الہدیٰ
اللہ تعالیٰ ہی ہمارا خالق ، رازق اور مالک ہے!
آیت 40 {اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَـکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ط}’’اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا‘پھر
تمہیں رزق دیا‘پھر وہ تمہیں موت دے گا‘پھر تمہیں زندہ کرے گا۔‘‘
{ہَلْ مِنْ شُرَکَآئِکُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِکُمْ مِّنْ شَیْئٍ ط}’’کیا تمہارے شریکوں میں سے بھی کوئی ایسا ہے جو اِن میں سے کوئی بھی کام کرتا ہو؟‘‘
اے گروہ مشرکین! کیا تمہارے لات‘منات اور عزیٰ میں سے کوئی ہے جو اِن میں سے کوئی ایک کام بھی سر انجام دینے کی قدرت رکھتا ہو؟ دراصل مشرکین مکہ خود ہی یہ تسلیم کرتے تھے کہ اُن کا خالق اللہ ہے اور زندگی و موت کا اختیار بھی اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ لات و منات وغیرہ کے بارے میں اُن کا عقیدہ یہ تھا :{ہٰٓؤُلَآئِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ط} ( یونس: ۱۸) کہ وہ اللہ کے ہاں اُن کی سفارش کریںگے اور اُن کی سفارش سے آخرت میں وہ چھوٹ جائیں گے۔
{سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ(40)} ’’وہ پاک ہے اور بہت بلند و برترہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔‘‘
درس حدیث
دعوت الی اللہ کا اجر وثواب
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ قَالَ: ((مَنْ دَعَا اِلٰی ھُدًی کَانَ لَـــــہٗ مِنَ الْاَجْرِ مِثْلُ اُجُوْرِ مَنْ تَبِعَــــہٗ لَا یَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْئًا وَمَنْ دَعَا اِلٰی ضَلَالَۃٍ کَانَ عَلَـــیْہِ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلُ اٰثَامِ مَنْ تَبِعَــــہٗ لَایَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ اٰثَامِھِمْ شَیْئًا)) (رواہ مسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جو شخص (لوگوں کو) ہدایت کی طرف دعوت دے (اور وہ اس کی دعوت کو قبول کرکے صحیح راستہ پر چل پڑیں) تو اُسے اُس کے پیروکاروں کے ثواب کی مانند اجر ملے گا،بغیر اس کے کہ اُن کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔ اور جو شخص (لوگوں کو) گمراہی کی طرف دعوت دے تو اُسے اپنے پیروکاروں کے گناہوں کی مانند بوجھ برداشت کرنا پڑے گا بغیر اس کے کہ اُن کے گناہوں میں کوئی کمی کی جائے۔‘‘
تشریح: بے شک اللہ کی طرف دعوت دینے والے کا اللہ کے ہاں بہت بڑا مرتبہ ہے۔ داعی ٔ حق کی کوششوں سے جو لوگ بھی راہِ حق پر چل پڑیں ظاہر ہے کہ وہ اجر اور ثواب کے مستحق ہیں لیکن داعی حق کو بھی اُن کے برابر ثواب ہوگا۔ بالکل یہی حال کفر اور گمراہی کا ہے۔ جو شخص کفر، گمراہی یا اللہ کی نافرمانی کی دعوت دے اور خلقِ خدا کو راہِ راست سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرے تو وہ اللہ کے ہاں معتوب اور مجرم ہے۔ اُسے اپنی غلط کاری کی سزا تو ملے گی ہی لیکن اس کے علاوہ اُسے اُن سب غلط کاروں کی مجموعی سزا بھی بھگتنی پڑے گی جو اُس کی پیروی کرنے والوں کو دی جائے گی۔(العیاذ باللہ)