکے لیے پوپ نے ایک اور جھوٹا عقیدہ پھیلایا کہ چاہے کوئی چور ہو ، زانی ہو ، قاتل ہو یا جتنابھی بڑا گنہگار کیوں نہ ہو صلیبی جنگوں میں حصہ لینے پر وہ بخش دیا جائے گا۔اس طرح عیسائی لشکر یروشلم پر حملہ کے لیے تیار ہوگئے لیکن ستارہ خاندانوں کا یہ واحد منصوبہ نہیں تھا ۔ بقول کرسٹوفر نائٹ ان کا ایک مرکزی اور خفیہ منصوبہ یہ بھی تھا کہ وہ تباہ شدہ ہیکل سلیمانی کے ملبے تلے کھدائی کریں تاکہ اپنے خزانوں اور دستاویزات کو نکال سکیں، جو وہ جانتے تھے وہاں دفن ہیں لیکن اتنے بڑے صلیبی لشکر کے درمیان رازداری کےساتھ اس خفیہ منصوبے کی کامیابی ناممکن تھی اور خفیہ دستاویزات اور خزانے عیسائی لشکر کے ہاتھ بھی لگ سکتے تھے ۔ لہٰذا ستارہ خاندانوں نے معاملات کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لیے فرانس میں ایک خفیہ آرڈر Cisterciansکے نام سےقائم کیا اور یروشلم میں کھدائی کے لیے نائٹس ٹیمپلر کے نام سے ایک اور آرڈر قائم کیا ۔ یہ آرڈرز بظاہر عیسائی تھے لیکن ان کا کنٹرول مکمل طور پر ستارہ خانوں کے ہاتھ میں تھا ، خاص طو رپر نائٹس ٹیمپلرجنہوں نے ہیکل سلیمانی کے نیچے کھدائی کی، سب کے سب یہودی ستارہ خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے (4-ch7)۔ نائٹس ٹیمپلر کے متعلق آئندہ باب میں تفصیل سے پڑھیں گے ۔ ان شاء اللہ  
اس صلیبی یلغار جس کے اصل محرک یہودی تھے، کے نتیجہ میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیاگیا۔ 1099ء میں قبلہ اوّل بھی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا  اور شام ، لبنان اور فلسطین کےکئی علاقوں پر قبضہ کرکے 4 عیسائی ریاستوں کی بنیاد ڈالی گئی جن میں سلطنت یروشلم ، ایڈیسہ ، طرابلس اور انطاکیہ کی عیسائی ریاستیں شامل تھیں ۔
یہ وہی یروشلم تھا جس میں داخل ہوتے وقت حضرت عمر فاروق ؓ کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے بڑے سبق آموز الفاظ کہلوائے تھے۔ ان الفاظ میں اُمّت کے لیےبہت  بڑی نصیحت تھی ۔ جب اُن سے کہا گیا کہ اپنے کپڑے بدل لیجئے کیونکہ یروشلم میں بڑے عالم اور رئیس  لوگ ہوں گے تو آپؓ کے منہ سے یہ تاریخی الفاظ نکلے :
”عمر ؓکو عزت کپڑوں سے نہیں بلکہ اسلام کی  بدولت ملی ہے ۔ “
یعنی جب اسلام کو اللہ نے غلبہ عطا کیا ، اُس وقت کے مسلمان اپنی عزت اور وقار ، سیاست و حکومت ، بالادستی اور ترقی کا ذریعہ اسلام کو سمجھتے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ اس میں اُن کا اپنا کوئی کمال نہیں ہے بلکہ اللہ کے دین کے ساتھ مخلص ہونے میں ہی سب بھلائی ہے ۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یروشلم کا کنٹرول بغیر کسی جنگ کے  مسلمانوں کے ہاتھ میں دے دیا ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ دین ابراہیم ؑ کے ساتھ مخلص ہونے کے نتیجہ میں سرزمینِ موعود کا وعدہ ایک بار پھر پورا ہوا … لیکن اُسی دین  ابراہیمؑ سے منہ موڑنے اور باطل دجالی دین (قبالہ)میں دنیا کی ترقی، عزت ،عظمت و رفعت تلاش کرنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک بار پھر بیت المقدس کو مسلمانوں سے واپس لے لیا۔ جس طرح سابقہ اُمّت ِمسلمہ سےدین ابراہیمؑ کو چھوڑنے کی وجہ سے کئی بار واپس لیا ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
{قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓی اَنْ یَّــبْعَثَ عَلَـیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِـکُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَّیُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍط اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَـعَلَّہُمْ یَفْقَہُوْنَ(65)}(الانعام) ’’کہہ دیجیے کہ وہ قادر ہے اس پر کہ تم پر بھیج دے کوئی عذاب تمہارے اوپر سے‘یا تمہارے قدموں کے نیچے سے‘یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر دے اور ایک کی طاقت کا مزا دوسرے کو چکھادے۔دیکھو کس کس طرح ہم اپنی آیات کی تصریف کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں۔‘‘
سبائی فتنے اور بعد ازاں یونانی اور عجمی فلسفہ اور عقائد کی ترویج سے اُمّت ِمسلمہ میں جو فکری انتشار پیدا ہوا ،  اس کے نتیجے میں اُمّت تقسیم در تقسیم کاشکار ہو تی چلی گئی ، اللہ پر ایمان کی بجائے طاغوت پر ایمان بڑھتا چلا گیا ۔ یہاں تک کہ حشاشین جیسے فتنے کھڑے ہوئے جو بالکل بابل کے نمرودی اسرار کے نقش قدم پر Divinity (خدائی)کا دعویٰ کر رہے تھے ۔ ان میں سے ہر گروہ نے اپنی حکومت اور فوج بنالی اور ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے لڑتے نوبت یہاں تک پہنچی کہ صلیبیوں نے آگے بڑھ کر سرزمین موعود کو چھین لیا ۔ اگلی آیت میں اس ذلت و رسوئی کی وجہ بھی صاف صاف بتا دی گئی :{وَکَذَّبَ بِہٖ قَوْمُکَ وَہُوَ الْحَقُّ ط قُلْ لَّسْتُ عَلَـیْکُمْ بِوَکِیْلٍ (66)} (الانعام)’’اور (اے نبیﷺ!)  آپؐ کی قوم نے اسے جھٹلا دیا حالانکہ وہ حق ہے۔(ان سے) کہہ دیجیے کہ(اب) میں تمہارا  ذمّہ دار نہیں ہوں۔‘‘
جس قرآن پر عمل پیرا ہونے کی بدولت اللہ نے مسلمانوں کو عزت ، عظمت اور دنیا کی امامت اور حکومت بخشی اور یروشلم کو ان کے حوالے کیا ، اُسی قرآن سے   منہ موڑ کر یونانی فلسفہ کو اپنی ترقی و عظمت کا ذریعہ سمجھ لیا ۔ حالانکہ اس کی بنیاد دین ابراہیم کے دشمن نمرود کے باطل دجالی دین پر ہے ۔  دجالی دین پر چل کر قوم نوح غرق ہوئی ، قوم عاد و ثمود نابود ہوئیں ، فرعون اور اس کے لشکر کو عبرت ناک سزا ملی ، یہاں تک کہ سابقہ اُمّت اُسی نمرودی اور فرعونی دین کی وجہ سے اپنے مرتبہ و منزلت سے محروم ہوگئی ،اُسی دجالی دین پر چل کر موجودہ اُمّت ِمسلمہ   کیونکر فلاح پاسکتی ہے ؟ (جاری ہے )