(گوشۂ اطفال) مستقل مزاجی کامیابی کا ذریعہ - حسیب آصف شیخ (معاون مرکزی شعبہ نشرواشاعت)

10 /

مستقل مزاجی کامیابی کا ذریعہ

حسیب آصف شیخ ( مرکزی شعبہ نشرو اشاعت)

کشمیر کے اونچے اور شاداب پہاڑوں کے درمیان بسا ایک چھوٹا اور خوبصورت گاؤں ’’مرغزار‘‘ اپنی قدرتی دلکشی کے لیے مشہور تھا۔ اس گاؤں کے مکانات لکڑی اور پتھروں سے بنے تھے، جن کی چھتوں پر سجے گملوں میں رنگ برنگے پھول مسکراتے رہتے تھے۔سرِ شام گاؤں کے بچے مرکزی کھیل کے میدان میں جمع ہوتے، لیکن ان بچوں میں دس سالہ ’’طلحہ‘‘ کا مزاج سب سے ہٹ کر تھا۔ طلحہ ایک ذہین، تخلیقی اور حساس بچہ تھا جس کی آنکھوں میں ہمیشہ نئے خیالات کی چمک رہتی تھی۔
طلحہ کے دادا جان، جنہیں پورا گاؤں ’’بابا نور‘‘کہتا تھا،برتن بنانے میں ماہر تھے۔ان کا ایک چھوٹا سا روایتی کارخانہ تھا جہاں وہ مٹی کے حسین پیالے، صراحیاں اور گلدان تیار کیا کرتے تھے۔ طلحہ کو اپنے دادا کے ساتھ وقت گزارنا اور مٹی سے چیزیں بنانا بہت پسند تھا، مگر اس کی ایک بڑی کمزوری یہ تھی کہ وہ حد درجے کا بے صبرا اور کام کو ادھورا چھوڑنے کا عادی تھا۔ جب بھی اُس کے دل میں کوئی نیا خیال آتا، وہ جوش سے کام شروع کر دیتا، لیکن ذرا سی دشواری یا وقت لگنے پر مایوس ہو کر کام ادھورا چھوڑ دیتا۔
اکتوبر کے وسط میں گاؤں کے اسکول نے سالانہ ’’دست کاری نمائش‘‘ کا اعلان کیا۔ ہر بچے کو ہاتھ سے بنا بہترین فن پارہ پیش کرنا تھا۔ بہترین فن پارے کے لیے شاندار انعام اور شہر کے بڑے ہنر مند مرکز میں نمائش کے لیے بھیجنے کا وعدہ تھا۔ یہ سنتے ہی طلحہ کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اُس نے سوچا کہ وہ اپنے دادا کی طرح مٹی کا ایک بڑا اور خوبصورت کشمیری گلدان بنائے گا جس کی چمک دیکھ کر سب دنگ رہ جائیں۔
گھر پہنچ کر اس نے ارادہ ظاہر کیا۔ بابا نور نے شفقت سے سر پر ہاتھ رکھ کر سمجھایا:’’بیٹا! مٹی کا برتن بنانا صرف ایک دن کے جوش کا کام نہیں ہے۔ اس کے لیے روزانہ کی باقاعدگی اور مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔ اگر تم بیچ میں رکے تو مٹی سوکھ جائے گی اور سارا کام برباد ہو جائے گا۔‘‘
مگر طلحہ نے ہنسی میں کہا: ’’دادا جان! آپ دیکھیے گا، میں اتنی محنت کروں گا کہ ایک ہی دن میں پورا گلدان تیار کر لوں گا!‘‘
اگلے دن طلحہ نے جوش میں مسلسل پانچ گھنٹے کام کیا۔ وہ ندی کے کنارے سے لال مٹی کھود کر لایا، اسے گوندھا اور چاک پر بڑے گلدان کی بنیاد رکھی۔ اس نے دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھایا۔ شام تک اس نے نچلا حصّہ تیار کر لیا تھا۔ اس کے ہاتھ مٹی سے بھرے تھے اور کمر میں درد تھا، لیکن وہ خوش تھا۔ اس نے فخر سے کہا: ’’دیکھا دادا جان! میں نے ایک ہی دن میں آدھا کام ختم کر لیا۔‘‘
بابا نور نے سنجیدگی سے کہا: ’’تم نے محنت تو کی ہے، لیکن مٹی کو سانس لینے کا وقت نہیں دیا۔ اگر آج ہی پورا بنانے کی کوشش کی تو یہ اپنے وزن سے گر جائے گا۔ کام کو روزانہ تھوڑا تھوڑا کرو۔‘‘
مگر طلحہ تھک چکا تھا۔ اگلے دن جسم میں تھکن اور درد کی وجہ سے اس کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا تھا۔ اس نے سوچا کہ آدھا کام تو ہو چکا ہے، باقی کا کام دو دن میں کبھی بھی کر لوں گا۔ چنانچہ دوسرے اور تیسرے دن اس نے گلدان کو چھوا تک نہیں اور دوستوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف رہا۔ چوتھے دن جب وہ کارخانے گیا تو اس کے قدم وہیں جم گئے۔ گیلی مٹی کو پانی نہ دینے اور نہ ڈھانپنے کی وجہ سے سوکھ چکی تھی اور اس میں بڑی بڑی دراڑیں پڑ چکی تھیں۔ گلدان ٹوٹ کر مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا تھا۔
یہ دیکھ کر طلحہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے روتے ہوئے کہا: ’’میری محنت ضائع ہو گئی! میں اب نمائش میں حصہ نہیں لوں گا۔‘‘
بابا نور نے پیار سے سمجھایا: ’’میرے بچے! تمہاری محنت میں استقلال اور باقاعدگی نہیں تھی۔ کامیابی ایک دن کی طوفانی محنت سے نہیں ملتی، بلکہ روزانہ کی چھوٹی اور مسلسل کوشش سے ملتی ہے۔ اگر تم روزانہ صرف آدھا گھنٹہ اس مٹی کو دیتے، تو آج تمہارا شاہکار محفوظ ہوتا۔‘‘
طلحہ نے پوچھا: ’’کیا اب بھی وقت ہے؟ نمائش میں صرف بارہ دن باقی ہیں۔‘‘
بابا نور نے کہا:’’اگر تم روزانہ کا ایک وقت مقرر کر لو اور بغیر کسی ناغے کے صرف اسی وقت کام کرو، تو بارہ دن کافی ہیں۔ شرط صرف ایک ہے، باقاعدگی!‘‘
طلحہ نے عہد کیا کہ وہ روزانہ شام کو ٹھیک پانچ بجے عصر کی نماز قریبی مسجد میں ادا کرنے کے بعد کارخانے آئے گا اور ساڑھے پانچ بجے تک، یعنی صرف 30منٹ، گلدان پر کام کرے گا۔
اگلے دن سے ایک نئے سفر کا آغاز ہوا۔
پہلا اور دوسرا دن: 
ندی سے نئی مٹی لایا، چھانا، پانی ملا کر نرم کیا اور   نم دار کپڑے میں لپیٹ کر رکھا۔
تیسرا اور چوتھا دن:
  چرخے پر مٹی رکھ کر گلدان کا نچلا مضبوط حصہ بنایا۔ 30 منٹ پورے ہوتے ہی کام روک دیا، حالانکہ دل مزید کام کرنے کا چاہ رہا تھا۔
پانچواںاور چھٹا دن:
  دیواریں چھ انچ اوپر اُٹھ چکی تھیں۔ روزانہ پانی کا ہلکا چھڑکاؤ کرتا اور تراش خراش کرتا۔
ساتواں اور آٹھواں دن:
  گلدان کا درمیانی پیٹ بن چکا تھا۔ گرمی اور   سستی کے باوجود وہ ٹھیک پانچ بجے کارخانے پہنچ جاتا اور 30 منٹ تک پوری توجہ سے کام کرتا۔
نواں اور دسواں دن:
      گردن مکمل ہو چکی تھی۔ اس نے باریک تنکے سے کشمیری چنار کے پتوں اور پھولوں کے مہرے بنانے شروع کیے۔
گیارہواں دن: 
       آخری پالش کی اور دھوپ میں خشک ہونے کے لیے رکھا۔ باقاعدہ کام کی وجہ سے نہ پیٹھ میں درد ہوا اور نہ دل اکتا یا ۔
بارہواں دن: 
گلدان مکمل خشک ہو کر تیار ہو گیا۔ بابا نور کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ گلدان اتنا متوازن اور نفیس تھا کہ یقین نہیں آتا تھا کہ اسے دس سال کے بچے نے بنایا ہے۔
نمائش والے دن اسکول کے ہال میں مختلف فن پارے رکھے تھے، لیکن جب پرنسپل اور مہمانِ خصوصی کی نظر طلحہ کے گلدان پر پڑی تو وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ اس میں ایک عجیب نظم و ضبط تھا جو صرف مسلسل مشق سے ممکن تھا۔
نتائج کے اعلان پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ طلحہ کو پہلا انعام ملا! اسٹیج پر کامیابی کا راز پوچھنے پر طلحہ نے دادا کی طرف دیکھ کر کہا: ’’یہ گلدان میری محنت سے زیادہ میری باقاعدگی کا تحفہ ہے۔ میں نے کوئی جادو نہیں کیا، بس اپنے 30 منٹ روزانہ بغیر ناغہ کے اس مٹی کو دئیے ۔‘‘
اس دن کے بعد طلحہ نے دین پر عمل کرنے، پڑھائی اور زندگی کے ہر معاملے میں اس اصول کو اپنا لیا۔بڑے خواب ایک دن کے جوش سے پورے نہیں ہوتے۔ زندگی میں سچی کامیابی کے لیے استقلال، باقاعدگی اور مسلسل محنت شرط ہے۔ روزانہ کا ایک چھوٹا سا قدم جو بلا ناغہ اُٹھایا جائے، انسان کو بظاہر ناممکن منزلوں تک پہنچا دیتا ہے۔